Featured Original Articles Urdu Articles

لاہور میں طلباء یک جہتی مارچ رپورٹ – عامر حسینی

اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کی کال پر ملک بھر کے دیگر حصوں کی طرح لاہور میں بھی طلباء یک جہتی مارچ کیا گیا

طلباء یک جہتی مارچ کا آغاز ناصر باغ سے دو بجے ہوا

طلباء یک جہتی مارچ میں شرکت کے لیے مختلف طلباء تنظیموں کے لوگ جلوسوں کی شکل میں ناصر باغ پہنچے

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن – بی ایس او سے تعلق رکھنے والے نوجوان طالب علموں کا جلوس ناصر باغ کے باہر مارچ کے شرکاء میں آکر شامل ہوا

پاکستان بھٹہ مزدور یونین کا جلوس یونین کے مرکزی صدر کی قیادت میں مارچ میں شامل تھا

ریلوے ورکرز یونین کا وفد چودھری شوکت کی قیادت میں طلباء یک جہتی مارچ کا حصہ بنا

پشتون اور بلوچ طلباء و طالبات کی ایک بہت بڑی تعداد مارچ کا حصہ تھی

لاہور کے مختلف تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم گلگت بلتستان، آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے طلباء و طالبات بھی اچھی خاصی تعداد میں طلباء یک جہتی مارچ کا حصہ تھے

نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن – این ایس ایف کے درجنوں طلباء و طالبات اور پیپلزڈیموکریٹک فرنٹ کے کارکنان کی بڑی تعداد بھی مارچ میں اپنے جھنڈوں اور بینرز کے ساتھ پہنچی

طبقاتی جدوجہد، بے روزگار نوجوان تحریک، پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفینس کمپئن کے کارکنان بھی بڑی تعداد میں پہنچے

طلباء یک جہتی مارچ میں لاہور لیفٹ ،عوامی ورکرز پارٹی، پاکستان مزدور محاذ، پی پی پی کے کارکنان اور رہنماؤں کی بھی معتدبہ تعداد شریک تھی

طلباء یک جہتی مارچ ناصر باغ سے شروع ہوا تو مارچ کے لیے تیار کیا گیا خصوصی کنٹینر سے اعلان ہوا کہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے نیو ہاسٹل کا وارڈن طلباء و طالبات کو مارچ میں شرکت سے روک رہا ہے- اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے کنٹنیر سے نیو ہاسٹل کا گھیراؤ کرنے کا اعلان کیا

اس دوران جی سی یو لاہور کے درجنوں طلباء یونیورسٹی کے مرکزی گیٹ سے باہر آکر مارچ میں شامل ہوگئے جبکہ درجنوں طلباء و طالبات جی سی یو کو نیو ہاسٹل سے ملانے والے اوور ہیڈ برج پر کھڑے مارچ کے شُرکا سے اظہار یک جہتی کرتے نظر آئے

طلباء یک جہتی مارچ ناصر باغ سے ہوتا ہوا جب مال روڈ میں داخل ہوا تو پنجاب یونیورسٹی کے اولڈ کیمپس سے بھی درجنوں طلباء و طالبات مارچ میں شامل ہوگئے

جی پی او لاہور آفس کے نزدیک پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن – پی ایس ایف پنجاب کے طلباء و طالبات پارٹی جھنڈے اٹھائے، نعرے لگاتے ہوئے انفارمیشن سیکرٹری پی ایس پنجاب سبط حسن کی قیادت میں مارچ کے اندر شریک ہوئے تو مارچ کے شرکاء نے زبردست نعروں سے پی ایس ایف کے کارکنوں کا استقبال کیا

ٹرانس جینڈر طلباء کی بڑی تعداد جنت علی کی قیادت میں طلباء یک جہتی مارچ کا حصہ بنی

واسا یونین لاہور کا وفد بھی طلباء یک جہتی مارچ کا حصہ تھا

طلباء یک جہتی مارچ میں نوجوان عورتوں کی بہت بڑی تعداد شریک تھی جو مارچ میں سب سے آگے چل رہی تھیں

طلباء یک جہتی مارچ کے شرکاء مارچ کے مقررہ روٹ پر طلباء حقوق کے حوالے سے مختلف نعرے لگارہی تھے- جب کہ وقفے وقفے سے نعرہ

جب لال لال لہرائے گا

بھی لگایا جارہا تھا

چئیرنگ کراس لاہور پر جب طلباء یک جہتی مارچ پہنچا تو وہاں معروف قانون دان عابد حسن منٹو سمیت بائیں بازو کی طلباء تنظیم ڈی ایس ایف کے سابق رہنما و معروف انسانی حقوق رضاکار حسین نقی، آئی اے رحمان، لال بینڈ کے کامریڈ تیمور، فیصل میرسمیت درجنوں ترقی پسند لوگ مارچ میں شریک ہوگئے

طلباء یک جہتی مارچ سے لاہور لیفٹ کے سربراہ فاروق طارق، طبقاتی جدوجہد کے ڈاکٹر لال خان، پی پی پی کے فیصل میر، صدر پاکستان بھٹہ مزدور یونین، ایس اے سی کے صدر مزمل، پشتون رہنما عالمگیر، بی ایس او کے صدر، ایس اے سی سندھ کے رہنما ثنا امان، ایس اے سی لاہور کی عروج اورنگ زیب، اویس قرنی اور دیگر نے خطاب کیا

طلباء یک جہتی مارچ کے شرکاء کی تعداد طلباء ایکشن کمیٹی کے نزدیک پانچ ہزار تھی- جبکہ آزاد زرایع نے ڈھائی ہزار جبکہ ایجنسیز کے نزدیک شرکاء کی تعداد دو ہزار تھی

طلباء یک جہتی مارچ لاہور نے کوئٹہ میں مارچ پر مبینہ حملے کی شدید مذمت کی قرارداد بھی پیش کی

طلباء یک جہتی مارچ نے فی الفور طلباء یونین بحال کرنے سمیت کئی مطالبات کی منظوری کی قراردادیں بھی پیش کیں

طلباء و طالبات کے ایک گروپ نے تھیڑ ڈرامہ بھی پیش کیا جبکہ گٹار پر میوزک دھنیں بھی بجائی جاتی رہیں

طلباء یک جہتی مارچ کے شرکاء بعد ازاں پُرامن طور پر منتشر ہوگئے