Featured Original Articles Urdu Articles

تاریخ کے المیے : تحریک خلافت کے تضادات – حمزہ علوی

نوٹ: ڈاکٹر حمزہ علوی نے تحریک خلافت پر ناقدانہ تحقیقی مقالہ

Ironies of History: Contradictions of TheKhilafat Movement

تاریخ کے المیے: تحریک خلافت کے تضادات

کے عنوان سے تحریر کیا تھا۔ تحریک خلافت پر یہ واحد مقالہ ہے شاید جس میں تحریک خلافت ، اس کے مطالبات اور اس کی قیادت کی سٹرٹیجی کا تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے۔

تحریک خلافت پر جتنا بھی لٹریچر موجود ہے وہ اس تحریک کے بارے میں کچھ بنیادی مقدمات قائم کرتے ہیں

تحریک خلافت نوآبادیاتی مخالف تحریک تھی

تحریک خلافت برطانوی راج کے خلاف قوم پرستانہ تحریک تھی

ڈاکٹر حمزہ علوی کا تنقیدی مقالہ ان دونوں مقدموں کی ردتشکیل کرتا ہے اور ثابت کرتا ہے کہ تحریک خلافت نہ تو نوآبادیاتی مخالف تحریک تھی اور نہ ہی یہ قوم پرستانہ تحریک تھی۔ ڈاکٹر حمزہ علوی اس تحریک کے بارے میں جہاں قوم پرست لکھاریوں کے قائم کردہ مقدمات کی رد تشکیل کرتے ہیں وہیں پر وہ کئی ایک کمیونسٹوں، بایاں بازو اور ترقی پسند لکھاریوں کی تردید بھی کرتے ہیں جو اس تحریک کے اندر سے ترقی پسند عناصر ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ڈاکٹر حمزہ علوی نے اس مقالے میں کافی تفصیل سے یہ دعوی بھی کیا ہے کہ تحریک خلافت نے تعلیم یافتہ سیکولر مسلمانوں کی سیاست کا سورج وقتی طور پر ہی سہی مگر گہنا ضرور دیا تھا اور ان کا یہ مقدمہ بھی ہے کہ تحریک خلافت نے مذہبی رہنمآؤں اور مولویوں کو ہندوستان کی سیاست میں مرکز میں لانے میں اہم کردار ادا کیا اور اس تحریک نے قدامت پرست،رجعت پرست مذہبی سیاست کی علمبردار جمعیت علمائے ہند کی تشکیل کی راہ ہموار کی۔ تحریک خلافت نے ہی ان کے نزدیک ہندوستانی مسلمانوں کو رجعت پرستانہ مذہبی سیاست کا اسیر بنایا۔

ڈاکٹر حمزہ علوی نے تحریک خلافت کے مسلمانان ہند پر مجموعی اثرات کا جو جائزہ لیا ہے،اس کی صداقت یوں بھی ہوتی ہے کہ تحریک خلافت  نے جہاں ایک طرف قدامت پرست علماء کی سیاسی تنظیم جمعیت علمائے ہند کی تشکیل کی،وہیں خلافت کمیٹی میں اختلافات پیدا ہوجانے کے بعد ایک طرف تو مولانا عبدالباری فرنگی محل اور مولانا عبدالماجد بدایونی وغیرہ بھی نہ صرف جمعیت علمائے ہند سے الگ ہوئے بلکہ انھوں نے اپنی الگ جماعت ‘خدام الدین’ بھی بنائی۔ ایسے ہی جمعیت علمائے ہند سے اختلاف کے سبب ایک اور پارٹی انجمن مجلس احرار الاسلام بھی بنی جس کے سب ہی نامور رہنماء تحریک خلافت کا  ہر اول دستہ رہے تھے۔

پاکستان میں آج بھی کمیونسٹ، قوم پرست ،سوشلسٹ، سوشل ڈیموکریٹس حلقوں میں تحریک خلافت، جمعیت علمائے ہند اور مجلس احرار وغیرہ کے بارے میں تنقیدی مطالعہ اور نکتہ نظر ڈھونڈے سے نہیں ملتا۔ جبکہ تحریک خلافت کے بارے میں جو جناح سمیت دیگر کا اس وقت مخالفانہ رویہ تھا اسے قوم پرست حلقوں نے بغیر کسی دلیل کے سامراج نواز اور برطانیہ نواز قرار دے ڈالا جس کی طرف علوی نے اس مقالے میں اشارہ بھی دیا ہے۔

تاریخ کے المیے : تحریک خلافت کے تضادات

تحریک خلافت (24-1919) شاید ایک ایسی انوکھی تحریک ہے جسے سب نے تابناک بناکر پیش کیا ہے۔ اسلام پسند، ہندوستانی قوم پرست، کمیونسٹ اور مغربی ماہرین تاریخ نے اس تحریک کی مسلمانان ہند کی نوآبادیاتی مخالف تحریک کے طور پر تعریف کی۔ اس تحریک کا آغاز برطانوی حکام کی ترک سلطان کے خلاف جارجیت کی وجہ سے شروع ہوا جو مسلمانوں کا ممدوح خلیفہ قرار دیا جاتا ہے۔1 جن مقدمات پر یہ تحریک شروع کی گئی،ان مقدمات اور اس کے رہنماؤں کی تقریروں کا جو پیرایہ تھا ان کا جائزہ لینے کی کوشش بھی کم ہی کی گئی ہے۔ اس تحریک کے رہنماؤں کا جو موقف تھا اس کا بغور جائزہ کئی ایک تضادات اور تناقضات کو سامنے لیکر آتا ہے۔

جہاں تک اس تحریک کے جو حاصلات اور اس کا جو دائمی ورثہ ہے وہ یہ ہے کہ اس نے مسلمانوں کے مذہبی پیشواؤں کو جدید سیاست کے میدان کے عین مرکز میں جگہ دی۔ جمعیت علمائے ہند( اور تقسیم کے بعد اس کی پیش رو) کی شکل میں ایک سیاسی تنظیم کو جنم دیا، جس نے سیاسی اور نظریاتی دونوں جگہوں پر سرگرمی سے مداخلت کی۔ ہندوستانی مسلمانوں کی تاریخ میں اس سے پہلے مولویوں کو کبھی سیاسی زندگی میں اس طرح کی حثیت حاصل نہیں ہوئی تھی۔

تحریک خلافت نے ہندوستانی مسلمانوں کی سیاست میں مذہبی محاوروں کو متعارف کرایا۔ کچھ مغالطوں اور غلط تعبیروں کے برعکس ہندوستان میں آل انڈیا مسلم لیگ مسلم قوم پرستی کی علمبردار تھی نہ کہ اس نے ہندوستانی مسلمانوں کی سیاست کے اندر مذہبی آئیڈیالوجی کو متعارف کرایا تھا۔ مسلم قوم پرستی مسلمانوں کی تحریک تھی نہ کہ تحریک اسلام۔ یہ ہندوستانی  تعلیم یافتہ مسلمان درمیانے طبقے کے غیرمطمئن پروفیشنل اور سرکاری نوکریوں کے متلاشی لوگوں کی نسلی تحریک تھی۔ مذکورہ لوگوں زیادہ تر اتر پردیش- یوپی ،بہار اور شہری پنجاب سے تھا۔ ان کے مقاصد شدت پسندی سے بہت دور تھے۔ ان کے زیادہ سے زیادہ مطالبات مسلمانوں کے لیے نوکریوں میں جائز کوٹہ اور ان کے وفادات کے لی خاص طرح کے حفاظتی اقدامات تھے۔

ہندوستان میں مسلمان قوم پرستی مذہبی تحریک سے کہیں زیادہ سیکولر تحریک تھی- نہ ہی اس کی اصل ہندؤ کی منافرت پرمبنی تحریک میں پیوست تھیں،جیسا کہ عام طور پر اسے دکھایا جاتا ہے۔ بلکہ اس کے برعکس، معاہدہ لکھنؤ 1916 کے بعد سے یہ تحریک بتدریج وسیع  ہندوستانی قومی تحریک کے مشترکہ پلیٹ فارم اور کانگریس پارٹی کے اتحاد کی طرف بڑھنے لگی تھی-

تحریک خلافت نے اس وقت کے تناظر میں ایسے مداخلت کی جس نے لکھنؤ معاہدے سے جنم لینے والی سیاست کو مار ڈالا۔ ہندوستانی مسلمانوں کی سیاست میں تحریک خلافت کی مداخلت نے جدید ہندوستان مسلمان ذہن پر قابل ذکر رجعت پرستانہ نظریاتی اثر ڈالا۔ یہ رجعت پرستانہ نظریاتی اثر ہندوستان اور پاکستان کے مسلمانوں کی سوچ اور سیاست میں پلٹ کر بار بار آتا رہتا ہے۔ یہی ایک عامل تحریک خلافت کا ازسرنو تنقیدی جائزہ اور اس کی قدر و قیمت کا تعین کرنے کے لیے کافی ہے۔

خلافتیوں کے دعوے

ہندوستانی خلافتیوں کا تحریک بارے سارا استدلال درج ذیل دعوؤں پر مشتمل تھا

الف- عثمان خلیفہ عالمگیر خلیفہ تھا جس کے ساتھ ساری دنیا کے مسلمانوں نے بعیت کر رکھی تھی،چاہے وہ کہیں بھی مقیم تھے۔

ب- دنیائے اسلام اور دنیائے مسیحیت کے درمیان جنگ ہورہی ہے۔ اور اس جنگ میں مغرب میں سلطنت عثمانی کے کئی علاقے چھن چکے تھے۔ اور یہ ایک ایسا نقصان تھا جس پر ان کا ماتم کرنا بنتا تھا۔

ج- برطانوی عثمان خلیفہ کے کے خاص طور پر دشمن تھے؛ پہلی جنگ عظیم کے بعد برطانیہ نے استنبول میں خلیفہ کو یرغمال بنالیا ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ اس شخص اور خلیفہ کے عہدے کا تحفظ کیا جائے۔ اسے باقی رکھا جائے اور اس کی حکمرانی کو بشمول عثمان عرب کالونیوں کو بھی بحال کیا جائے۔ مسلمانوں کے مقدس مقامات کا احترام اور تحفظ کیا جائے۔

جذبات سے پاک متعلقہ حقائق کا معائنہ دکھائے گا کہ یہ دعوے سب کے سب بہت مشتبہ تھے۔ اس مختصر سے مقالے میں ہم ان معاملات کا اختصار سے جائزہ لیتے ہیں۔

عثمان خلافت کی حقیقت

عثمان سلاطین کا منصب خلافت کا حصول ایک متناز‏عہ مسئلہ ہے۔ جدید دور میں جب انھوں نے اپنے آپ کو خلیفہ کہلانے کا فیصلہ کیا تو انھوں نے دعوی کیا کہ ساڑھے تین صدیاں پہلے خلافت عباسی خلیفہ متوکل کے ہاتھوں عثمانی سلطان سلیم اول کو منتقل ہوگئی ہے۔ متوکل اس زمانے میڑ مصر میں بیبرس بادشاہ مصر کے پنشن گزار کےطور پر جلاوطنی کاٹ رہا تھا امور سلیم اول نے 1517ء میں اسے شکست دے دی تھی۔ سلاطین مملوک میں بیبرس سب سے ممتاز تھا اور اصل میں وہ ایک ترکمان غلام تھا۔ اس نے متوکل کے والد کو پالا پوسا تھا اور اسے بڑی شان و شوکت کے ساتھ قاہرہ میں لیکر آیا تھا۔ اور اکثر ماہرین اسے ‘نام نہاد خلیفہ’ کہا کرتے تھے۔2 جو خلیفہ کا عہدہ تو رکھتا تھا لیکن اس کے پاس کوئی اختیار نہ تھا۔ بیبرس کا اسے قاہرہ میں لاکر رکھنے کا مقصد اپنی حکمرانی کو عزت اور جواز بخشنے کے ساتھ ساتھ اپنے دربار کی مسلمانوں کی نظر میں اولیت قائم کرنا تھا۔3 متوکل نے بھی اپنے باپ کی طرح بے اختیار خلیفہ کے کردار کو نبھایا۔ اس نے عباسی خلافت کے جائز حقدار ہونے کا دعوی کیا۔ اگرچہ وہ ایسا خلیفہ تھا جس کے زیرنگین کوئی ملک نہ تھا اور نہ اختیار۔ بیبرس کے لیے وہ عباسی سلطنت سے اس کے ربط کی ایک علامت تھا۔ مصر سے فاتح واپس لوٹتے ہوئے سلیم اول عباسی خلیفہ متوکل کو اپنے ساتھ لیتا آیا تاکہ مملوک سلسلے میں سے کوئی مستقبل میں خلافت کا اصل حقدار ہونے کا دعوے دار نہ ہوسکے۔

یہ دعوی کہ خلافت متوکل عباسی سے سلیم اول کو منتقل ہوئی ماہرین تاریخ کے نزدیک بالکل ہی مشکوک ہے۔4 یہ بھی دلیل دی گئی کہ متوکل خلافت کو کسی دوسرے کو منتقل کرنے کی حالت میں تھا ہی نہیں۔کیونکہ کسی ملک کے نہ ہوتے اور کسی قسم کا اقتدار نہ ہوتے ہوئے وہ کیسے کسی اور خلافت منتقل کرسکتا تھا۔ اس کہانی کی خودساختہ سچائی کے خلاف آج کے مصنف کے پاس جو زیادہ موثر دلیل ہے وہ یہ ہے کہ ساڑھے تین صدیوں تک نہ تو سلیم اول نے اور نہ ہی اس کے کسی جانشین اپنے آپ کو ‘خلیفہ’ کہلوایا۔ ان تینوں صدیوں میں عثمان خلافت نامکی کئی شئے نہیں تھی۔ جس عثمان سلطان نے سب سے پہلے خلیفہ کا لقب اختیار کیا وہ غازی سلطان تھا۔

تاہم قرون وسطی کے مسلمان میں عام روش بن گئی تھی کہ وہ حاکموں کو خلیفہ کہا کرتے تھے۔ لیکن یہ بس رسمی سا لقب ہوا کرتا تھا جیسے دوسرے شاندار القاب ان کو مختلف تقریبات کے موقعہ پر دیے جاتے تھے۔

ایسی روش ترکی میں غیرمعمولی طور پر اور آہستہ آہستہ نمو پانے لگی۔ خلیفہ کا لقب عثمان سلطان کے کئی اور القاب کے ساتھ شامل ہوگیا۔ لیکن باقاعدہ سرکاری طور پر خلیفہ کا لقب 1774ء تک عثمانیوں نے کبھی استعمال نہیں کیا۔ یعنی سلیم اول کی مملوک مصر پر فتح کے 250 سالوں تک کوئی عثمانی سلطان خلیفہ نہیں کہلاتا تھا۔ جس سال ایک عثمان سلطان کے لیے خلیفہ کا لقب استعمال ہوا،وہ محض اتفاق تھا۔ فاتح روسیوں کے ساتھ معاہدہ کوچک کناری کے لیے ہونے والے مذاکرات کے دوران،روسی مذاکرات کاروں نے اپنی ملکہ کے لیے ‘ کیتھرائن دا گریٹ’ کو آرتھوڈکس چرچ کے تمام مسیحیوں کی سربراہ کہا، اور اس طرح سے عثمانی سلطنت کی حدود میں موجود تمام مسیحی باشندوں کی وفاداری کو نظری طور پر کیتھرائن دا گریٹ سے جوڑ دیا۔ تو جواب میں ایک ترک مذاکرات کار نے اپنے سلطان کو سب مسلمانوں کا خلیفہ قرار دے ڈالا۔ اور یہ روسی ملکہ کے علاقوں میں رہنے والے مسلمانوں کی وفاداری کو سلطان سے جوڑ دیا۔ اس سے زیادہ اور کچھ اس کا مقصد نہیں تھا۔

