Original Articles Urdu Articles

کسی کے عقائد کی تفتیش ممنوع ہے – ابنِ حسن

خاتون اسسٹنٹ کمشنر جنت حسین نیکوکارا کا ویڈیو کلپ دیکھا تو انتہائی دکھ اور افسوس ہوا کہ ہم نے اپنے ارد گرد کتنا متعصب اور گھٹن والا ماحوال بنا لیا ہے۔ مردوں کے جھرمٹ میں بٹھا کر ایک خاتون کے عقائد کی تفتیش کی جارہی ہے کہ تم فلاں تصور کے بارے اپنا عقیدہ واضح کرو یا فلاں اپنے الفاظ کی وضاحت پیش کرو۔ ایک طاب علم ہونے کے ناطے میرے لیے یہ منظر دیکھنا کافی افسوس ناک تھا کہ ایک شخص کو یوں سب کے سامنے اپنے عقائد کی وضاحت دینا پڑے اور چند نوجوان تند و تیز اور غیر محترمانہ انداز میں غیر منطقی سوالات پر سوالات داغ رہے ہوں۔

اس سے زیادہ افسوس اس بات پر ہوا کہ یہ سب ڈی سی او اور پولیس حکام کی موجودگی میں ہو رہا تھا اور اس سے بڑھ کر یہ کہ آخر میں اس خاتون اسسٹنٹ کشمنر کو چند لڑکوں سے بلا وجہ معافی مانگنا پڑی۔ یہ بے سمت و سو ہجوم کل مذہبی عقائد کے نام پر ہم سب کے گلے پڑ سکتا ہے۔ مذہب پسند احباب کو اس متعصبانہ اور غیر منطقی ماحول کے اسباب تلاش اور ان کا سدباب کرنا چاہیے۔ یہ مذہب پسند احباب کا بنیادی وظیفہ ہے کہ وہ آگے بڑھ کر مذہب کی بدنامی کا باعث بننے والی اس سوچ کا مقابلہ کریں۔

میں نے خاتون کی موردِ اعتراض تقریر بھی سنی ہے۔ مجھے اس میں ایسی کوئی قابل اعتراض بات نہیں ملی جس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکے کہ خاتون نے ملکی قوانین میں سے کسی ایک قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ اگر خاتون نے کسی قانون کی خلاف ورزی کی بھی ہوتی تو اس کی تفتیش کا ایک قانونی ضابطہ ہے جس میں یوں کسی کو چند ناسمجھ نوجوانوں کے سامنے کٹہرے میں بٹھا دینے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

کسی کا عقیدہ کیا ہے؟ اس کی تفتیش ممنوع ہے۔ یعنی صرف کسی کے عقیدے کی بنیاد پر اس کا مواخذہ نہیں کیا جاسکتا اور صرف عقیدے کی بنیاد پر کسی کو کوئی سزا نہیں دی جاسکتی۔ عقائد کی بنیاد پر مواخذہ اور سزا مختلف ادیان خصوصاً مسیحت میں رائج رہی ہے بلکہ قرون وسطی میں عروج پر رہی لیکن اسلام محمدی میں کسی کے عقائد کی تفتیش کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

عقیدے کے انتخاب میں انسان آزاد ہے کیونکہ جبری عقیدے میں کمال معنی نہیں رکھتا اور اسلام میں کمال مطلوب ہے۔ عقیدے کی آزادی اور کسی کے عقیدے کی تفتیش کی ممانعت میں قرآن کریم سے چند آیات مبارکہ کی طرف صرف اشارہ کرکے بات ختم کرتا ہوں تاکہ بات لمبی نہ ہو جائے۔ میرے مدنظر نکتہ آیات کریمہ کے صرف بیان سے واضح ہو جائے گا ان و اس حوالے سے دیگر آیات کی تفسیر و تشریح بحسب ضرورت کسی دوسرے موقع پر موکول رہی۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

و لو شاء ربک لامن من فی الارض کلهم جمیعا افانت تکره الناس حتی یکونوا مؤمنین

اگر تمہارا رب چاہتا تو زمین پر موجود تمام (لوگ) ایمان لے آتے (لیکن خدا نے ایسا نہیں کیا)؛ (اے پیغمبر) کیا آپ لوگوں کو مجبور کریں گے کہ وہ ایمان لے آئیں ؟۔

قل یا ایها الناس قد جاءکم الحق من ربکم فمن اهتدی فانما یهتدی لنفسه و من ضل فانما یضل علیها و ما انا علیکم بوکیل
اے لوگو کہہ دیں تمہارے رب کی طرف سے حق آچکا ہے پس جو ہدایت پا گیا تو اس نے اپنے لیے ہدایت پائی اور جو گمراہ ہوا وہ بھی اپنے لیے گمراہ ہوا اور میں (اللہ کا رسول) آپ پر وکیل اور نگہبان نہیں ہوں۔

قل الحق من ربکم فمن شاء فلیؤمن و من شاء فلیکفر
کہہ دو حق تمہارے رب کی طرف سے ہے جو چاہے ایمان لے آئے جو چاہے انکار کردے۔

مذکورہ بالا آیات ایمان کے اختیاری ہونے کے بارے میں ہیں اور کسی پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو زبردستی مومن بنائے یا ان سے مومن ہونے کا سرٹیفیکیٹ مانگے یا انہیں مومن ہونے کا سرٹیفیکیٹ دے۔ خدا نے یہ ذمہ داری کسی کو نہیں دی حتی اپنے محبوب کو بھی کہا ہے آپ اس معاملے میں ان کے وکیل اور نگہبان نہیں ہیں۔

خدا وند متعال نے ایک اور جگہ فرمایا ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ۖ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا

اے ایمان والو ایک دوسرے بارے ظن و گمان سے اجتناب کرو کیونکہ اکثر گمان گناہ ہیں۔ اور ایک دوسرے کے بارے تجسس سے اجتناب کرو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو

یہاں تجسس سے ممانعت کے بارے تمام علمائے حقہ نے یہی کہا ہے کہ مراد ان امور کے تجسس کی ممانعت ہے جنہیں لوگ معمولا دوسروں سے مخفی رکھنا چاہتے ہیں۔ اور عقیدہ انہی امور میں شامل ہے جنہیں لوگ معمولا کسی پر ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔ لہذا کسی کے عقیدے کی تفتیش درست نہیں ہے۔

خاتون اسسٹنٹ کمشنر کے حوالے سے کالج کے چند نوجوانوں کا رویہ انتہائی قابل مذمت ہے لیکن اس سے بڑھ کر ڈی سی او کا رویہ قابل مذمت ہے جس نے بچوں کا پریشر لیکر ایک خاتون شہری کو یوں اپنے عقیدے کی وضاحتیں دینے پر مجبور کیا اور معاشرے میں تشویش پھیلانے کا باعث بنا۔ دوسری طرف ان بچوں کے اساتذہ اور والدین قصور وار ہیں جنہوں نے بچوں میں اس طرح کی شدت پسندی اور تعصب پروان چڑھایا کہ انہیں دوسروں کے عقیدوں پر نہ صرف اعتراض ہے بلکہ وہ اس پر احتجاج کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔

ان سب سے بڑھ کر مذہب پسند طبقہ قصور وار ہے جس نے معاشرے میں خوش فکری رائج کرنے کا اپنا وظیفہ درست انجام نہیں دیا اور دین و مذہب کی بدنامی کا باعث بنا ہے۔ آج ہی کوئی دوست بتا رہا تھا ملک میں اندراج ہونے والے توہینِ مذہب کے 1000 مقدمات میں سے نصف بظاہر مولویوں کے خلاف درج ہوئے ہیں لہذا دین و مذہب کی تبلیغ کے نام پر ایک اچھی خاصی تعداد ہمارے درمیان گھس چکی ہے جو دین کی روح کو سمجھتے ہیں نہ دین پر خود درست عمل پیرا ہیں اور انہی کی ناقص سوچ کیوجہ سے معاشرے میں اس طرح کے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں جو پورے معاشرے خصوصاً مذہبی طبقے پر تعصب اور گھٹن کے ماحول کی سند بنتے ہیں۔

آپ مذہب پسند ہیں یا مذہب مخالف، آپ مذہب کے مدافع ہیں یا ناقد، آپ کا ایک فرض مشترک ہے اور وہ یہ کہ دوسروں کے عقیدے اور ایمان کی توہین و مواخذہ کیے بغیر منطق اور استدلال کے ماحول کو پروان چڑھائیں جہاں فکر اور عقیدے کی آزادی کے بنیادی انسانی حق کی پریکٹس ممکن ہوسکے۔

 

کسی کے عقائد کی تفتیش ممنوع ہےخاتون اسسٹنٹ کمشنر جنت حسین نیکوکارا کا ویڈیو کلپ دیکھا تو انتہائی دکھ اور افسوس ہوا کہ ہم نے اپنے ارد گرد کتنا متعصب اور گھٹن والا ماحوال بنا لیا ہے۔ مردوں کے جھرمٹ میں بٹھا کر ایک خاتون کے عقائد کی تفتیش کی جارہی ہے کہ تم فلاں تصور کے بارے اپنا عقیدہ واضح کرو یا فلاں اپنے الفاظ کی وضاحت پیش کرو۔ ایک طاب علم ہونے کے ناطے میرے لیے یہ منظر دیکھنا کافی افسوس ناک تھا کہ ایک شخص کو یوں سب کے سامنے اپنے عقائد کی وضاحت دینا پڑے اور چند نوجوان تند و تیز اور غیر محترمانہ انداز میں غیر منطقی سوالات پر سوالات داغ رہے ہوں۔اس سے زیادہ افسوس اس بات پر ہوا کہ یہ سب ڈی سی او اور پولیس حکام کی موجودگی میں ہو رہا تھا اور اس سے بڑھ کر یہ کہ آخر میں اس خاتون اسسٹنٹ کشمنر کو چند لڑکوں سے بلا وجہ معافی مانگنا پڑی۔ یہ بے سمت و سو ہجوم کل مذہبی عقائد کے نام پر ہم سب کے گلے پڑ سکتا ہے۔ مذہب پسند احباب کو اس متعصبانہ اور غیر منطقی ماحول کے اسباب تلاش اور ان کا سدباب کرنا چاہیے۔ یہ مذہب پسند احباب کا بنیادی وظیفہ ہے کہ وہ آگے بڑھ کر مذہب کی بدنامی کا باعث بننے والی اس سوچ کا مقابلہ کریں۔میں نے خاتون کی موردِ اعتراض تقریر بھی سنی ہے۔ مجھے اس میں ایسی کوئی قابل اعتراض بات نہیں ملی جس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکے کہ خاتون نے ملکی قوانین میں سے کسی ایک قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ اگر خاتون نے کسی قانون کی خلاف ورزی کی بھی ہوتی تو اس کی تفتیش کا ایک قانونی ضابطہ ہے جس میں یوں کسی کو چند ناسمجھ نوجوانوں کے سامنے کٹہرے میں بٹھا دینے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ کسی کا عقیدہ کیا ہے؟ اس کی تفتیش ممنوع ہے۔ یعنی صرف کسی کے عقیدے کی بنیاد پر اس کا مواخذہ نہیں کیا جاسکتا اور صرف عقیدے کی بنیاد پر کسی کو کوئی سزا نہیں دی جاسکتی۔ عقائد کی بنیاد پر مواخذہ اور سزا مختلف ادیان خصوصاً مسیحت میں رائج رہی ہے بلکہ قرون وسطی میں عروج پر رہی لیکن اسلام محمدی میں کسی کے عقائد کی تفتیش کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔عقیدے کے انتخاب میں انسان آزاد ہے کیونکہ جبری عقیدے میں کمال معنی نہیں رکھتا اور اسلام میں کمال مطلوب ہے۔ عقیدے کی آزادی اور کسی کے عقیدے کی تفتیش کی ممانعت میں قرآن کریم سے چند آیات مبارکہ کی طرف صرف اشارہ کرکے بات ختم کرتا ہوں تاکہ بات لمبی نہ ہو جائے۔ میرے مدنظر نکتہ آیات کریمہ کے صرف بیان سے واضح ہو جائے گا ان و اس حوالے سے دیگر آیات کی تفسیر و تشریح بحسب ضرورت کسی دوسرے موقع پر موکول رہی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:و لو شاء ربک لامن من فی الارض کلهم جمیعا افانت تکره الناس حتی یکونوا مؤمنیناگر تمہارا رب چاہتا تو زمین پر موجود تمام (لوگ) ایمان لے آتے (لیکن خدا نے ایسا نہیں کیا)؛ (اے پیغمبر) کیا آپ لوگوں کو مجبور کریں گے کہ وہ ایمان لے آئیں ؟۔قل یا ایها الناس قد جاءکم الحق من ربکم فمن اهتدی فانما یهتدی لنفسه و من ضل فانما یضل علیها و ما انا علیکم بوکیلاے لوگو کہہ دیں تمہارے رب کی طرف سے حق آچکا ہے پس جو ہدایت پا گیا تو اس نے اپنے لیے ہدایت پائی اور جو گمراہ ہوا وہ بھی اپنے لیے گمراہ ہوا اور میں (اللہ کا رسول) آپ پر وکیل اور نگہبان نہیں ہوں۔قل الحق من ربکم فمن شاء فلیؤمن و من شاء فلیکفرکہہ دو حق تمہارے رب کی طرف سے ہے جو چاہے ایمان لے آئے جو چاہے انکار کردے۔ مذکورہ بالا آیات ایمان کے اختیاری ہونے کے بارے میں ہیں اور کسی پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو زبردستی مومن بنائے یا ان سے مومن ہونے کا سرٹیفیکیٹ مانگے یا انہیں مومن ہونے کا سرٹیفیکیٹ دے۔ خدا نے یہ ذمہ داری کسی کو نہیں دی حتی اپنے محبوب کو بھی کہا ہے آپ اس معاملے میں ان کے وکیل اور نگہبان نہیں ہیں۔خدا وند متعال نے ایک اور جگہ فرمایا ہے:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ۖ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًااے ایمان والو ایک دوسرے بارے ظن و گمان سے اجتناب کرو کیونکہ اکثر گمان گناہ ہیں۔ اور ایک دوسرے کے بارے تجسس سے اجتناب کرو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔۔۔۔یہاں تجسس سے ممانعت کے بارے تمام علمائے حقہ نے یہی کہا ہے کہ مراد ان امور کے تجسس کی ممانعت ہے جنہیں لوگ معمولا دوسروں سے مخفی رکھنا چاہتے ہیں۔ اور عقیدہ انہی امور میں شامل ہے جنہیں لوگ معمولا کسی پر ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔ لہذا کسی کے عقیدے کی تفتیش درست نہیں ہے۔خاتون اسسٹنٹ کمشنر کے حوالے سے کالج کے چند نوجوانوں کا رویہ انتہائی قابل مذمت ہے لیکن اس سے بڑھ کر ڈی سی او کا رویہ قابل مذمت ہے جس نے بچوں کا پریشر لیکر ایک خاتون شہری کو یوں اپنے عقیدے کی وضاحتیں دینے پر مجبور کیا اور معاشرے میں تشویش پھیلانے کا باعث بنا۔ دوسری طرف ان بچوں کے اساتذہ اور والدین قصور وار ہیں جنہوں نے بچوں میں اس طرح کی شدت پسندی اور تعصب پروان چڑھایا کہ انہیں دوسروں کے عقیدوں پر نہ صرف اعتراض ہے بلکہ وہ اس پر احتجاج کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔ان سب سے بڑھ کر مذہب پسند طبقہ قصور وار ہے جس نے معاشرے میں خوش فکری رائج کرنے کا اپنا وظیفہ درست انجام نہیں دیا اور دین و مذہب کی بدنامی کا باعث بنا ہے۔ آج ہی کوئی دوست بتا رہا تھا ملک میں اندراج ہونے والے توہینِ مذہب کے 1000 مقدمات میں سے نصف بظاہر مولویوں کے خلاف درج ہوئے ہیں لہذا دین و مذہب کی تبلیغ کے نام پر ایک اچھی خاصی تعداد ہمارے درمیان گھس چکی ہے جو دین کی روح کو سمجھتے ہیں نہ دین پر خود درست عمل پیرا ہیں اور انہی کی ناقص سوچ کیوجہ سے معاشرے میں اس طرح کے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں جو پورے معاشرے خصوصاً مذہبی طبقے پر تعصب اور گھٹن کے ماحول کی سند بنتے ہیں۔آپ مذہب پسند ہیں یا مذہب مخالف، آپ مذہب کے مدافع ہیں یا ناقد، آپ کا ایک فرض مشترک ہے اور وہ یہ کہ دوسروں کے عقیدے اور ایمان کی توہین و مواخذہ کیے بغیر منطق اور استدلال کے ماحول کو پروان چڑھائیں جہاں فکر اور عقیدے کی آزادی کے بنیادی انسانی حق کی پریکٹس ممکن ہوسکے۔ ابنِ حسن

Posted by Syed Ibnehasan Bukhari on Thursday, December 12, 2019