Featured Original Articles Urdu Articles

عراق میں پرتشدد احتجاج کی لہر:مقدس مقامات کو علاقائی پراکسی جنگوں کا اکھاڑا مت بنایا جائے – عامر حسینی

 

عراق میں مشتعل مظاہرین نے مقدس ترین شہر نجف اشرف میں قائم ایرانی سفارت خانے کو آگ لگادی – سفارت خانے میں موجود سفارتی عملے اور دیگر ملازمین نے بھاگ کر مشکل سے جان بچائی-مشتعل مظاہرین کی بڑی تعداد نجف اشرف میں ایرانی سفارت خانے میں داخل ہوئی، توڑ پھوڑ کی اور سفارت خانے کی چھت پر لہراتے ایرانی جھنڈے کو اتار کر عراقی جھنڈا لہرا دیا

اس سے پہلے اربعین امام حسین علیہ السلام کے موقعہ پر چار نومبر 2019ء کو مشتعل مظاہرین نے کربلاء سٹی میں واقع ایرانی سفارت خانے کو آگ لگادی تھی اور ایرانی جھنڈے کی جگہ عراقی جھنڈا لہرایا گیا تھا

نجف اشرف میں ایرانی سفارت خانے کے جلائے جانے کے بعد عراق کے سب سے طاقتور اور عراقی عوام میں سب سے زیادہ احترام سے دیکھے جانے والے مراجع تقلید آیت اللہ سید علی السیستانی نے عراقی پارلیمنٹ کے اراکین سے کہا ہے وہ موجودہ حکومت کی بجائے متبادل حکومت تشکیل دیں

آیت اللہ السیستانی کے اس اعلان کے بعد عراق کے موجودہ وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا ہے لیکن انہوں نے ٹائم فریم نہیں دیا کہ وہ کب مستعفی ہوں گے

عراقی پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس بروز اتوار کو طلب کیا ہے- کیا عراقی پارلیمنٹ اتوار کے اجلاس میں موجودہ حکومت کو فارغ کرنے کے اقدام پر راضی ہوجائے  گی؟ یہ کہنا قبل از وقت ہے لیکن عراقی حکومت میں شامل مقتدا الصدر کا اتحادی بلاک حکومت کا موجودہ سیٹ اپ ختم کرنے اور نئے انتخابات کے حق میں ہے

اس وقت عراقی پارلیمنٹ میں خاص طور حکومتی سیٹ اپ میں شریک سیاسی جماعتوں میں اکثریت شیعہ جماعتوں کی ہے جن میں سے کئی پارٹیوں اور جماعتوں کا ایرانی رجیم سے گہرا تعلق اور گٹھ جوڑ ہونے کا الزام ہے- عراقی وزیر اعظم عادل عبدالمہدی اور اُن کی پارٹی کو ایران نواز کہا جاتا ہے- جب مقتدا الصدر کی پارٹی کا رجحان علاقے میں سعودی بلاک کے قریب بتایا جاتا ہے- جبکہ مقتدا الصدر کے بارے میں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ وہ عراقی عرب قوم پرستی کے جذبات کو بھی اپنے حق میں استعمال کررہے ہیں

عراقی پارلیمنٹ میں شامل سُنی قبائل کے نمائندہ  اور کرد جماعتوں کا رجحان امریکہ و سعودی عرب وغیرہ کی طرف ہے

جبکہ عراقی شیعہ، سنی، کرد، کرسچن، یزیدی کئی ایک اراکین پارلیمنٹ اور کمیونسٹ پارٹی آف عراق کے اراکین عراق کی سیاسی و معاشی ابتری اور بدعنوانی کے کینسر کے پھیل جانے کی زمہ داری نام نہاد امریکہ – سعودی-اسرائیل نواز اور ایران نواز سیاسی قوتوں کو قرار دیتے ہیں- اس طرح کے نام نہاد غیر جانبدار عراقی پارلیمانی سیاست کے رجحان کو کہا جاتا ہے کہ عراق کے سب سے طاقتور مراجع تقلید آیت اللہ السیستانی کی حمایت بھی حاصل ہے

عراق میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کی لہر بے روزگاری، مہنگائی اور سیاست دانوں، بیوروکریسی سمیت ریاستی اداروں میں کے طاقتور عہدوں پر فائز افراد کی بدترین بدعنوانی کے خلاف شروع ہوئی

مظاہرین میں سرگرم عراقی شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ موجودہ کرپٹ سیاسی سیٹ کا خاتمہ ہو اور عراق میں بیرونی مداخلتوں کا خاتمہ ہو