اس واقعے کے وقت خلیفہ کے لقب کے غیر رسمی اطلاق کے باوجو عثمانیوں ںے پھر بھی یہ دعوی نہیں کیا کہ وہ جائز خلیفہ اور تمام مسلمانوں کے سربراہ ہیں۔ یہ تو مرحلہ بہت بعد میں آیا، اس کو ہلہ شیری برطانیہ نے دی جو نہ صرف عثمانیوں کے گہرا اتحادی اور عثمانیوں کے سرپرست بھی تھے۔ اس کی وجہ صاف یہ تھی کہ برطانیہ کے ذہن میں یہ بھی تھا کہ وہ خلیفہ کے زریعے مسلمانان ہند پر اثر و رسوخ ڈالنے میں کامیاب رہیں گے۔ لیوس لکھتا ہے:

‘سلطان عبدالعزیز(1861-76) میں پہلی بار یہ فکر عام کی گئی کہ عثمان سلطان ہی عثمانیہ سلطنت کا نہ صرف سربراہ ہے بلکہ وہی سارے مسلمانوں کا خلیفہ ہے اور پہلے سے گزر گئے خلفاء کا وارث ہے۔5

عثمان خلفاء کا جواز خلافت

یہ صرف 19ویں صدی میں ہوا جب عثمان سلاطین نے عالمگیر خلیفہ ہونے کا دعوی کیا۔ اس دعوے پر پورا اترنے کے لیے، ان کو دنیا کی نظروں میں ایک قابل قبول جواز کا زریعہ تلاش کرنے کی ضرورت تھی۔ اس مقصد کے لیے، ترکش پروپیگنڈا( جس نے اردو صحافت اور ہندوستانی مسلم فکر کو بہت متاثر کیا) 1517ء میں متوکل کے ہاتھوں سلیم اول کو خلیفہ مقرر کرنے کی افسانوی کہانی لیکر آیا۔عثمان خلافت کی افسانوی بنیاد کا سہارا لینا اس لیے ضروری تھا کہ اس سے یہ امید تھی کہ اس سے ان کی خلافت کے قانونی جواز کو تقویت ملے گی۔

اگر وہ یہ دکھا دیتے کہ خلافت باقاعدہ طور پر ان کو بنو عباس کے ایک رکن نے منتقل کی تھی جس کے بارے میں یہ فرض کرلیا گیا تھا کہ وہ عباسی خلافت کا نگران تھا کیونکہ بنوعباس میں سے تھا اور جلاوطنی کاٹ رہا تھا اور یہ کہ اس نے اس ورثے کو اس وقت تک سنبھالے رکھا جب تک اس نے اسے ایک مسلمان سلطان کو منتقل نہ کردیا جو کہ انصاف کرنے کی سیکولر طاقت رکھتا تھا جو اسے اس عہدے کے قابل بناتی تھی، تو ان کو یہ امید تھی کہ ایسا ہونے سے ان کی حکومت کو چیلنج نہیں کیا جاسکے گا۔ عثمانیوں نے متوکل کو قبر سے جی اٹھایا تاکہ اپنی خلافت کی ساکھ کو قائم کیا جاسکے۔

ہندوستانی مسلمان عثمانی خلافت کو تسلیم کرنے کے مسئلے پر کم از کم دو گروہوں میں بٹ گئے تھے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان دونوں گروہوں میں سے کسی ایک نے بھی متوکل سے سلیم اول کو خلافت منتقل ہونے کی کہانی کے جھوٹ یا سچ کو کبھی چیلنج ہی نہیں کیا۔

مسلمانوں میں سے وہ جو خود کو بریلوی روایت سے وابستہ بتاتے تھے انہوں نے عثمانی دعوے کو اصولی بنیاد پر رد کردیا لیکن خلافت کے متوکل سے منتقل ہونے کی کہانی کو چیلنج نہ کیا۔ بریلوی اس کہانی کے جھوٹا ہونے پر یقین نہیں رکھتےتھے۔ اردو پریس میں برسوں سے ترک پروپیگنڈے کے سبب انھوں نے دوسرے ہندوستانی مسلمانوں کی طرح اسے سچ سمجھ لیا۔

بریلوی اعتراض بس اتنا تھا کہ خلافت کا سزاوار وہ شخص ہوسکتا ہے جو قبیلہ قریش سے ہو اور عثمانی قریشی نہ تھے۔ اور اس لیے وہ خلافت کی ایک لازمی شرط  کو پورا نہیں کرتے تھے۔  جس نظریہ کے وہ حامل تھے وہ کلاسیکل اسلام میں ایک محکم اور طے شدہ روایت کے مطابق تھا۔ بہت سارے مسلمان مفکرین بشمول غزالی و الماوردی کا خیال یہ تھا کہ خلیفہ وہی ہوسکتا ہے جو قریشی ہو۔6 بریلویوں کی جانب سے انکار ہوجانے کے بعد، مسلمانان ہند کو عثمانی خلافت کی حمایت میں جمع رکھنے کے لیے فروری 1919ء میں مولانا عبدالباری فرنگی محلی نے فتوی جاری کیا اور کہا کہ خلیفہ ہونے کے لیے فی زمانہ قریشی ہونا شرط لازمی نہیں ہے۔ باری کے فتوے کے خلاف امام غزالی اور ماوردی جیسے بڑے مفکرین اسلام کی رائے موجود تھی تو ان کی قدامت پرستی سے ہٹ کر دی گئی رائے کو صرف بریلوی مولویوں نے مسترد نہیں کیا بلکہ اسے کئی ایک بااثر دیوبندی علماء کے گروہ نے بھی مسترد کردیا۔ مینالٹ اس حقیقت کو لکھتا کہ کہ کئی سینئر علمائے دیوبند نے اس فتوے پر دستخط کرنے سے انکار کردیا۔ مینالٹ کہتا ہے کہ ‏اس فتوے پر جنھوں نے دستخط کیے ان میں دیوبند، پنجاب اور بنگال سے (جانے پہچانے) علماء (کے ناموں کا) غائب ہونا بہت نمایاں ہے۔7

بریلوی(مولویوں) کے اس مسئلے پر موقف کو (اس ایشو پر لکھنے والے) ماہرین نے بالکل ہی نظر انداز کردیا حالانکہ وہ ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت کے نمائندہ ہیں۔ بریلوی روایت کے پیرو نہ صرف شہروں میں ہیں بلکہ دیہی آبادی میں بھی ان کی بڑی تعداد موجود ہے۔ بریلوی عقائد اور جو عرف عام میں دیوبندی روایت کے عقائد ہیں کے درمیان ( جسے دیوبندی روایت کہا جاتا ہے یہ دیوبند میں دارالعلوم بننے سے کافی پہلے کی ہے) جو بنیادی فرق ہے وہ یہ ہے کہ بریلوی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ کے ہاں ان کے لیے شفاعت اور سفارش کا واسطہ اولیائے کرام کے ناقابل انقطاع سلاسل بنتے ہیں جو واسطوں سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جڑتے ہیں۔اگرچہ بریلوی روایت کافی مافوق الفطرت ہے لیکن یہ جنوبی ایشیائی اسلام کی سب سے متحمل روایت ہے-8

 جنوبی ایشیائی اسلام کی بریلوی روایت کوماہرین نے نظرانداز کیا ہے۔ سانیال کی تحقیق اس معاملے میں ایک استثنا ہے اور شاندار نئی شروعات ہے۔9

غیرتحقیق شدہ تصور خلیفہ

‘ہندوستانی تحریک خلافت’ کے مرکزی نظریہ ساز عبدالکلام آزاد نےتحریک کے آغاز کے بنیادی نظریاتی اصول کا خلاصہ درج ذیل بیان میں اختصار سے یوں کیا:10

‘ اسلامی شریعت کا ہر زمانے میں یہ رہا ہے کہ مسلمانوں کا ایک خلیفہ اور امام لازمی ہونا چاہئیے۔11 خلیفہ سے ہماری مراد ایک آزاد مسلمان بادشاہ یا حاکم وقت ہوتا ہے جو مسلمانوں اور جس علاقے میں وہ رہتے ہیں کے تحفظ کی مکمل قوت و اختیار رکھتا ہو اور وہ شرعی قوانین کو جاری کرسکنے پر قادر ہو اور دشمنان اسلام سے لڑنے کی بھرپور قوت رکھتا ہو۔’12

ہندوستانی خلافتیوں کے نزدیک ترکی کا سلطان ایسا ہی سلمان حاکم اور خلیفہ تھا۔ اور ہندوستان کے مسلمانوں کو اس سے ہی عہد وفا استوار کرنا بنتا تھا۔

یہ بالکل غیر معمولی بات ہے کہ ہندوستانی تحریک خلافت پر جو کئی جلدوں پر مشتمل لٹریچر ہے اس نے تحریک کے اس مقدمے جیاسا کہ اسے آزاد اور دوسروں نے بیان کیا اسے تسلیم شدہ حقیقت کے طور پر قبول کرلیا اور اس کا کوئی تنقیدی جائزہ نہیں لیا۔ خلافت تحریک کی قدر وقیمت تحریک کے ابتدائی مقدموں کی گہرائی میں جاکر جانچ کیے بنا ممکن نہیں ہوسکتی۔

آغاز کار سے، عثمانیوں کے دعوے کہ خلافت ان کو سلطان سلیم کے زریعے سے متوکل نے منتقل کی، جسے ہندوستانی خلافتیوں نے عثمانیوں کے چارٹر کے طور پر قبول کرلیا تھا اور جو شرائط خلیفہ عبدالکلام آزاد نے بیان کیں کے درمیان تضاد موجود تھا۔ جن شرائط کو عثمانیوں کے دعوے خلافت کے حق میں پیش کیا گیا وہ آغاز کار سے ہی ناقص تھیں۔ آزاد کی شرائط کی رو سے تو متوکل بھی خلافت کا قانونی وارث نہیں قرار پاتا تھا۔ وہ نہ تو کسی ملک کا مسلمان بادشاہ یا حاکم تھا اور نہ ہی وہ خودمختار تھا کیونکہ وہ تو بیبرس کا وظیفہ خوار تھا جو مملوک حاکم تھا۔ ان حالات میں تو اس کے شرعی قوانین کے نفاذ پر قدرت رکھنے کا سوال بھی خارج از امکان تھا۔ متوکل عثمانیوں کو خلافت منتقل کرنے پر اختیار نہیں رکھتا تھا،کیونکہ وہ خود بھی تو جائز خلیفہ نہ تھا۔اس کے پاس دینے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ عثمانی خلافت کے جواز پر یہ اعتراض کس اعتراض سے بالکل ہی الگ ہے جو بریلوی مولویوں کی جانب سے پیش کیا گیا۔ آزاد کا اپنا پیرایہ کلام تضادات سے بھرپور ہے۔

خلیفہ کے معانی

لفظ خلیفہ کے آغازکار میں معنی اور بعد میں جس طریقے سے اس لفظ کو لسانی اعتبار سے بنو امیہ کے بادشاہوں نے تبدیل کیا کی وضاحت ہونا ضروری ہے۔ بنوامیہ نے حکومت پر فوجی طاقت کے زریعے سے قبضہ کیا تھا۔ لفظ خلیقہ عربی مادے  خ ل ف سے مشتق ہے جس کا مطلب ‘پیروی کرنا’ ہوتے ہیں یا پیچھے چلنے/بعد میں آنے کے کے ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب ‘پیش رو’ ترتیب کے معنی میں ہے ناکہ جائیداد یا صفات میں وراثت جیسے معنی میں۔ جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان کے پیش رو کے طور پر منتخب ہوئے۔ وہ ترتیب کے اعتبار سے ‘خلیفۃ الرسول اللہ’ کہلائے۔ اپنے ٹھیک اطلاق کے اعتبار سے خلیفہ کا لفظ کسی عہدے یا مقام جیسے حاکم ہوتا ہے پر نہیں ہوتا، جس معنی میں یہ بعد میں استعمال ہونے لگا۔ خلیفہ کا مطلب بطور ‘جانشین’ معنی خیز اعتبار سے خاص ‘پیش رو’ کے لیے استعمال کیا جاسکتا تھا۔ حضرت ابوبکر اپنے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد آنے کی وجہ سے خلیفہ تھے۔

مسلمان امت کے سربراہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ، جنھوں نے ابوبکر کے بعد حکومت سنبھالی وہ اسی لیے خلیفہ خلیفۃ الرسول اللہ کہلوائے۔ اور بعد میں آنے الے سربراہ بھی اسی طرح سے اپنے سے پہلے کے پیش رو خلیفہ کہلواتے۔ اور اس طرح سے یہ بالکل ایک مہمل سی بات ہوجاتی۔ اس لیے جو ابوبکر کے بعد آئے ان کے لیے لفظ خلیقہ کے استعمال پر کوئی سوال سرے سے نہیں اٹھا۔ بلکہ حضرت ابوبکر کے پیش رو حضرت عمر،حضرت عثمان اور حضرت علی امت کے منتخب سربراہ تھے اور ہر ایک کو امیر المومنین کا لقب دیا گیا۔

جب دمشق میں بنوامیہ کی سلطنت قائم ہوئی تو اس کا جواز متنازع تھا اور اس پر لڑائی ہوگئی۔ امت کے منتخب قیادت کی بجائے،اب فوجی طاقت سے اقتدار پر قبضہ ہونے لگا۔ اسی وجہ سے مولانا مودودی(1979-1903) نے سلطنت امیہ کے قیام کو اسلام کے خلاف رد انقلاب(انقلاب معکوس) قرار دیا اور زمانہ جاہلیت کی واپسی سے تعبیر کیا۔13 اموی حکمران فوجی طاقت سے بادشاہ بنے تو ان کو اپنی حکومت کے تقدس کے لیے کسی علامتی جواز کی تلاش ہوئی۔ اس کے لیے انھوں نے خلیفہ کا لفظ اختیار کیا۔ ان کو امید تھی کہ اس سے ان کو جواز حکمرانی مل جائے گا جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد آنے والوں کو حاصل ہوا تھا ایسا کرتے ہوئے انھوں نے اس لفظ کے معنی ہی بدل ڈالے۔ لفظ خلیفہ اب ‘ جانشین و پیش رو’ کے معنی نہیں رکھتا تھا بلکہ اب یہ بادشاہ یا حاکم کا ہم معنی ہوگیا تھا۔

ایک نیا لفظ ایجاد ہوگیا تھا۔ اگرچہ اس کے ہجے اور تلفظ وہی تھے جو خلیفہ بمعنی ‘پیش رو’ کے تھے جبکہ اس لفظ کے ہجے اور ادائیگی تلفظ سے بالکل ہی غیر متعلق معنی مراد لیے جاتے تھے۔ یہ ایک نئی لفظیات تھی جس کا اصل لفظ خلیفہ بمعنی پیش رو کے ساتھ کوئی معنویاتی اور لسانیاتی ربط نہ تھا۔ یہ نیا لفظ تھا جس کا مطلب بادشاہ یا حاکم تھا۔ سرسید احمد خان نے اس پر یوں تبصرہ کیا: ‘ خلیفہ کی اصطلاح حضرت عمر نے ترک کردی تھی جب وہ حضرت ابوبکر کے پیش رو کے طور پر منتخب ہوئے۔ خلیفہ کی بجائے انھوں نے امیر المومنین کا لقب اختیار کیا۔ یہ لقب حضرت علی کے دور تک اور ان کے دور کے بعد بھی استعمال ہوا۔ اس کے بعد اور امام حسین کے بعد جن لوگوں نے اقتدار پر قبضہ کیا (بنوامیہ) انھوں نے ناروا طور پر اسے اپنے لیے مختص کرلیا۔ کیونکہ انھون نے سوچا کہ خلیفہ کا لقب امیر المومنین سے زیادہ مقدس ہے۔’15

بنوامیہ کے بادشاہوں کی جانب سے لفظ خلیفہ کا اپنی حکومت کو تقدیس دینے کے لیے استعمال اپنی قوت کھو بیٹھتا اگر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیش روؤں کے لیے استعمال نہ کیا گیا ہوتا۔ لیکن ایک بات تو عام تسلیم کی جاتی تھی کہ اموی اس مقام اور مرتبے کے حامل نہ تھے جو اس لقب کے اصل سزاوار تھے۔ اسی لیے حضرت ابوبکر اور ان کے تین پیش روؤں کے خلفاء راشدین کا لقب مشہور ہوا۔16 اگرپہلے چار کے ساتھ کوئی مذہبی اہمیت اس لفظ کے تعلق سے وابستہ تھی تو وہ بعد والوں خلفاء کے ساتھ نہیں تھی جن کا آغاز امویوں کے ساتھ ہوا۔

