Featured Original Articles Urdu Articles

پرانے لاہور میں عزاداری

 

بیسویں صدی کے ادیب، مولوی نور احمد چشتی،   نے لاہور کی تہذیب کے بارے میں  اپنی کتاب ”یادگارِ چشتی“(سنِ تصنیف  1859ء) میں اس صدی  کے  لاہور میں عزاداری کا نقشہ  بھی پیش کیا ہے۔ ذیل میں متعلقہ  اقتباسات کو چن کر  مختلف عنوانات کے تحت پیش کیا گیا ہے:۔

قربانی سے سالِ نو کا آغاز

” اہل اسلام کا سالِ نو ماہِ غم، یعنی محرم، جس کو پنجابی زبان میں”دہے “ کہتے ہیں، سے شروع ہوتا ہے۔ یہ مہینا ہمارے نزدیک بہت غم و الم کا ہے کیوں کہ اس میں جناب حضرت امام حسین سید الشہداء رضی اللهعنہ نے مع اپنے وابستگان کے، جو جملہ بہتر تن ایک نسل کے تھے، میدان کربلا میں شربتِ شہادت پیا، اور یہ جنگ یزید ِپلید سے ہوا“(1)۔

نیاز کا اہتمام

”اس میں سب مسلمان بنامِ حسین دودھ شربت پلاتے ہیں اور ہر گونہ  طعام پکا کے نذرِ سید الشہداء تقسیم کرتے ہیں۔ اور غریب غرباء ، دوست اقرباء کو کھلاتے ہیں۔ اس ضیافت کا نام ”نیازِ حسین“ ہے۔ ہر مسلمان اپنے مقدور بھر فاتحہ حضرت کا دلاتا ہے“(1)۔

مجلسِ عزاء اور ماتم

”عشرے سے یہ مراد ہے کہ اول محرم سے دہم محرم تک ہر رات مرثیہ خوانی کرتے ہیں اور مرثیہ خوان اور سامعین کو کھانا کھلاتے ہیں۔ اور مرثیہ خوان کو کچھ نقد اور دستاریں بھی دیتے ہیں۔ اس مرثیہ خوانی کا نام ”مجلس“ ہے جو دوقسم کی ہوتی ہے: ایک سنی کی، ایک شیعہ کی۔

شیعہ کی مجلس کا دستور یہ ہے کہ وہ ایک بڑے مکان میں فرش مکلف بچھاتےہیں اور سائبان بھی تانتے ہیں اور شمعدانِفانوسِ قندیل روشن  کرتے ہیں۔ اور ایک منبرِ سیاہ رنگ بچھاتے ہیں اور ایک تکیہ اور مسند بھی بیچ میں رکھتے ہیں۔ اور تکیے پر پھولوں کے سہرے ادب کے واسطے رکھتے ہیں۔ اور تمام رات مرثیہ خوانی کرتے ہیں۔ مرثیہ خوان تین تین، چار چار آدمی مل کر مرثیہ پڑھتے ہیں۔ اور مرثیہ خوانی کو مرثیہ خوانوں کی چوکی کہتے ہیں۔ چونکہ شہادت جناب امام حسین کی واقعہٴ پر غم ہے، لہذا جب مرثیہ خوانی ہوتی ہے تو ہر کہ و مہ گریہ و بکا کرتا ہے۔ اور اہلِ شیعہ پگڑین اتار کے ماتم کرتے ہیں اور تبرے کہتے ہیں۔

اور سنی لوگ بھی اکثر عشرہ اور مجلس کرتے ہیں اور مجلس کو شب کہتے ہیں۔ اس میں سب رسمیں برابر ہیں مگر یہ لوگ منبر نہیں رکھتے اور تبرا نہیں بولتے۔

شیعہ لوگوں میں، متصل منبر کے، شدے (علم) بھی رکھتے ہیں۔ اور شدے سے یہ مراد ہے کہ ایک بانس پر بہت اچھے اچھے کپڑے باندھتے ہیں۔ اور بعض بانسوں پر کمان باندھ کر ساتھ اس کے تلواریں لٹکاتے ہیں۔ اور منبر پر گاہ گاہ ایک ان کا فاضل آدمی بیٹھ کر وقائع حضرت کے نثر میں پڑھتا ہے اور مرثیہ نظم میں۔ اور مرثیے کی یہ رسم ہے کہ جب مرثیہ خوان آتے ہیں تو مسند پر بیٹھتے ہیں اور کہتے ہیں ”فاتحہ“۔ پھر سب حاضرینِ مجلس ہاتھ کھڑے کر کے درود حضرتِ سید الشہداء پر پہنچاتے ہیں۔ پھر مرثیہ خوانی ہوتی ہے۔ سب لوگ سن کر روتے ہیں اور اگر بہت غم ہو تو ماتم کے واسطے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور ایک آدمی کہتا ہے”ماتمِ حسین“۔ پھر سب شیعہ لوگ سینہ زنی کرتے ہیں اور ”حسین حسینحسینحسین“ بولتے ہیں۔بعد پاؤ گھنٹے کے ایک شخص کہتا ہے ”ایک نعرہٴ حیدری!“ پھر سب کہتے ہیں: ”یا علی“ اور ماتم بلند ہوتا ہے۔ پھر مرثیہ خوانی ہونے لگتی ہے۔ اسی طرح ایک دو دفعہ ماتم کر کے بیٹھ جاتے ہیں اور رات بھر مرثیہ خوانی ہوتی رہتی ہے“(1)۔

سبیل

” سبیل اس کو کہتے ہیں کہ بازاروں کوچوں میں سائبان تان کر بلیوں سے ایک جگہ بیٹھنے کی بناتے ہیں اور اس پر مٹکے مٹی کے اور چھوٹی چھوٹی ٹھلیاں رکھتے ہیں اور نیچے ان کے سرسبز پتے رکھتے ہیں۔ اور پانی یا دودھ یا شربت ہر شخص کو پلاتے ہیں اور کہتے ہیں: ’نذرِ حسین پانی یا دودھ یا شربت پی جاؤ‘۔جس کا دل چاہتا ہے، پی جاتا ہے“(1) ۔

حلیم

” اور اکثر لوگ  ان دنوں میں حلیم پکاتے ہیں۔ حلیم سے مراد ہے کہ مکئی اور گیہوں اور گوشت اور مصالحے اور سریت وغیرہ ڈال کر پکاتے ہیں اور سب لوگوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ اور بعض شہر میں، کیا سنی  کیا شیعہ، یوں مجلسِامامِہمام کرتے ہیں کہ پہلے سب دوست آشنا ، غریب غربا کو کھانا کھلایا اور پھر رات بھر مرثیہ خوانی کرائی۔ فجر کو مجلس برخاست ہوئی۔ مرثیہ خوانوں کو دستاریں دیں اور نقد بھی کچھ دیا“(1)۔

تعزیہ داری اورجلوسِ عزاء

”تعزیہ گویا شکل روضۂ حسین کی ہے۔ تعزیہ سنی شیعہ سب بناتے  ہیں۔ پھر دوسرے دن تعزیوں کی گشت کراتے ہیں۔ گشت سے یہ مراد ہے کہ اپنی جگہ سے اٹھا کر سب شہر میں پھرتے ہیں اور پھر اپنے گھر پر لا رکھتے ہیں۔ اور گشت نہم محرم کو ہوتی ہے۔ بعض دن کو اور بعض رات کو گشت کراتے ہیں۔ مگر رات کو خرچ مشعلوں کا زیادہ پڑتا ہے۔ اس کو تعزیہ اٹھانا کہتے ہیں۔