وزیراعظم کے مستعفی ہونے کے اعلان کے باوجود مظاہرین کی رائے ہے کہ یہ کافی نہیں ہے جب تک پورا سیاسی سیٹ اپ تبدیل نہیں ہوتا

دنیا بھر میں شیعہ اور سُنی مسلمان عراق میں پرتشدد مظاہرو‍ں  کو تشویش کی نظر سے دیکھتے ہیں- عراق میں کربلا اور نجف اشرف دونوں مسالک کے ماننے والوں کے لیے انتہائی مقدس مقامات میں سے ہیں اور ان مقامات پر پرتشدد مظاہروں کا ہونا اور یہاں پر سیکورٹی فورسز اور نیم فوجی ملیشیاؤں کا عوام سے تصادم تشویش ناک امر ہے

مفتی ہاشم سعیدی کراچی میں اہلسنت و جماعت کے سرکردہ عالم دین ہیں – انہوں نے بات کرتے ہوئے کہا کہ کربلا و نجف اشرف کے تقدس کو پراکسی وارز اور وقتی سیاسی مفادات کی نذر نہیں ہونا چاہیے

مولانا اسحاق چشتی انجمن فضلاء جامعہ غوثیہ علوم کے صدر کا کہنا تھا کہ عراقی حکومت مزارات اہل بیت اطہار ودیگر اولیاء و صالحین امت کے مزارات اور آثار کی حفااظت عراقی حکومت کا اولین فریضہ ہے

عراقی سماج و سیاسیات پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عراقی عوام کی اکثریت ایران – سعودی اور ایران-امریکہ لڑائی اور خطے میں کنٹرول کی جنگ جس میں اسرائیل بھی شامل ہے میں عراق کے سینڈوچ بننے پر زرا خوش نہیں ہے- اُن میں ایران کی معشیت اور بازار میں ایران کے حد سے بڑھے کردار پر تشویش ہے- عراق میں ایرانی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کی کمپئن بھی چل رہی ہے- جبکہ عراق میں جگہ جگہ پھیلے ایرانی سفارت خانوں، کلچرل سنٹرز، سروسز و کمیونیکیشن ،آئل انڈسٹری سے جڑی ایرانی کمپنیوں اورساتھ ساتھ ایران نواز مسلح ملیشیائیں و القدس فورس کی ناروا کاروائیاں ایران کے خلاف غصے کی اہم وجہ ہیں

امریکی-سعودی – اسرائیلی بلاک عراق میں پائے جانے والے ایران مخالف غم و غصے کو ایکسپلائٹ کرنے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں-ویسٹرن زرایع ابلاغ اور سعودی عرب و یو اے ای کے سرکاری و نیم سرکاری میڈیا ایران مخالفت کو فوکس کیے ہوئے ہے لیکن وہ عراق میں حالیہ تحریک میں امریکہ مخالف جذبات کی کوریج نہیں کررہے

عراق میں اٹھنے والی احتجاجی لہر میں ایران مخالف جذبات کے اظہار پر پاکستان کے اندر شیعہ مسلمانوں میں بھی ردعمل ایران نواز اور غیر ایران نواز میں تقسیم ہے- پاکستان میں ایسے کئی شیعہ گروپ کا نیٹ ورک ہے جو ایران کی مذھبی اسٹبلشمنٹ کے سربراہ آیت اللہ خامنہ ای کا حامی ہے اور بعض پر اُن سے امداد لینے کے الزام بھی ہے- یہ سیکشن عراق میں احتجاج کی لہر کو امریکی سازش سے تعبیر کرتا ہے- جب کہ  پاکستانی شیعہ مسلمانوں کی اکثریت کا خیال ہے کہ عراقی عوام کی احتجاجی تحریک جائز مطالبات پر مشتمل ہے اور ایرانی مذھبی اسٹبلشمنٹ کی عراق میں ناروا مداخلت پر غصہ بھی بے جا نہیں لیکن اُن کے نزدیک عراق میں ایسے عناصر کی کمی نہیں ہے جو کربلاء و نجف اشرف کو پراکسی سیاست کا گڑھ بنانا چاہتے ہیں

یہ آیت اللہ سیستانی کی پالیسی کو اعتدال پسندانہ قرار دیتے ہیں – ان میں سے بعض کا خیال ہے کہ نجف اشرف اور کربلاء سے ایرانی سفارت خانے ختم کردیے جائیں اور امریکی فنڈڈ تنظیموں کو بھی چئیرٹی کی آڑ میں یہاں پر پراکسی لڑائی کو پروان چڑھانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے