Featured Original Articles Urdu Articles

دختر مشرق اُن کی مدح کی محتاج نہیں – عامر حسینی

بے نظیر بھٹو کا پہلا دور حکومت دسمبر 1988ء سے اپریل 1990ء تک رہا- اس پورے دور میں ایوان صدر میں غلام اسحاق خان، جی ایچ کیو میں مرزا اسلم بیگ، آئی ایس آئی کے ہیڈکوارٹر میں پہلے چیف حمید گُل (اور اُن کے جانے کے بعد نیچے بریگیڈیئر امتیاز سمیت سیکٹر انچارج (جنرل(ر) کُلو) کو بائی پاس کرکے) مسلسل سازشیں کررہے تھے- پنجاب میں وزیراعلیٰ نواز شریف پنجاب کی ساری مشینری کو لیکر بے نظیر بھٹو کو ناکام بنانے کی کوشش کررہے تھے

بے نظیر بھٹو کو فنانس کی وزرات پر ان چاروں دفاتر میں بیٹھے دشمنوں کی بات فالو کرنے والے وزیر خزانہ کے عدم تعاون کا سامنا تھا

وفاقی بے وردی بابو شاہی کی اکثریت بے نظیر بھٹو کے والد سے سخت نفرت اور دُشمنی کرنے والوں کی تھی اور وہاں سے بھی تعاون نہیں ہورہا تھا

بے نظیر بھٹو پی پی پی کے 94،ایم کیو ایم ،جے یو آئی(ف)، فاٹا اور دیگر آزاد امیدواروں کے ساتھ مل کر حکومت قائم کی تھی اور اس حکومت کو گرانے کے لیے آپریشن مڈ نائٹ جیکال کیا گیا، اراکین قومی اسمبلی توڑنے کے لیے اسامہ بن لادن سے بھی پیسے لیے گئے- پھر بھی عدم اعتماد 89ء میں 12 ووٹوں سے ناکام ہوگئی

قومی اسمبلی میں اکثریت برقرار رکھنے کے لیے پی پی پی کے پاس جو سادہ اکثریت تھی اُسے لیکر حدود آرڈیننس میں جو ترمیم کا وعدہ تھا وہ پورا کرنا ممکن نہیں تھا بلکہ جے یو آئی ایف اس صورت میں الگ ہوجاتی اور سادہ اکثریت بھی نہ رہتی اور حکومت گرجاتی

دوتہائی اکثریت نہ ہونا، پھر سندھ میں جی ایچ کیو، آئی ایس آئی میں بیٹھے معاند سربراہان کی پوری کوشش تھی کہ لسانی-نسلی فساد کو بڑھاوا دیا جائے نے ایم کیو ایم کو مسلسل گھوڑے پہ سوار کیا ہوا تھا، وہ بار بار روٹھ جانے اور الگ ہونے کو تیار بیٹھی رہتی تھی

پنجاب میں مسلسل بے نظیر بھٹو کے خلاف جو پروپیگنڈا اپنے عروج پر تھا اُس کے چند اہم نُکات یہ تھے

بے نظیر بھٹو کی حکومت

امریکہ کی ایجنٹ اور پاکستان کے ایٹمی اثاثے وہ بیچنا چاہتی ہے

ہندؤ ایجنٹ ہے سکھوں کی تحریک کو ختم کردیا ہے-کشمیر کا سودا کرڈالا ہے

اسلام کے خلاف اقدامات اٹھانے جارہی ہے- عورت کی حُکمرانی نحوست اور خلاف اسلام ہے

ایک طرف بے نظیر بھٹو کے خلاف اردو پریس کے غالب سیکشن میں دائیں بازو کا پروپیگنڈا اپنے عروج پر تھا

تو دوسری جانب پاکستان کا جو انگریزی پریس تھا اس کا لبرل سیکشن بے نظیر بھٹو پر ایک طرف تو پائیدار نیو لبرل سرمایہ دارانہ اصلاحات نافذ نہ کرنے پر بے نظیر بھٹو کی حکومت کو بیڈ گورننس اور نااہلی کا طعنہ دے رہا تھا

اسی لبرل پریس کا ایک فیمنسٹ سیکشن این جی اوز سیکٹر کے کئی ایک بڑے ناموں کے ساتھ بے نظیر بھٹو پر ضیاء الحق دور میں حدود آرڈیننس میں ترمیم نہ کرنے پر سخت تنقید کررہا تھا اور ایسے ہی پی پی پی میں بھٹو دور کی نیشنلائزیشن کے طرز پر سخت گیر منصوبہ بند معاشی پالیسی کے حامی اُن پر بھٹو کی فلاسفی سے انحراف اور غداری کا الزام عائد کرکے اُن سے الگ ہوگئے تھے- اور دن بدن یہ مخالفین پیپلزپارٹی کے خلاف بدعنوانی کے الزام پر مشتمل بڑے پیمانے پر ہونے والے پروپیگنڈے کا حصہ بن گئے

محترمہ بے نظیر بھٹو کو اُس زمانے میں انگریزی پریس میں اگر کسی اخبار نے کھل کر سپورٹ دی تو وہ دی فرنٹیئر پوسٹ تھا باقی سارا انگریزی پریس لبرل ازم کے ہتھیار کے ساتھ بے نظیر بھٹو کی حکومت پر حملہ آور تھا اور اردو پریس دائیں بازو کے مذھبی جنونیت اور جعلی حب الوطنی و نظریاتی سرحدوں کے تحفظ اور بدعنوانی کے خلاف جنگ کے نعرے کے تحت مصروف جہاد تھا

پی پی پی 1973ء کے آئین کی اصل شکل کی بحالی کے لیے جو اقدامات اٹھانا چاہتی تھی اور ضیاءالحقی زھر کو نکالنا چاہتی تھی اُسے ریاستی اداروں میں بیٹھے ضیاءالحقی باقیات اور اُن کے ساتھ مل کر اردو پریس اور انگریزی پریس میں دائیں، لبرل اور بوتیک لیفٹ چہروں نے مل کر ناکام بنایا اور سب سے بڑا ظلم یہ تھا کہ سماج میں ضیاءالحقیت کے تاریک سائے مزید گہرے ہونے کا الزام بھی بے نظیر بھٹو کے سر منڈھ دیا گیا

اس زمانے میں انگریزی لبرل پریس نے ضیاءالحق کے اقدامات کے اثر کو کمتر بناکر اور اُس کا اصل الزام زوالفقار علی بھٹو پر عائد کرکے پاکستانی سماج میں مذھبی عسکریت پسندی کا الزام بھی پیپلزپارٹی پر دھر دیا- اور پھر یہ تو فیشن ہی بن گیا

آج اردو اور انگریزی پریس کے کئی ایک صحافی جو الیکٹرانک میڈیا پر اینٹی اسٹبلشمنٹ اور جمہوریت پسند اینکر و تجزیہ نگار کے طور پر متعارف ہیں جن کی 1988ء سے 1990ء تک کی اخبارات میں رپورٹنگ بلیم شفٹنگ، بے نظیر بھٹو، آصف علی زرداری اور پوری پیپلزپارٹی کو شیطان بناکر اور دولت و اثاثے بنانے کی بھوک میں مبتلا بتانے تک محدود تھی- ان کی ‘رپورٹنگ’، ‘تحقیقاتی نیوز اسٹوریز’ کا بدترین روپ 1993ء سے 1997ء تک سامنے آیا اور مشرف دور میں بھی یہ بے نظیر بھٹو کے خلاف ڈیل اور امریکی مفادات کی ترجمان جیسی رپورٹنگ ہی کرتے رہے اور وہ آج بھی پاکستان میں جمہوریت اور پریس کی آزادی کا کریڈٹ لیتے ہیں

سب سے بڑا ستم یہ ہے کہ پی پی پی کے اندر کچھ ایسے لبرل ممی-ڈیڈی برگر ہیں جو نواز شریف پروجیکشن کے آلہ کار بن جانے والے صحافیوں، اینکروں اور تجزیہ نگاروں سے چند اشعار کہلوا کر اُن کو بے نظیر بھٹو کا مداح بناکر دکھاتے ہیں…… خاص طور پر اُن میڈیا گروپوں کے صحافی جو 2008ء سے 2012ء تک ہر روز پی پی پی کی حکومت کے گرنے کی نئی تاریخ دیتے اور پی پی پی کے خلاف جی ایچ کیو، ایجنسیوں، افتخار چوہدری کے جعلی جوڈیشل ایکٹوازم اور نواز-شہباز کی محلاتی سازشوں کو جمہوریت اور ملک کی خدمت بناکر دکھاتے رہے – کم از کم تاریخ کو تو مسخ نہ کیجیے

اس ویڈیو میں کئی ایک چہرے ہیں جن کا کردار ایسا نہیں ہے کہ پی پی پی کے جھنڈے اور پارٹی کے نشان کے ساتھ اُن کو بی بی شہید کے غم میں آدھ مرا دکھایا جائے

دختر مشرق اُن کی مدح کی محتاج نہیں – عامر حسینی بے نظیر بھٹو کا پہلا دور حکومت دسمبر 1988ء سے اپریل 1990ء تک رہا- اس پورے دور میں ایوان صدر میں غلام اسحاق خان، جی ایچ کیو میں مرزا اسلم بیگ، آئی ایس آئی کے ہیڈکوارٹر میں پہلے چیف حمید گُل (اور اُن کے جانے کے بعد نیچے بریگیڈیئر امتیاز سمیت سیکٹر انچارج (جنرل(ر) کُلو) کو بائی پاس کرکے) مسلسل سازشیں کررہے تھے- پنجاب میں وزیراعلیٰ نواز شریف پنجاب کی ساری مشینری کو لیکر بے نظیر بھٹو کو ناکام بنانے کی کوشش کررہے تھے-بے نظیر بھٹو کو فنانس کی وزرات پر ان چاروں دفاتر میں بیٹھے دشمنوں کی بات فالو کرنے والے وزیر خزانہ کے عدم تعاون کا سامنا تھا-وفاقی بے وردی بابو شاہی کی اکثریت بے نظیر بھٹو کے والد سے سخت نفرت اور دُشمنی کرنے والوں کی تھی اور وہاں سے بھی تعاون نہیں ہورہا تھا-بے نظیر بھٹو پی پی پی کے 94،ایم کیو ایم ،جے یو آئی(ف)، فاٹا اور دیگر آزاد امیدواروں کے ساتھ مل کر حکومت قائم کی تھی اور اس حکومت کو گرانے کے لیے آپریشن مڈ نائٹ جیکال کیا گیا، اراکین قومی اسمبلی توڑنے کے لیے اسامہ بن لادن سے بھی پیسے لیے گئے- پھر بھی عدم اعتماد 89ء میں 12 ووٹوں سے ناکام ہوگئی-قومی اسمبلی میں اکثریت برقرار رکھنے کے لیے پی پی پی کے پاس جو سادہ اکثریت تھی اُسے لیکر حدود آرڈیننس میں جو ترمیم کا وعدہ تھا وہ پورا کرنا ممکن نہیں تھا بلکہ جے یو آئی ایف اس صورت میں الگ ہوجاتی اور سادہ اکثریت بھی نہ رہتی اور حکومت گرجاتی-دوتہائی اکثریت نہ ہونا، پھر سندھ میں جی ایچ کیو، آئی ایس آئی میں بیٹھے معاند سربراہان کی پوری کوشش تھی کہ لسانی-نسلی فساد کو بڑھاوا دیا جائے نے ایم کیو ایم کو مسلسل گھوڑے پہ سوار کیا ہوا تھا، وہ بار بار روٹھ جانے اور الگ ہونے کو تیار بیٹھی رہتی تھی-پنجاب میں مسلسل بے نظیر بھٹو کے خلاف جو پروپیگنڈا اپنے عروج پر تھا اُس کے چند اہم نُکات یہ تھے : بے نظیر بھٹو کی حکومت:امریکہ کی ایجنٹ اور پاکستان کے ایٹمی اثاثے وہ بیچنا چاہتی ہے-ہندؤ ایجنٹ ہے سکھوں کی تحریک کو ختم کردیا ہے-کشمیر کا سودا کرڈالا ہے-اسلام کے خلاف اقدامات اٹھانے جارہی ہے- عورت کی حُکمرانی نحوست اور خلاف اسلام ہے-ایک طرف بے نظیر بھٹو کے خلاف اردو پریس کے غالب سیکشن میں دائیں بازو کا پروپیگنڈا اپنے عروج پر تھاتو دوسری جانب پاکستان کا جو انگریزی پریس تھا اس کا لبرل سیکشن بے نظیر بھٹو پر ایک طرف تو پائیدار نیو لبرل سرمایہ دارانہ اصلاحات نافذ نہ کرنے پر بے نظیر بھٹو کی حکومت کو بیڈ گورننس اور نااہلی کا طعنہ دے رہا تھا-اسی لبرل پریس کا ایک فیمنسٹ سیکشن این جی اوز سیکٹر کے کئی ایک بڑے ناموں کے ساتھ بے نظیر بھٹو پر ضیاء الحق دور میں حدود آرڈیننس میں ترمیم نہ کرنے پر سخت تنقید کررہا تھا اور ایسے ہی پی پی پی میں بھٹو دور کی نیشنلائزیشن کے طرز پر سخت گیر منصوبہ بند معاشی پالیسی کے حامی اُن پر بھٹو کی فلاسفی سے انحراف اور غداری کا الزام عائد کرکے اُن سے الگ ہوگئے تھے- اور دن بدن یہ مخالفین پیپلزپارٹی کے خلاف بدعنوانی کے الزام پر مشتمل بڑے پیمانے پر ہونے والے پروپیگنڈے کا حصہ بن گئے- محترمہ بے نظیر بھٹو کو اُس زمانے میں انگریزی پریس میں اگر کسی اخبار نے کھل کر سپورٹ دی تو وہ دی فرنٹیئر پوسٹ تھا باقی سارا انگریزی پریس لبرل ازم کے ہتھیار کے ساتھ بے نظیر بھٹو کی حکومت پر حملہ آور تھا اور اردو پریس دائیں بازو کے مذھبی جنونیت اور جعلی حب الوطنی و نظریاتی سرحدوں کے تحفظ اور بدعنوانی کے خلاف جنگ کے نعرے کے تحت مصروف جہاد تھا-پی پی پی 1973ء کے آئین کی اصل شکل کی بحالی کے لیے جو اقدامات اٹھانا چاہتی تھی اور ضیاءالحقی زھر کو نکالنا چاہتی تھی اُسے ریاستی اداروں میں بیٹھے ضیاءالحقی باقیات اور اُن کے ساتھ مل کر اردو پریس اور انگریزی پریس میں دائیں، لبرل اور بوتیک لیفٹ چہروں نے مل کر ناکام بنایا اور سب سے بڑا ظلم یہ تھا کہ سماج میں ضیاءالحقیت کے تاریک سائے مزید گہرے ہونے کا الزام بھی بے نظیر بھٹو کے سر منڈھ دیا گیا-اس زمانے میں انگریزی لبرل پریس نے ضیاءالحق کے اقدامات کے اثر کو کمتر بناکر اور اُس کا اصل الزام زوالفقار علی بھٹو پر عائد کرکے پاکستانی سماج میں مذھبی عسکریت پسندی کا الزام بھی پیپلزپارٹی پر دھر دیا- اور پھر یہ تو فیشن ہی بن گیا-آج اردو اور انگریزی پریس کے کئی ایک صحافی جو الیکٹرانک میڈیا پر اینٹی اسٹبلشمنٹ اور جمہوریت پسند اینکر و تجزیہ نگار کے طور پر متعارف ہیں جن کی 1988ء سے 1990ء تک کی اخبارات میں رپورٹنگ بلیم شفٹنگ، بے نظیر بھٹو، آصف علی زرداری اور پوری پیپلزپارٹی کو شیطان بناکر اور دولت و اثاثے بنانے کی بھوک میں مبتلا بتانے تک محدود تھی- ان کی 'رپورٹنگ'، 'تحقیقاتی نیوز اسٹوریز' کا بدترین روپ 1993ء سے 1997ء تک سامنے آیا اور مشرف دور میں بھی یہ بے نظیر بھٹو کے خلاف ڈیل اور امریکی مفادات کی ترجمان جیسی رپورٹنگ ہی کرتے رہے……. اور وہ آج بھی پاکستان میں جمہوریت اور پریس کی آزادی کا کریڈٹ لیتے ہیں….سب سے بڑا ستم یہ ہے کہ پی پی پی کے اندر کچھ ایسے لبرل ممی-ڈیڈی برگر ہیں جو نواز شریف پروجیکشن کے آلہ کار بن جانے والے صحافیوں، اینکروں اور تجزیہ نگاروں سے چند اشعار کہلوا کر اُن کو بے نظیر بھٹو کا مداح بناکر دکھاتے ہیں…… خاص طور پر اُن میڈیا گروپوں کے صحافی جو 2008ء سے 2012ء تک ہر روز پی پی پی کی حکومت کے گرنے کی نئی تاریخ دیتے اور پی پی پی کے خلاف جی ایچ کیو، ایجنسیوں، افتخار چوہدری کے جعلی جوڈیشل ایکٹوازم اور نواز-شہباز کی محلاتی سازشوں کو جمہوریت اور ملک کی خدمت بناکر دکھاتے رہے – کم از کم تاریخ کو تو مسخ نہ کیجیے…… اس ویڈیو میں کئی ایک چہرے ہیں جن کا کردار ایسا نہیں ہے کہ پی پی پی کے جھنڈے اور پارٹی کے نشان کے ساتھ اُن کو بی بی شہید کے غم میں آدھ مرا دکھایا جائے….

Posted by Muhammad Aamir Hussaini on Thursday, December 26, 2019