Featured Original Articles Urdu Articles

رسالہ اثبات ممبئی کا احیاء اسلام نمبر- عامر حسینی

رسالہ ‘اثبات’ ممبئی سے چار ماہ بعد شایع ہوتا ہے- اس کے مدیر اشعر نجمی ہیں-آدمی تھوڑے ٹیڑھے ہیں، علم نجوم و دست شناسی سے جانکاری کا دعویٰ نہیں کرتے لیکن چند جملوں سے کسی بارے میں کوئی تاثر قائم کرلیں تو جلدی سے اُس سے دست بردار نہیں ہوتے- مگر ادارت کے فن سے اچھے سے واقف ہیں- اس لیے اثبات جیسا رسالہ اچھے سے چلارہے ہیں

رسالہ اثبات صرف ہندوستان دستیاب تھا اور بڑی مشکل سے ڈاک کے زریعے سے پاکستان پہنچ پاتا تھا- پھر اشعر نجمی صاحب نے فرمائش پر اس کا سافٹ ورژن فراہم کرنا شروع کیا اور اسی دوران عکس پبلیکیشنز نے اسے پاکستان میں چھاپنے کا اہتمام کرلیا

سرقہ نمبر، عریاں نمبر کے بعد احیائے مذاہب:اتحاد، انتشار اور تصادم نمبر دو جلدوں میں پاکستان سے بھی شایع ہوا ہے

پہلی جلد 1223 صفحات پر مشتمل ہے اور اس کے دو بڑے حصے ہیں

پہلے حصہ میں اسلام اور احیائے اسلام کے عنوان سے چودہ مضامین ہیں جن کو لکھنے والوں میں ڈاکٹر مبارک علی، پروفیسر فضل الرحمان، نتانا جے ڈیلونگ، ریوبن لیوی جیسے لکھاری بھی شامل ہیں

اس حصے میں بریلوی اسلام بارے ساشا سانیال کی کتاب سے کچھ بھی شامل نہیں کیا گیا اور بریلوی اسلام پر ساشا سانیال کی کتاب ہی انگریزی بلکہ اردو میں اس موضوع پر ابتک ہونے والا وقیع کام ہے اگر اس کا کوئی حصہ شامل کرلیا جاتا تو کافی بہتر ہوجاتا

دوسرا ذیلی سیکشن ‘اسلامی معاشرہ: تذبذب کی سماجیات’ عنوان سے ہے- اس سیکشن میں طارق احمد صدیقی، مبارک حیدر، خالد مسعود، مبارک علی، عبدالکریم عابد، عرفان شہزاد اور فرنود عالم کے مضامین ہیں – کُل نو مضامین ہیں جن میں دو مبارک حیدر کے مضامین ہیں

تیسرا سیکشن ‘وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ’ کے عنوان سے مرتب کیا گیا ہے اور اس سیکشن میں فاطمہ مرینسی اور شیخ برہان الدین کے مضامین حجاب پر اور ارشد محمود اور طارق فتح کے مضمون عورت بارے مودودی سمیت اصل میں نوآبادیاتی دور کے اندر احیائے اسلام کی جدید تحریکوں خاص طور پر جماعت اسلامی اور اخوان المسلموں کے تصورات پر لبرل نکتہ نظر سے تنقیدی نظر پر مشتمل ہیں

چوتھے سیکشن کا عنوان ہے ‘دینیات، سائنس اور ادب’ اس سیکشن میں ہمیں ارشد محمود، ھود بھائی اور سلیم احمد اور انتظار حسین نظر آتے ہیں

چوتھا سیکشن ہے جس کا ذیلی عنوان ہے ‘اسلام، سیاست اور ریاست’ اس سیکشن میں ہمیں 19 مضامین ملتے ہیں

اب اگر ہم ان چار سیکشن کا جائزہ لیں تو چاروں سیکشن میں حیرت انگیز طور پر ہمیں اسلام اور احیائے اسلام پر ایک تو برصغیر کے کسی بڑے مارکس واد لکھاری کی تحریر شامل انتخاب نہیں ملتی- کم ازکم چاروں سیکشن ایسے ہیں جن میں ترقی پسند تحریک کے اولین لکھاریوں جن میں سرفہرست سبط حسن، صفدر میر، فیروز الدین منصور ہیں کا کوئی مضمون شامل نہیں ہے- اسلام کی تحریک پر انگریزی میں مارکس واد بہترین تجزیے موجود ہیں جبکہ اخوان المسلمون اور جماعت اسلامی پر جان ریس، سمیر آمین، گلبرٹ اشقر سمیت کئی لکھاریوں کے شاندار مضامین بھی ہیں لیکن کوئی ایک مضمون بھی شامل تحریر نہیں ہوا

عورت والے سیکشن میں کشور ناہید، فہمیدہ ریاض، نسرین انجم بھٹی سمیت کئی ہندوستانی، پاکستانی اور بنگلہ دیشی عورتوں کا کام شامل ہوسکتا تھا لیکن نہیں کیا گیا- اور اس سیکشن میں بھی الٹرا لبرل شامل کیے گئے ہیں- یہی حال دینیات، سائنس اور ادب والے سیکشن کا ہے جس میں اگر اسلام پسندوں سے انتظار حسین اور سلیم احمد کو لیا گیا اور الٹرا لبرل ارشد محمود اور لبرل میں خرد افروزی کی روایت کو لیکر چلنے والے ہود بھائی کو تو شامل کیا گیا لیکن اس موضوع پر بائیں بازو کی ترقی پسند ادبیت اور اور بورژوا سائنس پر تنقید کرنے والوں کو شامل نہیں کیا گیا جیسے دور حاضر میں ساجد رشید تھے

پاکستان میں محمود علی صدیقی تھے، حسن عابدی تھے- ایسے ہی چوتھے سیکشن کا حال ہے کہ اس میں بھی لبرل، لبرل اسلام پسند، لبرل ملحد، اور یہاں تک کہ دیوبندی ماڈریٹ جیسے مولانا عمار خان ناصر ، فرنود عالم جیسے لکھاری تو شامل ہیں لیکن اس سیکشن کا عنوان ایسا تھا اس پر مارکس واد ماہرین نے جو شاندار کام کررکھا ہے اس سے بھی کچھ انتخاب لیا جاتا اگرچہ تاج آئی ہاشمی نے بنگلہ دیش میں ریڈیکل اسلام کی اٹھان کا جائزہ لیتے ہوئے کافی حد تک اس تصور سے وابستہ لوگوں کے سماجی طبقات پر روشنی ڈالی ہے

پہلے حصے کے چار سیکشن میں ہم احیائے اسلام کی تحریکوں اور نظریات پر لبرل اور یہاں تک لبرل ملحد نظریات کی نمائندگی کرنے والوں کو تو پاتے ہیں لیکن حیرت انگیز طور پر ان خیالات پر اسلامی سوشلسٹ ناقدین جن میں برصغیر سے عبید اللہ سندھی اور پرویز، خلیفہ عبدالحکیم، ڈاکٹر یوسف گورایا اہم تھے میں سے بھی ایک کو نہیں پاتے

اسلام، سیاست اور ریاست کے عنوان میں ہم اسلامی تحریکوں اور نظریات کے نیولبرل اکنامی سے رشتے بارے چھپنے والے مواد میں سے کچھ بھی شامل نہیں پاتے حالانکہ ترکی میں اردگان پر فرنود عالم کا ایک مضمون شامل ہے جس می‍ں ہمیں اس حوالے سے زرا اشارہ نہیں ملتا جیسے کہ جلد دوم میں بھی ہمیں ہندؤتوا پر مضامین میں ایک مضمون بھی ہندؤتوا اور ریاست کے باہمی تعلق پر بحث کے ساتھ نیولبرل معشیت سے ان کے رشتے کو زیر بحث لانے والا کوئی مضمون شامل نہیں ملتا

