Featured Original Articles Urdu Articles

طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں – عامر حسینی

جب آمروں کو خاندان کا حصہ کہو گے تو پھر تنقید ہوگی

پاکستان کی مسلح افواج کا ترجمان ادارہ آمروں کے دور میں آمروں کی ترجمانی کرتا تو ہر جمہوریت پسند سمجھتا تھا کہ یہ مسلح افواج کی نہیں بلکہ آمر کی ترجمانی کررہا ہے- لیکن جب اس ادارے نے جمہوری ادوار میں آمروں کی ترجمانی کا فریضہ سرانجام دینا اور اُن کے جرائم کی پردہ پوشی کرنے کا طرز اختیار کیا تو ہر جمہوریت پسند تکلیف میں مبتلا ہوا اور اُس کو یہ بات زرا نہ بھائی کہ پاکستان کی مسلح افواج کا ترجمان ادارہ ملک میں مارشل لاء لگانے اور آئین کو توڑنے والے ایک سابق فوجی آمر اور ایک سیاسی جماعت کے سربراہ کو فوج کے خاندان کا حصہ قرار دیکر اُس کے جرائم کی پر عدالتی سزا کو پوری فوج کو سزا دینے سے تعبیر کرنے لگ جائے- اور کہے کہ آمروں کو عدالت سے سزا سنائے جانے پر مسلح افواج میں غم و غصہ پایا جاتا ہے-اور پھر اس فیصلے کے تناظر میں اس فیصلے کو بالواسطہ ملک دشمنی اور مسلح افواج کے خلاف سازش قرار دے ڈالے

پاکستان کی جمہوری سیاست کی ترجمان جو اس ملک میں جب بھی تھوڑے بہت شفاف انتخابات ہوئے عوام کے اعتماد کی حقدار ٹھہریں وہ ہمیشہ سے اس ملک کی جرنیل شاہی کے ہاتھوں جبر وستم اور ظلم کا شکار بنیں، جرنیل شاہی نے بندوق کی نوک پر اقتدار پر قبضہ کیا اور ساری ریاستی مشینری کو جمہوریت پسند سیاسی جماعتوں کو کچلنے میں لگادیا اور بدترین اور بد اخلاق پروپیگنڈا کیا گیا- منتخب وزرائے اعظم سب کے سب جبری معذول ہوئے یا نااہل قرار پائے اور ایک وزیراعظم تو پھانسی پر چڑھایا گیا، دوسرا عمر قید کا سزاوار اور اُسے دس سال سیاست سے دور رہنے کا معاہدہ کرنا پڑا-بے نظیر بھٹو لیاقت باغ کی سڑک پر قتل کردی گئیں جیسے لیاقت علی خان ہوئے تھے

منتخب وزراءاعظم سے یہ سلوک پہلے بے وردی نوکر شاہی کے سب سے بڑے عہدے پر فائز ہونے والوں نے کیا اور پھر باوردی نوکر شاہی کے سب سے بڑے افسروں نے کیا

باوردی نوکر شاہی کے سب سے بڑے افسر کی جانب سے مارشل لاء لگانے اور آئین کو توڑ کر یا معطل کرکے آمریت کے نفاذ کو پاکستان کی جمہوریت پسند جماعتوں نے کبھی مسلح افواج کی دشمنی کے معنوں میں نہیں لیا اور نہ ہی کبھی پاکستان کی عوام کو مسلح افواج کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے کی اپیل کی

فوجی آمر اپنے ادوار میں فوج، پولیس، بے وردی نوکر شاہی، عدلیہ اور سرکاری میڈیا کو آئین کے وفاداروں اور جمہوریت پسندوں کے خلاف پوری طرح سے استعمال کرتے رہے لیکن پاکستان کی جمہوریت پسند طاقتوں نے ہمیشہ ریاستی اداروں اور اُس میں کام کرنے والوں کو آئین اور قانون کا وفادار رہنے کا سبق دیا

