Featured Original Articles Urdu Articles

بڑا شہر کیا ہوتا ہے؟ – عامر حسینی

میں تین دن لاہور رہا – تین دنوں میں مجھے آسمان پر چھائی سموگ اور اردگرد فضا میں پھیلے دھوئیں،اڑتی گردنے جہاں سینے کی انفیکشن میں مبتلا کردیا وہیں اس نے میرے سر میں درد،طبعیت میں متلی کی سی کیفیت پیدا کیے رکھی

لاہور شہر کا اندرون خاص طور پر آپ مینار پاکستان سے داتا دربار تک اور آگے ریلوے اسٹیشن تک بلکہ اندرون لاہور شہر جہاں بھی چلے جائیں گے سموگ، دھواں، گرد، جگہ جگہ کھلے مین ہول، ابلتی نالیاں اور کوڑے کرکٹ کے ڈھیر ملیں گے-اور اس کے ساتھ ساتھ شور کی آلودگی آپ کے پورے حواس اور دماغ کو ایسا جکڑے گی کہ آپ خود کو شاید مفلوج ہوتے ہوئے محسوس کرنے لگو گے

جس کے پاس آئر کنڈیشنڈ گاڑی، دفتر، گھر اور بھی شہر سے انتہائی دور پوش علاقوں میں رہائش نہ ہو اور اس کا شمار پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے اور اندرون شہر کی کسی تنگ و تاریک گلی میں رہنے یا لاہور کی کچی اور پسماندہ بستیوں میں رہنے والوں میں ہوتا ہو تو اسے چند ماہ سموگ اور بارہ مہینے دھویں، گرد اور شور کی آلودگی میں ہی سانس لینا ہے اور اسکو کب سالانہ ایک لاکھ 35 ہزار مرنے والے لوگوں میں شامل ہونا ہے، یہ بھی پتا نہیں ہے لیکن وہ ضرور شامل ہوگا- اور اس کے پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں سے کب اور کون کس وقت غذائی کمی یا کسی اور موذی بیماری کے سبب سالانہ پانچ لاکھ اموات میں شامل ہوجانا ہے پتا نہیں لیکن یہ اُس کا نصیب ہے اس کے قوی امکانات ہیں

لاہور پاکستان کے چند بدترین آلودگی کے شکار شہروں میں سے ایک ہے اور اس شہر کی یہ آلودگی  دیگر شہروں میں ستر سالوں میں نافذ کیے گئے ترقیاتی ماڈل کی دین ہے- جو بھی لاہور شہر میں رہ رہا ہے، اس کی عمر پانچ سال اس شہر کی آلودگی کی وجہ سے کم ہوجاتی ہے- لاہور کے شہریوں کی اوسط عمر میں پانچ سال کی یہ کمی تو ہر ایک شہری کے حق میں آئی ہے لیکن یہ بات بھی سورج کی طرح ظاہر ہے کہ اس شہر کا نچلا متوسط طبقہ اور اس شہر کے غریبجہاں فضائی آلودگی سے اپنی عمر کے پانچ سالوں سے محروم ہوتے ہیں وہیں پر وہ نامناسب خوراک، آلودہ پانی، کام کے زیادہ اوقات کار، کام اور رہنے کی جگہ کا صحت کے لیے ساز گار نہ ہونے اور پھر مناسب صحت کی سہولتوں کو افورڈ نہ کرنے کے سبب اپنی عمر کے مزید پانچ چھے سال سے محروم ہوجاتے ہیں

