Featured Original Articles Urdu Articles

اسلامی جمہوریہ ایران اور کرایہ دارانہ سرمایہ داری کا باہمی تعلق – داریوش ایم دوست / ترجمہ عامر حسینی

 

مترجم کا نوٹ نوٹ: ایران میں پٹرول سمیت اشیائے ضرورت پر سبسڈی کے خاتمے اور مہنگائی کے خلاف ملک گیر مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ عوامی احتجاج کو روکنے کے لیے ایران کی حکومت جہاں روایتی سیکورٹی فورسز اور مذہبی پولیس پاسداران انقلاب کو استعمال کررہی ہے وہیں پر ایرانی کی مذہبی اسٹبلشمنٹ کی سرپرستی میں قائم ایک وسیع تنظیمی نیٹ ورک کو بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ ابتک ریاستی اور نیم ریاستی فورسز کے چبر اور تشدد سے سو سے زائد افراد کے ہلاک ہونے اور سینکڑوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ایرانی حکومت ان مظاہروں کو سازش اور بیرونی مداخلت کا نتیجہ قرار دے رہی ہے تو دوسری جانب امریکہ سمیت یورپی طاقتیں اپنے لبرل سامراجی پروپیگنڈے سے سچائی سے کہیں زیادہ  جھوٹ کو پروان چڑھا رہے ہیں۔ ایران کے سیاسی-معاشی نظام پر بائیں بازو کے انقلابی تجزیوں کی شدید کمی نظر آتی ہے۔ داریوش ایم دوست کا یہآں پر دوہزار نو میں ہوئے احتجاج  کے تناظر میں لکھے مضمون کا ترجمہ پیش کیا جارہا ہے جو ایران بارے ٹھیک ٹھیک مارکسی تناظر کے ساتھ بحث کو آگے لیجانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

عام طور پر لفظ ایران غیرمتوقع پن کی نشان دہی کرتا ہے۔ یہ یا تو خبر رساں ایجنسیوں کے بیانیوں کے لیے خام مواد پیش کرتا ہے یا پھر کوئی دل کو لبھانے والے اسرار کی تشکیل میں مددگار چیزوں کو پیدا کرتا رہتا ہے۔ حالیہ واقعات  نے ایک بار پھر اس حقیقت کی نشان دہی کی ہے کہ ایرانی انقلاب بارے ابتک نظریہ سازی بہت ہی ناقص ہوئی ہے۔

ایرانی انقلاب کے نتیجے میں ایک ایسی ریاست وجود میں آئی جو عورت دشمن، سامراج مخالف اسلامی جمہوریہ ہونے کے ساتھ ساتھ ظالمانہ جبر کی حامل بھی ہے اور اس انقلاب پر کنٹرول اس وقت روح اللہ خمینی نے کیا۔ تو یہ جس قسم کی جمہوریہ ہے یہ بذات خود ایک پہیلی ہے۔

ایران کا معمہ ایسا راز نہیں ہے جسے ایرانیوں سے چھپالیا گیا ہو۔ بلکہ اس معمہ کو حل کیا جاسکتا تھا اگر ہم نے اپنے بیانیوں کو کافی حد تک متنوع المعانی بنایا ہوتا یا اگر خفیہ کوڈ کی مذہبی یا دوسری اشکال کو  اچھے سے دریافت کرلیا ہوتا۔ یہ ایک معروضی پہیلی ہے۔  نظریاتی نکتہ نظر کو اپنانے میں ہچکچاہٹ عمومع طور پر ایگزوٹک-ازم کی ایک دوسری مثال ہے۔( یہ ایک ایسا رجحان ہوتا ہے جس میں آپ کسی ملک یا سماج میں ہونے والے واقعات اور چیزوں کو خالص بدیسی/غیرملکی نظر سے دیکھتے ہیں) اس ایگزوٹک-ازم کےخلاف، اس تبصرے میں مقام دست برداری سادہ طور یہ مساوات پیش کرنا ہے کہ ایران کے سوال کو اس طرح سے معمہ بناکر پیش کرنا خود ایرانیوں کو پزل کرنا ہے۔ ایران میں حالیہ ابھار ایسا نہیں تھا کہ اس کی بیش بینی نہ ہوسکتی اور نہ ہی یہ کوئی نیا انقلاب ہے۔ اس کے کردار انقلاب کے ایجنڈے بارے واضح نہیں ہیں اور نہ ہی ان کو اس کی مستقبل کی سمت کا اندازہ ہے۔ یہ واقعات ایرانی انقلاب کے ایک نئے سلسلے کی سارے حصوں سے ماورا ہیں۔

یہ 1979ء کے انقلابی ایجنڈے کی ازسرنو تعریف متعین کرنے کی کوشش  ہے۔  یہ انقلاب بھی دوسرے کئی انقلابوں کی طرح اپنے (مقصد کے ) حصول کی تلاش میں ہے۔ انقلاب کے پہلے مرحلے میں ٹوٹ پھوٹ کا دوہرا لکھا ہوا مضمون شامل تھا۔ 1978ء میں اس کا طلوع ہونا 20ویں صدی میں نجات دہنگی کے منصوبوں کی بندش کی علامت ہونے کے ساتھ ساتھ دوسری عالمی جنگ کے بعد مابعد نوآبادیاتی منصوبوں کے دور کے خاتمے کی نوید بھی تھا۔ بلکہ یہ صدیوں سے موجود مطلق العنان ریاست کی شکل سے عظیم ترین تاریخی امکانات میں بدل جانے کی علامت بھی تھا تاکہ جمہوری خود مختار ریاست جیسے مشترکہ نصب العین کی تعمیر ہوسکے۔ ایسا عمل ایک ہی بار 1978ء سے 1981ء کے درمیان اس کے مختصر سے دور میں نہیں ہوسکتا تھا اور نہ ہوسکے ‏گا۔احتجاجی جلسے جلوس 1979 کے انقلاب اور اس کے ابتدائی مرحلے کا سرعام حوالہ دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ  یہاں پر بیک وقت ہر ایک اجتماع پرانے نعروں کو پھر سے زندہ کرتا ہے۔ ہم ایک بار پھر سرکاری پروپیگنڈا مشین کے تنگ بیانیوں سے آزادی اور مکمل خود مختاری جیسے مطالبات سن رہے ہیں۔

