Featured Original Articles Urdu Articles

افغان طالبان کا ہزارہ شیعوں سے برتاؤ

اکیس سال قبل کے افغانستان میں ایک عالم دین، ملا عمر، کی حکومت تھی۔ اس مضمون میں عبرت کیلئے اس حکومت کے مخالف فرقے سے تعلق رکھنے والے شیعہ ہزارہ کے ساتھ سلوک کا جائزہ پیش کرنا مقصود ہے۔

بامیان 1998: وسطی افغانستان میں ہزارہ قبیلے کے علاقے ہزارہ جات میں درجۂ حرارت نقطۂ انجماد سے گر چکا تھا۔ ہزارہ جات کا صرف دس فیصد رقبہ قابل کاشت ہے۔ اس سال گندم اور باجرے کی فصل اچھی نہیں ہوئی تھی۔ اگست 1997 سے طالبان نے جنوب مغرب اور مشرق کی طرف کے سارے راستے بند کر دئیے تھے۔ ہزارہ تک کوئی چیز نہیں پہنچ رہی تھی، شمال کی طرف سے کسی قسم کی امداد کا ملنا محال تھا۔ سرما کی برفباری نے بامیان تک خوراک کی رسائی میں رکاوٹ پیدا کر دی تھی۔ اقوام متحدہ اور عالمی فوڈ پروگرام نے طالبان سے امدادی قافلے گزارنے کیلئے اجازت چاہی لیکن طالبان نے انکار کر دیا۔ طالبان خود تو پاکستان سے ساٹھ ہزار ٹن گندم حاصل کر چکے تھے لیکن انہوں نے انسانی بنیادوں پر بامیان تک غذاکی رسائی کیلئے اقوام متحدہ کی امدادی ٹیموں کو گزرنے نہ دیا۔ گزشتہ بیس سال سے جاری افغان جنگ میں یہ پہلی بار ہوا تھا کہ کوئی فریق خوراک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہو۔

ہزارہ جات کے علاقے 1893 تک آزاد اور خودمختار تھے۔ پشتون حکمران امیر عبد الرحمن خان، جو مذہبی سوچ رکھتا تھا، نے اس علاقے کو فتح کیا تو یہاں بسنے والے ہزارہ شیعوں کی نسل کشی شروع کر دی۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کا قتل ہوا اور ہزاروں لوگوں کو غلام اور لونڈیاں بنا کر کابل میں بیچا گیا ۔ تیس سے چالیس لاکھ ہزارہ افغانستان کی سب سے بڑی شیعہ آبادی ہیں۔ طالبان انہیں منافق ، باغی اور اسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔ایک اور بات جو طالبان کیلئے ناقابل برداشت ہے وہ ہزارہ خواتین کا مردوں کے شانہ بشانہ اہم سیاسی، سماجی اور دفاعی ذمہ داریوں پر فائز ہونا ہے۔ اس وقت ہزارہ کی حزب وحدت کی اسی رکنی مرکزی کونسل میں بارہ خواتین شامل تھیں۔ کابل کے طالبان حکمرانوں کے تسلط، بدسلوکی اور تعصب کے باوجود ہزارہ اب جاگنے اور آگے بڑھنے لگے تھے۔ مئی میں طالبان نے مزار شریف پر حملہ کیا تو ان کو شکست دینے میں ہزارہ کا بھی کردار تھا۔اکتوبر 1997 میں انہوں نے طالبان کا حملہ کامیابی سے پسپا کیا۔ بامیان پر طالبان کا ایک کے بعد دوسرا حملہ ناکام ہو گیا تھا۔ ہزارہ نے محسوس کیا تھا کہ ان کی پشت پر کوہ ہندوکش اور سامنے طالبان تھے جن کا مددگار پاکستان تھا، ان کے پاس ڈٹ جانے کے سوا کوئی راستہ بھی نہیں تھا۔

