Featured Original Articles Urdu Articles

روس میں انٹلیکچوئل کنزرویٹو ہونا بہت مشکل ہے – ولادیمیر گولسٹن

کنزرویٹو ہونے کا مطلب روسی طور طریقوں کا احترام کرنا؛ ناکہ روس کو مکمل طور پر ایک مغربی مُلک بنانے کے لیے اسے پیچھے کی طرف دھکیلنا

کنزرویٹو چاہے وہ گوگول، فیودر تیوتچیف،دستوفسکی وغیرہ ہی کیوں نہ تھے اُن پر مطلق العنانی کی خدمت کرنے، جہالت اور جذباتیت کی حمایت کرنے اور برائے فروخت ہونے جیسے الزامات لگائے گئے

اور تضاد والی بات یہ تھی کہ حکومتیں مغرب کی برابری کرنے کے لیے مغرب طرز کے پروگرام کے ساتھ کنزرویٹو کی طرف شک کی نگاہ سے دیکھا کرتیں اور اُن پر تلوار لٹکائے رہتیں ( نکولس اول نے سلووفائلس کو ہراساں کیا اور اس کی کتابوں کو چھپنے سے روک دیا)

دوسری طرف لبرل ان دونوں راستوں کو اپناتے دکھائی دیتے تھے – مبتدیوں کے لیے، روسی لبرل کم از کم پیٹراعظم کے زمانے سے یک گونہ منطق کے مالک تھے: ہم پسماندہ ہیں، ہمیں مغربی طور طریقوں کی جتنی جلدی ہو نقالی کرنا ہوگی – مغربی طور طریقوں سے بہرحال وہ نوآبادیاتی نظام، مقامی اور غیر ملکی آبادی کا استحصال، ظلم و جرائم مراد نہیں لیتے تھے- بلکہ مغربی طور طریقوں سے مراد مغربی آدرش تھے

نتیجتاً اپنے خوبصورت نعروں اور مقامی حالات سے اتنی ہی بے خبری کے ساتھ لبرل کو روسی حکومتوں نے درگذر سے کام لیا- اُن کو عوام نے آئیڈیل بنایا اور مغرب سے انہوں نے تعریف سمیٹی

دسمبر والوں کے جرائم بارے

اگر وہ برطانیہ یا سپین میں ہوتے اور ایسے ہی باغی ہوتے تو ہزاروں موت کے گھاٹ اتر گئے ہوتے- روس نے پانچ کو سزائے موت دی اور دو سو لوگوں کو ملک بدر کیا- پھر یہی دسمبر والے تھے جو معزز مصائب کے اسطور اور معزز لبرل روسی افراد جوکہ کنزرویٹو ہوچکے تھے کو ملاتے ہوئے لبرل شہداء کی علامت بن گئے تھے-یہاں پر ‘کنزرویٹو ہونا’ بہت اہم ہے- اور ان لوگوں نے یہ مرتبہ عام روسی آدمی اور اس کے طور طریقوں کا ٹھوس علم حاصل کرکے اور ان کا احترام کرکے پایا- گوگول، پُشکن ،دستوفسکی یا چیخوف ایسے ہی ہیں- یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ سارے ادیبوں کو لبرل کے ہاں متفقہ طور ہمیشہ ہراساں کیا جاتا رہا، اُن کو بُرا بھلا کہا جاتا رہا اور مسترد بھی

بیسویں صدی میں کچھ منحرف لوگوں نے اسی سفر کو پھر دوہرایا( جبکہ اکثر مغرب گئے اور انہوں نے روسی طور طریقوں پر لبرل تنقید جاری رکھی)

ان میں سے ایک عظیم شخص جس نے یہ کیا وہ یولی ڈینئل تھا، ڈینئل – سینووسکی افئیر کا مشہور کردار-(ڈینیل – سینیوسکی ٹرائل فروری 1966ء میں دو روسی ادیبوں یولی مارکویچ ڈینئل اور فیودر سینیوسکی کے سوویت یونین بارے طنزیہ مضامین بیرون ملک شایع ہونے کے خلاف شروع ہوا تھا جس میں دونوں ادیبوں کو سزا ہوگئی تھی) – خروشیف کی قید سے رہا ہونے کے بعد سینیوسکی فرانس گیا، جہان اُس نے درمیانے درجے کی قدر وقیمت کا ھامل جریدہ چھاپنا جاری رکھا – اس دوران وہ سوبورن میں فرانسیسی کا ایک لفظ سیکھے بغیر پڑھاتا رہا

 

( Либералам)

ڈینئل ،تاہم وہیں ٹھہرا رہا اور اُس نے ایک ایک عاجزانہ سی زندگی گزاری اور دل کو چھو لینے والی ایماندارانہ شاعری کی- اُن کی شاعری میں ایک ہجویہ نظم بھی ہے جس کا عنوان ہے ‘لبرل کے نام’

“Shit on silver lining: we, heroes, liberals.
We yearn for Russia with our pasteurized anguish,
Oh, liberals, you are the parasites on the festering wound
Of human misery.”

ترجمہ

‘ہم ھیرو لبرل’ ،اس طرح کی امید بھری سطر پر لعنت
ہم تو اپنی تطہیری تکلیف کے ساتھ شدت سے روس کے آرزو مند ہیں
اوہ، لبرل، تم انسانی آزار کے پک گئے زخم پر طفیلیوں کی طرح سے ہو

کیا اس غصے کا جواز بنتا ہے؟ دوستوفسکی سے شروع ہوجائیں، لبرل نے ہر دانا، مشاہدہ نگار شاندار نظر آنے والے لوگوں کو مشتعل کیا- کیوں؟

ڈینیل سمجھتا ہے کہ روس سے محبت رکھنے کی بجائے، لبرل اس کی مصیبتوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور اس دوران گھٹیا قسم کی اخلاقی اشارے بازی سے کام لیتے ہیں: ” اچھے سے تربیت یافتہ، خوب کھائے پیے، ہم ہمیشہ بنا خون بہائے ایک دوسرے سے نبرد آزما ہوتے ہیں، اے گروہ لبرل، تم ہر دور اور ہر ایک عہد میں نور نظر رہے ہو”

اَن کی تنقید سطحی ہوتی ہے اور کسی حد تک انا پرستانہ بھی اور یہ تسکین کے مادی پیار کے ساتھ اخلاقی اور دانشورانہ مطابقت پذیری کو چھپاتی ہے

اسی لب و لہجے مین ایک اور 60 اور 70 کی دہائیوں کی ترقی پسند اور لبرل شاعرہ یونا مورتز روسی لبرل ازم کی سخت ناقد بن گئی تھیں- مورتز لبرل کے خلاف ایک اور الزام کا اضافہ کرتی ہے جس کا مشاہدہ دوستوفسکی نے پہلے ہی کرلیا تھا:

فسطائیت کی سرحدوں سے ملتی ہوئی عدم برداشت- جو ہمیشہ اُن لوگوں میں حیرانی کا سبب بنتی ہے جو اپنی حکومتوں کی عدم برداشت یا جبر پر تنقید کرتے ہیں

مورتز یوگوسلاویہ کی تقسیم اور سربیا پر بمباری پر مطلق انسانی یا ایک روسی زاویہ نگاہ سے بات کرتی ہے-روسی عوام میں تو اس نکتہ نظر پر کوئی سوال نہیں ہے- جو روسی کلچرل اسٹبلشمنٹ کے لیے کافی تھا، وہی لبرل کے لیے سرب کے ساتھ ہمدردی کرنا پسماندگی، حماقت پرستی اور فسطائی نیشنل ازم کے قریب تر ہونے کے مساوی ہے- روسی لبرل کے نزدیک تو مغرب کبھی غلط نہیں ہوسکتا-اگر ملازوچ پر بمباری ہوئی تو وہ بدمعاش ہے – اگر اسد پر حملہ ہوا تو وہ انسان کی جُون میں شیطان ہے

مورتز جو پہلے مغربی پریس کی ڈارلنگ تھی پھر راندہ درگاہ ہوگئی، اُسے پاگل قرار دیکر خاموش کردیا گیا- مورتز کا کمال یہ ہے کہ اُس نے خاموش ہونے سے انکار کردیا اور لبرل پر تلخ ترین حملہ کرنے والی یہ ھجویہ نظم لکھی- اور اُس نے سیاسی جذبات کی بلند ترین سطح رکھنے والے اشعار لکھنا جاری رکھے- خدا سے لیکر انٹرنیٹ تک کا شُکریہ

لاکھوں روسی عوام یوکرائن اور کریمیا، ڈینوب پر بمباری اور دیگر معاملات پر جو محسوس کرتے ہیں جن کو لیکر روس کو بدنام کیا جاتا ہے اور جو لبرل کے دوسری قسم کے کام ہیں

یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے اُسے بھدرا لوک/شہری تعلیم یافتہ درمیانے طبقے کے باتونیوں نے چھوڑنا جاری رکھا ہوا ہے- یہاں اُس کا روسی لبرل پر شاعرانہ حملہ پیش کیا جارہا ہے اور آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ جتنا غم و غصہ ہوسکتا ہے اُس کا اس نے حق حاصل کرلیا ہے اس کے باپ کو سٹالن نے گرفتار کرلیا – وہ کیف میں ایک روسی یہودی گھرانے میں پیدا ہوئی جس نے نازی اور اس کے حواریوں کے ہاتھوں مصائب برداشت کیے تھے

اوپر سے دیکھیں
اُن کی شاہانہ لیموزین عوامی بسیں نہیں ہیں
نہ ہی ٹرینیں ہیں، جہاں کبھی اپنی چائے کے ساتھ عام لوگ سفر کرتے تھے
ہم عام آدمی کے لیے کیوں پیسہ دیں؟ کیا وہ پیدل نہیں چل سکتے؟
جبکہ پھولوں سے سجی لیموزین ایسے فراٹے بھرتی ہیں جیسے ہوا
لبرل آمریت، لبرل کی دہشت
لبرل ادرشوں کے کمیسار غضب ناک ہوگئے ہیں

اُن کی درندگی میں بیلمور-کنال کی سی کوئی چیز ہے- کوئی عقوبت خانوں کی سی چیز
(بیلمور-“کنال سٹالن دور میں غلام مزدوروں کی ابتدائی سائٹس تھیں)

لبرل آمریت، لبرل کی دہشت
لبرل گسٹاپو، جو کوئی بھی اُن کے ساتھ نہیں ہوتا پھر وہ کہیں نہیں ہوتا

لبرل کی درندگی میں گولاگ بدمعاشوں کی سی کوئی چیز ہے، خلاق مگرمچھوں کی سی جو اپنے کام میں بہت طاق

لبرل آمریت، لبرل کی دہشت
اَن کا غصہ، اُن کی بدلے کی دھمکیاں،
اُن کی درندگی میں عقوبت خانوں کی سی کوئی چیز ہے

لبرل کمیسار تو غضب ناک ہوگئے،
یہ شاک تھراپی دینے والے اپنی مگر مچھ کی جلد کے جوڑ اور بلیک ہول میموری کے ساتھ

ان کی شاہانہ لیموزین بسوں کے ٹن کین نہیں ہیں
اُن کی شاہانہ لیموزین عوامی بسیں نہیں ہیں
نہ ہی ٹرین جن میں اپنی چائے لیکر عام لوگ سفر کرتے تھے
ہم اُن پر پیسہ خرچ کریں کیوں؟
کیا وہ پیدل نہیں چل سکتے
جبکہ اُن کی پھولوں سے سجی لیموزین تو ہوا کی طرح فراٹے بھرتی اڑتی ہیں
(مترجم عامر حسینی)

В И Д С В Е Р Х У
Их роскошные тачанки – не автобусы для швали,
Не вагоны, где в дороге этой швали чай давали.
Кто платил за шваль в дороге?.. Шваль должна идти пешком,
А роскошные тачанки ехать в лентах с ветерком!..

Диктатура либералов, тирания либералов,
Озверели комиссары либеральных идеалов, –
Что-то в зверстве либералов есть от беломор-каналов,
Что-то в зверстве либералов есть от пыточных подвалов.

Диктатура либералов, тирания либералов,
Либеральное гестапо: кто не с ними – тот нигде!..
Что-то в зверстве либералов есть от лагерных амбалов,
Крокодилов креативных, эффективных в той среде.

Диктатура либералов, тирания либералов,
Их кричалки, обещалки растерзательных расправ, –
Что-то в зверстве либералов есть от пыточных подвалов,
Где с Россией разберутся, шкуру заживо содрав.

Озверели комиссары либеральных идеалов,
Эти шокотерапевты, у которых нечто есть
И от кожи крокодилов, и от в памяти провалов…
Их роскошные тачанки – не автобусная жесть!

Их роскошные тачанки – не автобусы для швали,
Не вагоны, где в дороге этой швали чай давали.
Кто платил за шваль в дороге?.. Шваль должна идти пешком,
А роскошные тачанки ехать в лентах с ветерком!

I posted two of her poems (one on Serbia and one just a short lyrical one) in the comments.