اور اُن کی تنخواہوں کی معمولی حثیت افراط زر کی بڑھتی شرح کا مقابلہ کرنے سے قاصر رہتی ہے اور پھر اس شہر کی ورکنگ فورس کا بھاری بھرکم حصہ کچی اور غیرمستقل روزگار سے وابستہ ہے جو روزگار کے تحفظ سے ہی اُن کو محروم نہیں کرتا بلکہ اُن کو بہت سارے لیبر لاءز کے زریعے سے ملنے والی سہولتوں سے بھی محروم کرڈالتا ہے-ورکنگ کلاس محنت کی استعداد بیچ کر بس اتنا ہی کماپاتی ہے کہ اپنی زندگی کی سانس کی ڈوری برقرار رکھے اور جیسے تیسے کرکے کچھ بچے پالے اور اُن کو منڈی میں مستقبل کے اور کچے مزدوروں کی صف میں شامل کردیں – سرمایہ داری کی گھٹیا ترین اشکال میں سے ایک شکل ہمارے بڑے صنعتی اور کمرشل سرگرمیوں کے مرکز شہروں میں بدترین فضائی آلودگی کا ہونا ہے اور یہ فضائی آلودگی بھی محنت کے بدترین استحصال سے بہترین منافع کمانے کی منظم بلکہ سرمایہ داری کی مافیائی ہوس منافع کا نتیجہ ہے

پاکستان کے چند بڑے کمرشل اربن مراکز کو دیکھا جائے تو حیرت انگیز طور پر ان مراکز میں آپ کو زیادہ تر بڑے سرمایہ دار اور بالائی اشراف پروفیشنلدرمیانے طبقے سے لوگ سیاسی نمائندگی کے حامل نظر آئیں گے اور یہی لوگ اس ملک کی اہم ترین وزارتوں اور ریاست کے بڑے طاقتور کارپوریٹ اداروں کی سربراہی بھی ان جیسے طبقات سے آنے والے لوگوں میں سے کسی کو ملتی ہے- پاکستان کا یہ پڑھا لکھا بالائی اور درمیانی طبقات سے آنے والا یہ حکمران ٹولا اپنے کمرشل اربن شہر سب سے زیادہ آلودہ اور ملک فضائی آلودگی سے دوچار شہر بنانے کا زمہ دار ٹھہرتا ہے

لاہور شہر جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء دور سے قومی، صوبائی، بلدیاتی اداروں میں نمائندگی کے اعتبار سے اس شہر کے تاجروں، پروفیشنل، ٹیکنوکریٹس، سابق فوجی افسران اور مالیاتی و صنعتی سرمائے کے مالکان وغیرہ کے ہاتھوں میں ہے- چوراسی سے یہ شہر ایک بار بھی اپنی سیاسی نمائندگی کے چہروں کی مذکورہ بالا سماجی – طبقاتی بنیادوں سے کبھی محروم نہیں ہوا- اور زیادہ تر اس شہر کی باگ دوڑ جنرل ضیاء الحق کے بعد سے اُس جماعت کے پاس رہی جسے نواز لیگ کہتے ہیں- نواز شریف ہوں کہ شہباز شریف یا پھر پرویز اللہی ہوں یہ تینوں اس صوبے کے سب سے طاقتور وزرائے اعلیٰ رہے ہیں اور تینوں کی گورننس بارے ہمارے مین سٹریم میڈیا کا پیدا کردہ تاثر ‘ گڈ گورننس’ کا ہے- سوال یہ جنم لیتا ہے کن کے لیے اچھی حکمرانی؟

ہم لاہور شہر میں اگر پاپوش علاقوں اور اندرون شہر میں موجود نچلے متوسط طبقے کے علاقوں میں اگرائر کوالٹی سروے کرائیں اور یہ دیکھیں کہ پاپوش علاقوں کی آئر کوالٹی اور نچلے متوسط  طبقے اور شہری مزدوروں کے علاقوں کی آئر کوالٹی کا موازانہ کرائیں تو فرق صاف ظاہر ہوجائے گا اور یہ بھی پتا چلے گا کہ کون نسبتاً زیادہ صاف فضا میں سانس لیتا ہے-اسی حساب سے غریب اور نچلے متوسط طبقے کی آبادیوں میں آئر کوالٹی کے نہ ہونے سے کتنے لوگ سالانہ مرتے ہیں اور کتنے پاپوش آبادیوں میں مرتے ہیں سے بھی پتاچلے گا کہ فضائی آلودگی، شور کی آلودگی لاہور شہر کے اندر طبقاتی فرق کے راست تناسب کے رشتے میں کھڑی ہے-اور یہی تناسب سالانہ بچوں کی شرح اموات میں ہے- ایک اور سروے بھی کرایا جاسکتا ہے کہ کام کی جگہ پر سازگار حالات کا تناسب لاہور کے نچلے متوسط طبقے و غریب طبقے کے لیے کتنا اور پاپوش علاقوں کے لیے کتنا ہے اور ان علاقوں کے اندر اوسط عمر میں فضائی آلودگی کے سبب سے کتنی کمی آئی ہے تو صاف اندازہ ہوجائے گا کہ جسے ہم گڈ گورننس کہتے ہیں وہ امیروں کے لیے کتنی گڈ ہے اور اس شہر کی ورکنگ فورس کے ننانوے فیصد کے لیے کس قدر ہلاکت انگیز ہے