نعروں کے الفاظ میں تھوڑا بہت بدلاؤ لاکر یہاں تک کہ وہ نعرے جو خالص مذہبی ہیں ان کو لگانے والے افراد انقلاب کی ازسر نو تعریف متعین کرتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ انقلاب کا ابھی ٹھیک طرح سے نام رکھا نہیں گیا ہے۔ اسے معیاری طور پر اسلامی نہیں کہا جاسکتا(جیسے عام طور پر ایرانی حکام دعوی کرتے ہیں)۔ ایرانی انقلاب ایک گزری ہوئی تاریخ نہیں ہے جس کا باب بند ہوچکا ہو۔

معروضی معمہ جس کے گرد سماجی کشمکش منظم ہوتی ہے زندگی کے مادی حالات کے راستے میں پایا جاتا ہے جو ایسے راستے کو منظم کرتا ہے جس سے  تقسیم کے نظام میں قدر پیدا ہوتی اور گردش کرتی ہے۔

کرایہ اورسرمایہ کی طرف واپسی

Rent and the return to Capital

فروری 1979ء (بادشاہت کا خاتمہ) اور جون 1981ء کے درمیان ایران نے انقلابی قوتوں  کے اندر  کشیدگی، تضادم اور  ٹوٹ کر تقسیم ہونے کے ایک سلسلے کا مشاہدہ کیا۔ ان انقلابی واقعات  کا نتیجہ ایک اسلامی جمہوریہ کا قیام تھا جو خمینی کی شخصیت کے گرد اکھٹے والے اسلام پسند گروپوں کے کنٹرول میں تھی۔ ان کا عزم اور مقصد انقلابی جدوجہد کے دوران کی بتادیا گیا تھا اور وہ مستضفعین فی الارض/ افتادگان خاک  کی شمولیت کرنے والے سماجی نظام کی تشکیل کرنا تھا۔

یہاں تک کہ انقلابی لوگوں کے لیے بھی اس میں نیا پن زندگی کی روحانی سمت کے ساتھ ایسے منصفانہ سماجی نظام کے زمین ہموار کرسکنے  کا دعوی یا مفروضہ تھا جسے اس صدی کے دوسرے سیاسی منصوبوں میں نظر انداز کردیا گیا تھا۔ سب سے اہم ترین بات 1978ء اور 1981ء کے درمیان سارے ملک میں کام کی جگہوں پر آزاد کونسلیں اور ہمسایہ کمیٹیوں کی تشکیل تھی۔

اس عزم اور خود تنظیمی کی مادی حقیقت کو ٹھیک طور کمیونسٹ انقلاب کہا جاسکتا تھا۔  اس تبصرے کو ایرانی سیاست پر علی زادہ کی تحریر ‘ نہ سیکولر ازم نہ تھیاکریسی؟'(مطبوعہ مجلہ ‘ریڈیکل فلاسفی ص 158 شمارہ نومبر- دسمبر،ص 2 تا 9) کی روشنی میں پڑھنا چاہئیے۔ اس کے علاوہ جیمز بوشان کا نیو لیفٹ ریویو شمارہ 59 اشاعت ستمبر-اکتوبر 2009 ص 73 تا 87 پر موجود مضمون ‘ایک بازاری بونا پارٹ’  کی روشنی میں بھی اسے پڑھنا چاہئیے۔ 1981ء کے بعد اسلامی اسٹبلشمنٹ کا مطلب ان کونسلوں کے وجود کو جبر سے ختم کرنا اور شاہ کے خلاف بغاوت کے دوران بڑے پیمانے پر بڑے بڑے جلوسوں سے مستعار لیے انتہائی جوش و خروش کے زریعے سے سرمایہ داری پر تنقید کو ہٹانا تھا۔ انقلابیوں کی نعرے بازی کا جو عارضی جوش و خروش تھا اسے مربوط اخلاقی ضابطوں اور مذہبی علامت پرستی /سمبل ازم میں بدل دیا گیا۔

اس انتہائی جوش و خروش جسے  روحانیات کی سیاست بھی کہا جاسکتا ہے نے ایک ایسی ریاستی آئیڈیالوجی  کو پھیلایا جو پہلے انقلابی مرحلے میں سماجی ناانصافی اور معاشی بدعنوانی پر تنقید کی وارث تھی۔بنیادی نکتہ جس نے اخلاقی ضابطوں اور علامتوں کو ایک خاص ربط بخشا یہ تھا کہ  اخلاقی ضابطے اور علامتیں جلد ہی ثقافتی اجناس/ کلچرل کاموڈیٹیز اور ایک خاص مگر قابل تبادلہ تمثیل بن جاتے  جو کرایہ دار سرمایہ داری کے اندر پیدا ہوتے ہیں۔(1)

کرایہ  کو روایتی طور پر زمینی جائیداد کے ماقبل سرمایہ داری تعلقات سے متعلق سمجھا جاتا ہے۔ یہ وہ طریقہ بھی ہے جس کے ساتھ مارکس مسئلے سے نبرد آزمائی کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ یہ روایتی تصور کرائے کی معاصر زمانے میں تفہیم کو سمجھنے میں نقص پیدا کرنے والا بھی ہے۔

یہاں مارکس کے سرمایہ کی طرف واپسی کا مطلب اس لفظ  کے لغوی معنی میں ہی لیا جانا ضروری ہے: سرمائے کو الٹی ترتیب سے پڑھنا چاہئیے یعنی تیسری جلد سے شروع کرکے پچھلی کی طرف جانا۔

‘سرمایہ’ کی تیسری جلد میں کاموڈیٹی/جنس کو مانیٹری سسٹم کے ماتحت کے طور پر لیتے ہوئے سرمایہ کی جانچ کی گئی ہے۔ مارکس کی سرمایہ کی مختصر جامع تعریف کو اس جدلیاتی پلٹاؤ کے مقابلے میں پڑھنی چاہئی جس میں سرمایہ بذات خود ایک مانٹیری قیاس و تخمین کے اندر ایک  قدر استعمال/ یوز ویلیو بن جاتا ہے: کرایہ قدر زائد/ سر پلس ویلیو کی زیادتی کا نام ہوتا ہے جس کی بنیاد اجارہ دار فطرت پر ہوتی ہے۔(2) مارکس نے جو کیس دیکھے تھے ان میں کرایہ دار اس وقت تک ایک ممتاز اور مشخص سماجی کیٹیگری/درجہ تھا۔ کرائے کی اقتصادیات کی تعریف سرمایہ دارانہ انوسٹمنٹ کے الٹ ہوتی  تھی۔تاہم مارکس کی تعریف حقیقت میں اس تاریخی مخالفت سے آگے جاتی ہے-ایک بار جب ہم اچھے سے سمجھ جاتے ہیں کہ اجارہ دار فطرت  ارتکاز سرمایہ کے اندر اچھے سے رچی بسی ہوتی ہے تو یہسرمائےکیخودسرمائےکےزریعےسےقدرتبادلہمیںجدلیاتیبدلاؤکوجاننےکیکنجیہمیںدیتیہے۔ علاقوں  اور جگہوں کی سرمائے کے زریعے سے دوبارہ سے اجارہ داریت کے جاری تاریخی چکر میں اجارہ داریت /مناپلی۔زیشن ایک لمحہ ہوتی ہے۔

کرایہ دار سرمایہ داری کا تصور عصری ہم آہنگی میں کرائے اور قدر پیداوار کے درمیان تعلق کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اور یہ پیداوار کے نئے زرایع  ( نئی کمیونکيکشن تکنیک) اور کموڈیفکیشن کی اشکال(تصور اور ثقافتی اجناس/کاموڈیٹز) کی ترقی کے ساتھ عالمی مالیاتی سرمائے کی اولیت سے  پہچانی جاتی ہے۔(3) اگر کرایہ تاریخی طور پر جامد اور متحرک سرمایہ دارانہ انوسٹمنٹ کے متضاد تھا(4) یہ متضاد ہونا معاصر سرمایہ داری نظام میں ختم ہوجاتا ہے۔ اس طرح سے یہ  خاص طور پر ایسے کرایہ کا استنباط کرنے کے لیے بے باک بیان نہيں  ہے ۔ بلکہ عالمی سرمائے کے بالغ زمانے میں منافع سے کرایہ الگ ہے اور سرمایہ منافع بخشی کے گرد قیاسی سرگرمیوں میں کرایہ شامل بھی ہوجاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کرائے کے سرمایہ دارانہ تعلقات میں انجذاب کلاسیکل اصلاحات کو اوپر سے نیچے کی طرف حرکت دیتا ہے۔

اب یہ پیداوار ہے جس کا خارجی جگہ کے طور پر وجود ویسے ہی مانا جاتا ہے جیسے زمین اور اس کے زرایع کو انیسویں صدی کی سرمایہ داری میں مانا جاتا تھا۔ ایک کرایہ دار سرمایہ داری ایک مقامی نظام ہے جس میں منافع کی اوسط شرح کا تعین قدر زائد کی زیادتی سے لگایا جاتا ہے جو کہ خود قدر کے حصول کے عالمی عمل سے نکالی جاتی ہے۔ یہ سرمائے کی اجناس/ کاموڈیٹی میں پوری طرح سے بدل جانے کا نام ہے۔ اس  کا مطلب ہے ایک مقامی علاقے میں نقدی کا بے تحاشا بہاؤ، پیداوار کی سطح اور مال و خدمات کی تقسیم کے درمیان تعطل ،اس علاقے میں نئی جگہوں کے اندر جنس کی گردش میں توسیع اور آخرکار مالیاتی سرمائے کے زریعے سے قیاس آرائی/سٹہ بازی کے لیے مادی حالات کی تخلیق ہوتا ہے۔  

ایران میں کرایہ دارانہ آمدنی / رینٹل ریونیو کا  تیل کے بحران 1973-74  کے وقت سے  ریاست کی معشیت/سٹیٹ اکنامی پر غابہ ہے جو 1973 میں  تیل کے کنوؤں اور اور مقامی صعنتوں کے قومیائے لیجانے کے فوری بعد ہوا۔ یہ ایک ایسی تبدیلی ہے جسے متعلقہ لٹریچر میں کم ہی زیربحث لایا گیا ہے۔

مقامی صعنت سے کرائے کے غلبے کی حد کو سالانہ شرح سرمایہ کاری، جی ڈی پی ، سالانہ پیدوار تیل اور عالمی منڈی میں تیل کی پیداوار کے درمیان مستقل  باہمی تعلقات کے اندر دیکھا جاسکتا ہے۔(6) 1977ء سے مجموعی مقامی پیداوار کا ایک تہائی، حکومتی آمدنی کا تین چوتھائی اور غیر ملکی زرمبادلے کے دس میں سے نواں حصّہ آئل سیکٹر سے آتا ہے(7)

اس کا نتیجہ معشیت کی سالانہ نمو کے معنی میں بےمحابا ترقی تھا۔ 1963 سے 1973 تک سالانہ معاشی نمو/گروتھ 10 فیصد تھی۔ یہ 1974 میں 34 فیصد اور 1975ء میں 42 فیصد اور 1977ء میں کساد بازاری کے پلٹ آن سے یہ واپس 15 فیصد پر چلی گئی۔ اور انقلاب سے دو سال پہلے یہ 5 فیصد تک رہ گئی تھی۔(8) انقلاب کے ایک سال بعد ہی مشینری میں جو سرمایہ کاری تھی وہ 1977ء کی سطح سے مزید 20 فیصد گرگئی لیکن ریاست کے اخراجات اتنے ہی رہے بلکہ اس سے بڑھ گئے۔(9)

جہاں تک انقلاب سے چند سال پہلے سرمایہ کی جو ترکیب تھی وہ ریاستی آپریٹس، اشراف صنعتی  اور مرکنٹائل سرمائے میں بٹی ہوئی تھی۔ جو مرکنٹائل سرمایہ ہے اسے ایرانی بازار یا بعض اوقات روایتی بورژوازی کہہ دیا جاتا ہے۔ بازار اور روایتی بورژوازی اکثر اسلامی جمہوریہ میں طبقاتی بنیادوں پر مفادات (جس کی نمائندگی اسلامی جمہوریہ کرتی ہے) بارے بحث میں کنفیوژن کا زریعہ بن جاتی ہے۔ 1979ء میں بازار پہلے ہی اپنا تاریخی اور ماقبل سرمایہ داری کردار کھوبیٹھی تھی جو یہ دستکارانہ پیداوار، تقسیمی چینلز فنانس اور کیمونل اربن تنظیم کے  بطور اربن اور آرکیٹکچرل  گٹھ جوڑ کے طور پر ادا کرتی تھی۔20ویں صدی شروع ہونے سے پہلے بازار شہری سیاست کی تاریخی شکل تھا۔ اس نے کمیونل شہری تنظیم میں مرکزی سماجی اور معاشی کردار ادا کیا تھا اور صفوی دور/16ویں صدی میں  شاہی ریاستی ڈھانچوں سے تعلق کے اعتبار سے قدرے آزاد مقام کا حامل تھا۔ ایسی شہری سماجی تنظیم ریاستی کنٹرول سے باہر کمیونل امور میں زیادہ اتھارٹی کی حامل تھیں۔ جبکہ اس کے مقابلے میں شمالی یورپ کے شہروں میں بازار کو یہ مقام حاصل نہیں تھا۔(10)

تاہم 1978ء سے بازار نئی مرکنٹائل سرمایہ کا الحاقی حصّہ رہ گئی تھی۔ مرکنٹائل سرمایہ پر امپورٹ و اجناس کی تقسیم کا مالیاتی اور سرمایہ کارانہ خواہشوں کے ساتھ غلبہ تھا۔ انیسویں صدی میں اس کا زوال  مغربی صعنتی سامراجیت کے حملوں تباہ ہونے والے ملوکانہ نظام سے جڑا ہوا تھا۔(11)یہ نیا مرکنٹائل سرمایہ 1950ء سے پیدا ہونے والے کمیونیکشن انفراسٹرکچر کے ساتھ جڑا ہوا تھا جس نے سامان تجارت کی معیاری ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کے زریعے منتقلی اور سرمایہ کی تیز تر قل و حمل کو ممکن بنایا تھا(12)۔ مرکنٹائل سیکٹر میں 1970ء کے دوران ارتکاز سرمایہ کے عمل کا انحصار کرایہ دار آمدنی/ رینٹیر ریونیو پر کردیا تھا جس نے مقامی کھپت کو بلند سطح پر لیجانے میں مدد دی تھی۔ 1973ء سے 1979ء کے سالوں کے درمیان اشراف صنعتی سرمایہ دارانہ نظام رینٹ ریونیو تک براہ راست رسائی سے باہر رہا۔(13)

انقلاب سے دو سال پہلے، جزوی طور پر سرمایہ کاری میں جمود اور نام نہاد ڈچ بیماری(14) نے صعنتی سیکٹر کے اندر تضادات کو تیز کردیا۔ بین الاقوامی منڈی سے مقامی معشیت میں کیش/نقدی کے بہت زیادہ بہاؤ، افراط زر اور سرمایہ کاری میں جمود اتنے بڑے مسائل تھے جو پرانے ڈھانچے سے کہیں زیادہ بڑے ہوگئے تھے جس کی بنیاد کرایہ اور پیداواری سرمایہ کے درمیان تفریق پر استوار تھا۔ ‘روحانیت کی سیاست’ کا جو پرانا تاریخی کردار تھا وہ اسی موقعہ پر ریاست کے نظریہ/ آئیڈیالوجی کے طور پر سامنے آیا۔

انقلاب نے پہلے ہی اشراف مراعات یافتہ صعنتی سرمایا کو شاہ کی سیاسی حاکمیت کے ساتھ ہی ختم کردیا تھا۔ پیداوار اور کام کی جگہوں پر اسلامی ری پبلک کے زریعے پیداوار پر کنٹرول کے خاتمے نے کرائے دارنہ سرمایہ داری نظام کو  سماج  کے خود کار تنظیم کاری کنٹرول اور پرانے ریاستی ڈھانچے کی طرف سے عائد روکاوٹوں سے آزاد کردیا۔ یہ ڈھانچہ ایک بادشاہ کی ضرورتوں کی بنیاد پر استوار تھا۔ نئی جمہوریہ نے مرکنٹائل اور مالیاتی سرمایہ کو سیاسی شرائط کے ساتھ کرایہ دارانہ آمدنی تک رسائی دی اور صنعتی سیکٹر کو پھر سے مستحکم ہونے کا راستا ہموار کیا اور یہ اب ایک نئے منحصر شراکت دار کے طور پر سرمائے کی نئی تشکیل میں شامل تھا۔

