Original Articles Urdu Articles

میں انکار کرتی ہوں ویسا ہندؤ ہونے سے جیسا تم چاہتے ہو – پرانیتھا شیٹی

نوٹ: متنازعہ قانون شہریت کو لیکر ہندوستان بھر میں احتجاج جاری ہے۔ عورتیں اس احتجاج کا ہر اول دستہ ہیں۔ پرینتھا شیٹی نے اس حوالے سے ایک نظم لکھی ہے جو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوئی ہے۔ وہ منگلور یونیورسٹی کرناٹک میں انگریزی سکھاتی ہیں۔

میں انکاری ہوں ویسا ہندؤ ہونے سے جیسا تم مجھے ڈھالنا چاہتے ہو

میں انکاری ہوں ویسی ہندؤ ووٹر ہونے سے جو تمہارے اقتدار کی گندی حاکمیت کو برقرار رکھے

میں تمہارا زعفرانی جھنڈا ہونے سے انکاری ہوں جو تم ایسے لہراؤ جیسے کوئی تلوار تیار ہو کسی کو قتل کرنے کو

میں انکاری ہوں ویسا ہندؤ ہونے سے جن کے لیے رام ایسے مندر میں پوجا جائے جسے کسی مسجد کو ڈھاکر بنایا گیا ہو

میں انکاری ہوں تمہاری ہندؤ قوم کا شہری ہونے سے جس میں مسلمان میرے برابر کے شہری نہ ہوں

میں انکاری ہوں ایسا ہندؤ ہونے سے جو یہ بات نہ جانے کہ مرجانے والے سپاہی وہ قیمت ہیں

جو ہم بطور ہندؤ خود اپنے آپ سے ان کو الگ کرنے کے لیے ادا کرتے ہیں جو ہمارے اپنے ہیں۔

میں انکاری ہوں ایسی ہندؤ ہونے سے جو اپنے آپ کی تجسیم غیر انسانی بدمعاشوں کی تصویروں میں کرے جو تم میرے سامنے تھامے ہوئے ہو اور جو تمہارے دعوے موجب شیشے میں میرا عکس ہیں۔

میں تمہیں یہ اجازت دینے سے انکاری ہوں کہ تم ایک ہندؤ ہونے سے وابستہ جو بہت سارے شاندار، رنگا رنگ، عظیم الشان،خوشی سے بھرپور، لامحدود روحانیاتی، تخلیقی بدلاؤ اور گہرے ہمدردانہ امکانات ہیں
ان کو بدل ڈالو
نفرت کے نعرے میں
خوف کے آہنگ میں

تعصب کے قید خانے میں

قانون جبر و وحشت میں

ایک منتشر و منقسم قوم میں

میں ویسا ہندؤ ہونے سے انکاری ہوں جیسا تم مجھے دیکھنا چاہتے ہو

اور میں تمہاری ہر اس کوشش کے آڑے آؤں گی جو تم مجھے راکھشش بنانے کے لیے کرتے ہو

اور میں وہ کوشش جو تم مجھے بدمعاش مخلوق بنانے کے لیے کرتے ہو
جسے تم ہندؤ نام دیتے ہو۔

I Refuse to Be – Poem by Parinitha Shetty

Note: over the widely disputed Citizenship Amendment Act and the National Register of Citizens (NRC), in India country-wide protests have been emerged and Women have been at the forefront of the protests in Assam and elsewhere. Parinitha Shetty teaches English in the Department of English, Mangalore University, Karnataka. She wrote a poem’ I refuse to be’, which has been made viral.

I refuse to be the Hindu you want to shape me into.

I refuse to be the Hindu vote which will sustain the insane authority of your power.

I refuse to be the saffron of your Hindu flag that you bear like a sword ready to kill.

I refuse to be the Hindu for whom Rama can only be worshiped in the temple you will build after reducing a mosque to rubble.

I refuse the citizenship of your Hindu Nation in which Muslims will not be my equals as fellow citizens.

I refuse to be a Hindu who does not recognize that dead soldiers are the price we pay

For dividing ourselves as Hindus from those who are our own.

I refuse to be a Hindu who is made to recognize herself in the images of inhuman monsters you hold before me and which you claim are my reflections in a mirror.

I refuse to allow you to crush the many splendorous , many hued, glorious, joyous, infinitely spiritual, creatively mutating and deeply compassionate possibilities of being a Hindu,

into the slogan of hate

into the rhetoric of fear

into the prison of bigotry

into the law of the tyrant

into a fragmented nation.

I refuse to be the Hindu you want me to be

And I will defy every effort of yours to dehumanize me

And shape me into that monstrous creature you call by the name Hindu.