پہلی جلد کے پہلے چار سیکشن میں ایک تو سُنی اسلام کے ہندوستان میں جو ذیلی سیکشن ہیں خاص طور پر سُنی حنفی اسلام کے دو سیکشن یعنی بریلوی اور دیوبندی پر سرے سے نہ تو لبرل تنقید کو شامل کیا گیا اور نہ اس موضوع پر مارکس واد تنقید کو نمائندگی ملی حالانکہ اس موضوع کو حمزہ علوی نے اپنے تحقیقی مضمون ‘ تحریک خلافت کے تضادات’ میں ضمنی طور پر چھیڑا اور مسلمانان ہند، ملاں اور ہندوستان میں اُن کی مذھبی سیاست پر زبردست مدلل تنقید کی ہے تاریتاریخ رسالے سے جہاں اور بڑے مضمون لیے گئے یہ بھی لے لیا جاتا تو پڑھنے والوں کو کافی کچھ تنوع کے ساتھ سیکھنے اور پڑھنے کو ملتا

اس سیکشن میں سُنی اسلام اور شیعہ اسلام پر راشد شاذ کے دو مضامین شامل ہیں اور سنی اسلام کو وہ شد و مد سے عباسی روایت کی تجسیم قرار دیتے ہیں اور شیعہ اسلام کو وہ چوتھی صدی سے شروع کرتے ہیں دراصل یہ بحث

Early Islam History

یا پہلی صدی ھجری کی تاریخ سے شروع کرنا بنتی ہے جیسا کہ اس موضوع پر کافی سنجیدہ کام ہوا ہے- اردو اور انگریزی میں محمد حسین جعفری کی کتاب جسے دار الثقافت اسلامیہ نے شایع کیا، پھر آکسفورڈ نے شایع کیا اس کا پہلا باب شیعہ اسلام پر شایع کیا جاسکتا تھا اور ایسے ہی سُنی اسلام پر کم از کم ایک دو اور مضمون شایع کیے جاتے جو کم ازکم بنوا یہ، بنو عباس کو تنقیدی نظر سے دیکھنے کے ساتھ ساتھ یکسر روایتی مکتب پر

 historical

تنقید نہ کرنے والے ہوتے

تحریک تجدید جو کالونیل پیریڈ میں شروع ہوئی اس پر ایک تنقید ہمیں یوحنان فرائیڈ مین کی سید احمد سرہندی پر لکھی کتاب میں ملتی ہے اور اس کتاب کا آخری باب ایسا ہے جس میں تجدید بارے کالونیل دور میں عرفان حبیب، اطہر رضوی ابوالکلام آزاد نے جو لکھا اس پر زبردست حقائق کا اظہار کیا گیا اور یہ کتاب انگریزی (شایع شدہ) اور اردو (غیر مطبوعہ) میں عکس پبلیکیشنز کے نوجوان ڈائریکٹر فہد اور نوفل کے پاس موجود ہے اور دونوں اس کتاب کے مندرجات کی اہمیت سے بھی واقف ہیں لیکن نجانے کیوں اتنا بڑا کام کرتے ہوئے وہ لوگ اس کام کو نظر انداز کرگئے

پاکستان میں

Religious based violence
Shia_Killings
Atttack on Sufi-Sunni Shrines and Cultural cermonies

پر جائزہ لینے والا ایک بھی مضمون شامل نہیں ہوا جبکہ شیعہ-سُنی مخاصمت مذھبی یا سیاسی این بلیک کا مختصر سا مضمون مشرق وسطیٰ کے حوالے سے تو کافی بہتر ہے لیکن یہ پاکستان میں شیعہ، صوفی سنی، اعتدال پسند دیوبندی، اہلحدیث، احمدی، ہندؤ، سکھ، کرسچن سیکولر لبرل افراد، گروہ، مساجد، مندر، کلیسا، احمدی عبادت گاہوں پر حملہ آور عسکریت پسند گروہوں کی فکری آئیڈیالوجی اور اس کے پاکستانی تناظر سے کوئی بحث نہیں کرتا

پہلی جلد کا دوسرا میجر سیکشن میں ہربنس مکھیا کے لیکچر کا اردو ترجمہ کافی معنی خیز ہے جبکہ اکبر پر عبیداللہ سندھی کا مضمون بہت ہی ہلکا انتخاب ہے، اس کے ساتھ اکبر. پر ہی تاریخ رسالے میں ریاض شیخ کے ترجمہ کردہ عرفان حبیب کے مرتب کردہ مضامین میں سے کوئی انتخاب کرلیا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا- اس سیکشن میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عنوان میں ایک مرتبہ پھر بائیں بازو کے لکھاریوں کی نمائندگی غائب ہے جبکہ لبرل کی خوب ہے اور دائیں بازو کی بھی ہے- اس سیکشن میں سبط حسن کے مضامین کا مجموعہ ‘ پاکستان میں نظریات کا جدال’، صفدر میر کا مجموعہ مضامین ‘ پیغام انقلاب’ جو دراصل زید اے سلہری سمیت اسلام پرست لکھاریوں کے لکھے کا جواب ہیں کا کوئی ایک مضمون شامل کرنا بنتا تھا

