Featured Original Articles Urdu Articles

پاکستان کو نشانہ بنانے کے لیے 250 جعلی ہندوستانی میڈیا آؤٹ لیٹ قائم – رپورٹ

ایک یورپی غیر سرکاری گروپ نے 265 جعلی میڈیا آؤٹ لیٹس کو بے نقاب کیا جو ایک ہندوستانی نیٹ ورک نے قائم کررکھی ہیں-ان جعلی آؤٹ لیٹس کا مقصد پاکستان بارے منفی پروپیگنڈا مواد کے زریعے سے یورپی یونین پر اثر انداز ہونا ہے

اس بات کا انکشاف انگریزی روزنامہ ڈان کی چودہ نومبر کی رمشا جہانگیر کی کریڈٹ لائن سے شایع خبر میں کیا گیا ہے

EU DisinfoLab

ای یو ڈس انفولیب نے ہندوستانی نیٹ ورک کی جانب 250 جعلی میڈیا آؤٹ لیٹس کے پاکستان کے خلاف یورپی یونین پر اثرانداز ہونے کی کوشش کا انکشاف کیا ہے- یہ گروپ یورپ، اس کی رکن ریاستوں، مرکزی اداروں اور اقدار پر اثر انداز ہونے کے لیے انتہائی چالاکی سے ڈس انفارمیشن پھیلانے والے زرایع کا سراغ لگاتا ہے اور ان سے نمٹنے کے طریقوں پر بھی زور دیتا ہے

تحقیقات کے دوران’ ای یو ڈس انفو لیب’ کو پتا چلا کہ جعلی ویب سائٹس غیر معروف پریس ایجنسیوں سے کاپی – پیسٹ اینٹی پاکستان مواد لیکر شایع کرتی ہیں- اور سیاست دانوں اور گمنام سے تھنک ٹینکس کا پروپیگنڈا مواد ان ویب سائٹس پر شایع ہوتا ہے جس کا مقصد ہندوستانی جیو پولیٹیکل مفادات کو تقویت پہنچانا ہوتا ہے

ایسی ایک ویب سائٹ

eptoday.com

جو برسلز میں یورپی پارلیمنٹ کا  خود ساختہ طور پر ایک میگزین ہونے کی دعوے دار ہے- اس ویب سائٹ لفظ بلفظ کاپی-پیسٹ مواد شایع ہوتا ہے

اس ویب سائٹ کا زیادہ تر مواد امریکی فنڈنگ سے چلنے والے نشریاتی ادارے وائس آف امریکہ سے لیا جاتا ہے- جبکہ اس مواد میں زیادہ تر مواد ہندوستانی مفاد کی حمایت اور پاکستان بارے منفی انداز لیے ہوتا ہے

اس ویب سائٹ نے بہت سارا مواد پاکستان میں رہنے والی اقلیتوں کے بارے میں کاپی پیسٹ کررکھا ہے

گروپ کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے جعلی میڈیا آؤٹ لیٹس کا انتظام و انصرام ہندوستانی سٹیک ہولڈرز کے پاس ہے جو تھنک ٹینکس، این جی اوز اور کمپنیوں کے ایک وسیع نیٹ ورک سری واستو گروپ سے منسلک ہیں

یورپ ڈس انفو لیب کی رپورٹ کے مطابق ای پی ٹوڈے کے دفتر کا پتا وہی ہے جو سری واستو گروپ کا جو نئی دہلی میں واقع ہے- سری واستو گروپ کا آئی پی ایڈریس بھی وہی ہے جو ایک اور غیر مانوس آن لائن میڈیا ‘نیو دہلی ٹائمز’ کا ہے- اور یہی آئی پی ایڈریس آئی آئی این ایس کا ہے

انٹرنیشنل نان الائنڈ اسٹڈیز – آئی آئئ این ایس نے حال ہی میں یورپی پارلیمنٹ کے 27 رکنی وفد کو ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی سے ملنے کے لیے بلایا تھا

تحقیقات کرنے والے یورپی گروپ نے جینوا میں جہاں پر اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے برائے مہاجرین کا مرکزی آفس ہے سے تعلق رکھنے والے ویب اخبار جینوا ٹائمز

timesofgeneva.com

کا بھی سراغ لگایا ہے- جس کی اشاعت کو 35 سال پرانی قرار دیا گیا ہے- یہ بھی ای پی ٹوڈے جیسا مواد شایع کرتا اور ویڈیوز اَپ لوڈ کرتا ہے، جس کا فوکس پاکستان پر تنقید میں ہوتا ہے- کشمیر میں پاکستان کے کردار پر منفی مواد بھی اس کی توجہ کا خصوصی مرکز ہے

اس ویب سائٹ کے زریعے جینیوا میں اقوام متحدہ کے اندر موجود ہندوستانی لابنگ کے مفادات کا تحفظ کیا جاتا ہے

جعلی ویب سائٹس کے جائزے سے انکشاف ہوا ہے اُن میں سے اکثر ویب سائٹ کسی ختم ہوگئی مقامی نیوز ایجنسی یا کسی حقیقی میڈیا آؤٹ لیٹ سے ملتی جُلتے نام سے بنائی گئی ہیں- وہ باقی دوسرے بااثر ہندوستانی میڈیا آؤٹ لیٹس اور ای پی ٹوڈے، 4نیوز ایجنسی، ٹائمز آف جینوا، نیو دہلی ٹائمز جیسی جعلی میڈیا سائٹس پر چھپا پاکستان مخالف مواد دوبارہ شایع کرتی ہیں- اکثر ویب سائٹس کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بھی ہے

ڈس انفو لیب کو ایسے شواہد بھی ملے جن کی رو سے ای پی ٹوڈے اور ٹائمز آف جینوا دونوں کے یورپیئن آرگنائزیشن فار پاکستانی منیارٹیز اور پاکستانی ویمنز ہیومن رائٹس کمیشن سے گہرے تعلقات ہیں

جعلی میڈیا ایجنسیز کیوں بنائی جاتی ہیں؟

ڈس انفو لیب کے تجزیے کے مطابق ان جیسی جعلی میڈیا ایجنسیوں کے قائم کرنے کا مقصد خاص واقعات اور احتجاج وغیرہ کی کوریج کرکے عالمی اداروں کی رائے پر اثرانداز ہونا ہے- یہ ایجنسیاں این جی اوز کو اُن کے کام آنے والا خودساختہ صحافتی مواد فراہم کرتی ہیں تاکہ اَن این جی اوز کی ساکھ بنے اور اُن کا اثر قائم ہو

ڈس انفو لیب کی جائزہ رپورٹ کا کہنا ہے کہ یہ نیٹ کئی میڈیا آؤٹ لیٹس کی تہہ داری دیواروں پر مشتمل ہوتا ہے اور یہ سب ایک دوسرے کے مواد کو ری-پبلش کرتی رہتی ہیں-اس تہہ داری نیٹ ورک کے سبب پڑھنے والوں کو اس مواد میں گڑبڑ اور مداخلت کا پتا ہی نہیں چلتا اور ہندوستانی جیو پولیٹکل مفادات کی طرف اُس کا رویہ گومگو کی کیفیت سے دوچار رہتا ہے

ہندوستانی جعلی ویب نیوز ایجنسیوں کے اس نیٹ ورک کا مقصد ایسا مواد شایع کرنا ہے جو پاکستان کا منفی تاثر پیدا کرے جب کبھی کوئی کسی ایشو پر سرچ انجن کو استعمال کرے