Featured Original Articles Urdu Articles

استحصال اور ترقی میں فرق جان کے جیو

یہ ڈان نیوز کی ہیڈ لائن ہے نواز لیگ حکومت کے دوران شائع ہونے والے ایک خبر کی لیکن میڈیا میں موجود نواز لیگ کے حامی اور لبرل جو سندھ سمیت دوسرے صوبوں میں ترقی نہ ہونے کا رونہ روتے ہیں وہ اس بارے میں بات نہیں کریں گے۔

ریلویز اپنے بجٹ کا 97 فیصد پنجاب کی اسٹیشنز پر اور اس میں سے بھی 72 فیصد صرف لاہور کی اسٹیشنز پر خرچ کرتا ہے بقیہ 3 فیصد بجٹ 3 صوبوں پر خرچ کیا جاتا ہے

لاہور اورینج ٹرین منصوبے کی لاگت پاک ریلویز کے بجٹ سے 3 گنا زیادہ ہے , میرے نزدیق یہ ترقی نہیں استحصال کی بد ترین صورت ہے

صرف  ایک شہر پر پورے ملک کا ترقیاتی بجٹ استعمال کرنا ایمانداری نہیں ظلم اور استحصال ہے

جب میرے دوست احباب رشتے دار سب پنجاب کی ریلوے اسٹیشنز کاموازنہ سندھ اور بلوچستان سے کرکے کہتے ہیں کے دیکھو یہ ہے ایمانداری پنجاب ایماندار ہے اس لئے ترقی کر رہا ہے میرا ان کو جواب ہوتا ہے یہ ترقی ایمانداری سے نہیں استحصال اور ظلم سے آئی ہے

میری بات کا ثبوت یہ پاکستان ریلویز کا بجٹ ہے

ایک مثال اور بھی لکھوں لاہور سے خانیوال کچھ 190 کلومیٹر ہوگا اس پر موٹر وے کے لئے 200 ارب سے زیادہ منظور کیا گیا تھا اور کراچی سے حیدرآباد 100کلومیٹر موٹر وے کے لئے 12ارب منظور کے گئے تھے لگ بھگ ایک جتنے فاصلے کے لئے ایک ہی ادارے نے پنجاب کے لئے 200 ارب اور سندھ میں 12ارب منظور کیے

ایک بہت قریبی دوست نے اسکا جواب کچھ اس طرح دیا کے پنجاب میں چوری کے لئے پیسے پروجیکٹ میں پہلے سے ہی اس کی لاگت میں 3 گنا زیادہ پیسا رکھا جاتا ہے , چوری بھی ہوجاے اور کام بھی ہو ایسی کچھ اور بھی مثالیں ہیں سب یہاں لکھوں گا تو تحریر لمبی ہوجاے گی , سمجھنے والے کے لئے 2 بہت خاص مثالیں لکھ دیں ہیں

ننانوے فیصد ہر وفاقی ادارے اسی طرح کی پالیسی اپناے ہوئے ہیں, اس کو ترقی نہیں استحصال اور ظلم کہتے ہیں جس کی مثال اسرائیل میں بھی نہیں ملتی