Featured Original Articles Urdu Articles

جنید حفیظ بلاسفیمی کیس: ماقبل انسان سماج میں انسان بن کر رہنا محال ہے – عامر حسینی

بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے سابق لیکچرار جنید حفیظ کو سیشن کورٹ ملتان نے توہین رسالت کے الزام میں سزائے موت سنائی ہے۔

مقدمے کا فیصلہ چھے سال بعد آیا اور اس دوران چھے جج اس کیس کی سماعت سے الگ ہوگئے- جنید حفیظ کے پہلے وکیل صفائی راشد الرحمان ایڈوکیٹ کو قتل کردیا گیا۔ دوسرے وکیل صفائی پر قاتلانہ حملہ ہوا اور تیسرے وکیل صفائی نے اس شرط پر مقدمے کی پیروی کی کہ سماعت لاہور میں ہوگی اور ان کی شناخت کو میڈیا میں مشتہر نہیں کیا جائے گا۔

مقدمے کا مقامی عدالت سے فیصلہ آنے کے بعد جنید حفیظ کے وکیل صفائی نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اس فیصلے کو قانون اور انصاف سے ہٹ کر سنایا گیا فیصلہ مانتے ہیں اور یہ دباؤ میں دیا گیا فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ میں اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی جائے گی۔

مقدمے کا فیصلہ 21 دسمبر 2019ء کو جیسے ہی سنایا گیا اور اس کی اطلاع عام ہوئی تو سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ جنید حفیظ اور ‘جسٹس فار جنید حفیظ ٹاپ ٹرینڈ پر آگئے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل، انسانی حقوق کمیشن پاکستان سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں نے فیصلے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور اسے جنید حفیظ سے ناانصافی قرار دیا- انٹرنیشنل جیورسٹ کونسل نے جنید حفیظ پر لگے الزامات اور ان الزامات کے حق میں استغاثہ کے پیش کردہ دلائل کو مسترد کیا جبکہ شواہد و ثبوت کو مشکوک قرار دیتے ہوئے جنید حفیظ کو الزام سے بری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

جنید حفیظ کے خلاف کیس کی پیروی کرنے والے ایک وکیل سجاد چاؤن سابق سیشن جج رہے ہیں اور وہ تبلیغی جماعت کے رکن ہیں اور ان پر الزام ہے کہ انھوں نے جنید حفیظ کے وکیل راشد الرحمان کو جنید حفیظ کے کیس کی پیروی سے الگ ہوجانے کو کہا اور کہا کہ اگر وہ کیس کی پیروی سے باز نہیں آئے تو اگلی پیشی پر وہ یہاں نہیں ہوگے- اس کے بعد راشد الرحمان واقعی قتل کردیے گئے۔

راشد الرحمان کی بہنیں راشد کے قتل کی خبر سن کردوہزار نو میں جنید حفیظ نے بی زیڈ یو ملتان کے شعبہ انگریزی میں ایک سیمنار کا انعقاد کیا جس میں شعبہ انگریزی کی اس وقت کی سربراہ ڈاکٹر شریں زبیر اور پاکستانی نژاد برٹش فکشن رائٹر ڈاکٹر قیصرہ شیراز بھی خطاب کرنے والوں میں شامل تھیں- اس سیمینار میں جنید حفیظ، ڈاکٹر شیریں زبیر اور ڈاکٹر قیصرہ شیراز پر کچھ طلباء نے توہین رسالت کرنے کا الزام عائد کیا- ان طالب علموں کا مبینہ تعلق جماعت اسلامی کے طلباء ونگ اسلامی جمعیت طلباء سے بتایا گیا تھا۔

 توہین رسالت کا الزام عائد ہونے کے بعد یونیورسٹی میں اشتعال پھیلایا گیا- جبکہ ملتان شہر میں جماعت اسلامی پاکستان، انٹرنیشنل ختم نبوت، مرکزی جمعیت علمائے پاکستان نے جماعت اسلامی کے دفتر میں پریس کانفرنس کی اور تینوں مبینہ مرتکب توہین کے ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ ڈاکٹر شیریں زبیر اور ڈاکٹر قیصرہ شیراز ملک سے باہر جانے میں کامیاب رہیں جبکہ جنید حفیظ چند دن کی روپوشی کے بعد ساہیوال شہر سے گرفتار ہوگئے۔

جنید حفیظ پر جب کیس دائر کیا گیا تو استغاثہ نے سیمینار میں ان پر توہین رسالت کے الزام بارے خاموشی اختیار کرتے ہوئے ان پر فیس بک پر توہین رسالت کرنے کا الزام لگایا۔ جبکہ دوران گرفتاری پولیس نے جنید حفیظ کا لیپ ٹاپ نہ صرف قبضے میں لیا بلکہ اس کا پاس ورڈ بھی زبردستی ان سے اگلوایا گیا- جنید حفیظ کے وکیل صفائی، والدین اور اس کیس کو قریب سے دیکھنے والے انسانی حقوق کے ماہرین کی متفقہ رائے یہ ہے کہ جنید حفیظ کے لیپ ٹاپ مں ٹمپرنگ کی گئی اور تفتشیش کرنے والے پولیس اہلکاروں نے جنید حفیظ کو مجرم ثابت کرنے کے لیے جعلی مواد تیار کیا۔

جنید حفیظ کے خلاف بلاسفیمی کے الزام کے سامنے آنے کے بعد ملتان سے شایع ہونے والے اردو اخبارات کے ایک سیکشن کی رپورٹنگ بڑی حد تک پروپیگنڈے اور پروجیکشن کے لحاظ سے جنید حفیظ کے خلاف سرگرم دائیں بازو کی مذہبی جماعتوں کی مبینہ اشتعال انگیز اور ڈرانے دھمکانے والے بیانات کی فرنٹ اور بیک پیج پر تشہیر کرنے سے عبارت رہی۔ جبکہ ملتان کے وکلاء برادری میں ریڈکل مذہبی خیالات اور جذبات کی عکاسی کرنے والے ایک سیکشن کو بھی جنید حفیظ کیس میں کافی سرگرم پایا گیا- وکلاء کا یہ وہ سیکشن تھا جس نے پی پی پی کی رہنماء شیریں رحمان کے خلاف توہین رسالت کے کیس میں شیری رحمان کے وکیل کے طور پر پیش ہونے پر راشد الرحمان کی پٹائی بھی کی تھی جو بعد ازاں جنید حفیظ کے وکیل بننے کی پاداش میں قتل کردیے گئے۔

جنید حفیظ کیس کا مقامی عدالت سے فیصلہ آنے کے بعد وکلائے استغاثہ نے ملتان کہچری میں مٹھائی تقسیم کی اور وکلائے استغاثہ کو پھولوں کے ہار پہنائے گئے۔ جب کہ جماعت اسلامی پاکستان کے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ میں جنید حفیظ کے خلاف سرگرم دائیں بازو کی مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کا ایک اجلاس بھی منعقد ہوا اور اس اجلاس میں بھی مٹھائی تقسیم ہوئی اور ہار پہنائے گئے۔ اس موقعہ پر صحافیوں کو مدعو کیا گیا تھا جن سے بات چیت کے دوران مذہبی رہنماؤں کا رویہ شدت پسندی پر مبنی تھا اور انہوں نے الزام عائد کیا کہ بہاءالدین زکریا یونیورسٹی میں کئی اساتذہ اسلام دشمن خیالات کی ترویج کررہے ہيں اور ان عناصر کو زکریا یونیورسٹی سے نکال باہر کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا- اردو اخبارات کے ایک سیکشن نے جنید حفیظ کو سزائے موت سنائے جانے کے فیصلے کی خبر کے ساتھ اس فیصلے پر وکلائے استغاثہ اور مذہبی جماعتوں کے جارحانء بیانات کو اخبار کے بیک پیج پر کوارٹر پیج پر جگہ دی ہے اور ایک اخبار نے ‘ٹاپ ٹرینڈ آن سوشل میڈیا’ کے عنوان سے جو تفصیل دی ہے اس میں زیادہ کوریج جنید حفیظ کے مخالف جارحیت پسندوں پر مشتمل ہے۔

ملتان سے تعلق رکھنے والے کئی ایک تجربہ کار سینئر صحافیوں، ادیبوں، کالم نگاروں اور بہاء الدین زکریا یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے اعتدال پسند اساتذہ نے بتایا کہ بہاءالدین زکریا یونیورسٹی میں جماعت اسلامی سے بالخصوص اور دائیں بازو کی مذہبی جماعتوں سے تعلق رکھنے والی یونیورسٹی ایڈمنسٹریشن ، یونیورسٹی سینڈیکیٹ اور دیگر شعبوں ميں موجود افراد نہایت منظم انداز سے یونیورسٹی میں قدامت پرستی اور اس سے آگے بڑھ کر جہادی و تکفیری خیالات کی تشہیر میں ملوث ہیں اور یہ یونیورسٹی میں ترقی پسند،روشن خیال خیالات کی ترویج کرنے والوں کے خلاف بلاسفیمی کارڈ سمیت ڈرانے دھمکانے کی کاروائیوں میں ملوث ہیں اور اس کام میں ملتان بار، پریس اور مذہبی جماعتوں کے اندر سے ان کو مدد اور حمایت حاصل ہے۔ اصل جنگ یونیورسٹی کی ایڈمنسٹریشن کو دباؤ میں رکھنا اور تقرری، مستقل کرنے اور داخلوں سمیت مختلف امور میں اپنے مفادات کے مطابق دباؤ برقرار رکھنا ہے اور مفادات کی اس سیاست کا سب سے گندا پہلو بلاسفیمی کارڈ کا استعمال ہے۔