دیکھا جائے تو اثبات کی پہلی جلد یا تو لبرل ملحدین لکھاریوں کی ترجمان ہے یا پھر لبرل اسلام پسندوں کی اور زیادہ کیا تو سلیم احمد، راشد شاذ اور انتظار حسین جیسوں کی جن کو ہم تھوڑا قدامت پرست اور تھوڑا سا لبرل کہہ لیں تو حرج نہیں ہوگا….. اس میں ہربنس مکھیا، ڈاکٹر مبارک علی استثنا ہیں اسلام پر لبرل تنقید میں بھی نوآبادیاتی دور کی سرکاری روشن خیالی جس کے سب سے بڑے علمبردار سرسید تھے کا پرتو زیادہ ملتا ہے اور پھر وہ لبرل تنقید غالب ہے جو بنیادی طور پر ماڈرن ازم سے مستعار ہے اور یہ درمیانے طبقے کے شہری پڑھی لکھی لبرل پرت/سیکشن کی ترجمان ہے جس کو مذھبی فوبیا بھی لاحق ہے

لیکن میری اس تنقید کا یہ مقصد ہرگز نہیں ہے کہ اسلام، احیائے اسلام وغیرہ پر لبرل، لبرل ملحد، لبرل اسلام پسند، ماڈریٹ روایت پرست اسلام سے وابستہ لوگوں کی تحریریں فائدہ مند نہیں ہیں یا اُن سے ہمیں کچھ جاننے کو نہیں ملتا بلکہ بہت کچھ جاننے کو ملتا ہے اور یہ تحریریں جمود کو توڑنے میں کام آتی ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ گزشتہ 20 سالوں میں اردو رسائل میں ادھر ادھر بکھری ایک موضوع سے مناسبت رکھنے والی تحریروں کو اکٹھا کردیا گیا ہے

رسالے کی دوسری جلد میں جو مضامین ہیں وہ پہلے حصے میں ہندؤتوا، ہندؤ راشٹر اور اس سے جڑے آر ایس ایس، وشوا ہندؤ پریشد،بجرنگ دل اور اس کی سیاسی ترجمان بھارتی جنتا پارٹی کے بارے میں پاکستانی اردو پڑھنے والی کمیونٹی کے لیے کم از کم مبادیات ہندوتوا کی حیثیت رکھتے ہیں اور اُن کو اس حصے کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے، ایسے ہی اس جلد کا جو آخری حصہ ہے یعنی تخلیقی اظہار وہ زبردست انتخاب ہے لیکن اس انتخاب میں مسعود اشعر کا افسانہ ‘ اُس کا نام کیا تھا’ جو کم از کم پاکستان میں مذھبی شناخت کے نام مارے جانے والوں کے حوالے بہت شاندار افسانہ اور اپنی نوعیت کا واحد افسانہ ہے جو نائن الیون کے بعد اور پاکستان میں راحیل شریف کے دور میں لکھا گیا- ساجد رشید کا ایک افسانہ جو خودکُش بمبار کے حوالے سے تھا کا نہ ہونا اور یونہی ممبئی بم دھماکوں کے پس منظر میں لکھے گئے رحمان عباس کے ادبی کام کی غیرموجودگی میرے لیے باعث حیرت ہے-اشعر نجمی ساجد رشید کے شہر ممبئی کے رہنے والے ہیں اور مرحوم ساجد رشید سے اُن کا محبت و نفرت دونوں طرح کا رشتہ رہا ہے

اثبات کا احیاء نمبر دو جلدوں میں مرتب کرنا بڑی محنت اور دقت کا کام تھا اور اسے شایع کرنا دوسرا بڑا مشکل کام تھا- یہ مشکل کام اشعر نجمی صاحب نے کر دکھایا ہے – جس پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں