Original Articles Urdu Articles

سچ چھپایا نہیں جاسکتا – عامر حسینی

فلمساز جامی مور سے جنسی زیادتی کا مرتکب ڈان میڈیا گروپ کا سی ای او حمید ہارون نکلا 

فلمساز جمشید محمود رضا المعروف جامی مور نے کہا ہے کہ اُن سے 13 سال قبل کراچی میں جنسی زیادتی ڈان میڈیا گروپ کے سی ای او حمید ہارون نے کی

فلمساز جامی مور نے@AzadJami1 کے نام سے ٹوئٹ ہینڈل کے زریعے ٹوئٹ کیا جس میں لکھا، ‘ ہاں مجھ سے ریپ سی ای او ڈان میڈیا گروپ حمید ہارون نے کیا’

اس کے ٹوئٹ کے چھے گھنٹے بعد جامی مور نے ایک اور ٹویٹ کیا جس میں انھوں نے کہا کہ چھے گھنٹے گزرنے کے بعد بھی کسی نے ڈان میڈیا گروپ کے سی ای او کے ھوالے سے میرے انکشاف کو شایع نہیں کیا

فلمساز جامی مور نے 29 دسمبر کو رات بارہ بجے تک ٹویٹ کی ایک سیریز جاری کی جس میں انھوں نے مین سٹریم میڈیا کے ایک سیکشن خاص طور پر جنگ-جیو میڈیا گروپ، ڈان میڈیا گروپ کو باقاعدہ ٹیگ کرکے یہ کہا کہ ‘جن کو اسٹبلشمنٹ چُپ نہ کراسکی وہ میرے بارے میں چُپ کیوں ہیں؟’

اُن کا کہنا تھا کہ سچ بولنے کے دعوے دار میرے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی بارے خبر چھاپنے کی شرط یہ رکھتے تھے کہ میں ریپ کرنے والے کا نام ظاہر کرون اور اب جب نام دیا ہے تو کوئی بھی اس بارے خبر نہ تو چھاپ رہا ہے اور نہ نشر کررہا ہے

جامی مور نے تین ماہ پہلے اپنے جس ٹوئٹ ہینڈل سے نام ظاہر نہ کرتے ہوئے اپنے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کا انکشاف کیا تھا وہ جامی مور کے بقول ہیک ہوچُکا ہے جس کی وجہ سے انھیں نیا ٹوئٹ ہینڈل بنانا پڑا- اُس ٹوئٹ ہینڈل پر جامی مور نے اپنے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے شخص کا نام تو ظاہر نہیں کیا تھا لیکن انہوں نے اشارے ضرور دئے تھے- اُس وقت بھی سوشل میڈیا نے اپنا شبہ ڈان میڈیا گروپ کے سی ای او حمید ہارون پر ظاہر کیا تھا

سوشل میڈیا پر ڈان میڈیا گروپ کے سی ای او پر شبہ اس وقت اور زیادہ ہوا جب ڈان میڈیا گروپ کی آفیشل ویب سائٹ سے اچانک جامی مور کے ٹوئٹ کے حوالے سے نیوز لنک ہٹادیا گیا اور کئی ایک میڈیا گروپوں کی آفیشل ویب سایٹ پر یہ سنسر شپ دیکھی گئی

ڈان میڈیا گروپ کے سی ای او حمید ہارون پر جامی مور کے لگائے گئے سنگین الزام کے بعد اُن پر استعفے کا دباؤ ہے

لاہور سے تعلق رکھنے والے صحافی عباس زیدی کا کہنا ہے کہ ڈان میڈیا گروپ نے ایک نامعلوم ای میل موصول ہونے پر معروف کارٹونسٹ فیکا کے کارٹون کی اشاعت ڈان میں ہونے سے روک دی تھی تو اب جبکہ متاثرہ شخص جامی مور نے تو سی ای او ڈان میڈیا گروپ کا نام لے دیا ہہے تو سی ای او کے عہدے حمید ہارون اب تک برقرار کیوں ہے؟

جامی مور کے انکشاف نے سوشل میڈیا پر خاصی سنسی پھیلا رکھی ہے اور سوشل میڈیا پر خاصی بحث ہورہی ہے

فلمساز جمشید محمود رضا المعروف جامی مور نے اپنے نئے ٹوئٹر اکاؤنٹس سے جب اپنے ساتھ جنسی زیادتی کے مرتکب ہونے والے شخص کا نام افشا کیا تو اگلے 48 گھنٹوں تک پاکستان میں کسی ایک ٹی وی چینل نے اس بارے کوئی خبر شایع نہیں کی اور ابھی تک یہی صورت حال برقرار ہے۔

ایک انگریزی ویب سائٹ گلیکسی لالی ووڈ نے اس ٹوئٹ کے فوری بعد دو گھنٹوں کے اندر اندر اسے تفصیلی خبر کے ساتھ شایع کیا- لیکن پاکستان سے تعلق رکھنے والی اکثرمعروف انگریزی ویب سائٹس نے حمید ہارون پر جامی مور کے الزام کی خبر کا بلیک آؤٹ جاری رکھا۔

اردو اور انگریزی اخبارات کے تمام ایڈیشنوں میں اس خبر کا بلیک آؤٹ کیا گیا۔ اور تادم تحریر ان اخبارات کی آفیشل ویب نیوز سائٹس پر بھی اس خبر کا بلیک آؤٹ جاری ہے۔

پاکستان کے ایک معروف اردو و انگریزی لبرل تنقیدی ویب سائٹ لیٹ اس بلڈ پاکستان- ایل یو بی پی اور خبروالے میڈیا گروپ کی آفیشل نیوز ویب سائٹ نے سب سے پہلے اس بلیک آؤٹ کو توڑا اور جامی مور کے حالیہ ٹوئٹس کے اسکرین شاٹ اور ٹوئٹ لنکس کے ساتھ خبر کو بریک کیا۔

اب سے چھے گھنٹے قبل انڈیا ٹوڈے کی آفیشل ویب سائٹ پر یہ خبر انگریزی میں نمودار ہوئی اور ساتھ ہی کچھ تامل و ہندی اخبارات کی نیوز ویب سائٹس پر یہ خبر شایع ہوئی ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی بی بی سی اردو نیوز ویب سائٹ نے ایک گھنٹہ پہلے اسلام آباد سے بلال کریم مغل کا ایک مضمون شایع کیا اور اس مضمون میں ڈان میڈیا گروپ اور اس کے سی ای او حمید ہارون کا نام نہیں لیا گیا۔ جبکہ جامی مور کا ٹوئٹ اور اس کا اسکرین شاٹ بھی نہیں دیا۔

انڈیپنڈنٹ اردو، ڈی ڈبلیو اردو سمیت بین الاقوامی نشریاتی اداروں کی اردو ویب سائٹس جو عام طور پر لبرل ویب سائٹس سمجھی جاتی ہیں اور می ٹو کمپئن کو نمایاں طور پر کوریج دیتی ہیں اور سیکس اسکینڈل جو خاص طور پر دائیں بازو سے متعلق ہوں کو نمایاں شایع کرتی ہیں جیسے حریم شاہ کے حالیہ ٹوئٹ اور ویڈیوز کی خبر کو شایع کیا نے بھی جامی مور کے ٹوئٹ بارے خبر کا بلیک آؤٹ کیا ہے۔

پاکستان سے تعلق رکھنے والی ایک نیوز ویب سائٹ ‘نیا دور ٹی وی’ جس کے چیف ایڈیٹر رضا رومی ہے جو ‘پاکستان کو متنوع اور تکثیریت پسند’ بنانے کے ایک فنڈڈ پروجیکٹ کے طور پر اس ویب سائٹ کو چلارہے ہیں نے سہ پہر اس خبر کو انگریزی اور اردو دونوں پیجز پر شایع کیا- لیکن اس خبر کا جو انگریزی متن ہے وہ اردو کے متوازن اور مناسب متن سے ہٹ کر بالکل مختلف ہے اور دھوکہ دہی پر مشتمل ہے۔ اردو میں شایع ہونے والی خبر میں نیا دور نے اس بات کا نمایاں ذکر کیا ہے کہ پاکستان کے مین سٹریم میڈیا اس خبر کا بلیک آؤٹ کیا ہے اور اکتوبر میں جب جامی مور نے نام لیے بغیر اپنے سے ہونے والی جنسی زیادتی بارے ٹوئٹ کیے تھے تو ڈان سمیت ایک سیکشن نے اس خبر کو شایع کیا لیکن بعد ازاں اس خبر کے لنک ویب سائٹس سے ہٹا دیے گئے تھے۔ نیا دور نے اسی خبر کے انگریزی متن میں جامی مور کے الفاظ کے بلیک آؤٹ کا کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

سوشل میڈیا پر سرگرم ترقی پسند بلاگر ریاض ملک نے نیا دور کی جامی مور کے حوالے سے شایع خبر کے ڈسکورس پر تنقید کرتے ہوئے لکھا

نیا دور کی بلاگ پوسٹ آخر میں کافی پریشان کن ہے۔ اس طرح کا اسلوب صرف ڈان کے معاملے میں ہی نہیں بلکہ اور کئی مسائل پر ایسا ہی خوفناک رویہ اپنایا جاتا رہا ہے۔

سب سے پہلے مجھے یہ بات واضح کرنی ہے کہ ہم میں سو جو ڈان میڈیا گروپ کو بے نقاب کررہے ہیں وہ کسی بھی قسم کے بلوائی انصاف کا جواز فراہم نہیں کرتے۔ ہم تو ڈان میڈیا گروپ کے ان اعلا عہدوں پر فائز افراد کا احتساب چاہتے ہیں جنھوں نے اس قدر نفرت انگیز ثقافت کو جنم دیا ہے۔

ہم آزادی صحافت کے لیے کھڑے ہیں اور ڈان پر تنقید کرنے کی مساوی اجازت چاہتے ہیں جب یہ کھلے عام مخصوص مذہبی گروپوں کے خلاف نفرت انگیز اور متعصب مواد شایع کرتا ہے یا مخصوص انتخاب کے ساتھ یا بد دیانتی کے ساتھ مسلم لیگ نواز کے مخالفین کی کردار کشی کرتا ہے۔

یہ وہی ڈان میڈیا گروپ ہے جس نے لشکر جھنگوی کے لیے ہمدردی پید کرنے کی کوشش کی جب ملک اسحاق ایک مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔

یہ وہ ڈان میڈیا گروپ ہے جس نے پی پی پی کو راؤ انواڑ کی زیادتیوں کا ذمہ دار ٹھہرایا اور جبکہ حقیقت میں راؤ انوار اسی اسٹبلشمنٹ کا حمایت یافتہ تھا جس کے خلاف ہونے کا ڈان میڈیا گروپ دعوا کرتا نہیں تھکتا ہے۔

نیا دور نے اپنی انگریزی پوسٹ میں آخر میں ڈان کے اسلام آباد آفس کا حال ہی میں ہونے والے گھیراؤ کا زکر کرتا اور یہ کہنے کی کوشش کرتا ہے کہ ڈان پر کوئی دوسری تنقید اس کے دفتر کے باہر بلوائی گھیراؤ کے مماثل سمجھی جائے گی۔

یہی وہ ڈان ہے جس کے اعلا سطحی عہدے داروں نے پاکستان کے نامور کارٹونسٹ فیکا پر لگے ایک مبہم الزام کو لیکر بدنام کرنے والی مہم چلائی اور اس کو خوب بدنام کیا تھا۔ اور فیکا پر لگے الزام کی آزادانہ تفتیش کرانے سے انکار کردیا تھا۔

‘نیا دور’ ڈان میڈیا گروپ کے اس قسم کے رویے کا زکر کرنے کی بجائے ڈان پر کسی بھی طرح کی تنقید کو دبانا چاہتا ہے اورایسی تنقید کو بلوائی وائلنس کے برابر ٹھہرا دیتا ہے۔

نیا دور کی جانب سے ایسا کرنا بد دیانتی اور قابل مذمت فعل ہے۔ ڈان میڈیا گروپ کے آقاؤں کو ان جیسے نفرت انگیز مکروہ الزامات کی بنیاد پر احتساب کے کہٹرے میں کھڑا کیا جانا لازم ہے۔

ڈان کی شہرت کو نقصان سے بچانے کے لیے کوشش کرنے کی بجائے ‘نیا دور’ سے یہ سوال پوچھنے کی ضرورت ہے کہ وہ ڈان میڈیا گروپ کی منیجمنٹ کے درمیان ایسے مکروہ کلچر کی موجودگی کا انکار کیوں کررہا ہے جس نے جامی مور کے ساتھ ہوئے خوفناک جرائم کو جنم دیا۔

اس وقت سوشل میڈیا پر جامی مور کے حق میں ہیش ٹیگ حمید ہارون اور ہیش ٹیگ ریپسٹ ہارون ٹرینڈز ٹاپ پر آگئے ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستان کا نام نہاد مین سٹریم میڈیا اکر کسی خبر کو بلیک آؤٹ کرنے کی کوشش بھی کرے گا تو یہ بلیک آؤٹ بہت مشکل ہوگا۔