امویوں کے دور میں لفظ خلیفہ کے ساتھ کوئی مذہبی تعبیرات اور اطلاق جڑی ہوئی نہیں تھیں۔ ان کے لیے یہ لفظ ان کی حکمرانی کے جواز کی علامت تھا۔ جیسے بادشاہوں کا حق حکمرانی خدائی ہوتا ہے کا قرون وسطی کے یورپ کا عام عقیدہ تھا۔ یہ تو بعد کی صدیوں میں ہوا کہ خلیفہ کے لقب کی مذہبی اہمیت وضع کی گئی۔ اقتدار حقیقی طور پر جن کے پاس تھا ان کو ایک آئیڈیالوجی کی ضرورت پڑی جو خلیفہ کو ریاست کی سیکولر پاور کے مرکز سے ہٹاسکے اور اسے ایک طرف ریاست کا محض علامتی سربراہ کے طور پر باقی رکھے، جس کے ناگزیر فرائض مذہبی زمروں میں ہوں جبکہ عملی طور پر اس کے کرنے کا کوئی کام نہ ہو۔

اللہ کا نائب- خلیفۃ اللہ

سنّی روایت میں مذہبی شعبہ امام کے پاس ہوتا ہے۔ لیکن پوپ کے برعکس، امام کے پاس کوئی مذہبی سند نہیں ہوتی۔ اسلام کے بارے میں جیسا کہ اکثر کہا جاتا ہے کہ اس کے ہاں پاپائیت نام کی کوئی شئے نہیں ہے یا اس میں کوئی پوپ نہیں ہوا کرتا۔ یہ فرد واحد کے ضمیر کا مذہب ہے۔ آئمہ اس لیے محض رہنمائی کرتے ہیں، ایسے لوگ جو ذاتی اور مذبہی اعتبار سے کامل ہوتے ہیں اور علوم اسلامیہ پر مہارت رکھتے ہیں وہ امام بن سکتے ہیں۔ اماموں کو کوئی متعین نہیں کرتا۔ اپنے ابتدائی استعمال سے ہٹ کر عباسی دور میں خلیفہ کے لفظ کے ساتھ مذہبی اہمیت منسلک ہونا شروع ہوئی اور امام و خلیفہ کو باہم خلط ملط کرنے کا سلسلہ بھی بڑھ گیا۔ اور یہ بعد کی مسخ شدہ روایت ہی تھی جس  کی پیروی آزاد نے خلیفہ و امام کے معنی کا تعین کرنے میں کی جس کو اوپر نقل بھی کیا گیا۔

مذہبی صفات کے بڑھاوے کا ایک عمل تھا جسے خلیفہ کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔ خلیفہ کو خلیفۃ اللہ بھی کہا گیا۔ آزاد اصل میں لفظ خلیفۃ اللہ کو ہی اپنے آغاز میں استعمال میں لاتے ہیں جب وہ لفظ خلیفہ کے معنی کو پھیلاتے ہیں۔ حالانکہ اسلامی مفکرین نے اپنی تحریروں میں خلیفۃ اللہ کے تصور کی شدید مذمت کی تھی۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ آزاد اس تنقید سے بے خبر رہے ہوں۔ الماوردی نے لفظ خلیفۃ اللہ کی مذمت کرتے ہوئے اپنی کلاسیکل تصنیف الاحکام السلطانیہ میں لکھا:’ ہم اس سے اتفاق نہیں کرتے کہ اس کو خلیفۃ اللہ بھی کہا جاسکتا ہے کیونکل علمآء نے بالاتفاق اس سے منع کیا اور جو ایسا کہے اس کی فاجر کہہ کر مذمت کی ہے۔ کیونکہ خلیفہ/ پیش رو تو اسی کا ہوسکتا ہے جو غائب ہو جائے یا فوت ہوجائے۔ اللہ نہ تو غائب ہوسکتا ہے نہ وہ مر سکتا ہے۔’17 گولڈ زہیر لکھا ہے:’جب امیہ نے اس لقب کو استعمال کیا تو ان کا منشاء حاکم کی حاکمیت مطلقہ ہونا تھا۔ عباسیوں کے دور میں اس لقب کے ساتھ تھیالوجیکل چیزیں بھی شامل کردیں گئیں۔ عثمان سلاطین کا سمیجھتے تھے پرانے خلفاء کے القاب کو اپنانے سے ان کو خود بخود خلیفۃ اللہ کا لقب منتقل ہوجائے گا۔18

آزاد نے عباسی خلفاء کی مسخ شدہ تعریف اور رد کردیے گئے خلیفۃ اللہ کی اختراع  کو ملا کر تصور خلافت وضع کیا۔19 اس نے مسلمانوں کی سب سے پسماندہ اور سب سے رجعتی روایت کی پیروی کی۔

سرسید احمد خان کا اس مسئلے پر موقف شعوری طور پر اس سے بالکل الٹ تھا۔ وہ خلافت کے سیکولر دائرہ کار اور امامت کے مذہبی دائرے کار سے اچھے سے واقف تھے۔ انھوں نے اسی بات کو دہراتے ہوئے کہا،’ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد، حضرت ابوبکر کو خلیفۃ الرسول اللہ کے طور پر مقرر کیا گیا تھا اور مذہبی اختیارات نہیں رکھتے تھے۔ انھوں نے بار بار اس پر زور دیا تھا کہ خلیفہ بطور انتظامی سربراہ کے رومن کیتھولک پوپ نہیں ہوتا۔ حضرت ابوبکر، انھوں نے نشاندہی کی کہ وہ مسلمانوں کے انتظامی سربراہ بنائے گئے تھے۔20 شعبان نے اسی بات کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ابوبکر (رض) مذہبی اتھارٹی نہیں رکھتے تھے، اس لیے وہ انتظامی پیش رو تھے۔ وہ پوپ اور رومن شہنشاہ کی طاقتوں کا کمبی نیشن نہیں رکھتے۔’21

آخری عباسی دور میں جب خلیفہ کے پاس سوائے بغداد کے کہیں کوئی اختیار نہیں تھا اور یہاں تک کہ اس کی اتھارٹی محض پرچھائیں بن کر رہ گئی تھی 22 تو اس میں مذہبی صفات کا اضافہ دیکھنے کو ملا۔ خلیفہ ریاستی امور پر کوئی کنٹرول نہیں رکھتا تھا اور وہ لوگوں کے لیے ایک سیکولر شخصیت ہونے کی بچائے مذہبی کردار زیادہ تھا۔ خلفاء کو زیادہ تر امام کے طور پر پیش کیا جانے لگا تھا۔ گولڈ زیہر نے دیکھا کہ بعد کے عباسی خلفاء کے دور میں خلیفہ کا لقب مذہبی ہوگیا تھا۔ خلفاء خدا کے نائب ہونے کا دعوی کرتے تھے بلکہ ان کو ظل اللہی/خدا کا سایہ بھی کہا جاتا تھا۔ ان کے نظریہ ساز سکھاتے تھے کہ خلیفہ  ظل اللہ فی الارض ہے اور جو مشکل میں ہزں اس کی پناہ میں آجاتے ہیں۔ یہ جو انتہائی پرشکوہ القاب تھے حقیقی اقتدار سے خالی تھے جو عثمان سلاطین کے پاس تھی جو اسلام کے اصل ہیرو تھے، ان کا خیال تھا کہ پرانے خلفاء کے القاب کو اپناکر ان کا دعوی بھی خاص مقام رکھنے کا ہوجائے گا جیسے خلیفۃ اللہ کا لقب رکھنے سے ملتا ہے۔’23

ترک عثمان پروپیگنڈا مشین نے خلیفہ کے مفروضہ مذہبی کردار کو خوب بڑھا چڑھا کر پیش کیا جس سے خلافت کے دعوے دار کے ساتھ مسلمانوں کی وفاداری لازم ہوجائے چاہے وہ کہیں رہتے ہوں۔ ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے بھی یہی تھا۔ ہندوستان کے مولویوں نے بھی بطور خاص اس تصور کو خوش آمدید کہا کیونکہ وہ اپنے آت کو ہندوستان میں اسلام کے خود ساختہ محافظ سمجھتے تھے اور اس نے ہندوستانی سماج  اور مسلم سیاسیت میں ان کے کردار کو بڑھاوا دے دیا تھا کیونکہ اس تصور خلافت کے ساتھ وہ خلیفہ اور اپنے لوگوں کے درمیان واسطہ بن گئے تھے۔

زیادہ طویل عرضہ نہیں ہوا جب مسلمان انٹلیکچوئل اور اسکالرز نے ایسے تحکمانہ متون کے ساتھ آگے آنا شروع کیا جن میں خلیفہ کے بطور اماممذہبی کردار پر زور دیا گیا اور اس میں مبالغہ سے کام لیا گیا تھا۔ اس اصلاح کے وہ معنی تو ختم ہی ہوگئے جس کے مطابق اس سے مراد ریاست کا ایک سیکولر منۃحب سربرہ ہوا کرتا تھا جیسے خلفائے راشدین تھے۔ جن تصورات کے تحت خلیفہ کا مذہبی کردار وضع کیا گیا وہ اصل اسلام میں ریاست کے سربراہ جو سیکولر شخصیت تھی اور امام جو کہ مذہبی رہنماء ہوتا تھا کے درمیان جو تمیز کی گئی تھی سے متضاد تھا۔ یہ دونوں الگ الگ تصورات بعد میں زوال کے دنوں میں ایک دوسرے میں گڈمڈ ہوتے رہے اور پھر آزاد نے ایک ہی سانس میں خلیفہ اور امام کے الفاظ کو ایک ہی معنی میں استعمال کرڈالا جیسے دونوں کے درمیان کوئی امتیاز نہ ہو۔

عالمگیر خلافت

آزاد کی تقریروں کا منشا تھا کہ ہر زمانے میں ایک ہی خلیفہ ہوسکتا تھا۔  آزاد کی اس مبہم سی شرط کو قبول کرنے کے لیے مسلمانوں کی تاریخ سے نظریں چرانا لازم تھا۔ حقیقت یہ تھی کہ کئی صدیوں سے حریف خلافتوں کی اکثریت تھی اور مسلمان دنیہ ساری کی ساری ایک خلیفہ پر متحد نہ تھی۔ عباسی خلافت جب تھی تو اس کی معاصر اسپین میں اموی خلافت اور مصر میں فاطمی خلافت موجود تھی۔ ان تین خلافتوں سے ہٹ کر جو ایک دوسرے کی حریف تھیں بہت سی دوسری مسلمان بادشاہتیں اور تھیں جن کے سربراہ خلیفہ ہونے کے دعوے دار تھے، بوس ورتھ  نے موبوط سروے کرکے ایسی 82 اسلامی خلافتوں کا سراغ لگایا۔24 اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ ترک عثمان سلطنت کے پروپیگنڈا بازوں نے جو واحد عالمگیر سلطنت کا تصور پھیلاا تھا وہ اسلامی سیاستوں کا ساری اسلامی دنیا میں بنیادی جزو رہا۔ یہی وہ بنیاد تھی جس پر اندوستانی مسلمانوں کی وفاداریوں کے دعوے کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ تصور بہرحال ناخالص تھا۔ اور پھر یہی وہ تصور تھا جس پر تحریک خلافت کا مقدمہ تشکیل پایا۔

آزاد نے دعوی کیا کہ یہ اسلامی شرعی قانون تھا جس کے مطابق ہر زمانے میں مسلمانوں کا ایک خلیفہ و امام ہو جو کہ عالمگیر خلیفہ ہوتا ہے۔ وہ اس شرعی قانون کے ماخذ کی نشاندہی نہیں کرتے جس پر اس تصور کی بنیاد تھی یا وہ بنیاد جس کو لیکر انہوں نے یہ بیان دیا، کیونکہ ایسی کوئی بنیاد تھی ہی نہیں۔ ان ک بلند و بانگ اور مبالغہ آمیز دعوے کرنے کی عادت تھی جس کا ماخذ اسلام کے بنیادی سرچشموں میں ہوتا ہی نہیں تھا۔ یہ کافی تھا کہ ان کے قاری اور سامع کچے پکے پڑھے لکھے اور کچی پکی معلومات رکھنے والے تھے۔ اور وہ ان کے پرشکوہ اسلوب بیان و تحریر کے سحر میں گرفتار تھے جو عربی کی طویل عبارتوں سے مرصع ہوا کرتی تھیں۔ عربی کی طویل عبارتوں کا فی البدیہہ استعمال آزاد اس لیے بھی کرتے تھے کیونکہ وہ تو ان کے گھر کی باندی تھی۔25

ان کے پاس آزادی کی کہی باتوں اور دعوؤں کی تصدیق کرنے کا وقت کم ہی ہوتا تھا۔ کسی بھی معاملے میں ان کا اور دوسروں کے کہے کا جو مواد تھا وہ کم ہی اہمیت رکھتا تھا کیونکہ وہ پہلے ہی اس کی رو میں بہہ جانے کا ذہن بناچکے تھے۔ ان سے پہلے کے جو مذہبی علماء کے طور پر جو اسکالرز تھے وہ ان کے ںزدیک محض خوش مزاج رہنماء تھے۔

سرسید احمد خان نے عالمگیر خلافت کے خلاف بہت ہی جامع دلائل پیش کیے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ہر خللافت محض ان علاقوں تک محدود تھی جو براہ راست ان کے دعوے دار کے کنٹرول میں تھی۔ خلافتیوں نے سرسید احمد خان کے دلائل مسترد کردیے۔ ان کو سرکار انگلشیہ کا بے دام غلام اور ان کے نظریات کی جگالی کرنے والا قرار دیا۔ ان کا ایسا کہنا بالکل غلط تھا کیونکہ یہ آزاد تھے جو اس ایشو پر ‏عثمان نواز برٹش پالیسی کی آواز کے ساتھ تھے جو کہ سختی سے عثمان سلطان کو عالمگیر خلیفہ کے طور پر سپورٹ کررہے تھے۔ سر سید احمد خان پر برٹش سرکار کی حمایت کے الزام  کو کسی قدر اہمیت بھی دے دی جائے تو اس ایشو پر سرسید کا موقف اصولی تھا اور وہ برٹش کے اس وقت کے خیالات کے الٹ جارہا تھا۔ یہ ایک بالکل دوسرا معاملہ ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے مستقبل کے لیے ان کا جو سیاسی پروجیکٹ تھا جیسا کہ انہوں نے 19ویں صدی میں اسے دیکھا تھا اس سے ان پر برٹش کی کٹھ پتلی ہونے کا الزام لگ گیا۔ ایک وقت میں درست ہو یا غلط ہو وہ برٹش کٹھ پتلی ہوسکتے ہیں۔ لیکن یہ مثال ان کوبرٹش کٹھ پتلی نہیں بناتی۔ سر سید احمد خان کا موقف عالمی خلافت پر برٹش اور ترک دونوں کے پروپیگنڈے سے  سامنے آنے والے موقف سے الگ تھی۔