جمہوریت پسند طاقتوں کے پاس ایسے ثبوت اور شواہد ہمیشہ سے موجود رہے کہ آمریت کے خاتمے کے بعد بھی پاکستان کی عسکری، عدالتی اور بے وردی نوکر شاہی کے اندر سے سیاسی عمل میں مداخلت اور جمہوری نظام کو ڈی ریل سے اتارنے کی کوشش کی جاتی رہی اور یہ مشق اتنی پختہ ہوئی کہ یوں محسوس ہونے لگا جیسے پاکستان کی مسلح افواج اور ایجنسیوں کے اندر ایسے عناصر مستقل طور پر براجمان ہوگئے ہیں جو مستقل بنیادوں پر پاکستان کی ریاست کے مختلف اداروں کو اپنے تابع فرمان نہ بننے والی سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں کے خلاف استعمال کرنے میں مشغول ہیں

اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ اوپر زکر کیے گئے احساس کا سب سے بڑا ثبوت ہے

اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مسلح افواج اور ایجنسیوں کے سربراہان اپنے اداروں میں سیاسی و جمہوری عمل میں مداخلت کرنے والوں کا کورٹ مارشل کرتے اور اُن کو برخواست کردیتے لیکن اُن میں سے کئی ایک تو خود اس غیرآئینی اور غیر قانونی پریکٹس کا حصہ بن گئے- جنرل کیانی سے لیکر جنرل شجاع پاشا تک اور حال میں کئی ایک حاضر سروس اور ریٹائرڈ جرنیلوں پر جو الزامات ہیں اُن کو تقویت ایک بار پھر آئی ایس پی آر کے آمر جنرل مشرف کے دفاع کرنے سے ملی ہے

پاکستان کی مسلح افواج کو جمہوریت پسند متنازعہ نہیں بناتے بلکہ آئین شکن آمر اور اپنے حلف اور آئینی کردار سے تجاوز کرکے پاکستان میں حکومتیں بنانے اور گرانے، سیاسی جماعتوں کو کمزور کرنے اور جمہوریت کی بالادستی کے قائل سیاست دانوں کو سیاست سے باہر کرنے کے لیے اپنے اختیارات اور طاقت کا ناجائز استعمال کرنے والے جرنیل بناتے ہیں

مسلح افواج کو سیاسی تنازعوں میں وہ حاضر سروس فوجی افسران گھسیٹ کر لاتے ہیں جو آمر جرنیلوں کا دفاع کرتے ہیں اور اُن کے جرائم پر بات کرنے والوں کو مُلک دشمن قرار دے ڈالتے ہیں

مسلح افواج اور اس کے زیلی اداروں پر تنقید کے کئی اور اسباب بھی ہیں جن میں سیاسی عمل میں مداخلت کے ساتھ ساتھ سب سے بڑا باعث تنقید عمل پاکستان کی مسلح افواج کی کمرشل، کاروباری، صنعتی، غیر صنعتی اور سڑکوں، پلوں، ڈیم بنانے کی ٹھیکے داری کرنے جیسی سرگرمیاں اور ساتھ ساتھ ڈی ایچ اے، فضائیہ و نیول ہاؤسنگ اسکیموں کا کاروبار بھی ہے جن کی شفافیت بھی مشکوک ہے

پاکستان کی جمہوری سیاسی قیادت نے مسلح افواج کی قیادت سے ہمیشہ کہا ہے وہ اپنے بنیادی فرض اور آئین میں دیے گئے کردار پر ہی فوکس کریں- وہ پاکستان کی مسلح افواج کے اندر تقسیم، انتشار اور زوال دیکھنے کی خواہش مند نہیں ہیں- لیکن یہ بات اب ہر خاص و عام کرتا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کے اندر کمرشل سرگرمیوں کے سبب مفادات کی کش مکش بہرحال موجود ہے اور اپنے آئینی کردار سے تجاوز کرنے کے سبب اہم عہدوں پر تعیناتی کے لیے لابنگ اور گروپنگ بھی ہوتی ہے

چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے سمیت بہت سارے عہدوں پر تعیناتی کے پروسس پر اندر سے جو دباؤ اور لابنگ ہوتی ہے اس بارے اڑتی اڑتی بہت سی خبریں موصول ہوجاتی ہیں

پاکستان کے جمہوریت پسند سیاست دان مسلسل یہ بات کہتے آئے ہیں کہ 1973ء کا آئین ہی ایک ایسا عمرانی معاہدہ ہے جو سب کو متحد رکھ سکتا ہے اور اس میں بیان کردہ کردار اور اختیار تک محدود رہنے میں سلامتی ہے

دوہزار اٹھارہ میں غیرمنتخب ھئیت مقتدرہ نے جو بلنڈر کیا اُس کا ناجائز دفاع کرنے اور اس بلنڈر کے نتیجے میں جو نااہل سیٹ اپ آیا اُسے زبردستی چلانے کے لیے اداروں کے استعمال سے تباہی اور نقصان لازم ہے

پاکستان کے داخلی و خارجی سلامتی کی پالیسی سازی کرنے کا کام پارلیمنٹ کا ہے اور اُسے نافذ کرنا فوج اور دیگر اداروں کا کام ہے اور اگر پارلیمنٹ ہی مشکوک ہو اور حکومت کٹھ پتلی ہو تو پھر اعتراض اور اختلاف سامنے آئے گا- اور اگر کوئی طالع آزمائی کی مخالفت کو ملک دشمنی، فوج دشمنی قرار دے جبکہ وہ فوج کا حاضر سروس افسر ہو تو وہ فوج کو متنازع بنانے کا کام کرتا ہے چاہے یہ عمل دانستہ کرے یا نادانستہ کرے

پاکستان کی مسلح افواج کے ترجمان ادارے کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور حالیہ پریس کانفرنس کے بعد مزید متنازعہ ہوئے ہیں اور انہوں نے اپنے اختیار اور حلف سے ہٹ کر باتیں کی ہیں- اس صورت حال میں اُن کا اپنے عہدے سے مستعفی ہوجانا ہی ملک و قوم کے مفاد میں ہے

پاکستان کی مسلح افواج بطور ادارہ کسی آمر کے کیس میں نہ کل فریق تھیں نہ آج فریق ہیں اور نہ آنے والے کل میں ہوں گی- فریق صرف اور صرف اپنے حلف کی خلاف ورزی کرنے اور آئین کو توڑنے یا اُسے معطل کرنے والے افسران ہوں گے – بھلا مس کنڈکٹ کرنے والے ریاست کے کسی ملازم سے کسی ادارے کو کیا دلچسپی ہوسکتی ہے؟

پاکستان پیپلزپارٹی آمریت اور طالع آزمائی کے ہاتھوں سب سے زیادہ ستم رسیدہ جماعت ہے-اس کے کارکن اور قیادت دونوں نے سب سے زیادہ مصائب اور تکلیفیں اٹھائی ہیں- چار اپریل 1979ء کو اس کے قائد ناجائز پھانسی دیے گئے اور آنے والی 27 تاریخ دسمبر کی اس کی تیسری چیئرپرسن لیاقت باغ کے سامنے شہید ہوئیں اور پی پی پی کی قیادت اُس کا زمہ دار جنرل مشرف کو قرار دیتی ہے- اس 27 تاریخ کو یہ پارٹی پنجاب کے اہم ترین مرکز اور جہاں مسلح افواج کا ہیڈ کوارٹر ہے ایک بڑے جلسہ عام کررہی ہے اور بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ وہ اس جلسے کے زریعے سے یہی پیغام دینا چاہتے ہیں کہ عوام کو اپنی حکومت کو شفاف انتخابات کے زریعے بنانے کا حق ہے-عوام طاقت کا سرچشمہ ہیں اور 73ء کا آئین ملک و قوم کے اتحاد کی ضمانت ہے-یہ بات سب کو ماننا ہوگی- دوسرا راستا سب کے لیے خطرناک ہے

طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں – عامر حسینی جب آمروں کو خاندان کا حصہ کہو گے تو پھر تنقید ہوگی پاکستان کی مسلح افواج کا ترجمان ادارہ آمروں کے دور میں آمروں کی ترجمانی کرتا تو ہر جمہوریت پسند سمجھتا تھا کہ یہ مسلح افواج کی نہیں بلکہ آمر کی ترجمانی کررہا ہے- لیکن جب اس ادارے نے جمہوری ادوار میں آمروں کی ترجمانی کا فریضہ سرانجام دینا اور اُن کے جرائم کی پردہ پوشی کرنے کا طرز اختیار کیا تو ہر جمہوریت پسند تکلیف میں مبتلا ہوا اور اُس کو یہ بات زرا نہ بھائی کہ پاکستان کی مسلح افواج کا ترجمان ادارہ ملک میں مارشل لاء لگانے اور آئین کو توڑنے والے ایک سابق فوجی آمر اور ایک سیاسی جماعت کے سربراہ کو فوج کے خاندان کا حصہ قرار دیکر اُس کے جرائم کی پر عدالتی سزا کو پوری فوج کو سزا دینے سے تعبیر کرنے لگ جائے- اور کہے کہ آمروں کو عدالت سے سزا سنائے جانے پر مسلح افواج میں غم و غصہ پایا جاتا ہے-اور پھر اس فیصلے کے تناظر میں اس فیصلے کو بالواسطہ ملک دشمنی اور مسلح افواج کے خلاف سازش قرار دے ڈالے-پاکستان کی جمہوری سیاست کی ترجمان جو اس ملک میں جب بھی تھوڑے بہت شفاف انتخابات ہوئے عوام کے اعتماد کی حقدار ٹھہریں وہ ہمیشہ سے اس ملک کی جرنیل شاہی کے ہاتھوں جبر وستم اور ظلم کا شکار بنیں، جرنیل شاہی نے بندوق کی نوک پر اقتدار پر قبضہ کیا اور ساری ریاستی مشینری کو جمہوریت پسند سیاسی جماعتوں کو کچلنے میں لگادیا اور بدترین اور بد اخلاق پروپیگنڈا کیا گیا- منتخب وزرائے اعظم سب کے سب جبری معذول ہوئے یا نااہل قرار پائے اور ایک وزیراعظم تو پھانسی پر چڑھایا گیا، دوسرا عمر قید کا سزاوار اور اُسے دس سال سیاست سے دور رہنے کا معاہدہ کرنا پڑا-بے نظیر بھٹو لیاقت باغ کی سڑک پر قتل کردی گئیں جیسے لیاقت علی خان ہوئے تھے-منتخب وزراءاعظم سے یہ سلوک پہلے بے وردی نوکر شاہی کے سب سے بڑے عہدے پر فائز ہونے والوں نے کیا اور پھر باوردی نوکر شاہی کے سب سے بڑے افسروں نے کیا- باوردی نوکر شاہی کے سب سے بڑے افسر کی جانب سے مارشل لاء لگانے اور آئین کو توڑ کر یا معطل کرکے آمریت کے نفاذ کو پاکستان کی جمہوریت پسند جماعتوں نے کبھی مسلح افواج کی دشمنی کے معنوں میں نہیں لیا اور نہ ہی کبھی پاکستان کی عوام کو مسلح افواج کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے کی اپیل کی-فوجی آمر اپنے ادوار میں فوج، پولیس، بے وردی نوکر شاہی، عدلیہ اور سرکاری میڈیا کو آئین کے وفاداروں اور جمہوریت پسندوں کے خلاف پوری طرح سے استعمال کرتے رہے لیکن پاکستان کی جمہوریت پسند طاقتوں نے ہمیشہ ریاستی اداروں اور اُس میں کام کرنے والوں کو آئین اور قانون کا وفادار رہنے کا سبق دیا-جمہوریت پسند طاقتوں کے پاس ایسے ثبوت اور شواہد ہمیشہ سے موجود رہے کہ آمریت کے خاتمے