Headlines Original Articles Urdu Articles

ٹوئٹر ٹرینڈ کا مصنوعی پن اور کمرشل لبرل مافیا کے جرائم – عامر حسینی

 

 

میرا ہمیشہ سے یہ موقف رہا کہ پاکستانی لبرل کیمپ میں کمرشل ازم، موقعہ پرستی، علمی بددیانتی اور آدھے سچ کو بیان کرنے کا رجحان غالب ہے۔ اور لبرل میں کمرشل مافیا ایک ناقابل انکار حقیقت ہے۔ اور اس لبرل کمرشل ازم کا انگریزی پریس میں سب سے بڑا نام ڈان میڈیا گروپ کا ہے۔ اردو پریس میں جنگ اور جیو سب سے آگے ہے۔ اس گروپ کی آفیشل ویب سائٹ پر ایک رپورٹ شایع ہوئی ہے۔ جس کا بنیادی مقدمہ یہ ہے

ٹوئٹر ٹرینڈ ہوسکتا ہے مصنوعی ہوں، ہیش ٹیگ کے سوداگر اصل لوگ ہیں

اس مقدمہ کے سچ ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔ اور ایسے ہی ٹوئٹر پر جو ہیش ٹیگ ٹرینڈز کی میتھڈولوجی ہے اس کے عمومی مقدمات بھی درست ہیں-

لیکن ان مقدمات کے لیے جو ٹھوس مثالیں چنی گئی ہیں ان میں باقاعدہ ڈنڈی ماری گئی ہے۔ مثال کے طور پر اگر ہیش ٹیگ ٹرینڈز کے باب میں دیکھیں تو ساری مثالیں پاکستان تحریک انصاف کے سوشل میڈیا گروپ پر فوکس ہیں یا پھر وہ پاکستان آرمی کے حامیوں کے نام سے بنے لوگوں کے اکاؤنٹس کی طرف سے چلائے گئے ہیش ٹیگ ٹرینڈز کی ہیں۔

ڈان میڈیا گروپ نے ہیش ٹیگ ٹرینڈز میں مسلم لیگ نواز کی سوشل میڈیا ٹیم، اس کے مبینہ تنخواہ دار اینکرز،صحافی، تجزیہ کار، رپورٹرز اور خود نواز لیگ کے غیر اعلانیہ ترجمان لبرل کمرشل میڈیائی سیکشن کی طرف سے مصنوعہ ہیش ٹیگ ٹرینڈز کی ایک بھی ٹھوس مثال پیش نہیں کی گئی۔ اور گزشتہ دس سالوں میں نواز شریف ،مریم نواز کو لبرل آئیکون، بھٹو،بے نظیر اور کامریڈ چی گیورا بنانے کی جو ساختہ و مصنوعہ کمپئن چلائی گئی اس پر ایک بھی مثال ہمیں پڑھنے کو نہیں ملتی۔ کیوں؟ کیا ہم یہ مان لیں کہ پاکستان تحریک انصاف کو چھوڑ کر ٹوئٹر پر کسی اور سیاسی جماعت یا گروہ نے مصنوعہ ہیش ٹیگ کمپئن چلائی ہی نہیں؟ ہاں صرف یہ فقرے ہمیں سننے کو ملتے ہیں

A search of the term “follow karein” in Urdu on Twitter leads to dozens of accounts offering a ‘follow for follow back’ deal. The follow-networks are subdivided into supporters of different parties, including Pakistan Muslim League-Nawaz such as ‘MNS Followers Team’ and Pakistan Tehreek-i-Insaf such as ‘PTI Follow Team 50k’.

ڈان میڈیا گروپ کی اس تحقیق میں جو 2018ء اور 2019ء کے دو سالوں میں ٹوئٹر ٹرینڈ پر مشتمل ہے میں اس بات کو بھی نظر انداز کردیا گیا کہ اسی ٹوئٹر پر (دوسرے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی طرح) 5 سال تک کی عمر کے بچوں کی اموات پر کیسے سندھ کے علاقوں خاص طور پر تھر کو ہی کیسے فوکس کیا گیا اور جب تھر یا سندھ سے کہیں زیادہ پنجاب و کے پی کے میں جو بچوں کی اموات کے کیسز تھے ان پر توجہ دلائی ہی ںہیں گئی۔

Hashtag #TharKids

ہیش ٹیگ تھر کڈز کیسے مصنوعہ و ساختہ تھا اور اس میں خود ڈان میڈیا گروپ کا کتنا حصّہ ہے یہ کبھی نہیں بتایا جائے گا۔

ایسے ہی اگر آپ حال ہی میں نواز شریف اور زرداری کی بیماری پر ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ اور ان دونوں کے درمیان کمپئن کا جائزہ لیں فرق سامنے آجائے گا۔( اس حوالے سے جو نام نہاد مین سٹریم میڈیا ہے اور خاص طور پر لبرل اقدار کا علمبردار اس کا امتیازی رویہ بھی سامنے آئے گا)

ڈان میڈیا گروپ نے ‘بااثر کمپئن’ کے حوالے سے جو مثال اپنی اس رپورٹ میں چنی وہ تحریک لبیک پاکستان کی ہے۔ اور ان دو سالوں میں ٹوئٹر کے اوپر جو تکفیری دیوبندی-سلفی کمپئن تھیں ان کی مثالوں کو یہاں پر درج ہی نہیں کیا گیا۔ جیسے شہلا رضا کے خلاف کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان نے جو ٹوئٹر پر مہم چلائی اس کا زکر تک نہیں ہوا۔ بلکہ پاکستان تحریک انصاف میں شامل وہ سیاست دان جو شیعہ ہیں ان کے خلاف 2018ء میں جو تکفیری دیوبندی مہم ٹوئٹر پر دیکھنے کو ملی وہ بھی اس تجزیہ میں شامل نہیں ہیں۔ ایسے ہی شام،یمن سمیت مڈل ایسٹ میں سعودی-امریکن پروپیگنڈے کو لیکر جو تکفیری مہم چلی اور ایسے ہی سعودی عرب کے زیر اثر جو مصنوعی کمپئن پروپیگنڈا کیا گیا اس کی بھی ایک مثال نہیں دی گئی۔

پاکستان کے کمرشل لبرل مافیا نے ٹوئٹر پر نواز شریف کی اشیر باد سے جو کمپئن طاہر القادری کے خلاف لانچ کی اس کا ذکر بھی یہاں نہیں آیا اور جو تکفیری پروپیگنڈا طاہر القادری کے بارے میں کیا گیا اس کا زکر بھی یہاں نہیں تھا۔ کیوں؟

پاکستان کا کمرشل لبرل مافیا سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا پر اپنی مصنوعی اور ساختہ پروجیکشن یا کردار کشی کمپئن اور جعلی رائے عامہ کی ساخت میں اپنے کردار پر یکساں طور پر پردہ ڈال دینے کا عادی مجرم ہے۔ یہ عدالتی، وردی بے وردی اور سیاسی و صحافتی و سوشل میڈیائی سٹرکچر اور ان میں موجود ساختہ کلچرل آپریٹس کے باب میں ادھورے سچ ہی بولتا ہے۔ کیونکہ کہ باقی کا سچ ان کے اپنے مجرمانہ کردار کو بے نقاب کرتا ہے۔

#GRABYOURKEYBOARDS‘: INSIDE PAKISTAN’S HASHTAG MILLS

While Twitter trends may be artificial, hashtag merchants are real people.

Hash tag #AntiPakistaniJournalists
##BoycottTomatoes
#JusticeForSaleinPakistan
Accounts reporting
Umar Cheema
#UnfollowHamidMir
During the reporting period, Dawn came across a number of WhatsApp group invite links posted on Twitter that allow you to join the networks. Most invite links on Twitter are shared by religious influence groups, particularly of Tehreek-i-Labbaik Pakistan (TLP).
@TeamPakistanZindabad
#WeStandWithPakArmy
#LeKarRahenGeKashmir
#VeenaSlappedTraitors