Featured Original Articles Urdu Articles

شریف خاندان کا طریقہ واردات – عامر حسینی

نواز شریف علاج کے لیے بیرون ملک جارہے ہیں، مریم نواز گھر پر ہیں اور شہباز شریف بھی طبی معائنے کے لیے برطانیہ جائیں گے جبکہ مسلم لیگ نواز کی چار رکنی کمیٹی مولانا فضل الرحمان کو ساتھ ہونے کا یقین دلاتی رہے گی

شہباز شریف کی بہو، زینب سلمان شہباز نے اپنے ایک ٹوئٹ میں اپنے سُسر کی ایک تصویر شایع کی ہے جس پر ‘گیم چینجر’ کا کیپشن ہے

اس ٹوئٹ سے یہ تاثر لیا گیا کہ شہباز شریف کا خاندان یہ تاثر دے رہا ہے کہ مسلم لیگ نواز پر شہباز شریف کا کنٹرول ہے اور اب فیصلے شہباز شریف کرتے ہیں ناکہ نواز شریف و مریم نواز

مریم نواز نے کہا ہے کہ سیاست چلتی رہتی ہے، ماں باپ دوبارہ نہیں ملتے

شریف خاندان نے پہلی بار باغیانہ اور انقلابی نعرے بازی کے بھرپور شور میں مصالحت/سمجھوتہ/ڈیل یا اُن کے اپنے الفاظ میں ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے والا کام نہیں کیا

شریف خاندان نے ایک طرف نوابزادہ کی منت ترلے کرکے اے آر ڈی میں شمولیت کی تو دوسری جانب وہ اپنے بیرون ملک سرپرستوں سے مشرف کے ساتھ مناسب سودے بازی کرنے کو کہہ رہے تھے- اور اس دوران نواز شریف کے نام سے ریڈیکل بیانات جاری کیے جارہے تھے اور کلثوم نواز کو میدان میں اتار دیا گیا تھا- لیکن اچانک سب نے دیکھا کہ جدہ ڈیل ہوئی، نواز شریف سمیت اُن کے خاندان نے دس سال سیاست اور ملک سے دور رہنے کے معاہدے پر دستخط کرڈالے

اس دوران شریف خاندان کے طبلچیوں نے یہ افواہ اڑائی کہ شہباز شریف تو ملک سے جانا نہیں چاہتے تھے لیکن اُن کو زبردستی طیارے پر سوار کیا گیا-(آج یہی طبلچی نواز شریف کو مزاحمت کار اور شہباز شریف کو مصلحت باز قرار دیتے ہیں)

مسلم لیگ نواز نے اے آر ڈی میں ہوتے ہوئے مشرف سے ڈیل کرلی تھی، اُس کے بعد نوابزادہ نصراللہ نے مشکل سے بے نظیر بھٹو کو نواز لیگ کو اے آر ڈی میں رکھنے پر راضی کیا لیکن نواز لیگ نے 2002ء کے الیکشن کے قومی اسمبلی میں وزیراعظم کا متفقہ امیدوار لانے کے راستے میں روکاوٹ ڈالی اور میثاق جمہوریت پر دستخط کے باوجود اے آر ڈی کے مقابلے میں اے پی ڈی ایم بنایا

شریف خاندان پاکستان آنے کے بعد سویلین بالادستی کی نعرے بازی کرتا رہا لیکن اس نے پی پی پی کے خلاف اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف، ڈی جی آئی ایس آئی اور افتخار چودھری عدلیہ سے گٹھ جوڑ کیا اور میڈیا میں اپنے طبلچیوں کے زریعے پیپلزپارٹی، آصف علی زرداری وغیرہ کا ٹرائل شروع کردیا

میمو گیٹ کیس ہو، گیلانی کے خلاف سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کرنا ہو، افتخار چودھری کے لیے لانگ مارچ ہو اور سب سے بڑھ کر 2013ء میں آر اوز کے زریعے الیکشن ٹیلرنگ کرکے حکومت بنانا اور پھر حکومت بننے کے بعد وزرات داخلہ کے زریعے سے پیپلزپارٹی کی قیادت کے خلاف مقدمے بازیاں ہوں یا پھر اس ملک میں پاکستان پروٹیکشن ایکٹ، اینٹی سائبر کرائمز ایکٹ وغیرہ ہو اور میڈیا پر کنٹرول ہو یہ سارے کام وہ تھے جنھوں نے اس ملک میں جمہوریت کے نام پر اسٹبلشمنٹ کو مکمل طور پر حاوی کرڈالا اور نواز شریف جب تک سپریم کورٹ کے زریعے سے نکال نہ دیے گئے اور دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن میں کٹ ٹو سائز نہ کردیے گئے تب تک وہ جرنیلوں سے مصالحت کا راستا تلاش کرتے رہے اگرچہ اس دوران اُن کے طبلچی اُن کو پاکستان میں سویلین بالادستی کا سب سے بڑا ستون قرار دیتے رہے

نواز شریف کا آخری براہ راست بیان ہم سب نے احتساب عدالت کے باہر سُنا تھا جس میں انھو‍ں نے فرمایا تھا، ‘ہمیں مولانا کی بات مان کر اسمبلیوں میں بیٹھنا نہین چاہیے تھا، ہم نے اپوزیشن کے دیگر لوگوں کی بات مان کر غلطی کی، اور اب ہم مولانا کے مارچ کا ساتھ نہ دینے کی غلطی نہیں کریں گے’

اُس کے بعد پتا چلا کہ میاں نواز شریف نے ایک خط لکھا ہے اور شہباز شریف کو کہا کہ نواز لیگ کی سنٹرل کمیٹی کے اجلاس میں اس خط کو پڑھ کر سُنایا جائے جس میں مولانا کے آزادی مارچ بارے نواز لیگ کا پورا لائحہ عمل موجود ہے’

اُس خط میں کیا لکھا تھا؟ آج تک وہ خط منظر عام پر نہیں آیا- مسلم لیگ نواز نے پنجاب میں کوٹ سبزل سے لاہور پہنچنے تک مارچ کا استقبال کیا لیکن لاہور پہنچنے کے بعد شہباز شریف سمیت نواز لیگ کے مرکزی رہنماء کنٹینر پر نظر نہ آئے، دانت چیک اپ کرانے کے لیے اپنے قدموں سے چل کر وارڈ تک جانے والے نواز شریف کے پاس مولانا فضل الرحمان سے ملنے کی طاقت نہیں تھی

نواز شریف نے آزادی مارچ کے لیے کوئی ویڈیو یا وائس ریکارڈڈ پیغام اپنے کارکنوں کو نہیں دیا جبکہ موبائل فون اُن کے پاس تھا اور اپنے بھائی سمیت کئی لوگوں سے وہ ملتے رہے تو وہ بیان ریکارڈ کرسکتے تھے

نواز شریف مارچ شروع ہونے سے پہلے طبعیت کی خرابی کی وجہ سے سروسز ہسپتال پہنچتے ہیں- اسی دوران شہباز شریف لاہور اور اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرکے طبی بنیادوں پر نواز شریف کی ضمانت و رہائی کی درخواست کرتے ہیں جو مل بھی جاتی ہے – پھر جاتی عمرا اور اب شنید ہے کہ بیرون ملک جائیں گے کیونکہ وزرات داخلہ اور نیب دونوں کے پاس اُن کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواستیں موصول ہوگئیں ہیں

اس دوران نواز لیگ اپنے اجلاس میں فیصلہ کرتی ہے کہ وہ مولانا کے آزادی مارچ میں اپنے کارکنوں کو شریک ہونے کا نہیں کہے گی لیکن آزادی مارچ کی حمایت جاری رکھے گی

اب نواز شریف بقول مسلم لیگ چار رکنی کمیٹی بناکر جارہے ہیں جو آزادی مارچ کو دیکھے گی

نواز شریف کے میڈیا اور سوشل میڈیا میں موجود طبلچی ایک بار پھر سخت پریشانی میں ہیں کیونکہ وہ تو ایسے دکھارہے تھے جیسے نواز شریف اپنا تابوت تو ہسپتال سے نکالیں گے لیکن بیرون ملک نہیں جائیں گے اور اپنے کارکنوں کو اسلام آباد پہنچنے کی کال دیں گے جیسا کہ میڈیا میں یہ بیانات بھی آئے کہ پنجاب سے بھی اب کوئی تابوت جمہوریت کی خاطر نکلنا چاہیے

مریم نواز شریف کے بارے میں تھا کہ وہ بغاوت کا عَلم بلند رکھیں گی لیکن اُن کا تو بیان آگیا’سیاست تو چلتی رہے گی، ماں باپ دوبارہ نہیں ملتے’ – گویا وہ بھی کچھ وقت کے لیے سیاست نہ کرنے کے فارمولے پر عمل پیرا ہیں- تو سیاست کون کرے گا، صاف ظاہر ہے شہباز شریف اور اُن کے بیٹے اور بہو لیکن کیا یہ سیاست نواز شریف کی مرضی کے بغیر ہونے جارہی ہے؟ میرا خیال ہے نہیں