کے بعد بھی پاکستان کی عسکری، عدالتی اور بے وردی نوکر شاہی کے اندر سے سیاسی عمل میں مداخلت اور جمہوری نظام کو ڈی ریل سے اتارنے کی کوشش کی جاتی رہی اور یہ مشق اتنی پختہ ہوئی کہ یوں محسوس ہونے لگا جیسے پاکستان کی مسلح افواج اور ایجنسیوں کے اندر ایسے عناصر مستقل طور پر براجمان ہوگئے ہیں جو مستقل بنیادوں پر پاکستان کی ریاست کے مختلف اداروں کو اپنے تابع فرمان نہ بننے والی سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں کے خلاف استعمال کرنے میں مشغول ہیں-اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ اوپر زکر کیے گئے احساس کا سب سے بڑا ثبوت ہے-اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مسلح افواج اور ایجنسیوں کے سربراہان اپنے اداروں میں سیاسی و جمہوری عمل میں مداخلت کرنے والوں کا کورٹ مارشل کرتے اور اُن کو برخواست کردیتے لیکن اُن میں سے کئی ایک تو خود اس غیرآئینی اور غیر قانونی پریکٹس کا حصہ بن گئے- جنرل کیانی سے لیکر جنرل شجاع پاشا تک اور حال میں کئی ایک حاضر سروس اور ریٹائرڈ جرنیلوں پر جو الزامات ہیں اُن کو تقویت ایک بار پھر آئی ایس پی آر کے آمر جنرل مشرف کے دفاع کرنے سے ملی ہے-پاکستان کی مسلح افواج کو جمہوریت پسند متنازعہ نہیں بناتے بلکہ آئین شکن آمر اور اپنے حلف اور آئینی کردار سے تجاوز کرکے پاکستان میں حکومتیں بنانے اور گرانے، سیاسی جماعتوں کو کمزور کرنے اور جمہوریت کی بالادستی کے قائل سیاست دانوں کو سیاست سے باہر کرنے کے لیے اپنے اختیارات اور طاقت کا ناجائز استعمال کرنے والے جرنیل بناتے ہیں-مسلح افواج کو سیاسی تنازعوں میں وہ حاضر سروس فوجی افسران گھسیٹ کر لاتے ہیں جو آمر جرنیلوں کا دفاع کرتے ہیں اور اُن کے جرائم پر بات کرنے والوں کو مُلک دشمن قرار دے ڈالتے ہیں-مسلح افواج اور اس کے زیلی اداروں پر تنقید کے کئی اور اسباب بھی ہیں جن میں سیاسی عمل میں مداخلت کے ساتھ ساتھ سب سے بڑا باعث تنقید عمل پاکستان کی مسلح افواج کی کمرشل، کاروباری، صنعتی، غیر صنعتی اور سڑکوں، پلوں، ڈیم بنانے کی ٹھیکے داری کرنے جیسی سرگرمیاں اور ساتھ ساتھ ڈی ایچ اے، فضائیہ و نیول ہاؤسنگ اسکیموں کا کاروبار بھی ہے جن کی شفافیت بھی مشکوک ہے-پاکستان کی جمہوری سیاسی قیادت نے مسلح افواج کی قیادت سے ہمیشہ کہا ہے وہ اپنے بنیادی فرض اور آئین میں دیے گئے کردار پر ہی فوکس کریں- وہ پاکستان کی مسلح افواج کے اندر تقسیم، انتشار اور زوال دیکھنے کی خواہش مند نہیں ہیں- لیکن یہ بات اب ہر خاص و عام کرتا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کے اندر کمرشل سرگرمیوں کے سبب مفادات کی کش مکش بہرحال موجود ہے اور اپنے آئینی کردار سے تجاوز کرنے کے سبب اہم عہدوں پر تعیناتی کے لیے لابنگ اور گروپنگ بھی ہوتی