عثمانی خلفاء سے برٹش کے تعلقات

برٹش عثمان ترکوں کے دشمن ہونے سے بہت دور تھے۔ تحریک خلافت کا پروپيگنڈا اس معاملے میں غلط بات تجویز کرتا ہے۔ برٹش کئی صدیوں تک عثمان ترکوں کے اتحادی رہے۔ ان کا عثمان ترکوں سے گہرا اتحاد اس جذبے سے پھوٹا تھا جو برٹش کے اندر زار روس کے توسیع پسندانہ عزائم سے برطانوی امپریل مفادات کو درپیش خطرے سے پیدا پریشانی کے سبب پیدا ہوا تھا۔ عثمان ترک بھی روسی خطرے سے پریشان تھے اور یہ پریشانی ان کی بڑھتی کمزوری سے دوچند ہوگئی تھی۔ ان کو ایک مضبوط ایسے اتحادی کی ضرورت تھی جس پر وہ اعتماد کرسکیں۔ ایسا اتحادی ان کو برطانیہ کی شکل میں مل گیا۔ عثمان ترکوں کا جرمنی کے ساتھ پہلی جنگ عظیم میں اتحاد عثمان ترکوں اور برطانیہ کے درمیان صدیوں پرانے گہرے تعلقات میں پہلی دفعہ تعطل لیکر آیا تھا۔ ترکی کا خلاف معمول جنگ کے زمانے میں جرمنی سے اتحاد ترکی کے اپنے اندر کے مخصوص حالات کے سبب تھا حالانکہ برٹش نے ترکی کو عالمی طاقتوں کے ساتھ جنگ میں ترکی کو شرکت سے روکنے کی پوری کوشش کی تھی۔ ترکی اپنے روایتی اتحادی کی مخالفت کے باوجود ایک جنگ میں شرکت جیسی ٹھوکر کھاگیا۔ یہ اچھی طرح سے دیکھ بھال کر نہ کیا انے والا فیصلہ تھا۔ یہ ایک انتہائی دلچسپ واقعہ ہے جس پر آگے ہم اور بات کریں گے۔

برٹش کے ترک عثمان سلطنت سے تعلقات برطانیہ کے اپنے سامراجی مفادات پر استوار تھے۔ ان تعلقات کی وجہ ایک تو عثمان سلطنت کا جغرافیائی تزویراتی محل وقوع تھا اور پھر زار روس کی طرف سے جو خطرات تھے وہ دوسری وجہ تھے۔ ایک نئے زمانے کے تناظر میں جس نے بڑے پیمانے پر بحری تجارت اور اس سے جڑی بحری طاقت کی اہمیت کو 16 ویں صدی سے مسلسل بڑھاوا دینا شروع کررکھا تھا عثمان سلطنت روس کے راستے میں برطانیہ کے لیے ایک بڑی ڈھال تھے۔ عالمی تزویراتی ترجیحات بڑی تیزی سے  تبدیل ہوئیں تھیں۔ برطانیہ بھی جلد ہی ایک بڑی بحری طاقت کے طور پر ابھرا اور اس نے اپنی سامراجی طاقت کو پوری دنیا تک پھیلا دیا تھا۔

عالمی طاقت کے اس نئے کھیل میں زار روس کی حثیت ایک چھوٹے کھلاڑی کی سی تھی۔ اس کی بحری تک جغرافیائی اعتبار سے خاصی محدود تھی۔ اس کا جو بالٹک بحری بیڑہ تھا وہ تنگ خلیج میں خطرے سے دوچار تھا جہاں سے سویڈن جرمنی اور ڈنمارک سے الگ ہوتا تھا۔ اس کا بحیرہ اسود میں روس کا بحری بیڑہ باسفورس اور آبنائے درہ دانیال پر اور زیادہ خطرے سے دوچار تھا۔ اس کا مشرقی آبنائے اورولادیوستوک بندرگاہ پر جو بیڑے تھے وہ اس کھیل میں کوئی موثر کردار ادا کرنے سے قاصر تھے۔ اگر روس ایک بڑی عالمی طاقت بننا چاہتا تھا تو اسے دنیا کے ساحلوں تک آزادانہ رسائی کی ضرورت تھی۔اس کے پاس آپشن تھا کہ وہ جنوب کی سمت بڑھے اور خلیج فارس اور بیحرہ عرب میں غالب پوزیشن کے لیے علاقوں کو فتح کرے۔ لیکن اس سے برٹش سامراج کے مفادات کو براہ راست خطرات لاحق ہوجانے تھے۔

عثمان سلطنت گرم پانیوں سے گزر کر جنوب تک جانے کے لیے روس کے راستے میں کھڑی تھی- اسے جنوب کی طرف کامیاب پیش رفت کرنے کے قابل ہونے کے لیے عثمان سلطنت کو توڑنا پڑتا تھا۔ روسی پالیسی اس لیے مستقل طور پر عثمان ترکوں کے خلاف جارحانہ تھی- روسی خطرہ وہ مستقل خطرہ تھا جس کی بنیاد پر برٹش اور ترک ‏عثمان کے درمیان مستحکم اتحاد قائم ہوا۔ یہ اتحاد کئی صدیوں تک قائم رہا۔ انہوں نے اکٹھے اتحادی بن کر جنگیں لڑیں ،  معروف اور بہت زیادہ پیسہ خرچ ہونے اور خون آشام  طویل جنگ کریمیا(56-1854) تھی۔ جنگ کا خاتمہ برطنیہ کی خواہش پر ایک معاہدہ کے تحت ہوا جس میں آبنائے باسفورس اور درہ دانیال میڑ تمام بحری فوجی دستوں کی نقل و حرکت پر پابندی لگادی گئی اور اس تجویز کا مقصد روسی بحری دستوں کی نقل و حمل کو روکنا تھا۔ اس معاہدے کی وجہ سے روسی جنوبی جنگی بحری بیڑا بحیرہ اسود میں ہی بند ہوکر رہ گیا۔

ترک عثمان کی توسیع پسندی اور زوال

سترھویں صدی کے آخر تک عثمان ترک اپنی طاقت کی بلندیوں کو چھونے لگے تھے جب سلطان کی افواج نے دوسری بار ویانا کا محاصرہ کرلیا لیکن وہ ایک بار پھر اسے فتح کرنے میں ناکام رہے۔ اسی لمحے سے بتدریج یورپ میں ترک طاقت کا زوال بھی شروع ہوگیا تھا۔ ترکی نے جلد ہی روس اور ہیبسبرگ کے ساتھ اٹھارویں صدی کی توسیع پسندانہ جنگوں میں  ڈینوب اور یوگو سلاویہ میں دریائے ساوا سے پرے کی نوآبادیاں کھو دی تھیں۔ لیکن ترک عثمان سلطنت کا آخری زوال ترکی اور ان دو عظیم طاقتوں کے درمیان لڑائیوں کا نتیجہ تھا- ترکوں کی بڑی ااور مرکزی پسپائی جنوبی سلاو کی قوم پرستانہ جدوجہد سے ہوئی جو ہیسبرگ آسٹو ہنگرین سلطنت کی نوآبادیاتی طاقت کے بھی ویسے ہی خلاف تھے جیسے وہ ترک عثمان کے تھے۔ قومی آزادی کی لڑائیوں میں جنوبی سلاو کے لوگوں نے نوآبادیاتی سلطنتوں، ترک عثمانیوں اور ہیسبرگ کے خلاف بھی  جنگ کی۔ ہندوستان میں، اردو پریس، اسے غلط طور اسلام کے خلاف مسیحیت کی جنگ بناکر پیش کررہا تھا۔ جبکہ  یہ حقیقت میں نوآبادیاتی نظام کف خلاف نیشنل ازم کی جنگ تھی۔

یہ علاقوں اور طاقت کے حصول کی لڑائیاں تھیں۔ مذہب اس میں کہیں نہیں تھا۔ ‘مسلمان’ عثمان ‘مسلمان بھائیوں’ سے بھی لڑنے سے ہچکچاتے نہیں تھے۔ جیسے عرب عوام تھی، ان کو اپنے نوآبادیاتی راج کے لیے وہ محکوم بنانے سے گریز نہیں کرتے تھے۔ انھوں نے ‘مسلمان بھائی صفوی’ ایرانی حکمرانوں کے خلاف بھی بار بار پیش رفت کی تھی،اگرچہ وہ اس میں ناکام رہے تھے۔ عثمان ترکوں کی توسیع پسندی مذہب کے لیے نہیں تھی- بلکہ یہ تو علاقوں اور مزید طاقت کے حصول کے لیے تھی- اسی طرح عثمان ترکوں کی مسلمان رعایا بھی اپنے مسلمان نوآبادیاتی آقاؤں سے آزادی حاصل کرنے میں کم جذبہ نہیں رکھتی تھی۔ستوجانوک لکھتا ہے،’مرکزی حکومت کی کمزوری نے پہلے سے موجود ترک صوبوں میں علیحدگی پسند طاقتور رجحانات کی اور حوضلہ افزائی کی- عثمان حکومت کے مرکز کو مسلمان بغاوتوں کے ایک سلسلے سے مصالحت کرنا پڑی، جن میں مصر کے محمد علی سے بھی صلح تھی۔26(جو بہرحال ایک فوجی مہم جو تھا ناکہ نیشنلسٹ تحریک کا قائد)۔

جہاں تک بلقان میں آزادی کی تحریکوں پر اسلام کے خلاف ‘مسییحی’ تحریکیں ہونے کے الزام کا تلعق ہے، تو ہم مشکل سے یہ فراموش کرسکتے ہیں کہ ہیسبرگ کے تاج کے مسیحی وارث  آرشیدوک فرانتس فردیناند کا ایک مسیحی سرب قوم پرست کے ہاتھوں سراجیو میں قتل تھا جس نے پہلی عالمی جنگ کو بھڑکا دیا۔ بلقان کی قومی تحریکوں اور لڑائیوں کو مسیحیت کی اسلام کے خلاف جنگ کے طور پر پیش کرنا ایک مہمل اور فضول بات تھی جیسا کہ ہندوستانی مسلمان مقروں اور متعصب مولویوں نے ان کو بناکر پیش کیا تھا۔

انیسویں صدی قوم پرستی کے خمیر کے اٹھائے جانے کا زمانہ تھی جیسا کہ ہندوستان میں بھی ایسا ہی تھا۔ بلقان قوم پرست تحریکیں عالمی مظہر کا حصّہ تھیں، جب محکوم عوام نے آزادی اور خودمختاری کے لیے نوآبادیاتی راج سے لڑنا شروع کردیا تھا۔

یونان کی آزادی

ہندوستانی خلافتیوں نے بہت زیادہ اس خیال کی تشہیر بھی کی جیسے برطانیہ والے یونان نواز اور ترک مخالف تھے۔ یہ الزام ڈیوڈ لویڈ جارج پر تو لگایا جاسکتا ہے جو جنگ کے زمانے میں اتحادی حکومت کا عبوری وزیراعظم بنا تھا جس نے سیورز جیسا ذلت آمیز معاہدہ لکھوایا تھا، جس کو اس کی قدامت پرست کابینہ کے بونار لا جیسے ممبران نے بھی ناپسند کیا تھا۔ اور یہی وہ وجہ تھی جس کے سبب اس معاہدے کی نہ تو توثیق کی گئی اور نہ اسے نافذ کیا گیا تھا۔ جنگ کے زمانے کی اتحادی حکومت کے خاتمے کے بعد، جب ڈیوڈ لویڈ جارج کو اٹھاکر باہر پھینک دیا گیا، اور ایک قدامت پرست حکومت پھر لوٹ آئی جس کی قیادت بونار لا کے پاس تھی تو برطانیہ کی ترک نواز بلکہ ترک عثمان نواز پالیسی واپس لوٹ آئی تھی۔( ترک عثمان نواز کہنا خاص اہمیت کے سبب ہے)

مشرقی بحیرہ روم میں برطانیہ کی جو طویل المعیاد سٹریٹجی تھی اس کو دیکھتے ہوئے یہ تصور کہ برطانوی حکومتیں یونان نواز تھیں بالکل غلط ہے۔ ہم دوبارہ زار روس کی طرف سے خطرے کو برٹش کے اندازے سے دیکھتے ہیں۔ یونان کی ترک نوآبادیاتی راج سے آزادی کی جدوجہد، باوجود اس کے کہ برطانیہ کے اندر یونانیوں کے لیے مقبول حمایت موجود تھی، برٹش حکومت خود کبھی بھی یونان کی آزادی کے حق میں نہیں تھی۔ ان کو خوف تھا کہ اس سے روس کو ایک اتحادی میسر آجائے گا اور مشرقی بحیرہ روم میں اسے مضبوطی سے قدم جمانے کا موقعہ ملے گا۔ تاہم برطانیہ میں عوام کی رائے کے اس حق میں بہت زیادہ استوار ہوجانے اور پاپولر شاعر لارڈ بائرن کی 1826ء میں وفات ہوجانے سے جو کہ یونانیوں کے لیے لڑا اور میسولونگھی کے مقام پر اس کی موت ہوگئی، تو نہ چاہتے ہوئے بھی برطانوی حکومت نے اس اتحاد میں شمولیت اختیار کی جس کا آغاز روس نے یونان کی حمایت کے لیے شروع کیا تھا۔ جنگ کا نتیجہ معاہدہ اڈرنوپل/ادرنہ 1829ء کی شکل میں نکلا۔ لیکن برطانوی حکومت اس معاہدے سے ویسے ہی ناخوش تھی جیسے ترک ناخوش تھے۔ جیسے گیوہیر نوٹ کرتا ہے،’بلقان میں روسیوں کے غلبے کے برطانوی خدشوں کے سبب، 1832 میں کہیں جاکر یونان میں حکومت کی تشکیل اور اس میں شامل علاقوں کا تعین کیا جاسکا۔ نو زائیدہ یونانی ریاست سے کئی ایک ایسے علاقے خارج رکھے گئے جہاں یونانی تعداد کے اعتبار سے زیادہ تھے لیکن پھر بھی وہ ترکوں کی عملداری میں چھوڑ دیے گئے۔ ڈیوک ولنگنٹن برطانوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یونان روس کے لیے سٹیٹلائٹ بن جائے گا، اس لیے اسے ایک چھوٹے سے علاقے تک محدود کیا جائے۔27 اس سے برطانیہ کے خوف کا اظہار ہوتا ہے۔ تو اس وقت بھی برطانیہ کی ترک ‏عثمانوں کے ساتھ دوستی غیر متزلزل رہی۔’

ترک عثمان کی برطانوی ہندوستان کو خدمات

ہندوستان کے مسلمانوں کا ترک سلطان کو عالم گیر خلیفہ مان لینا ایک تازہ پیش رفت تھی۔ مغل ہندوستان کے لیے، ترک سلطان کو آقا تسلیم کرنے کا کوئی سوال ہی نہیں تھا جو ان کی طاقت و دولت  اور علاقے کے حجم کے اعتبار سے حریف تھی۔ ترک سلاطین کو عالمگیر خلیفہ کے طور پر قبول کرنے کے تصور کا کالونیل دور میں برٹش حکومت کی مکمل اشیر باد سے ہندوستانی مسلمانوں میں خوب پروپیگنڈا کیا گیا تاکہ وہ اپنے محبوب خلیفہ کے وفادار ہوجائیں۔ ترک عثمان سے اپنے اتحاد کے لیے برٹش ‏عثمان خلیفہ کی ہر جگہ پر مذہبی اتھارٹی کے تصور کی قدر وقیمت جان چکے تھے، جس کے زریعے سے ہندوستانی مسلمانوں کو قابو کیا جاسکتا تھا۔ برٹش نے اس کو خوش آمدید کہا اور خلیفہ کے نام پر پروپیگنڈے کی حوصلہ افزائی کی۔ بدلے میں خلیفہ نے برٹش کی خوب خدمت کی۔

اس کی پہلی بڑی مثال 1789ء کو دیکھنے کو ملی جب ٹیپو سلطن،نے مغلوں کے خلاف سرکشی کے اظہار کے طور پر،عثمان خلیفہ سے رسمی وفاداری کا اعلان کیا جس نے جواب میں اسے میسور کے حاکم ہونے کی سند اور خلعت عطا کردی۔ برطانوی نوآبادیاتی راج کے خلاف ٹیپو ہندوستان کی تاریخ میں ایک افسانوی کردار ہے۔ 1798ء میں برٹش کی درخواست پر خلیفہ عثمان نے ایک خط ثیپو سلطان کو بھیجا اور اس میں اسے برٹش کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار کرنے سے باز رہنے کو کہا۔ خط ٹیپو کو براہ راس نہیں بھیجا گيا تھا بلکہ لارڈ ویلسلے کے زریعے سے جوکہ ٹیپو کے خلاے برٹش افواج کی قیادت کررہا تھا۔ ٹیپو نے جواب میں اس سے اپنی عقیدت کا اظہار تو  کیا لیکن ساتھ ہی خلیفہ کو یہ بھی بتانے کی کوشش کی کہ وہ چونکہ ہندوستان سے بہت دور ہیں، اس لیے یہاں کی صورت حال سے اچھے سے واقف نہیں ہیں اور ساتھ ہی ٹیپو نے خلیفہ کو بے باکی کے ساتھ اپنے ساتھ ہاتھ ملانے کی دعوت دے ڈالی تاکہ ‘کافروں’ کو اٹھاکر باہر پھینک دیا جائے۔ عثمان خلیفہ برٹش کی حمایت میں ایک بار پھر انتہائی مشکل وقت میں آگے آیا جب ہندوستان کی جنگ آزادی لڑی جارہی تھی- یعنی 1857ء کی جنگ آزادی جس کی سرکاری مورخین نے’غدر’ کہہ کر قدر کم کرنے کی کوشش کی۔ عثمان خلیفہ عبدالمجید نے باغیوں کی مذمت کی اور ہندوستانی مسلمانوں کو برٹش کا وفادار رہنے کو کہا۔ اس نے کہا کہ برٹش اسلام کا دفاع کرنے والے ہیں۔

برٹش عثمان خلفاء سے اپنے تعلقات کی قدرو قیمت کا اندازہ لگاتے ہوئے یہ بات اچھے سے سمجھتے تھے کہ عثمان خلیفہ ہندوستان کے مسلمانوں کو قابو میں کرنے کے لیے بڑی قدر و قیمت کا حامل ثابت ہوگا۔ اس کا اچھے سے اظہار اس استقبال سے ہوتا ہے جو انھون نے ظالم سلطان عبدالعزیز کا کیا جب اس نے 1867ء میں لندن کا دورہ کیا۔ برطانوی حکام نے بیش بہا سامان تفریح سلطان کے لیے فراہم کیا۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ اس سارے انتظام و انصرام پر جو بڑا خرچ آیا اسے برٹش حکومت نے ہندوستان سے ہونے والی آمدن سے منہا کیا اور یہ دلیل دی کہ سلطان سے گہرے تعلقات میں ہندوستان کی سرکار کا حصّہ بھی ہے کیونکہ سلطان مسلمان مذہب کا سربراہ ہے، اس سے ہندوستانی مسلمان خوش ہوں گے۔28

ہندوستانی مسلمانوں میں ترک نواز رجحان کی صورت گری

انیسویں صدی کے آغاز تک ہندوستانی مسلمان ترکی اور عثمان خلیفہ سے بےگانہ تھے۔ برٹش مفاد کے علاوہ بھی سماجی تبدیلی کے دو بڑے  مشترکہ عوامل ایسے تھے جنھوں نے مسلمانوں کے اندر کامیابی کے ساتھ ترک نواز ہمدردیاں پھیلانے میں مدد دی۔ ان دو سماجی تبدیلیوں کی اصل بالکل جدا تھی لیکن دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ایسے نتھی تھیں کہ ایک مظہر بن جاتی تھیں۔

پہلی تبدیلی ایک نئے تعلیم یافتہ مسلم درمیانے طبقے کا ظہور تھا۔ مسلمانوں کا یہ طبقہ مدرسوں اور علماء کی طرف سے دی جانے والی روایتی تعلیم کے اثر سے پروان نہیں چڑھا تا۔ یہ نئی اینگلو-ورنا کیولر نظام تعلیم کا نتیجہ تھے جسے میکالے کی فروری 1835ء کی رپورٹ کے بعد نوـادیاتیحکومتنےشروعکیاتھا۔یہنظامتعلیمنوآبادیاتیریاستیمشینریکےلیےسرکاری نوکر اور کلرک فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ ان کو سرکار کے کام کے دوران انگریزی بولنے والے صاحبان اور مقامی آبادی کے درمیان واسطہ بننے والوں کی ضرورت تھی- نہرو نے اس نظام کو ‘کلرکوں کی قوم’ پیدا کرنے والا نظام تعلیم قرار دیا تھا۔ یہ ایک نیا طبقہ تھا، جسے میں نے کسی جکہ پر ‘تنخواہ دار’ لکھا ہے۔29 تنخواہ دار طبقہ درمیانے طبقے کا ایک سیکشن/پرت تھاجس کا مقصد سرکاری نوکری تھا۔ ان کا نصب العین ‘تعلیم’ نہیں بلکہ ‘تعلیمی قابلیت’  کا حصول تھا جیسے ڈگری/اسناد اور ڈپلومہ ھغیرہ، جو کہ سرکاری نوکری کے لیے پاسپورٹ کا کام دیتے تھے۔ نوآبادیائے جانے والے معاشروں میں جن کی بنیاد زرعی پیداوار ہوتی ہے، تنخواہ دار طبقہ شہری سماج/اربن سوسائٹی میں غالب ہوتا ہے اور سیاسی بحث و مباحثے میں پہل کاری کرتے ہوئے کود پڑنے والا سب سے زیادہ واضح طبقہ ہوتا ہے۔ تنخواہ دار اس لیے بڑی سماجی اور سیاسی اہمیت رکھنے والے طبقے کے طور پر سامنے آیا۔یہی طبقہ اخبار پڑھنے والا طبقہ بن گیا، جب اخبارات پڑھنا قابل برداشت ہوگیا تھا۔

مسلمان تنخواہ دار طبقہ، خاص طور پر یوپی میں قدرے ناراض اور کبیدہ خاطر طبقہ تھا۔ کیونکہ یہ سرکاری ملازمتوں میں اپنا حصّہ گنوا چکا تھا۔ خاص طور پر بڑے رینک کی مراعات یافتہ نوکریاں جن میں ابتک وہ قائق اور غالب رہا تھا۔نفسیاتی طور پر، اس طبقے کو ایسی جگہوں کی ضرورت تھی جہاں پر یہ اپنے شکوؤں اور درد کا مداوا کرسکتا۔ تو جب بلقان میں ترکی کی شکست کی خبریں آنا شروع ہوئیں، جن کو مسیحیت کی عالم اسلام کے خلاف جنگ کے طور پر پیش کیا جارہا تھا، جس نے ان کے پہلے سے کمیونلسٹ/ فرقہ وارانہ ہوتے ہوئے ذہنوں کو اور تقویت بخش دی تھی- انہوں نے ‘ترکوں کی تقدیر’ کو خود اپنے زوال کے آئینے میں دیکھا۔ انہیں ‘ترکوں کا المیہ’ کے طور پر آنے والی خبروں سے گہری ہمدردی ہونا شروع ہوگئی- یک جہت کا طاقتور احساس اور عالم غربت میں بھی انھوں نے ترکوں کی امداد کے لیے چندہ جمع کرنا شروع کردیا۔ برطانوی حکومت نے اپنے ہاں اس پیش رفت کو خوش آمدید کہا اور اسے بڑھانے میں وہ جو کرسکتے تھے انھوں نے کیا۔ وہ تو خوش تھے کہ ہندوستانی مسلمانوں اور ان کی کٹھ پتلی عثمان خلیفہ کے درمیان جڑت بڑھ رہی تھی۔

اس بالقوہ سیاسی بنیاد نے جس پر مضبوط ترک عثمان نواز ہمدردیاں پیدا ہوئیں تھیں کو بہت موثر انداز سے ایک نئی پیش رفت نے اور بڑھایا، اور وہ تھا اردو پاپولر صحافت کا جنم۔30

ابتدائی اخبارات جن کی بہت محدود اشاعت تھی، وہ معدودے چند دولت مند اور طاقتور لوگوں کا خیال رکھے تھے جن کو ریاستی امور اور دنیا بھر کی تجارت سے باخبر رہنے کی ضرورت رہتی تھی- ان میں سے بہت سے اخبارات تو صرف ڈمی کی شکل میں شایع ہوا کرتے تھے۔ اردو اشاعت بھی بہت ہی مبہم شکل میں تھی- اردو کے لیے خط نسخ والی ٹائپ دستیاب تھی لیکن نسخ نہ تو زیادہ مقبول تھا اور پھر یہ مہنگا بھی کافی تھا۔ کیلی گرافک نستعلیق کتابت بہت مقبول تھی۔ یہ سب اس وقت بدل گیا جب  پرنٹنگ نستعلیق سکرپٹ جسے لتھلوگرافی کہا جاتا تھا بڑے پیمانے پرجب تنخواہ دار طبقے کے لیے انتہائی اہم وقت تھا، دستیاب ہوگیا۔ لتھو پرنٹنگ 1796ء میں ایجاد ہوئی- بڑے پیمانے پر اخبارات کو کم خرچ پر شایع کرنے کے لیے اس میں مزید تبدیلیوں کی ضرورت تھی-1850ء میں پہلا میکانکی لتھوگرافک پریس دستیاب ہوگیا۔ انیسیں صدی میں بعد ازاں پتھروں کی زنگ پلیٹوں کو ہٹاکر روٹری پریس کی تعمیر ممکن ہوگئی جسے حسب منشا تبدیل کیا جاسکتا تھا۔ ان ایجادات نے بڑے پیمانے پر نستعلیق سکرپٹ میں  لتھو پرنٹنگ کو نہ صرف ممکن بنایا بلکہ بہت سستا بھی کردیا۔ اردو اخبارات کو اب بڑی تعداد میں چھاپا جاسکتا تھاجسے ‘ہر کوئی’ خرید سکتا تھا۔ اردو پڑھنے والوں کے لیے عوامی میڈیا کا زمانہ گویا آن پہنچا تھا۔ لیکن اخبارات کو ‘مسائل’/ایشوز بھی درکار تھے جن کے ارے میں سنسی پھیلا کر اشاعت کو بڑھایا جاسکتا۔ ‘ ترک المیہ’ کا ڈرامہ بالکل وہ تھا جس کی ان کو ضرورت تھی- انھوں نے اس کو کھیلا جتنا کہ وہ اسے کھیلنے کے قابل تھے۔ 

پہلی جنگ عظیم کے واقعات ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کسی ٹراما شاک سے کم نہ تھے۔ وہ تو برطانیہ اور ترک عثمانوں کے درمیان دوستی کی خبریں سن کر بڑے ہوئے تھے، جو کہ اردو پریس میں باقاعدگی سے شکیع ہونے والی خبروں کا ایک عمومی عکس تھا۔ جنگ میں ترکی اور برطانیہ کا ایک دوسرے کے مخالف کھڑے ہونے کی خبریں ان کے لیے انتہائی صدمے والی تھیں۔ مولانا محمد علی نے ایک طویل مضمون ‘دا چوائس آف ترک/ترکوں کا انتخاب’ لکھا جو ان کے اپنے انگریزی اخبار’کامریڈ’ میں شایع ہوا۔ اس مضمون سے زیادہ کوئی اور چیز اس جذبہ ہمدردی کی تصویر کشی نہیں کرتی۔ ترکوں کے برطانیہ سے شکایات کو درج کرنے کے بعد بھی وہ اپنی شدید ترین امید ظاہر کرتے ہیں کہ ترک برطانوی حکومت کی نادانیوں کے باوجود جنگ میں غیرجانبدار رہیں گے۔ اور انھوں نے اپنے مضمون کا خاتمہ مسلمانوں کی برطانیہ سے وفادار رہنے کی یقین دہانی پر ختم کیا۔31

ترکی اور جنگ عظیم اول

ترکی کا جنگ عظیم اول میں جرمنی اور اس کے اتحادی ممالک کے ساتھ شریک ہونے کا فیصلہ بشمول ترک، ہر ایک کے لیے حیران کن تھا۔ 1908ء میں ‘ کیمٹی فار یونین اینڈ پراگریس- سی یو پی کے نام سے سامنے آنے والے ‘ نوجوانان ترک’ پر مشتمل ایک انقلابی دستے نے ترکی میں بغاوت کی اور اقتدار پر قبضہ کرلیا اور خلیفہ عبدالحمید دوم کو ان کے عہدے سے معزول کردیا۔ اس کی جگہ سی یو پی نے اس کے بھائی محمد رشید کو خلیفہ کے طور پر بٹھادیا۔ ینگ ترک رجیم خود بھی جلد ہی ایک فوجی اشرافیہ میں بدل گیا۔ پردے کے پیچھے ترک ریاست کے اندر ایک سہ جہتی اقتدار کی رسا کشی خلیفہ جسے قدامت پرستوں، رجعتیوں،  لبرل کے حمایت یافتہ اعلی سطی بیوروکریٹس اور انقلابی یونینسٹ، نوجوانان ترک کے درمیان جاری تھی۔32

ترکش حکمران اشراف کے اندر ، داخلی مسائل پر اختلافات کے باوجود، قابل ذکر بات یہ ہے کہ وہ سب کے سب برطانیہ نواز تھے۔ یہ صدیوں سے چلی آرہی عثمان ریاست کے لیے برٹش حمایت کا ان کے مشترکہ تجربے کا ورثہ تھی۔ جہاں تک ترک اشراف کا تعلق تھا تو برٹش ان کے لیے سب سے زیادہ مستقل اور بااعتماد دوست تھے۔ ترکی اشراف کے درمیان گروہ بندی پر مبنی جھگروں کے باوجود ایک گروہ بھی برٹش مخالف نہیں تھا۔ ترکی کا جرمنی، ہیسبرگ آسٹریا وغیرہ کا پہلی جنگ عظیم میں اتحادی بننے کا فیصلہ ان کے لمبے عرصے سے چلے آرہے رویوں اور برطانیہ و فرانس کے ساتھ گہری دوستی کو دیکھتے ہوئے بالکل غیر متوقع لگتا تھا۔ ایسا کیسے ہوا؟

ابتدائی طور پر ترکی نے خود برطانیہ اور اس کے اتحادیوں سے رابطہ کرکے اپنے آپ کو ان کے اتحادی کے طور پر جنگ میں شامل ہونے کی پیشکش کی۔ فیروز احمد لکھتا ہے: ‘ بلقان جنگ ڈپلومیسی کے ہلادینے والے ٹراما تجربے کے بعد سی یو پی اس بات کے قائل ہوگئے تھے کہ عثمان ریاست صرف اور صرف دو بلاکس میں سے کسی ایک بلاک کے ساتھ اتحاد کرکے ہی بچ سکتی ہے۔ اور اس کی ترجیح برطانیہ، فرانس اور روس کا سہ فریقی اتحاد ہونا چاہیے۔ وفود لندن اور پیرس اور آخر میں زار نکولس روس کے پاس بھیجے گئے۔ اس سے بھی پتا چلتا ہے کہ ینگ ترک برطانیہ نواز اور فرانس نواز تھے ناکہ جرمن نواز۔ کیونکہ ان کو یقین تھا کہ ترک مفادات سہ فریقی اتحاد کے ساتھ جاکر ہی محفوظ رہ سکتا ہے۔33لیکن برطانیہ کے ساتھ ترکی کے صدیوں سے چلے آرہے اتحاد اور اس کی عثمان سلطنت کی وحدت کو برقرار رکھتے ہوئے اس کی حفاظت کی ضمانت دینے کے باوجود مغربی طاقتوں نے ترکی کی اتحادی بننے کی پیشکش کو ٹھکرادیا۔ جبکہ برطانیہ کے یہ بات مفاد میں بھی تھی زار روس کی توسیع پسندی کے مقابلے میں۔ کیوں؟

آغا خان کی سوانح عمری میں اس پہیلی کو حل کرنے میں مددگار چند ایک اشارے موجود ہیں جو ترکی کے حتمی فیصلے کے اسباب پر کچھ روشنی ڈالتے ہیں۔ اگرچہ برٹش نے جنگ میں اپنے اتحادی کے طور پر ترکی کی آفر کو ٹھکرادیا تھا، لیکن وہ شدت سے چاہتے تھے کہ ترکی اس جنگ میں غیرجانبدار رہے۔ آغا خان لکھتا ہے: ‘لارڈ کچنر نے مجھ سے ترکوں کے ساتھ اپنے تمام تر تعلقات ک استعمال میں لانے اور ان کو جنگ میں شمولیت سے روکنے اور غیرجانبدار رہنے پر قائل کرنے کی درخواست کی۔ ان کی رائے سے سیکرٹری آف سٹیٹ فار انڈیا، فارن سیکرٹری سر ایڈورڈ گرے اور وزیراعظم مسٹر ایسکیوتھ بھی متفق اور حامی تھے۔ یہاں تک کہ( برطانوی) کنگ بھی اس کے حامی نکلے جب میں عزت مآب کے ساتھ ظہرانے میں شریک تھا۔’34

تو آغا خان اپنے پرانے رفیق توفیق پاشا کے ساتھ رابطہ کیا جو لندن میں ترک سفیر تھے۔ دونوں اس بات پر رضامند تھے کہ ترکی کو اس جنگ سے دور رہنے کی ضرورت ہے۔ ینگ ترک کو ایک وزراتی وفد لندن بھیجنے کی دعوت دی گئی تاکہ برطانوی حکومت سے براہ راست مذاکرات ہوسکیں۔ آغا خان لکھتے ہیں: ‘ برطانیہ اپنے، زار روس اور دیگر اتحادیوں کی جانب سے مستقبل میں ترکی لیے ہر طرح کی ضمانت اور یقین دہانیاں کرانے کے لیے تیار تھا۔’35 آغا خان نے یہ بھی اضافہ کیا کہ غیر جانبدار ترکوں کو، حالیہ نقصانات کے بعد اپنے سماجی،معاشی اور فوجی اصلاحی پروگرام کو بروئے کار لانے کی اجازت بھی دے گی۔ یہ بات سمجھ میں بھی آتی تھی۔

ترک سفیر توفیق پاشا نے اپنی حکومت کو بریف کرنے کے بعد، آغا خان کو بتایا کہ اتحادیوں کے ساتھ ان کے مذاکرات کے کامیاب ہونے کے بہت زیادہ امکانات ہوں گے اگر اتحادی ترکوں کو غیر جانبدار رہنے کے لیے کہنے کی بجائے اس کو اپنے اتحادی ک طور پر شریک ہونے کو کہیں،جیسا کہ برطانیہ نے پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ جنگ کے خاتمے پر کوئی بھی غیر جانبدار رہنے پر اس کی تعریف نہیں کرے گا۔’ لیکن غیر جانبداری کیا ہار جانے والی کی صرف ہوجانے سے بہتر نہیں ہے؟ اور کیا جانبداری اتنی ہی بری ہوگی اگر اسے جیتنے والے کی جانب جانے کی جگہ پر اختیار کیا جاتا ہے تو؟

برطانیہ جنگ میں اپنا ایک اور اتحادی بنانے سے کیوں منحرف تھا؟ بہت ساری داخلی مشکلات کے ساتھ ایک مسئلہ زار روس کا بھی تھا۔ زار روس کا ترک مخالف رویہ دیکھتے ہوئے برطانیہ کا خیال یہ تھا کہ روس کی مخالفت کو نظر انداز کرکے ترکی کو بطور اتحادی شامل کرنے سے وہ جرمنی کی بڑھتی ہوئی طاقت سے خود اپنے آپ نمٹنے کے لیے تنہا چھوڑ نہ دیے جائیں۔ یہ ایک ایسا خطرہ تھا جسے برطانوی کسی صورت مول لینے کو تیار نہ تھے۔ توفیق پاشا ترک سفیر برائے برطانیہ خود اس بات کا قائل تھا کہ روس کبھی بھی ترکی کو بطور اتحادی کے شامل کرنا پسند نہیں کرے گا۔ کیونکہ ایسا قدم اٹھانے سے روس کی ترکی کے علاقوں تک توسیع پسندی کی ساری امیدوں پر پانی پھر جائے گا۔ چاہے یہ شمال مشرق سے ایروزرم تک رسائی ہو یا جنوب کی سمت۔36 برٹش کے پاس سوائے ترکی کی پیشکش کو ٹھکرانے کے اور کوئی اخۃیار نہیں تھا۔ روس کی غیر جانداری برطانیہ کو تنہا جرمن کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتی۔

جب برطانیہ کو کئی گئی عثمان ترکوں کی بہت بار کی درخواستیں ٹھکرادی گئیں، تو عثمان حکومت پہلے پہل  جرمنی کا اتحادی بننے کی بجائے ‘انتظار کرو اور دیکھو’ کی پالیسی اختیار کی۔ لیکن انھوں نے جرونوں کے خلاف جارحیت دکھانے سے بھی گریز برتا۔ انھوں نے اپنے آپشن کھولے رکھے تھے۔ جبکہ ابھی وہ جنگ میں کس طرف جانے یا غیر جانبدار رہنے  کے مسئلے پر بحث کررہے تھے تو اکتوبر 1914ء میں ترک، جیسا کہ لیوس لکھتا ہے کہ وہ ایک بڑی مغربی جنگ میں پھنس کر رہ کئے۔37

آغا خان لکھتا ہے،’1914 میں ہی مرکزی طاقتوں کو اپنی شرائط پر جیت کا اعتماد ہونے لگا۔ المیاتی طور پر ان علامتوں سے گمراہ ہوکر، اسے شگون سمجھنے کی غلطی  اور ان کی آنکھوں کے سامنے جرمنوں کی شادمانی کو دیکھ کر ترک حکومت نے روس سے جنگ کرنے کا ناقابل تلافی فیصلہ کرڈالا۔ اس نے خود بخود عثمان سلطنت کو برطانیہ اور فرانس سے جنگ میں ملوث کرڈالا۔38 معروضی طور پر دیکھیں تو ترکو کا یہ تباہ کن قدم تھا، جس کی ان کو بعد میں قیمت جکانا تھی۔ یہ ایک ایسا فیصلہ تھا جس نے عقل و دانش سے انحراف کیا تھا۔ غیر جانبداری رہنا ہی ان کے کے سب سے معقول آپشن ہوتا۔

جنگ عظیم کے بعد خلیفہ

ینگ ترک رہنماؤں نے، جو ترکی کو تباہ کن جنگ میں دھکیل گئے تھے، ایک وسیع  عریض جرمنی جنگی کشتی پر فرار ہوکر جلا وطن ہوگئے۔ جولائی 1918ء میں، زمانہ جنگ میں خلیفہ محمد رشید، جن کو ینگ ترک نے نامزد کیا تھا کو معزول کردیا گیا اور محمد وحید الدین اس کی جگہ آکئے۔ برطانیہ کے دوست پھر ڈرائیونگ سیٹ پر تھے۔ حکومت میں تبدیلیآن کی گئیں اور ایک جنگ بندی کا معاہدہ ہوا۔ اسکن کے مطابق،’1919ء میں دامید فرید پاشا وزیراعظم نے ایک پیغام برطانیہ کو بھیجا ‘ ساری امیدیں بس اب خدا اور برطانیہ سے ہیں، ایک خاص رقم بطور مالی امداد کے لازم ہے اور وہ ہر اس شخص کو گرفتار کرنے کو تیار ہیں جس کی گرفتاری برطنیہ کو مقصود ہے۔’39

جنگ کے دوران برطانیہ کا سارا ترک مخالف پروپیگنڈے کا ہدف ینگ ترک تھے اور اس نے خلیفہ کو اس کا ہدفنہ بنایا کیونکہ جنگ کے بعد اس سے تعاون کا امکان ہوسکتا تھا۔ خلیفہ کو الگ رکھنے کا فیصلہ تین حقیقتوں کو تسلیم کرنے پر استوار تھا۔ پہلی حقیقت کہ وہ جانتے تھے کہ خلیفہ محض علامتی سربراہ ہے اور یہ سی یو پی /ینگ ترک  رہنما ہیں جو جنگ کے ذمہ دار ہیں۔ دوسری حقیقت کہ وہ جانتے تھے کہ خلیفہ اور دوسری حکمران اشرافیہ کی ہمدردیاں ترکی میں دل سے ان کے ساتھ تھیں اور برطانیہ کو اپنی جیت کا یقین تھا اور ان کو یہ بھی یقین تھا کہ خلیفہ اور پرانی حاکم اشرافیہ ان کے ساتھ رہے گی۔ برٹش جانتے تھے کہ خلیفہ اس بات سے واقف تھا کہ برٹش اس کے سب سے قابل اعتماد محافظ تھے۔ تیسیری حقیقت یہ تھی کہ برطانیہ ابھی تک خلیفہ کے سارے عالم اسلام کا خلیفہ ہونے کے دعوے سے فائدہ اٹھانے کا سوچ رہا تھا۔ جیسا کہ کامیابی سے انھوں نے اس دعوے کو لیکر مسلمانوں کا استحصال کیا تھا۔ ماضی میں خلیفہ ان کے لیے قیمتی اثاثہ ثابت ہواتھا اور ان کے خیال میں اس کو باقی رکھنا ان کے لیے فائدہ مند تھا۔

جنگ کے خاتمے پر، جب نوجوان ترک رہنما بھاگ کر جلا وطن ہوگئے، تو طاقت کا ایک خلا پیدا ہما جسے پرانی حکمران اشرافیہ نے خلیفہ کو اپنا سربراہ بناکر فوری پر کردیا۔ یہ برٹش کو بھی وارہ کھاتا تھا۔ ان کا کٹھ پتلی انچارج تھا۔ خلافتیوں کے الزامات کے برعکس، برطانیہ جنگ میں اپنی فتح کے بعد خلافت کو بحال کرنے ، خلیفہ کی حفاظت کرنے کے لیے پرعزم تھا اور اس طرح سے وہ ترکی اور اس سے باہر اپنی اتھارٹی کو دوبارہ نافذ کرسکتا تھا۔ اپنے ممدوح خلیفہ کے خلاف جارح ہونے کا برطانیہ پر الزام لگاکر، خلافتی ایک خیالی دشمن سے لڑ رہے تھے۔ حلیفہ کے لیے حقیقی خطرہ و ترک ری پبلکن نیشنل ازم کے ابھار کی شکل میں سامنے آیا تھا جو کہ سیکولر اور جمہوری عزائم کا حامل تھا۔ خلافتیوں نے خلیفہ کے بادشاہانہ طرز حکمرانی اور ری پبلکن نیشنلسٹوں کی جمہوری آرزؤں کے درمیان جو تاریخی ٹکراؤ تھا اس کی نوعیت اور اہمیت سمجھنے سے خود کو بالکل ہی نکما ثابت کردیا۔ انہوں نے مصطفی کمال کی عظمت کے گن گآئے جو کہ خلافت کا سب سے بڑا دشمن تھا، جسے وہ ‘غازی’ کا خطاب دے رہے تھے، جبکہ اسی زمانے م؛ں وہ اپنے ممدوح خلیفہ کی عظمت کے گن بھی گارہے تھے۔ وہ یہ نہ دیکھ سکے کہ یہ دونوں ترک معاشرے اور سیاست کے کبھی نہ ملنے والے دھاروں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ آخرکار جب ان دونوں باہم متضاد قوتوں کی کہانی اپنے انجام کو پہنچی جبکہ ترک ری پبلکن نیشنل ازم کی جیت ہوئی اور خلافت کا خاتمہ ہوگیا تو خلافتی ذہنی طور پر مفلوج ہوکر رہ گئے اور وہ جو خبریں ان تک  پہنچ رہی تھیں ان کا ادراک کرنے کے قابل بھی نہ رہے۔ 

ایک نئی ترک ریاست اناطولیہ میں ابھر رہی تھی اور اسے ان افراد کی قیادت میسر تھی جنھوں نے معاہدہ سیورز اور اس سے تشکیل پانے والے اصولوں کو مسترد کردیا تھا۔ انھوں نے اسے قبول کرنے والے ترکوں کو غدار کہہ کر مذمت کی۔ ہندوستان خلافتیوں نے معاہدہ سیورز میں کی جانے والی ناانصافیوں پر بے تحاشہ آنسو بہائے۔ لیکن وہ یہ دیھنے سے پھر بھی قاصر رہے کہ اسے ان کے محبوب خلیفہ نے نہیں بلکہ ری پبلکن نیشنلسٹ قوتوں نے بے اثر کروایا تھا۔ وہ خلیفہ کی قسمت پر مرثیہ نگاری کرنے میں اتنے محو تھے کہ وہ اپنے آنکھوں کے سامنے ابھرنے والی ترک حقیقت کو دیکھ ہی نہیں پارہے تھے۔ لدھڑ خلیفہ تو معاہدہ سیورز کی ناانصافیوں پر خاموشی سے رضامند ہوگیا تھا، جوکہ لیوڈ جارج کے تعصبات سے تشکیل پایا تھا۔ لیکن ری پبلکن نیشنلسٹوں کی طاقت کے سبب یہ معاہدہ مردہ پڑا رہا اور جب وہ طاقت میں آئے تو انھوں نے لیوزنے میں 20 نومبر 1992ء کو امن کانفرنس میں نئے معاہدے کے از سر نو مذاکرات کیے۔ لارڈ کرزن کے الفاظ میں(جیسا کہ مولانا محمد علی نے ان کو نقل کیا) یہ سگنین کی نوک پر شکست کھاگئے دشمن سے زبردستی کہلوائے گئے الفاظ کے سوا کچھ نہ تھا۔ تو بعد ازاں لیوزنے میں ترکوں نے دوسری طاقتوں کے مدمقابل برابری میں بیٹ کر نیا معاہدہ کیا۔40

برٹش کی خلیفہ سے ساز باز

نومبر9،1918 کو خلیفہ اور اس کے حواریوں نے واپس اقتدار سنبھال لیا۔ کال تھروپ استنبول میں نیا نیا برطانوی ہائی کمشنر مقرر ہوا تھا نے فارن سیکرٹری لارڈ بافور کو لکھا:’ترک وزرا اپنے آپ کو برطانیہ ک اصل دوست بناکر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے آپ کی حمایت جیتنے کی کوشش کریں گے۔’41 اس نے اپنی حکومت پر زور دیا کہ خود ترکی کے لیے خلیفہ جہاں اہم ہے وہیں پر پورے عالم اسلام کے لیے اس کی اہمیت مسلمہ ہے۔ اس نے لکھا، خلیفہ بہت شا‏ئق ہے کہ برطانوی استنبول میں آجائیں۔’42

برطانیہ کی حمایت کے ساتھ، خلیفہ کی حکومت ینگ ترک باقیات اور ان کے پیچھے ابھرنے والی ری پبلکن نیشنلسٹ طاقت سے دو دو ہاتھ کرے۔ تو اب ترک سلطان اور اس کے وزراء  کے زمہ فرائض میں سے ایک فرض ینگ ترک کی باقیات کو کچلنا تھا۔43

نئی ریپبلکن نیشنلسٹ تحریک نے مصطفی کمال کی قیادت کو ہر صورت دبایا انا تھا۔ اپنے طور پر نیشنلسٹ بھی ایکشن کے لیے منظم ہورہے تھے۔ جولائی 1919ء میں کمال نے ہر ایک ضلع سے نمائندگی رکھنے والی ڈیلی گیٹ کانفرنس کی صدارت کی جس نے پاپولر گرینڈ نیشنل اسمبلی کو جنم دیا جس نے اپریل 1920ء سے کام شروع کیا اور اس کا مقصد ترکی کو بادشاہانہ حکمرانی سے آزاد کرانا تھا۔ اس نے اتحادیوں اور ان کی کٹھ پتلی خلیفہ کو چونکادیا۔ اگست 1919ء میں ملّی میثاق کے طور پر معروف اعلامیہ جاری گیا گیا۔ ستمبر میں ری پبلکن نیشنل اسمبلی کی دوسری کانگریس میں مصطفی کمال کو چئیرمین جن لیا گیا۔ قومی جدوجہد اچھے طریقے سے شروع ہوچکی تھی۔ 