ملتان کی ایک قدیمی دینی درس گاہ سے تعلق رکھنے والے اور معروف دینی گھرانے کے کی ایک شخصیت نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جنید حفیظ کیس سے ملتے جلتے جتنے بھی کیسز ہیں ان میں بلاسفیمی کارڈ کے پیچھے مفادات کا ٹکراؤ کارفرما ہوتا ہے اور فضا اتنی گھمبیر ہے کہ اعتدال پسند علماء کی آواز متعصب اور تنگ نظر آوازوں کے شور میں دب جاتی ہے۔ اس شخصیت کا کہنا ہے کہ یہاں تک کہ ملزم کو صاف،شفاف اور آزادانہ صفائی پیش کرنے کا موقعہ بھی فراہم نہیں کیا جاتا اور اسلامی قوانین و صوابط اور بنیادی اخلاقیات کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں جس سے مذہب فوبیا اور اسلامو فوبیا کے شکار عناصر کو پروپیگنڈے کا موقعہ ملتا ہے۔ ایسے عناصر اسلام اور مسلمانوں کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں۔

جسٹس اینڈ پیس کمیشن پاکستان میں مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والوں کے خلاف بلاسفیمی کے مقدمات پر کام کرنے والے ایک وکیل اور انسانی حقوق کے رضاکار کا کہنا تھا کہ جنوری 2019ء تک مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے 187 افراد پر 200 کے قریب بلاسفیمی قوانین کے تحت مقدمات درج کیے گئے اور ان تمام مقدمات کی کیس ہسٹری سے صاف پتا چلتا ہے کہ یہ کیسز بدنیتی اور کسی اور وجہ عناد کے سبب درج کرائے گئے اور اکثریتی کیسز میں ملزمان کو مقامی عدالتوں نے سزا سنائی اور ریلیف نہیں دیا۔

انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے کہ 1967ء سے 2019ء تک ابتک کل 1300 افراد پر بلاسفیمی قوانین کی مختلف شقوں کے تحت مقدمات درج کیے گئے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ سب سے زیادہ مقدمات کا اندراج پاکستان کے 1973ء کے آئین کی رو سے مسلمان کی تعریف پر پورا اترنے والے مسلمانوں پر درج کیے گئے۔ اور ان مسلمانوں میں سب سے زیادہ تعداد سیکولر لبرل و صوفی طرز پرعمل پیرا اور شیعہ مسلمانوں کی ہے۔ تیسرے نمبر پر سلفی اہل حدیث اور چھوتھے نمبر پر دیوبندی مسلمان ہیں۔

جبکہ غیرمسلم قرار دیے گئے احمدی مذہب کے لوگ جن کو عرف عام میں قادیانی کہا جاتا ہے اور مسیحی پاکستانی شہریوں پرمسلمانوں کے بعد سب سے زیادہ بلاسفیمی قوانین کے تحت مقدمات کا اندراج کیا گیا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور بلاسفیمی مقدمات کی کیس اسٹڈیز کرنے والی غیر سرکاری ریسرچ انسٹی ٹیوٹس کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ بلاسفیمی کے الزام کے تحت مقدمے کا شکار ہونے والے افراد کے خلاف سیشن کورٹس،مقامی پولیس، مقامی اردو پریس کے غالب سیکشن سے جڑے صحافیوں کا رویہ معاندانہ ہوتا ہے اور مقامی بار میں بھی دائیں بازو کے متشدد نظریات سے تعلق رکھنے والوں کا غلبہ نظر آتا ہے جو اگرچہ تعداد میں کم مگر اثر و رسوخ میں زیادہ ہوتے ہیں۔

پاکستان میں جمہوریت پسند حلقوں کا کہنا ہے کہ جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں بلاسفیمی کارڈ کے منظم طریقے سے سیاسی استعمال نے معاملات کو خاصا بگاڑ دیا ہے۔ پاکستان کی غیرمنتخب ہئیت مقتدرہ نے اس کارڈ کو منتخب سیاسی حکومتوں کو بلیک میل کرنے اور یہان تک گرانے تک کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