ہے-چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے سمیت بہت سارے عہدوں پر تعیناتی کے پروسس پر اندر سے جو دباؤ اور لابنگ ہوتی ہے اس بارے اڑتی اڑتی بہت سی خبریں موصول ہوجاتی ہیں-پاکستان کے جمہوریت پسند سیاست دان مسلسل یہ بات کہتے آئے ہیں کہ 1973ء کا آئین ہی ایک ایسا عمرانی معاہدہ ہے جو سب کو متحد رکھ سکتا ہے اور اس میں بیان کردہ کردار اور اختیار تک محدود رہنے میں سلامتی ہے-دوہزار اٹھارہ میں غیرمنتخب ھئیت مقتدرہ نے جو بلنڈر کیا اُس کا ناجائز دفاع کرنے اور اس بلنڈر کے نتیجے میں جو نااہل سیٹ اپ آیا اُسے زبردستی چلانے کے لیے اداروں کے استعمال سے تباہی اور نقصان لازم ہے-پاکستان کے داخلی و خارجی سلامتی کی پالیسی سازی کرنے کا کام پارلیمنٹ کا ہے اور اُسے نافذ کرنا فوج اور دیگر اداروں کا کام ہے اور اگر پارلیمنٹ ہی مشکوک ہو اور حکومت کٹھ پتلی ہو تو پھر اعتراض اور اختلاف سامنے آئے گا- اور اگر کوئی طالع آزمائی کی مخالفت کو ملک دشمنی، فوج دشمنی قرار دے جبکہ وہ فوج کا حاضر سروس افسر ہو تو وہ فوج کو متنازع بنانے کا کام کرتا ہے چاہے یہ عمل دانستہ کرے یا نادانستہ کرے-پاکستان کی مسلح افواج کے ترجمان ادارے کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور حالیہ پریس کانفرنس کے بعد مزید متنازعہ ہوئے ہیں اور انہوں نے اپنے اختیار اور حلف سے ہٹ کر باتیں کی ہیں- اس صورت حال میں اُن کا اپنے عہدے سے مستعفی ہوجانا ہی ملک و قوم کے مفاد میں ہے-پاکستان کی مسلح افواج بطور ادارہ کسی آمر کے کیس میں نہ کل فریق تھیں نہ آج فریق ہیں اور نہ آنے والے کل میں ہوں گی- فریق صرف اور صرف اپنے حلف کی خلاف ورزی کرنے اور آئین کو توڑنے یا اُسے معطل کرنے والے افسران ہوں گے – بھلا مس کنڈکٹ کرنے والے ریاست کے کسی ملازم سے کسی ادارے کو کیا دلچسپی ہوسکتی ہے؟پاکستان پیپلزپارٹی آمریت اور طالع آزمائی کے ہاتھوں سب سے زیادہ ستم رسیدہ جماعت ہے-اس کے کارکن اور قیادت دونوں نے سب سے زیادہ مصائب اور تکلیفیں اٹھائی ہیں- چار اپریل 1979ء کو اس کے قائد ناجائز پھانسی دیے گئے اور آنے والی 27 تاریخ دسمبر کی اس کی تیسری چیئرپرسن لیاقت باغ کے سامنے شہید ہوئیں اور پی پی پی کی قیادت اُس کا زمہ دار جنرل مشرف کو قرار دیتی ہے- اس 27 تاریخ کو یہ پارٹی پنجاب کے اہم ترین مرکز اور جہاں مسلح افواج کا ہیڈ کوارٹر ہے ایک بڑے جلسہ عام کررہی ہے اور بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ وہ اس جلسے کے زریعے سے یہی پیغام دینا چاہتے ہیں کہ عوام کو اپنی حکومت کو شفاف انتخابات کے زریعے بنانے کا حق ہے-عوام طاقت کا سرچشمہ ہیں اور 73ء کا آئین ملک و قوم کے اتحاد کی ضمانت ہے-یہ بات سب کو ماننا ہوگی- دوسرا راستا سب کے لیے خطرناک ہے-

Posted by Muhammad Aamir Hussaini on Friday, December 20, 2019