اپنے دوست خلیفہ کے خلاف ایک ممکنہ قوم پرستانہ کودتا کے خدشے کو دیکھتے ہوئے برطانوی افواج استنبول میں 16 مارچ 1919ء کو داخل ہوگئیں جبکہ خلیفہ کو اقتدار سنبھالے 18 اہ ہوچلے تھے۔ برطانوی افواج نے معروف نیشنلسٹوں کی پکڑ دھکڑ شروع کردی۔ ایسی صورت حال میں مولویوں کا جو کردار ہوا کرتا ہے وہی دیکھنے کو ملا کہ شیح الاسلام صاحبزدہ عبداللہ آفندی نے وزیراعظم دامید فرید پاشا کے کہنے پر قوم پرستوں کو قتل کرنا مسلمانوں کا فرض قرار دینے کا فتوی جاری کردیا۔44 اس فتوے کے ہدف میں خود مصطفی کمال بھی تھا جس کے قتل کا حکم نامہ حکومت پہلے ہی جاری کرچکی تھی۔ ہندوستانی خلافتی جو بیک وقت خلیفہ اور کمال اتا ترک دونوں کی عظمت کے قائل تھے کو یہ خبریں ملیں تو ان کی سمجھ میں کچھ نہ آیا اور وہ حالت تذبذب کے ساتھ بالکل گم صم نظر آئے۔ ترکفوج میں قوم پرستوں کے غلبے کے سبب خلیفہ کو ان پر اعتماد نہ تھا۔اس لیے اس نے ترک افواج کو غیر مسلح کرنا جاری رکھا۔45 ایک پاپولر فوجی بغاوت کے امکان کو دیکھتے ہوئے خلیفہ نے برطانوی فو کی مدد سے الگ سے ایک خود مختار فورس تشکیل دی جس کا نام ‘قوائے انضباطیہ’ رکھا گیا۔ اس فورس کا کام نیشنلسٹوں سے لڑنا تھا۔ تاہم قوم پرست دن بدن طاقت پکڑتے گئے۔

کمال کا ‘احباب انگلیڈ’ پر حملہ

ری پبلکن نیشنلزم سے نبردآزما ہوتے ہوئے، خلیفہ نے اپنے بچاؤ کے لیے برطانیہ سے رجوع کیا۔ مصطفی کمال نے اکتوبر 1927ء میں اپنی یادگار تقریر ‘احباب انگلیڈ سوسائٹی’ کے بارے میں کی جو اس کےبقول کچھ گمراہ لوگوں نے قائم کی تھی۔ اس نے نشان دہی کی کہ سوسائٹی کی قیادت ان وحدتین کے پاس ہے جس کے پاس عثمان سلطان اور خلیفہ کے لقب ہیں، دمید فرید پاشا وزیر اعظم ، علی کمال وزیر داخلہ۔ کمال نے الزام لگایا کہ سوسائٹی کھلے عام انگلیڈ کی امان ڈھونڈتی ہے۔ اور یہ خفیہ طور پر کام کررہی ہے اور اس کا اصل ملک کے اندر تنظیمیں بناکر لوگوں کو بغاوت پر اکسانا اور قومی ضمیر کو مفلوج کرنے کے ساتھ ساتھ دوسرے ممالک کو مداخلت کا حوصلہ دینا ہے۔47

کمال نے نشان دہی کی: ‘ اسے جانے بغیر، قوم کی قیادت کوئی نہیں کرسکتا’48اس نے مزید کہا، ‘قوم اور فوج کو بادشاہ-خلیفہ کی مکاری بارے کوئی شبہ نہیں رہا ہے۔49 اس کے برعکس،مذہبی اور روایتی بندھن جو کئی صدیوں پر مشتمل ہیں، وہ(فوج اور قوم) تخت اور اس پر قابض کے وفادار رہے ہی۔ ان کے لیے (کئی صدیوں تک) ایک خلیفہ کے بغیر اور ایک بادشاہ کے بغیر بھی ملک بچایا جاسکتا ہے ایسا ادراک بھی ممکن نہیں تھا۔۔۔۔ عثمان سلطنت اور اس کی خودمختاری کو بچانے کے لیے محنت کرنا ترک قوم کو عظیم ترین نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ہم عثمان حکومت، بادشاہت، مسلمانوں کے خلیفہ کے خلاف بغاوت پر مجبور ہوگئے اور ہمیں ساری قوم اور فوج کو باغی بنانا پڑا۔’50 کمال نے واضح کیا کہ اس نے ریپبلکن انقلاب کی شروعات ہی میں خلیفہ سے جان چھڑانے کا فیصلہ کرلیا تھا، اگرچہ دانشمندانہ احتیاط اور حکمت عملی پر مبنی غور و فکر نے ان کو قائل کیا کہ خلافت کا خاتمہ کرنے سے پہلے  قدم بہ قدم زمین ہموار کی جائے۔ اور یہ کام آخرکار 1924ء میں کردیا گیا۔ انھوں نے کہا:’ پہلے دن سے میں نے اس تاریخی پیش رفت کی پیش بینی کرلی تھی اور کامیابی کے لیے محفوظ راستے کا تعین کرلیا تھا تاکہ درست وقت ہر مسئلے سے نبرد آزما ہوتے وقت اسے اختیار کیا جائے۔51

کمال کا بیان بہت شفاف طریقے سے وضاحت کرتا ہے کہ خلیفہ برٹش اور مغربی طاقتوں کے ساتھ اتحاد میں تھا۔ برٹش نے اپنی طرف سے خلیفہ کی طرف وزن رکھا تھا تاکہ ترک نیشنل ازم کی طاقتوں کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے اسے ڈھال کے طور پر استعمال کریں۔ یہ حقیقت صرف جزوی طور پر انتہا پسند اور شاؤنسٹ ترک مخالف، یونان نواز نعرے باز ڈیوڈ لیویڈ جارج اور ایسکیوتھ سے ہی پوشیدہ تھی جس نے جنگ کے زمانے میں اتحادی حکومت کی سربراہی کی تھی۔ اور دونوں جلد ہی جنگ کے زمانے کی اتحادی حکومت کے خاتمے کے بعد نکال باہر کیے گئے۔ اور اس کے بعد کنزرویٹو حکومت بونار لاء کی سربراہی میں تشکیل پاگئی تھی- 

بونار لاء کی حکومت نے ترکی اور خلیفہ کے بارے میں برطانیہ کی پرانی اور مدت سے چلی آرہی پالیسی کو پھر سے بحال کیا۔ استثنا یہ تھا کہ اس مرتبہ اس نے نئے منصوبے فرانس کے ساتھ ملکر بنائے اور عرب علاقوں پر مشتمل نوآبادیات کو آپس میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

خطہ عرب: برٹش کی جیو پولیٹکل ترجیحات میں بدلاؤ

برٹش اب بھی اپنے دوست عثمان خلیفہ کو ترکی کے سربراہ کے طور پر برقرار رکھنے کے خواہاں تھے، اگر وہ اسے رکھ پاتے۔ لیکن جنگ برطانیہ کی عثمان ترکوں کے لیے سٹریٹجک حمایت کی تاریخی وجوہات میں بنیادی بدلاؤ لے آئی تھی۔ ترکی سے برطانیہ کا صدیوں پرانا اتحاد برطانیہ کے زار روس کی جانب سے جنوبی سمت سے پیش قدمی کے خطرے پر تشکیل پایا تھا۔ جنگ تک ترکی روس کی جنوب کی طرف توسیع پسندی کے خلاف ایک ڈھال تھا۔ سن 1917ء میں روس کے اندر اشتراکی انقلاب نے سٹرٹیجک نقشے کو ہی بدل ڈالا۔ اب علاقے کے لیے تزویراتی اندازے اور تخمینے بالکل نئی صورت میں سامنے آئے تھے۔ سوویت یونین  کی شکل میں اقتدار حاصل کرکے کمیونسٹوں نے پڑوسی ریاستوں کے ساتھ نا برابری کی بنیاد پر کیے گئے زار روس کے سب ہی معاہدے ختم کر ڈالے تھے۔ ان کے نہ تو کوئی عزائم تھے، نہ ہی ان میں جنوب کی طرف پیش قدمی کی اصل میں استعداد تھی۔ برطانیہ کو اب ایک مضبوط عثمان ریاست کی ضرورت بھی نہیں رہی تھی جو روس سے لاحق خطرے کو ٹالنے میں ڈھال کا کام دے سکے، جس کی اس وقت سے پہلے ہمیشہ ضرورت رہی تھی۔ اس کی ترجیحات بدل گئی تھیں۔

برطانیہ اور فرانس دونوں نے اب عثمان کردوں کی عرب نوآبادیوں کو آپس میں بانٹ سکتے تھے۔ لیکن عرب قوم پرست تحریکوں نے ہر طرح کے نوآبادیاتی راج کے خاتمے کے مطالبے کے ساتھ اپنے وجود کا احساس پہلے ہی دلانا شروع کردیا تھا۔ تاہم، اوسوس ںاک بات یہ تھی کہ ترک ری پبلکن قوم پرست اپنی سلطنت کا عرب زمینوں پر قبضہ جمائے رکھنے اور اپنی سلطنت کو باقی رکھنے میں اتنی دلچسپی نہیں رکھتے تھے جتنی ان سے پہلے خلفاء کی رہی تھی۔ ہندوستانی خلافتیوں نے غلامانہ طریقے سے عرب علاقوں پر ترک نوآبادیاتی راج کے جاری رہنے کے نعروں کی پیروی کی اور انھوں نے عربوں کے حق خود ارادیت کے سوال پر اصولی موقف اختیار نہ کیا۔ عرب علاقے تو پہلے ہی غیر اعلانیہ طور پر برطانیہ اور فرانس کے کنٹرول میں آچکے تھے۔ ہندوستانی خلافتیوں نے عرب کی آزادی کی بجائے ان پر دوبارہ ترک نوآبادیاتی راج نافذ کرنے کے نعرے لگائے۔ انھوں نے ترک نوآبادیاتی نظام بحال کرنے کا مطالبہ اس مطالبے کی آڑ میں کیا کہ مسلمانوں کے مقدس مقامات مسلمان حکومت کے ماتحت رہنے چاہيں۔ عرب بھی پو مسلمان تھے! خلافت کا نعرہ محض ایک دھوکا نظر آتا ہے جب ہم عرب لوگوں کی اپنی آزادی کے لیے جدوجہد کو دیکھتے ہیں۔ خلافتی خود بھی ہندوستانی قوم پرست ہونے کا دعوی کرتے تھے، ان کا یہ دعوی عرب قوم پرستی کے مقابل ان کے موقف کو دیکھتے ہوئے شرمناک نظر آتا ہے۔ لیکن  اس وقت یہ بات ہمیں زیادہ حیران کن نہیں لگتی جب ہم اس تحریک میں جاہل اور متعصب مسلمان مذہبی پیشوائیت اور رجعتی علماء جیسے آزاد وغیرہ کا غلبہ دیکھتے ہیں۔

ہندوستانی خلافتیوں نے نہ صرف عرب قومی تحریکوں سے غداری کی بلکہ ترکی میں خود ان کا نعرہ کہ خلافت کو بحال کرو ایک رجعتی نعرہ خیال کیا گیا۔ وہ ایک ازکار رفتہ، فرسودہ متروک زمانہ بادشاہت کی بحالی یا مطالبہ ایک ایسے ملک میں کررہے تھے جہاں پر ری پبلکن جمہوریت کی تحریک ابھر رہی تھی- ان کی مہم ایسی غلط فہمی پر استوار تھی جو جہالت امو تعصب سے پیدا ہوئی تھی اور اس مہم کی بنیاد مفروضہ خلیفہ کی مذہبی حکمرانی کی متروک اور مسترد کردہ تعبیرات پر رکھی گئی تھی۔حقیقت کا یہ تصور ایک تنگ نظر اوررجعت پرستانہ نظریے کا مسخ شدہ عکس تھا،جس نظریے کو مسلمانوں کے مذہبی رہنماؤں اور علماء جیسے آزاد تھے نے تشکیل دیا تھا۔

خلیفہ اسیر فرنگی

ہندوستانی خلافتیوں کی مہم کا سارا مقدمہ اس الزام پر کھڑا تھا کہ جنگ کے بعد برطانیہ نے خلیفہ کو قیدی بنا رکھا ہے، اس کی اتھارٹی کو کمزور کردیا ہے اور اس کی زندگی کو خطرہ ہے۔ حقیقت جبکہ ہم جانتے تھے، اس کے بالکل الٹ تھی- خلیفہ کو اصل خطرہ تو ری پبلکن نیشنلسٹ کی طرف سے لاحق ہوا۔ جب کہ دوسری طرف، برٹش تو خلیفہ کے سرپرست و محافظ تھے اور وہ ترک قوم پرستوں کے خلاف اتنے ہی سخت تھے جتنا جارح خلیفہ خود تھا۔ تو پھر ہندوستانی خلافتی ترک حقیقت کے بالکل الٹ خیال تک کیسے پہنچے؟

ترک نیشنلزم خلیفہ کے لیے براہ راست خطرہ اس لیے تھا کہ یہ خلیفہ کے تحت بادشاہانہ حکومت کا خاتمہ چاہتا تھا۔ دوسری طرف برٹش خلیفہ کو برقرار رکھنا چاہتے تھے۔ برٹش اور خلیفہ کو اکٹھے ترک ری پبلکن نیشنلسٹ قوتوں کے خطرے کا سامنا تھا۔ خلیفہ کے پاس ایک ہتھیار تھا جو ری پبلکن نیشنلسٹ کے خلاف استعمال کیا جاسکتا تھا۔ اور وہ تھا وہ مبینہ اسلامی نظریہ جس کے مطابق اسے مسلمانان عالم کا جائز اور شرعی حاکم و خلیفہ ہونے کا دعوی تھا۔ خلیفہ نے اس مذہبی کارڈ کو جتنی اس کی طاقت تھی اس سے کام لیکر استعمال کیا۔ اس نے ری پبلکن قوم پرستوں کو ملحدین، اللہ اور اپنی خلافت کے دشمن کہہ کر مذمت کی- اس طرح سے اس کو امید تھی کہ ترک عوام کو ری پبلکن قوم پرست قیادت سے وہ الگ تھلگ کردیں گے۔

ری پبلکن قوم پرست اپنی بڑھتی ہوئی طاقت کے باوجود ابھی اپنی جدوجہد کے ابتدائی مرحلے میں تھے۔ انھیں خلیفہ کی مہم سے خطرہ محسوس ہوا۔ ان کو محسوس ہوا کہ وہ اسے نظر انداز نہیں کرسکتے۔ جیسا کہ کمال کی تقریریوں سے ظاہر ہوتا ہے، ان کو خدشہ تھا کہ نام نہاد اسلامی آئیڈیالوجی ترک عوام میں اب بھی اپنا طاقتور اثر کرسکتی ہے اور خلیفہ کا پروپیگنڈا ان کو زیادہ نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتا ہے۔ فیروز احمد اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’قوم پرستوں نے خلیفہ کے مذہبی پروپیگنڈے کو رد کرنے میں کافی کشٹ اٹھایا۔ کیونکہ وہ ترک معاشرے پر مذہبی خیالات کے بے پناہ اثر کا ادراک کرچکے تھے۔ ان کا کام اس وقت آسان ہوگیا جب استنبول پر برٹش اور برطانوی افواج کا قبضہ ہوگیا۔ اب وہ سلطان خلیفہ کو مسیحی طاقتوں کا قیدی اور منتظر آزادی قرار دیے سکتے تھے۔’52 یہ افواج 16 مارچ 1920ء کو جنگ کے خاتمے کے 18 ماہ بعد استنبول میں داخل ہوئی تھیں جب خلیفہ واپس تحت پر بیٹھ چکا تھا۔ ری پبلکن نیشنلسٹ کا اس اسکور کے ساتھ پروپیگنڈا زیادہ جڑیں نہیں بناسکتا تھا۔ لیکن یہ نظریاتی لڑائی تھی اور اس دوران جو بھی ہتھیار ہاتھ لگتا وہ استعمال کیا جانا تھا۔ برٹش افواج استبنول جب داخل ہوئیں تو ری پبلکن قوم پرست میدان مار رہ تھے۔ ری پبلکن قوم پرستوں کے خلیفہ کے خلاف کودتا کرنے کا خطرہ تھا اور یہ خطرہ بے جا نہیں تھا۔ ری پبلکن آخرکار اقتدار کے لیے ہی تو لڑ رہے تھے۔ برٹش خلیفہ کو برقرار رکھنا اور اس کی حفاظت چاہتے تھے کیونکہ وہ ان کا اپنا آدمی تھا۔ اگر برٹش کا مقصد خلیفہ کو اپنا قیدی بنانا ہوتا تو وہ ڈیڑھ سال پہلے ہی یہ اقدام اٹھالیتے۔

ری پبلکن نیشنلسٹ کا دفاعی پروپیگنڈا کہ خلیفہ برٹش کا قیدی تھا، ان کے لوگوں پر جو بھی اثر کرتا مگر ہندوستانی خلافت تحریک کے رہنماؤں نے اسے فوری اچک لیا، اس کے گرد ساری تحریک کو استوار کر ڈالا۔

برٹش کے شکنجے سے خلیفہ کی رہائی خلافت تحریک کا مرکزی نعرہ بن گئی تھی۔ اصل میں ان کی کمپئن کا یہ اول و آخر مقصد بن گیا۔ اپنے آپ کو ‘عقل کل’ سمجھنے والے ان رہنماؤن نے اس امکان پر غور ہی نہ کیاکہ خلیفہ بھی تو برٹش سے ساز باز ہوسکتا تھا، جبکہ ول مغربی طاقتوں سے لڑائی کا ناٹک کررہا ہو جبکہ اس کا اور مغربی طاقتوں کا ایک ہی مقصد یعنی ری پبلکن نیشنلسٹوں کو گرانا تھا۔ آسانی سے جس معاملے کی جانچ ہوسکتی تھی انھوں نے اسے درخور اعتنا نہ جانا اور اپنی جدوجہد کا مقصد خلیفہ کی رہائی بنا ڈالا۔ یہ بہت سادہ معالہ تھا۔ ان کو کرنا کیا تھا کہ ایک وفد استنبول بھیجتے جو خود وہاں چیزوں کو دیکھتا۔ ان کے استنبول میں وسیع ذاتی روابط ہر سطح پر تمام گروپوں سے تھے۔ انہوں نے حقیقت حال کا پتا چلانے میں زرا مشکل نہ ہوتی اگر وہ ایسا کرنا چاہتے۔ لیکن انہوں نے ایسا نہ کیا۔

کسی کو یہ شق ہوسکتا ہے کہ وہ معاملے کی تہہ تک پہنچنا چاہتے ہی نہ تھے۔ کیونکہ اس سے ان کی تحریک کا غبارہ زمین سے اڑنے سے پہلے ہی پنکچر ہوجاتا۔ اس مہم کے پیچھے جو مولانا اور مولوی تھے یہ تحریک ان کی اپنی ضرورت تھی۔ یہ مہم ان کو ہندوستانی مسلم سیاست کے محاذ پر سب سے آگے اٹھاکر لارہی تھی اور اس نے کچھ دیر کے لیے مسلمان سیکولر تعلیم یافتہ قیادت کا سورج بالکل ہی گہنا دیا تھا۔ خلافت تحریک کی وجہ سے،مسلمان مذھبی قیادت سیاسی میدان میں اپنے لیے جگہ بنانے کے قابل ہوگئی اور ساتھی قوم پرستانہ ضمیر کا نقاب بھی بچانے میں کامیاب ہوئی۔ اس تحریک کے دوران انھوں نے جمعیت علمائے ہند کی شکل میں ایک سیاسی تنظیم بھی قائم کرلی۔

ہندوستانی خلافتی اور ترک حقیقت

ہندوستانی خلافتی ترکی کی از سر نو صورت گری کرنے والی قوتوں اور یادگار تبدیلیاں جو آنے والی تھیں کی اہمیت کا ادراک کرنے سے قاصر رہے۔  مثال کے طور پرعباسی جو کہ ایک اردو پریس کا صحافی تھا اور تحریک خلافت میں نمایاں کردار ادا کرتا رہا، وہ اس دور کی ترک سیاست کو خالص ذاتی اختلافات اور فریب کاریوں کے طور پر بیان کرتا ہے۔53وہ مصطفی کمال کو ‘غازی اعظم، فاتح یونان کے طور پر پیش کرتا ہے لیکن خلیفہ کے انجام پر نوحہ پڑھتا ہے۔ عباسی لکھتا ہے،’ مصطفی کمال نے خلافت المسلمین کو چیلنج کیا اور سلطان نے اپنے آپ کو بے بس پایا۔ آخرکار اس نے اپنے آقایان فرنگ سے شکایت کی لیکن وہ ری پبلکن تحریک کے خلاف کوئی فیصلہ کن قدم اٹھانے کو تیار نہ تھے۔’54 تحریک خلافت کے ایک اہم ترین رکن کا یہ بیان ان کی الجھنوں اور ترکی میں رونما ہونے والے واقعات کا ادراک کرنے سے قاصر رہنے کی مثال ہے۔ خلافت کے ایک نامور لیڈر اور نوآبادیاتی نظام کے چمپئن کی طرف سے ترک قوم پرستوں کے خلاف برٹش کا مداخلت نہ کرنے اور خلیفہ کی بے بسی دور نہ کرنے پر ماتم کرتے ہوئے دیکھنا افسوس ناک ہے۔ عباسی کا یہ متضاد اور متناقض انداز کسی بھی لحاظ سے انوکھا نہیں تھا۔ یہ ہندوستانی خلافتیوں کے  عمومی رویوں اور ترکی میں ہورہے واقعات اور اس کی صورت گری کرنے والی تاریخی جدوجہد کو سمجھنے کی اہلیت سے محرومی کا عکس تھا۔

کسی بھی موقعہ پر انھوں نے ری پبلکن نیشنلسٹ تحریک کی اہمییت کی عکاسی  نہیں کی اور نہ اپنے آپ سے یہ سوال کیا کہ کیا ان کی خلیفہ کے نام پر جو تحریک ہے ان واقعات سے مغلوب نہیں ہوگئی ہے؟

اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ برٹش حکومت ہندوستان نہ صرف اس تحریک کو برداشت کررہی تھی بلکہ اس کی مددگار بھی تھی- گاندھی نے جب تک عدم تعاون کی تحریک شروع نہ کردی(جس کو شروع کرنے کا بالکل ہی مختلف کارن تھا) برٹش نے خلافت تحریک پر خوش مزاجی سے ردعمل دیا۔

یہ بات اہمیت سے خالی نہیں ہے کہ یہ وہ وقت تھا جب  تحریک خلافت  نے صرف جوش پکڑنا شروع کیا تھا اور نوآبادیاتی حکومت نے جنگ کے زمانے میں نظر بند محمد علی، شوکت علی، عبدالکلام آزاد اور ظفر علی خان کو رہا کردیا تھا، جو کہ تحریک کے ممتاز اور موثر رہنما تھے۔ مابعد جنگ  حالات میں ان کی خلیفہ نواز ہمدردیاں برطانوی مفادات کے لیے خطرہ نہیں رہی تھیں بلکہ اس کے الٹ تھیں۔

خلافتیوں کے لیے حکومت ہند کا موقف کیا تھا اس کی وضاحت اس امر سے بخوبی ہوجاتی ہے کہ حکومت ہند نے یورپ جاکر اپنا مقدمہ پیش کرنے کے لیے جانے والے خلافتی وفد کا خرچہ اٹھانے کا فیصلہ لیا۔ جنوری 1920ء میں ڈاکٹر انصاری کی قیادت میں ایک خلافتی وفد وائسرائے لارڈ چیمسفورڈ سے ملا، جس نے ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کا فیصلہ کیا- اس کی ایک ضمنی قابل ذکرتفصیل یہ ہے کہ ملاقات کے بعد شوکت علی نے 20جنوری 1920 کو ایک ہندوستانی سرکاری اہلکار مافے  کو خط لکھ کر حکومت سے درخواست کی کہ خلافتی وفد کو فرسٹ کلاس ریٹرن ٹکٹ برطانیہ جانے کے لیے فراہم کیے جائیں جو کہ برٹس عوام ،حکومت  اور پیرس امن کانفرنس میں خلافت کاز کو پیش کرے گا۔ نوآبادیاتی تحریک کے مخالفوں کا اپنے نوآبادیاتی آقاؤں سے درخواست کرنا سمجھ سے بالا تر ہے۔ ہندوستان کےھوم سیکرٹری نے فوری طور پر حکومت بمبئی کو فوری سفری انتظامات کرنے کو کہا اور اس کی سیاسی اہمیت پر روشنی ڈالی۔55 اس سے بہت واضح شکل سامنے آتی ہے کہ برٹش حکومت ہند نے تحریک خلافت کو ایک خطرناک نوآبادیاتیمخالف تحریک کے طور پر نہیں دیکھا اور نہ ہی اسے برٹش سلطنت کے لیےخطرہ خیال کیا۔ برٹش نے جبر اس وقت کیا جب کانگریس نے سول نافرمانی کی تحریک چلائی، جب کچھ افراد نے مسلمانوں کو برطانوی فوج میں خدمات کی ادائیگی سے روکا۔ اور یہ درحقیقت برٹش سامراجی مفادات کے لیے خطرے کی باتیں تھیں۔ لیکن یہ درخواستیں تو کانگریس کی سول نافرمانی کی تحریک سے پیدا ہوئی تھیں اور ان کو بعض خلافتی رہنماؤں نے رد کردیا تھا۔ 

تحریک خلافت کو نوآبادیاتی نظام کے خلاف ایک تحریک کے طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن اس تحریک کا سب سے بڑا حاصل ہندوستانی مسلمانوں کو ایک سیکولر فہم سیاست سے ہٹاکر مذہبی اور فرقہ وارانہ سیاست کی طرف لیجانا تھا۔ اس نے مسلمان مذہبی قیادت کی سیاست کا ایک ایسا ورثہ چھوڑا جس نے آج بھی  پاکستانی اور ہندوستانی سیاست کو اپنے آسیب میں لیا ہوا ہف۔ اس تحریک کا آخری اور حتمی المیہ یہ تھا کہ اس نے ترک اور عرب دونوں کی قومی آزادی کی تحریکوں سے غداری کی۔ بدقسمتی سے مسٹر گاندھی کے تحریک خلافت کی قیادت کرنے نے ہندوستانی نیشنلسٹ اسکالرز کو اس تحریک اور گاندھی کے کردار کو بغیر تنقید کے سراہنے کی طرف چلادیا۔ جبکہ دوسری طرف، جناح ( جو کہ آج کے لکھاری کی نظر میں فرقہ پرست لیڈر ہے نہ کہ سیکولر نکتہ نطر رکھنے والا،جبکہ یہ کافی حد تک درست بات نہ ہے) مولانا شوکت علی کے ہاتھوں باقاعدہ مار کھاتے کھاتے بچے جب انہوں نے اس تحریک کو رجعتی مذہبی تحریک قرار دیکر مسترد کیا۔ ان کا خیال تھا کہ اس کے مسلمانوں کے سیاسی نظریات پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں يے۔ تحریک خلافت نے مسلم مذہبی رہنماؤں کی سیاسی قیادت کی تشکیل کی، جس کے لیے اسلامی نظریہ سازوں نے اس کی تعریف کی۔

 

 

References

Abbasi, Qazi Mohammad Adeel 1986 Tehrik-e-Khilafat, (Urdu) Lahore

Aga Khan, The 1954 The Memoirs of Aga Khan, New York

Ahmad, Aziz 1964 Studies in Islamic Culture in the Indian Environment,

 

Oxford

Ahmad, Aziz 1967 Islamic Modernism in India and Pakistan, London

Ahmad, Feroz, 1969 The Young Turks: the Committee of Union and Progress in Turkish Politics 1908-1914, Oxford

Ahmad, Feroz 1984 ‘The Late Ottoman Empire’, in Marian Kent (ed) The Great Powers and the End of the Ottoman Empire, London

Ahmad, Feroz 1993 The Making of Modern Turkey, London

Alavi, Hamza 1988 ‘Pakistan and Islam: Ethnicity and Ideology’ in Fred Halliday (ed), State And Ideology In The Middle East and Pakistan, London and New York

Aksin, Sina 1976 Istanbul HükümetlerivaMilliMücadele, Istanbul,

Arnold, T.W. 1924 The Caliphate, London

Atatürk, Mustafa Kemal 1963 A Speech Deliver ed by Mustafa Kemal Atatürk, 1927, 744pp Speech delivered before the Deputies of the ‘Republican Party’ from 15th to 20th October,1927, Istanbul

Azad, AbulKalam 1944 Khutbaat-e-Azad, edited by Shorish Kashmiri,(Urdu)Lahore

Azad, AbulKalam 1974 Khutbaat-e-Azad, edited by Malik Ram (Urdu) Delhi

Azad, AbulKalamn.d./a Tazkira, ed. Malik Ram (Urdu) Islamic Publishing House, Lahore

Azad, AbulKalamn.d./b Azad Ki KahaniKhud Azad kiZabani, (Urdu) Malihabadi (ed), Lahore

Bosworth, C. E. 1967 The Islamic Dynasties, Edinburgh

Evangelos, K. n.d. Greece and the Eastern Question,

Gewehr, W. M. 1967 The Rise of Nationalism in the Balkans:1800-1930,

Ghazali, Imam 1964 Counsel for Kings (Nasihat Al-Muluk) with Introduction by F.R.C. Bagley, London

Gibb, H.A. R. 1962 Studies on the Civilisation of Islam, London

Goldziher, Ignaz 1971 ‘Umayyads and Abbasids’ in Muslim Studies, Vol. II, London

Greenwall, H. J. 1952 His Highness the Aga Khan, London

Hardy, Peter 1972 The Muslims of British India, Cambridge

Hasan, Mushirul (ed) 1985 Communal and Pan-Islamic Trends in Colonial India, New Delhi

Hasan, Mushirul (ed) 1992 Islam and Indian Nationalism: Reflections on AbulKalam Azad, New Delhi

Hitti, P. K. 1960 History of the Arabs, London

Husain, Mahmud 1957a A History of the Freedom Movement, Karachi

Husain, Mahmud 1957b ‘Tipu Sultan’ in Mahmud Husain (ed) 1957a

Ikram, S. M. 1965 Mauj-e-Kauthar, (Urdu) Lahore (reprint)

Inalcik, Halil, 1973 The Ottoman Empire: The Classical Age 1300-1600,London

Jackson, Stanley 1952 The Aga Khan, London

Khurshied, Abdus Salaam n.d.Sahafat: Pakistan va Hind Main (Urdu), Lahore

Lewis, Bernard 1961 The Emergence of Modern Turkey, London

Margoliouth, D.S. 1922 ‘The Sense of the Title Khalifah’ in T.W. Arnold and R.A. Nicholson (eds) A Volume of Oriental Studies Presented to Edward G. Browne, Cambridge,

Maududi, AbulA’la 1961 TajdidvaAhyay-e-Din, (Urdu), Lahore (reprint)

Maududi, AbulA’la 1982 KhilafatvaMulukiyat, Lahore,(reprint)

Al-Mawardi, Abul-Hassan 1960 Al-Ahkam as-Sultaniya, (Arabic) Cairo

Minault, Gail 1982 TheKhilafat Movement: Religious Symbolism and Political Mobilisation In India, Delhi

Minault, Gail 1992 ‘The Elusive Maulana: Reflections on Writing Azad’s Biography’ in Hassan (ed) 1992

Mohammad Ali 1944 Speeches and Writings of Maulana Mohammad Ali,Lahore

Owen, S. J. (ed) 1877 Selections from Wellesley’s Despatches, Oxford

Sabri, Imdad 1953 Tarikh-é-Sahafat-é-Urdu, (Urdu) Delhi, 3 volumes

SanyalUsha 1995 Devotional Politics in British India: Ahmad Riza Khan Barelwi and his Movement, 1870-1920′, New Delhi

Shaban, M. A. 1980 Islamic History, Vol. I, Cambridge [reprint]

Shaban. M. A. 1981 Islamic History, Vol II, Cambridge, [reprint]

Shukla, R. L. 1973 Britain, India and the Turkish Empire, 1853-1882,New Delhi

Stojanovic, M. D. 1939 The Great Powers and the Balkans: 1875-1878Cambridge

Sunar, Ilkay 1974 State and Society in the Politics of Turkey’s Development, Ankara

Syed Ahmad Khan, 1962 Maqalat-e-Sir Syed, (Urdu)Vol I, Lahore – articles on ‘Khilafat’, ‘KhilafataurKhalifa’ and ‘Imam aurImamat‘