بڑے شہر میں رہنے کی قیمت ورکنگ کلاس نسبتاً چھوٹے شہر کی ورکنگ فورس سے کہیں زیادہ ادا کرتی ہے اور اس میں جو بڑے شہر کی ہمہ قسم کی آلودگی ہے، اس کا براہ راست سرمایہ داری کے گھٹیا ترین ماڈل سے ہے جسے بہت ہی خوشنما اصطلاحات میں حُکمران طبقہ بیان کرتا رہتا ہے- اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ بڑے شہر روزگار کے مواقع کو اتنی زیادہ طاقت کے ساتھ اپنے شہر کی حدود میں مرتکز رکھتے ہیں کہ مضافاتی علاقوں سےغریب، بے زمین کسانوں کی اولادیں بڑے پیمانے پر ان شہروں میں نقل مکانی کرتی ہے اور وہ اس شہر کی ورکنگ کلاس کے سستی اور بہت ہی نازک صورت حال سے دوچار مزدور سیکشن میں شامل ہوتی رہتی ہے اور ان کمرشل شہروں کے بے ہنگم پن کو اور بے ہنگم بناتی رہتی ہے- لاہور جیسے شہر کی نام نہاد ڈویلپمنٹ جہاں اس صوبے کے دیگر علاقوںمیں انفراسٹرکچر کے لیے درکار فنڈز کھاجاتی ہے وہیں یہ اس شہر کی اکثریتی آبادی کو بھی بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں پھر بھی ناکام رہتی ہے اور یہ ترقی ایتھنسٹی اور قوم پرستانہ شاؤنزم کی بنیاد پر الٹا ورکنگ فورس کو ہی سیاسی طور پر اپنے مشترک  مفادات کے گرد اکٹھا ہونے کی بجائے ایک دوسرے سے لڑنے کو تیار کرتی ہے

دیکھا جائے تو خود لاہور جیسانام نہاد کاسمو پولیٹن سٹی گھیٹوئزیشن کی طرف جاتا ہے اور اس شہر کی ورکنگ فورس نسلی، لسانی اور کسی حد تک مذھبی بنیادوں پر تقسیم ہوجاتی ہے

لاہور شہر میں محنت کی قوت کو فروخت کرکے زندگی کی سانسوں کو برقرار رکھنے والے بلاشبہ لاکھوں کی تعداد میں ہیں اور وہ سرمایہ دارانہ کاسموپولیٹن ترقی کی اس گھٹیا ترین شکل کے سب سے بڑے متاثرہ فریق ہیں اور اُن کی محنت سے پیدا ہونے والا سرمایہ جو پاپوش علاقوں میں مقیم آبادی کے پاس ہے یا مالیاتی سرمائے کے مالکان کے پاس ہے، وہ دراصل ان محنت کشوں کی قدر زائد ہے جو اُن سے لوٹی گئی ہے- ورکنگ کلاس اس شہر میں کتنا اس سرمائے سے واپس لے پاتی ہے؟ اس کا ٹھیک ٹھیک اندازہ تو ہم نہیں لگاسکتے لیکن اتنا ضرور کہیں گے کہ ورکنگ فورس کی بدحالی سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ کتنا کم ہے اور پاپوش علاقوں کی آبادی کی خوشحالی سے یہ پتا چلایا جاسکتا ہے اس کا کتنا زیادہ حصہ آن کے پاس جارہا ہے

ایک بڑے شہر میں رہنے کی ورکنگ کلاس کیا قیمت ادا کرتی ہے ہم اچھے سے جان سکتے ہیں