خمینی پرستوں کا حکومتی راج پرانے سماجی طبقات کی نمائندگی نہیں کرتا تھا۔ سب سے پہلے یہ نظام کے اندر نئے ابھرنے والے کرایہ دار طبقے سے جڑا ہوا تھا جو مقامی طور پر صنعتی پیداوار سے آزاد تھے اور بین الاقوامی سطح پر وہ سامراجی بلاک کی سیاست سے آزاد تھے۔ ایک کرایہ دارانہ نظام کے پھیلاؤ کا مطلب کرایہ آمدنی کی تقسیم نو تھا جس کا نتیجہ  اس نئے طبقے کے اپنے اندر نئے ٹکراؤ کی صورت میں نکلا۔ یہی تقسیم نو اور اس کے سیاسی ٹکراؤ انقلابی پروسس/عمل بتدریج کھلتے چلے جانے اور مقبول عوامی مطالبات کے مستقل دباؤ کے خلاف ایک ردعمل /ری ایکشن بھی تھے۔

یہ بات بھی بھولنی نہیں چاہئیے کہ ایران میں محنت کی افرادی قوت/لیبر فورس سارے ایشیا کے مقابلے میں اب بھی زیادہ ترقی یافتہ ویلفئیر نظام تک رسائی رکھتی ہے۔ اور ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ اسلامی ری پبلک  نے کبھی بھی صعنتی انفراسٹرکچر کو ماقبل انقلاب کے دور جتنا ترقی یافتہ نہیں بنایا۔ بلکہ 1988ء سے اس نے کئی سیکٹرز میں محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ کرنے والے بہت سے قوانین کو ختم کیا اور ٹیلی کمیونیکشن سمیت کئی سیکٹرز کو نجی شعبے میں بدل ڈالا ہے۔ یہ جو ہم ایرانی سماجی –معاشیات پر مبنی لٹریچر میں کئی جگہوں پر مڈل کلاس کی اصطلاح پاتے ہیں یہ زیادہ تر نجی اور پبلک سروس سیکٹرز ، پبلک ہیلتھ کئیر اور اسکول و ہائر ایچوکشن ڈھانچوں میں کام کرنے والی اربن/شہری لبر فورس ہے۔

کارپوریٹ نیٹ ورک ، پوسٹ اربن سپیس

Corporate networks, post-urban spaces

جب ہم کارپوریٹ نیٹ ورک اور پوسٹ اربن سیپس کی بات کرتے ہیں تو یہ ہمیں ایران کے کرایہ دارانہ سرمایہ داری نظام کے تیسرے اور سب سے خاص پہلو/وصف  سے متعارف کرانے لے آتی ہے۔ کرائے کی بنیاد پر تعلقات میں وسعت و پھیلاؤ ، کرایہ دارانہ طبقے کے اندرونی ٹکراؤ اور معاشرے میں سماجی مطالبات  کا وزن جس کا تجربہ انقلاب کے خود کار تنظیمی دور نے کیا اس نے قدر پیداوار کی ایک نئی رابطہ کار جگہ کو 1980ء سے جنم دینا شروع کر رکھا ہے۔ روحانیاتی سیاست اس جگہ کے اندر سب سے زیادہ ری پروڈیوس ہوئی ہے۔ یہ رابطہ کار سپیس ہزار ہا چھوٹے چھوٹے ڈھانچوں، تنظیموں، فاؤنڈیشن ، سمال فنڈز، مساجد ، اسلامی ایسوسی ایشن، نیم فوجی مسلح ملیشیائیں ، فوجی پاسداران اور جدید میڈیا کی شکل میں منظم  وسیع نیٹ ورک  پر مشتمل ہے-

پرائیویٹ اور ریاستی ملکیت اور منیجمنٹ اس کارپوریٹ نیٹ ورک میں گھل ملی ہوئی ہے۔ ایسے اثاثے جو سرکاری طور پرتو ریاست کے ہوں لیکن ہوسکتا ہے ان کا مستقل انتظام انہی نیم خودمختار ڈھانچوں کے زریعے کیا جاتا ہو۔ حکومتی دفاتر سے الگ نہ دکھنے والا اور رینٹ ریونیو تک رسائی رکھنے والا کارپوریٹ نیٹ ورک  سرکاری ریاستی بجٹ میں شامل ہی نہیں ہوتا۔ اس نیٹ ورک کے اوپر چار بڑی فاؤنڈیشن ہیں جن کے اپنے ذیلی نیٹ ورک اور اندرونی معشیت ہے۔(15) یہ فاؤنڈیشن ہر طرح کے ٹیکسز سے مستثنی ہیں اور کنٹرولڈ کرنسی شرح مبادلہ  کی سہولت سمیت ان کو کئی ایک حکومتی مالیاتی سہولتوں تک رسائی ہے۔ ان کا بجٹ نہ تو کبھی پبلک کیا جاتا ہے اور نہ ہی ریاستی حکام کو اس پر کوئی کنٹرول ہے۔ مزید یہ کہ کارپوریٹ نیٹ ورک اسلامی جمہوریہ اور اس کے اداروں کا حصّہ ہے۔ گزشتہ دس سالوں میں اسلامی پاسداران انقلاب جو کہ ایران کی روایتی باقاعدہ فوج کے متوازی ایک چھوٹی موٹی فوج ہے  اس کارپوریٹ نیٹ ورک کے اندر اپنے حجم کو بڑھانا شروع کردیا ہے اور یہ اس نیٹ ورک کے اندر خود ایک بڑا کردار بنکر ابھری ہے۔(16)

ایسی فاؤنڈیشن مختلف سیکٹرز میں بڑے بڑے پروجیکٹ چلارہی ہیں جن میں مینوفیکچرنگ، بینکنگ، صعنتی، زراعتی، رئیل اسٹیٹ مارکیٹ سے لیکر میوزیم، فلم انڈسٹری اور اخبارات کے منصوبے شامل ہیں۔ ان کے زمہ سرکاری ایام اور مواقع پر مظاہرے ارینج کرنا، اسلامی مینجرل کاڈر کی تربیت کرنا اور اسلامی کلچرل پروڈکٹس جیسے عبادت اور تیوہاروں کی نئی شکلوں کو پیدا کرنا ہے۔(17)

سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر ایسے سماجی پروگرام چلاتے اور دیہی علاقوں میں ایک بڑے وسیع پیمانے پر خدمات کو فراہم کرتے ہیں۔ ان سماجی پروگراموں اور خدمات سے اسلامی تںطیموں کے نیٹ ورک سے جڑے لوگوں کی بڑی تعداد بھی مستفید ہوتی ہے۔ ایران، خطے اور عالمی سطح پر ان کی سالانہ سرمایہ کاری ملک کے کل جی ڈی پی کے ایک چوتھائی کے برابر بتائی جاتی ہے۔(18)بنیادمستضعفانانقلاباسلامی ایران کے ملازمین کی تعداد سات لاکھ ہے۔ سن 1992ء میں اس کا سالانہ بجٹ حکومتی بجٹ کا دس فیصد تھا جو 10 ارب ڈالر بنتا ہے۔ 1990 کے وسط میں اس  تنظیم کو خطے کی ایک بہت بڑی اقتصادی تنظیم خیال کیا جاتا تھا(19)۔ ان تنظیموں کو نظریاتی طور پر کنٹرول کرنے والا کوئی مرکزی ادارہ نہیں ہے۔ کارپوریٹ نیٹ ورک میں ان کے متعدد بندھن ان کو مرکنٹائل سرمایہ اور میڈیا انڈسٹری سے جوڑتے ہیں۔‎

کارپوریٹ نیٹ ورک کی خصوصیات یہ ہیں کہ اس میں جہاں پیداوار کی جگہوں اور سماجی تعلقات کی جگہوں کے درمیان مکمل طور پر امتیاز مفقود ہوتا ہے وہیں پر مادی اجناس/کاموڈیٹیز کی پیداوار اور ثقافتی سامان تجارت کی پیداوار کے درمیان امتیاز بھی مفقود ہوتا ہے اور آخر میں یہ پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میں امتیاز اور فرق کے مفقود ہونے کا نام ہوجاتا ہے۔ کارپوریٹ نیٹ ورک کو مکمل طور پر اس وقت تک سمجھا نہیں جاسکتا جب تک اس کا کرایہ دارانہ معشیت کے دوسرے پہلو کے ساتھ تعلق کو نہ سمجھ لیا جائے۔ ستر کی دہائی کے آخر میں مضافاتی علاقوں سے بڑے پیمانے پرلوگوں کی بڑے شہروں میں آمد میں اضافہ دیکھنے کو ملا۔

پھر ایران نے انقلاب سے کچھ سالوں پہلے آبادی میں دوگنا اضافے کا تجربہ بھی کیا۔(20) ایران کے معاشی نظام میں یہ قابلیت نہیں تھی کہ وہ بڑے پیمانے پر بڑے شہروں میں آنے والی آبادی کو صعنتی پیداوار یا عوامی خدمات کے شعبے میں جذب کرسکتا تو اس وجہ سے غریب عوام کا بہت بڑا حصّہ شہری سماجی رشتوں سے باہر رہ گیا اور یہ بذات خود ایک بڑی سماجی قوت / سوشل فورس تھا۔(21) اس پہو سے جو کارپوریٹ نیٹ ورک ہے اس نے شہروں میں اس سماجی قوت کے اندر کرایہ دارانہ رشتوں پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ سماجی قوت بڑے شہروں کے اندر سب اربن یا زیادہ بہتر ہوگا اسے پوسٹ-اربن سپیس کہا جائے کہلاتی ہے اور اسی کے اندر کارپوریٹ نیٹ ورک 1980ء سے کرایہ دارانہ رشتوں کو پھیلارہی تھی۔ اس نے بڑے شہروں کے مضافات پر ابتدائی طور پر گاؤں اور زرعی زون کو قبول کرتے ہوئے ایک مسلسل سپیس تشکیل دی۔

 شہری مراکز کی طرف لوگوں کے مستقل بہاؤ کو ٹھوس طریقے سے اور مادی طور پر ثقافتی اجناس/ کلچرل کاموڈیٹیز کی پیداوار میں بدلنے میں اس نیٹ ورک نے وسیلے کا کردار ادا کیا۔ یہ ایک زندہ لیبر تھی جس میں سب سے پہلے  اس چیز کی سرمایہ کاری کی گئی جسے پہلے انتہائی جوش و خروش کہا گیا تھا۔ ایک سیاسی و روحانی سپریم لیڈر کے ساتھ روحانی اتحاد کی حالت رکھنے والے پیروکاروں کے ملک کا تصور  نہ صرف سرمایہ کاری کی ایک زندہ/نامیاتی شکل اختیار کرچکا ہے بلکہ سامان تجارت کی  غیر معمولی  اور غیر معمولی شبیہ کی عالمگیر گردش اور پیداوار رکھنے والی معشیت میں سرگرم حصّہ بھی لے رہا ہے۔ 

ایک ہی وقت میں نہ تو روحانیاتی سیاست اور نہ ہی کارپوریٹ نیٹ ورک ان پوسٹ اربن سیپس میں سیاسی اور سماجی زندگی کی نمائندگی نہیں کرتے۔ یہ نیٹ ورک تمام مواصلاتی اور پیداواری چینل جن کے زریعے سے کرایہ دارانہ رشتے مزید آگے بڑھتے ہیں سے ماورا ہیں۔ ان ہی نیٹ ورک کے ڈھانچے جو  امیج پروڈکشن کے جمگھٹے سے جڑے ہیں وہ غریبوں میں  احتجاجی تحریکوں اور سرگرمیوں کا ہدف ہونے کے ساتھ ساتھ کبھی کبھار آغاز کار سے ان کو استعمال بھی کرتے آرہے ہیں۔ اور ہدف بنانے اور استعمال کرنے کا یہ سلسلہ ان نیٹ ورک نے 1980ء سے شروع کررکھا ہے۔(22)

اسلامی ری پبلک ایران نہ تو مطلق العنان ریاست ہے اور نہ ہی یہ کلاسیکل آمریت  ہے۔ بلکہ یہ تو ایک لچک دار غیر دستوری حکومتی راج ہے جو ایک کرایہ دارانہ نظام کی حدود کی نمائندگی کرتا ہے جس کا سامنا ایرانی انقلاب نے کیا تھا۔ بطور سیاسی مشین کے، اس کا کام دو باہم پیوست سطحوں  میں دیکھا جاسکتا ہے۔ پہلی سطح اس کی یہ ہے کہ  یہ سٹہ باز مرکنٹائل سرگرمیوں کو آئل انڈسٹری سے آنے والی تیل کی آمدنی سے جوڑتا ہے اور یہ کام سماج میں نقدی/کیش کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے سے ہوتا ہے۔ دوسری سطح یہ ہے کہ یہ ثقافتی سامان تجارت/ کلچرل گڈز پیدا کرتا ہے جو انسانوں کے جمگھٹے کو کارپوریٹ نیٹ ورک کے ڈھانچوں کے اندر سے  روحانیاتی سیاست سے جوڑتا ہے۔

سیاسی طاقت، پیداوار،  خطے میں خاص سامراجی عزائم سے اس کے ٹکراؤ اور سب سے اہم اس کے اندرونی تضادات سے تشکیل پانے والی یہ خاص شکل اس وقت تک ادراک میں نہیں آسکتی جب تک ہم اس حقیقت سے آشنا نہ ہوں کہ کرایہ دارانہ سرمایہ داری نظام انقلابی ترتیب کے ناکام کمیونزم کے الٹ سمت سفر کرنے کا نام ہوتا ہے۔ اسی طرح کارپوریٹ نیٹ ورک  کی جو اخلاقی اور سیاسی گردش ہے وہ کرایہ دارانہ نظام  کے انقلابی مراحل اور نام نہاد بین الاقوامی مارکیٹ سے مانیٹری بہاؤ کی سیلف آرگنائزنگ اشکال کا ردعمل ہیں۔

داریوش ایم دوست ایرانی نژاد سویڈش ہیں ۔ وہ سیاسی فلسفہ، سائیکو اینلاسسز ، آرٹ کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ آج کل چین کی شین چی یونیورسٹی میں فلسفہ پڑھا رہے ہیں۔ ان کے لکھے مضمون کا انگریزی میں عنوان تھا:

Rentier Capitalism and Iranian Puzzle

(https://www.radicalphilosophy.com/commentary/rentier-capitalism-and-the-iranian-puzzle)

Notes

The material in this Comment derives from a research project generously supported by the National Council for Research, Sweden, 2004–07.

اس تحریرمیں مواد ایک ریسرچ پروجیکٹ سے لیا گیا جس کے لیے فراخدلانہ تعاون 2004-7 میں  نیشنل کونسل برائے تحقیق سویڈن نےکیا تھا۔

 

  1. ^ The notion of a ‘rentier state’ has been recurrent in the field of Iranian Studies from early on. It was first employed in the 1970s by economists HosseinMahdavy in ‘The Paterns and Problems of Economic Development in Rentier States: The Case of Iran’, in M.A. Cook, ed., Studies in the Economic History of the Middle East, Oxford University Press, Oxford, 1970; and Cyrus Bina, in C. Bina ad H. Zangeneh, Modern Capitalism and Islamic Ideology in Iran, Macmil an, London, 1992, ch.

 

ایک کرایہ دارانہ ریاست کی اختراع پہلے سے ایرانی اسٹڈیز کے شعبے میں مستعمل رہی ہے۔ اس کو پہلی بار حسین مہدوی نے 1970ء میں استعمال کیا۔

 

  1. ^ One of the earliest and more interesting usages of the term is to be found in ThedaSkocpol, ‘Rentier State and Shi’a Islam in the Iranian Revolution’, Theory and Science, vol. 11, no. 3, May 1982, pp. 265–83.

اس اصطلاح کا ابتدائی اور زیادہ دلچسپ استعمال تھیڈا سوکوپول کے تحقیقی مقالے ‘ ایرانی انقلاب میں کرایہ دارانہ ریاست اور شیعی اسلام’  میں کیا گیا تھا جو جریدے تھیوری اینڈ سائنس کی جلد نمبر 11 شمارہ نمبر 3 اشاعت مئی 1982ء میں دوسو پینسٹھ تا دو سو تراسی صفحات پر موجود ہے۔

 

  1. ^ Capital: A Critique of Political Economy, Volume 3, trans. David Fernbach, Penguin, Harmondsworth, 1993, ch. 38.

 

  1. ^ For financial capital, see Michel Agiet a, MacroéconomieFinancière, Odile Jacob, Paris, 1995. Other perspectives on accumulation and financial capital are presented by Giovanni Arrighi, The Long Twentieth Century, Verso,

 

London and New York, 1994; and David Harvey, The Conditions of Post-modernity: An Enquiry into the Origins of Cultural Change, Basil Blackwel , Oxford, 1989.

 

  1. ^ This is richly documented throughout Part VI of Capital, Volume 3.

 

  1. ^ See H. Moghtader, ‘The Impact of Increased Oil Revenue on Iran’s Economic Development (1973–76)’, in ElieKedourie and Sylvia G. Haim, eds, Towards a Modern Iran: Studies in Thought, Politics, and Society, Routledge, London and New York, 1980, particularly the data on pp. 241–7. For economic data, I am mainly but not exclusively relying on the fol owing literature: MazenLabban, Space, Oil and Capital, Routledge, London, 2008; NematShafik, ed., Economic Chalenges Facing Middle East and North African Countries, Macmilan,

 

London, 1997; F. Rahnema and S. Behdad, eds, Iran after the Revolution: Crisis of an Islamic State, I.B.

 

Tauris, London, 1996; J. Amuzegar, Iran’s Economy Under the Islamic Republic, I.B. Tauris, London and New York, 1993; F. Nomani and SohrabBehdad, Class and Labor in Iran, Syracuse University Press, Syracuse NY, 2006; MassoudKarshenas and Hassan Hakimian, ‘Oil, Economic Diversification and the Democratic Process in Iran’, Iranian Studies vol. 38, no. 1, March 2005, pp. 67–90; Andre Benard, ‘World Oil and Cold Reality’, McKinsey Quarterly, Autumn 1981, pp. 30–47.

 

  1. ^ See S. Badiei and C. Bina, ‘Oil and Rentier State: Iran’s Capital Formation, 1960–1997’, www.luc.edu/orgs/meea/volume4/oilrentier/oilrentier.pdf [archive], 2002. For more recent data, see Keith Crane, RollieLal and Jeffrey Martin, Iran’s Political, Demographic, and Economic Vulnerabilities, RAND Corporation, Santa Monica CA, 2008, pp. 72–4.

 

  1. ^ SetaréKarimi, in Nikki R. Keddie and Eric Hooglund, eds, The Iranian Revolution and The Islamic Republic, Syracuse University Press, Syracuse NY, 1986, p. 33.

 

  1. ^ See DilipHiro, Iran under the Ayatolahs, Routledge,

 

London, 1987, p. 60; and Nikki Keddie, Roots of the Revolution: An Interpretive History of Modern Iran, Yale University Press, New Haven CT, 1982, p. 107.

 

  1. ^ SetaréKarimi, in Keddie and Hooglund, eds, The Iranian Revolution and The Islamic Republic, p. 34.

 

  1. ^ For a discussion, see Patricia Springborg, ‘Politics, Primordialism, and Orientalism: Marx, Aristotle, and the Myth of the Gemeinschaft’, American Political Science Review 1, 1986, pp. 185–211.

 

  1. ^ For empirical data, see Ahmad Seyf, ‘Free Trade, Competition, and Industrial Decline: The Case of Iran in the Nineteenth Century’, Middle Eastern Studies, vol. 40, no. 3, 2004, pp. 55–74.

 

  1. ^ The thesis on the transformation of bazaar was, to my knowledge, first presented in a net-published essay, ‘Jay e xali e siasat e radikal’ (‘The Vacant Place for a Radical Politics’), MiladSinosin, 2003, www.nilgoon.org.Theempirical [archive] data are from the fol owing field study: ArangKeshavarzian, Bazaar and State in Iran: The Politics of the Tehran Marketplace, Cambridge University Press,

 

Cambridge, 2007.

 

  1. ^ In 1980, merchants were exempted from a considerable part of tax on revenue, according to a parliamentary report quoted by former Iranian president H. Bani Sadr in XianatbéOmid, Paris, n.d., pp. 77–9.

 

  1. ^ Amuzegar, Iran’s Economy under the Islamic Republic, p. 7.

 

  1. ^ The major foundations are the Foundation for the Oppressed (Bonyad-e Mostafan), Martyrs’ Fundation (Bonyad-e Shahid), Housing Foundation (Bonyad-e Maskan), and the Imam Khomeini Foundation Relief Commit ee (Komite-e Emdad Imam Khomeinie).

 

  1. ^ There are numerous articles in Persian on the subject, particularly from the so-caled reformist camp. The only comprehensive report in English is Ali Alfoneh, ‘How Intertwined Are the Revolutionary Guards in Iran’s Economy?’, Middle Eastern Outlook 3, October 2007.

 

  1. ^ See Ali A. Saeidi, ‘The Accountability of Paragovernmental Organizations (Bonyads): The Case of Iranian Foundations’, Iranian Studies, vol. 37, no. 3, 2004, pp. 486–8.

 

  1. ^ See S. Maloney, ‘Agents or Obstacles? Parastatal Foundations and Chalenges for Iranian Development’, in ParvinAlizadeh, ed., The Economy of Iran: Dilemmas of an Islamic State, I.B. Tauris, London and New York, 2000, p. 155.

 

  1. ^ Maloney, ‘Agents or Obstacles?’; cf. Nomani and Behdad, Class and Labor in Iran, pp 45–6.

 

  1. ^ On the inflow to the urban centers, see MasoudKarshenas, Oil, State, and Industrialization in Iran, Cambridge University Press, Cambridge, 1990. For a comparison with the post-revolutionary period, see Hassan Hakimian, ‘Population Dynamics in Post-Revolutionary Iran’, in ParvinAlizadeh, The Economy of Iran.

 

  1. ^ For immigration and rural–urban relations, see data analysis in Fred Hal iday, Iran: Dictatorship and Development, Penguin, London, 1979, ch. 7.

 

  1. ^ For a history of activism among the poor, squatters and immigrants, see AsefBayat, Street Politics: Poor People’s Movement in Iran, Columbia University Press,

 

New York, 1997; and Mobarezatzahmatkeshanxarejazmahdudé 56, Peykar Organization, Tehran, 1980.