Featured Original Articles Urdu Articles

ملک ریاض کی کہانی

پچھلے دنوں کلاس میں سٹوڈنٹس کے سامنے وائٹ کالر کرائم کی گُتھی سمجھاتے ہوئے مجھے کافی مُشکل پیش آئی کیونکہ ان کرائمز کی مثالیں بہت پیچیدہ ہوتی ہیں، آج کے بعد یہ مُشکل کبھی پیش نہیں آئے گی کیونکہ اب میرے پاس ایک آسان اور سادہ ترین مثال موجود ہے، آپ میرے سٹوڈنٹ نہیں ہیں لیکن آپ بھی مُفت میں سمجھ لیجیے۔

دیکھیے پاکستان میں ملک ریاض نامی ایک معاشی دہشت گرد رہا کرتا تھا، بہت سے ریٹائرڈ جرنیل اُسکے ذاتی ملازم تھے، کم از کم باون ریٹائرڈ برگیڈئیر اور سینکڑوں دیگر آرمی آفیسرز اُسکے تنخواہ دار ملازم تھے، گویا اُسکی اپنی ذاتی فوج بھی تھی۔ یہ تو آپ جانتے ہی ہونگے کہ فوجی ریٹائرمینٹ کے بعد بھی فوجی ہی رہتا ہے۔

اُسکا کاروبار اتنا بڑا تھا کہ وہ ٹی وی چیلنلز کو کروڑوں کے اشتہار دیا کرتا، کوئی میڈیا چینل اُسکے اشتہارات کے بغیر نہیں چل سکتا تھا، تبھی ہر میڈیا گروپ کے کاروباری مفادات اُس سے جُڑے تھے۔

ہر سیاسی تحریک، دھرنا اور مارچ وہی فنڈ کرتا تھا، حکومت کوئی بھی ہو، اپُوزیشن کوئی بھی ہو، ہر جماعت کے لیڈر کے معاشی مفادات اُسکے مفادات سے کہیں نہ کہیں ضرور جُڑتے تھے۔ ایسی صورتحال بھی آ جاتی کہ وہ اپنے ہی دوست کی حکومت کے خلاف اپنے ہی ایک دوسرے دوست کے نکالے دھرنے کی فنڈنگ بھی کرتا پھر اپنے ایمپائر دوست سے کہہ کر لڑتے دوستوں میں ثالثی کروا دیا کرتا۔

اُسکے خلاف سینکڑوں مقدمات درج تھے، لال مسجد کے تکفیری خوارج سے تعلقات تھے رئیل اسٹیٹ کے کاروبار کی وجہ سے اُسے بعض اوقات ایک آرمی چیف کے سمدھی المعروف میاں مٹھو کے ذریعے لوگوں کی زمینوں پر قبضہ بھی کروانا پڑتا، اس چکر میں چار سال میں کم و بیش بتیس لوگ قتل بھی ہوئے مختلف افراد پر قتل کے مقدمات بھی درج ہوئے لیکن کبھی ان مقدمات کو منطقی نتیجہ نہ ملا

پھر ایک بار اس شخص نے پاکستان کے ایک صوبے کی حکومت سے اپنی ایک کالونی بنانے کے لیے بہت سی قیمتی سرکاری زمین کوڑیوں کے داموں خرید لی

زمین کا ایک حصہ صوبائی حکومت کے زیرِ انتظام تھا ایک حصہ شہری حکومت کی ملکیت تھا اور یُوں دو حکومتوں کی لڑائی کے باعث معاملہ عدالت تک پہنچا اور عدالت نے زمین کی قیمت کی مد میں مارکیٹ ویلیو دیکھتے ہوئے اُس سے مزید دوہزار ارب روپے کا تقاضہ کیا۔

وہ زمین پر کالُونی بنا کر کھربوں روپوں میں بیچ بھی چکا تھا لیکن بالآخر سپریم کورٹ اور اُسکے درمیان بعض افراد نے ایک سمجھوتہ کروا کر واجب الادا رقم دوہزار ارب سے کم کروا کر چار سو ساٹھ ارب روپے کروا دی جو اسے کئی سال کی معمولی قسطوں میں ادا کرنے تھے۔