بلاسفیمی کارڈ کی جارحانہ انداز میں شدت کے ساتھ سیاسی استعمال کی سب سے بڑی مثال 80ء اور 90ء کی دہائی میں سپاہ صحابہ پاکستان کی اینٹی شیعہ تحریک تھی اور پھر 2008ء میں پی پی پی کو دباؤ میں لانے کے لیے اس کارڈ کے شدت سے استعمال کے سبب سابق گورنر سلمان تاثیر کا قتل ہوا۔ جبکہ نواز شریف دور میں ولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشال خان پر توہین رسالت کا الزام لگا اور ان کو بلوائی حملے میں قتل کردیا گیا اور بعد ازاں ان کے قتل میں ملوث ملزمان بھی رہا ہوگئے۔

بلاسفیمی قوانین کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ابتک کسی جمہوری حکومت کی قانون سازی کی ابتدائی کوشش بھی کامیاب نہیں ہوسکی- پاکستان پیپلزپارٹی نے 1988ء اور 1993ء میں جب ان قوانین کے غلط استعمال روکنے کے لیے قانون سازی کرنے کا اعلان کیا تو پورے ملک میں دائیں بازو کی مذہبی جماعتوں نے انتہائی جارحانہ مہم شروع کردی- اس زمانے میں اسٹبلشمنٹ، عدلیہ اور پریس کے معاندانہ رویے اور نواز شریف کی قیادت میں اپوزیشن نے بھی پیپلزپارٹی اور اس کی قیادت کو آڑے ہاتھوں لیا اور پی پی پی اس دور میں اس دباؤ کو دیکھتے ہوئے پیچھے ہٹ گئی۔ 2002ء سے 2007ء تک جنرل مشرف نے آمرانہ دور میں اگرچہ حدود لاءز میں کچھ تبدیلیاں کیں لیکن بلاسفیمی قوانین کے غلط استعمال کو روکنے کے خلاف اقدامات اٹھانے کے بیانات بیانات ہی رہے۔

 دو ہزار آٹھ سے 2012ء کے درمیان جب صدر مملکت آصف علی زرداری نے ان قوانین کے غلط استعمال کو روکنے کے خلاف قانون سازی کے لیے اس وقت کے وزیر انسانی حقوق ملک شہباز بھٹی کی قیادت میں ایک کمیٹی قائم کی تو ان کے خلاف انتہائی جارحانہ مہم شروع ہوگئی اور پہلے سلمان تاثیر گورنر پنجاب اور پھر ملک شہباز بھی کو قتل کردیا گیا۔ اس کے بعد پی پی پی کی حکومت نے اس ایشو پر خاموشی اختیار کرلی تھی۔

بلاسفیمی کارڈ نواز شریف حکومت اور بعد ازاں خود عمران خان کی حکومت کے خلاف استعمال کیا گیا۔ اس عمل نے دائیں بازو کے شدت پسندوں کو شتر بے مہار کرڈالا ہے اور اب ہر شخص یہاں خوفزدہ نظر آتا ہے۔

پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ کے ججز نے اگرچہ ہمیشہ دباؤ کے باوجود کئی جرآت مند فیصلے دیے لیکن ان کو بلاسفیمی قوانین کے تحت گرفتار ملزمان کو حقائق و واقعات کی روشنی میں انصاف فراہم کرنا سب سے مشکل ثابت ہوا ہے۔ آسیہ کیس میں یہ حقیقت بہت کھل کر سامنے آئی۔

جنید حفیظ کیس کی ٹائم لائن بھی آسیہ بی بی کیس کی ٹائم لائن دہراتی نظر آرہی ہے۔ اور لگتا ہے کہ یہ کیس بھی سپریم کورٹ تک جائے گا- لیکن اس کے جنید حفیظ اور اس کے خاندان پر جو نفسیاتی و جسمانی اعتبار سے تباہ کن اثرات ہوں گے کیا ان کی تلافی ہوسکے گی؟

پاکستان کا سماج ابھی تک ماقبل انسان دور میں سانس لے رہا ہے جس میں افراد کا انسانوں کی طرح زندگی گزارنے پر اصرار ان کو یا تو بلوائی حملے میں زندگی سے محروم کردیتا ہے یا پھر ان کو زندان کی کوٹھڑیوں میں پھینک دیتا ہے اور وہاں سے جب وہ نکل کر باہر آتے ہیں تو ان کے پاس دو راستے ہوتے ہیں- ایک یہ کہ ماقبل انسان سماج میں ماقبل انسان بن کر رہیں یا انسان بنکر رہنے کی آرزو کو برقرار رکھتے ہوئے اس ملک سے چلے جائيں- لیکن اگرپھر بھی ماقبل انسان سماج میں انسان بن کر رہنے پر اصرار کیا تو پھر زندگی سے محروم ہونا یقینی ہے۔