اس میں یہ دستور ہے کہ آگے آگےتاشے بجتے ہیں اور بعض اونٹوں پر بڑے نقارے، یعنی شترے، رکھ کر بجائے جاتے ہیں۔ پیچھے ان کے نشان آدمیوں کے ہاتھ میں اور گھوڑے ، ہاتھیوں، اونٹوں پر لے جاتے ہیں۔ اور نقاروں میں سے یہ آواز نکلتا ہے: ”چڑھے دلدل، مرے کافر“۔ نشانوں کے پیچھے گتکا باز لوگ ہوتے ہیں اور بعد ازاں مرثیہ خوان لوگ۔ اگر رات کا وقت ہو تو مرٹھی اور مشعلیں بھی ہوتی ہیں۔ سب سے پیچھے تعزیہ، جس کو تابوت بھی کہتے ہیں۔ اور تعزیے بہت بہت بڑے بنتے ہیں۔ بلکہ بڑے تعزیوں پر ہزار ہزار روپیہ لگ جاتا ہے۔ اور ہندوستان میں کئی لاکھ روپیہ ایک ایکتعزیے پر خرچ ہوتا ہے۔ اور گشت کا یہ معمول ہے کہ ہزار ہا آدمی تعزیوں  کے ساتھ ہوتے ہیں اور ہزار ہا عورت مرد مکانوں پر بیٹھ کے دیکھتے ہیں“(1)۔

ذوالجناح

” اب شیعہ لوگ لاہور میں محرم کی دسویں تاریخ ایک گھوڑا سفید رنگ نقرہ نکالتے ہیں اور اس پر عربی زین باندھتے اور اس کے ہرنے سے زرہ اور خود لٹکاتے ہیں اور دو تلواریں بھی بہ شکلِ ذو الفقار باندھتے اور ایک چادر سفید اس کی پیٹھ پر ڈالتے ہیں۔ اور اس پر لہو کے داغ ڈالتے ہیں اور تیر بھی اس کپڑے میں چھپاتے ہیں۔ اور اس کے گلے میں بطورِدستورِ عرب ایک دوشالہ باندھتے ہیں اور ایک آدمی آگے سے باگ ڈور اس کی پکڑتا ہے۔ اور سب شیعہ اس کے آگے سر ننگے ہو کر ماتم کرتے ہیں اور مرثیہ خوانی بھی ہوتی ہے۔ عجیب درد کا وقت ہوتا ہے۔ اگر ہندو دیکھتا ہے تو وہ بھی رو پڑتا ہے“(2) ۔

سیاہ لباس

اور اکثر شیعہ اور بعضے سنی لوگ بطور ماتم داری سیاہ پوش رہتے ہیں۔ اور تیسرے، اکیسویں، تیسویں، چالیسویں دن فاتحہ دلاتے ہیں“(3)۔

وہابیت  کے حملے

قرون وسطیٰ میں شیعہ اور سنی مل کر محرم مناتے تھے۔ اگرچہ عزاداری کے آداب و رسوم میں کچھ اختلاف پایاجاتا تھا لیکن اس کی بنیاد پر تصادم نہیں ہوتا تھا۔ اپریل 1802ء میں نجد سے جانے والے وہابی لشکر نے کربلا کو تاراج کیا، مزارات تباہ کئے اور پانچ ہزار کے قریب شیعہ قتل کر کے ان کے مال و اسباب کو لوٹا۔ اس سانحے نے برصغیر میں شاہ ولی الله کے مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل دہلوی کی حوصلہ افزائی کی۔  ان لوگوں نے 1818ء سے 1820ء کے سالوں میں اودھ، بہار اور بنگال میں سینکڑوںتعزیے جلائے اور  امام بارگاہوں پر حملے کئے۔ یادگار چشتی کے ان اقتباسات سے معلوم ہوتا ہے کہ پنجاب میں سید احمد بریلوی کے پیروکار، جنھیں اس زمانے میں وہابی کہا جاتا تھا،   عزاداری پر حملے کرنے لگ گئے تھے:۔

”اہلِ اسلام میں اب ایک اور فرقہ نکلا ہے اور اس کو وہابیہ فرقہ کہتے ہیں۔ اس زمانے میں دیکھتا ہوں کہ اکثر عالم لوگ اس طرف متوجہ ہیں۔العیاذباللہ! خدا ان کے عقائد کو درست کرے“(4)۔

” ہر بازار میں لوگ واسطے دیکھنے کے جمع ہوتے ہیں۔ ہر طرف سے گلاب کا عرق اس (ذوالجناح) پر چھڑکا جاتا ہے۔ مگر بعض تعصب سے اس کو ہنسی کرتے ہیں۔ بعض لوگ ان کو ”مدد چار یار“ کہتے ہیں اور اکثر اس پر کشت و خون ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ جب میجر کر کر صاحب بہادر لاہور میں ڈپٹی کمشنر تھے، تب سنی شیعہ میں بہت فساد ہوا اور بہت لوگ مجروح ہوئے۔ تب سے اب ہمیشہ شہر لاہور میں ڈپٹی کمشنر صاحب اور کوتوال اور تحصیل دار اور سب تھانے دار لوگ اور ایک دو کمپنی پلٹن کی اور ایک ملٹری صاحب اور ایک رسالہ، شیعہ لوگوں کی محافظت کے واسطے گھوڑے کے ساتھ ہوتا ہے تا کہ کوئی سنی دست درازی نہ کر سکے۔ مگر تو بھی وہ لوگ باز نہیں آتے“(5)۔

کربلا گامے شاہ

”الغرض شیعہ لوگ گھوڑے کو امام باڑے میں لے جاتے ہیں اور وہاں جا کر خوب ماتم کرتے ہیں۔ اور بطورِ نیاز وہاں کھانا کھلاتے ہیں۔ اور گھوڑے کا اسباب اتارتے ہیں۔شہرِ لاہور میں امام باڑہبھاٹی دروازے کے باہر متصل برف خانے کے ہے اور وہاں مدت سے گامے شاہ نام شخصِ فقیر اب تک رہتا ہے“(5)۔

مولوی غلام حسین صاحب

”اور دہم صفر کو شہرِ لاہور میں محلہٴ چابک سواراں ، مسجد چینی میں عرسِ مبارک جناب مولوی غلام حسین صاحب چشتی کا  ہوتا ہے۔ یہ مولوی صاحب بڑے معارف آگاہ اور صاحبِ عبادت و ریاضت تھے۔ پچیس برس حضرت نے استراحت نہیں فرمائی اور مسکینی میں سید السالکین اور فنا فی الحسین تھے۔صاحبِ رقت ایسے تھے کہ اگر کہیں نامِسرورِ دو جہاںؐ یا حسینؑ آ جاتا تھا تو عالمِ گریہ میں بے ہوش ہو جاتے تھے۔ اور کرامات ان کی ہزار ہا مشہور، سب روٴسائے  پنجاب ان کو قبلہ و کعبہ جانتے ہیں۔

اس عرس میں نان حلوہ تقسیم ہوتا ہے اور چراغاں خوب روشنی سے ہوتی ہے۔ روٴسا، فقراء سب حاضر ہوتے ہیں اور اس روز نذریں بھی چڑھتی ہیں اور گھنٹہ دو گھنٹہ مرثیہ خوانی بھی وہاں ہوتی ہے“(6)۔

حوالہ جات

ایک: مولوی نور محمد چشتی، ”یادگارِ چشتی“، مرتبہ گوہر نوشاہی، صفحہ 230 ۔ 234، مجلسِترقیٴ اردو ادب، لاہور۔

دو: مولوی نور محمد چشتی، ”یادگارِ چشتی“، مرتبہ گوہر نوشاہی، صفحہ 236، مجلسِترقیٴ اردو ادب، لاہور۔

تین: مولوی نور محمد چشتی، ”یادگارِ چشتی“، مرتبہ گوہر نوشاہی، صفحہ 238، مجلسِترقیٴ اردو ادب، لاہور۔

چار: مولوی نور محمد چشتی، ”یادگارِ چشتی“، مرتبہ گوہر نوشاہی، صفحہ 152، مجلسِترقیٴ اردو ادب، لاہور۔

پانچ: مولوی نور محمد چشتی، ”یادگارِ چشتی“، مرتبہ گوہر نوشاہی، صفحہ 237، مجلسِترقیٴ اردو ادب، لاہور۔

چھ: مولوی نور محمد چشتی، ”یادگارِ چشتی“، مرتبہ گوہر نوشاہی، صفحہ 246 ۔ 247، مجلسِترقیٴ اردو ادب، لاہور۔