معاملہ یہیں ختم ہو جاتا تو یہ بھی وائٹ کالر کرائم کی ایک عمدہ ترین مثال تھی کہ دوہزار ارب کو کس فارمولے کے تحت چار سو ساٹھ ارب کیا گیا اور پیسوں کی قسطیں کیسے کی گئیں جبکہ یہ تو پہلے ہی وہ زمین بیچ کر پیسے کھرے کر چکا تھا۔

لیکن معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا۔

یہ شخص اس ایک چوری کے علاوہ بھی کم از بہتر چوریوں میں ملوّث تھا جنکے کیسز کبھی سپریم کورٹ تک پہنچے ہی نہیں وجہ اسکے بااثر ملازمین ہیں جن میں سے کئی جنرلز ہیں دوسری وجہ اپوزیشن اور حکومتی جماعتوں کے اس سے جڑے مفادات ہیں۔ پھر اس نے کم و بیش آٹھ سو ملین پاونڈز کی ایسی ناجائز رقم جس پر پاکستان میں ٹیکس نہیں دیا گیا تھا برطانیہ لانڈر کی۔

برطانیہ نے اپنے قوانین کے باعث یہ کیس اُٹھا لیا اور اس سے جائز ذرائع آمدنی پُوچھے جو یہ نہ بتا سکا اور پلی بارگین کے ذریعے اُس رقم میں سے ایک سو نوّے ملین پاونڈز برطانیہ کی حکومت کو دے دیے۔ برطانیہ کے قانون کے مطابق ایسے چوروں سے لی گئی بارگیننگ کی رقم اةسی ملک کو دے دی جاتی ہے جہاں سے یہ رقم چوری ہوئی ہو۔ لہذا برطانیہ نے آٹھ سو ملین پاونڈز میں سے ایک سو نوے ملین پاونڈز پاکستان کو دے دیے۔

اب ایک اور وائٹ کالر کرائم شروع ہوتا ہے۔ حکومتِ پاکستان نے وہ پیسے سُریم کورٹ میں اُن پیسوں کی مد میں جمع کروا دیے جو ملک ریاض نے پچھلے جُرمانے کے طور پر جمع کروانے تھے۔

یعنی پہلے جو اس نے چار سو ساٹھ ارب پاکستان کو ادا کرنے تھے برطانیہ سے ملی رقم اُسی مد میں قبول کر لی گئی اور اب ملک ریاض کو پاکستان کو چارسوساٹھ ارب سے اڑتیس ارب کم جمع کروانے ہیں۔

بات یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ حکومت نے اس معاشی دہشت گرد سے یہ تک پُوچھنا گوارا نہ کیا کہ آٹھ سو ملین پاونڈز جتنی بڑی رقم جو پاکستان کے تمام سرکاری ملازمین کی مشترکہ سالانہ تنخواہ سے بھی کہیں زیادہ ہے اس نے کمائی کیسے اور باہر کیسے بھیجی اس ہر ٹیکس کیوں نہیں دیا اور نہ ہی کسی نے یہ بات کی کہ برطانیہ سے یہ باقی کی رقم بھی واپس لینے کے لیے مقدمہ درج کر کے اس شخص کو گرفتار کیا جائے گا۔

یعنی وائٹ کالر کرائم ایک ایسے کرائم کو کہتے ہیں جس میں حکومت اور اسکے تمام ادارے شریک تو ہوتے ہی ہیں بادی النظر میں مجرم کے دلّال بھی نظر آئیں۔

ایسے جرائم میں سزا مجرم کو نہیں اُسکی قوم کو مہنگائی بے روزگاری لاقانُونیت اور بھوک کی شکل میں ادا کرنی پڑتی ہے۔

اُمید ہے آپ پر وائٹ کالر کرائم کی تعریف واضح ہو چکی ہو گی۔