طالبان نے کابل میں اسلامی قوانین کا نفاذ کیا جس کی عالمی سطح پر بہت مذمت ہوئی۔ اعضاءکاٹ ڈالنا، کوڑے مارنا، عورتوں کو سنگسار کرنا، کابل اور قندھار کا معمول بن چکا تھا۔ طالبان نے داڑھیوں کا سائز متعین کیا، کوئی شخص اس سے کم سائز کی داڑھی نہیں رکھ سکتا تھا۔ نومولود بچوں کے نام کے انتخاب میں طالبان سے منظوری لینا ہوتی تھی۔ طالبان نے کابل میں لڑکیوں کے سکول ختم کر دئیے۔ عورتوں کو گھروں میں بند رہنے کا حکم دے دیا گیا۔ کھڑکیوں کو کالا رنگ کرنے کا حکم ہوا تاکہ باہر نہ دیکھ سکیں۔

طالبان نے پاکستان اور سعودی عرب سے کہا کہ وہ شمال پر حملے کیلئے انکی مدد کریں۔ سعودی انٹیلی جنس کے سربراہ ترکی الفیصل جون میں قندھار گئے جس کے بعد طالبان کو مالی امداد اور چار سو ٹویوٹاپک اپ گاڑیاں دیں۔ پاکستان کی آئی ایس آئی نے طالبان کو لاجسٹک سپورٹ مہیا کرنے کیلئے دو سو ارب روپے مختص کئے۔ حملے کی تیاری میں مدد کیلئے آئی ایس آئی کے افسر اکثر قندھار جاتے رہتے تھے۔ پاکستان میں افغان مہاجر کیمپوں، سپاہِ صحابہ اور دیوبندی مدارس سے ہزاروں دہشتگرد طالبان میں شامل ہونے لگے۔ یہ دیکھ کر روس اور ایران نے ہزارہ اور ساتھ ساتھ احمد شاہ مسعود کو اپنے دفاع کیلئے اسلحہ دینا شروع کر دیا۔

جولائی میں طالبان نے ہرات کے شمال کی طرف پیش قدمی شروع کی اور دوستم کی فوج کو شکست دے کر 12 جولائی 1998 کو مائی مانا پر قبضہ کر لیا۔ یہاں ایک سو ٹینک اور ٹرک ان کے قبضے میں آ گئے اور آٹھ سو ازبک سپاہی جنگی قیدی بنے جنھیں طالبان نے قتل کر دیا۔ یکم اگست کو طالبان نے شبر غان میں دوستم کے ہیڈ کوارٹر پر قبضہ کر لیا اور وہ ترکی فرار ہو گیا۔ اب ہزارہ کو بچانے کیلئے پندرہ سو ہزارہ سپاہی اکیلے ہو گئے۔ وہ آخری دم تک لڑے اور جب انکا اسلحہ ختم ہوا تو صرف سو فوجی رہ گئے تھے۔صبح دس بجے ہزارہ فوجیوں کو شکست ہوئی تو مزار شریف کے شہریوں کو اسکی خبر نہ تھی۔ طالبان کو پچھلی جنگوں میں جو نقصان اٹھانا پڑا تھا اسکا بدلہ نہتے شہریوں سے لینا شروع کیا۔ ایک طالبان کمانڈر نے بعد میں بتایا کہ ملا عمر نے انہیں دو گھنٹے تک قتل عام کی اجازت دی تھی اور انہوں نے دو دن تک اس سلسلے کو جاری رکھا۔ طالبان اپنی پک اپ گاڑیوں میں ادھر ادھر پھرتے اور قتل عام کرتے رہے۔ دکاندار، ریڑھی بان، عورتیں، بچے، گاہک، حتی بھیڑ بکریاں اور گدھے تک گولیوں سے بھون دئیے گئے۔ گلیوں میں ہر طرف لاشیں بکھری ہوئی تھیں اور خون نے ہر شے کو ڈھانپ لیا تھا۔ اسلام میں میتوں کو بلا تاخیر دفن کرنے کا حکم ہے لیکن مزار شریف میں لاشوں کو گلنے سڑنے کیلئے چھوڑ دیا گیا تھا۔ کتے لاشوں کو کھاتے رہے۔ بدبو اتنی تھی کہ سانس لینا مشکل ہو گیا۔ عورتوں کی بے حرمتی کی گئی۔ ایک بیوہ نے بتایا کہ طالبان ہمارے گھر میں داخل ہوئے۔ انہوں نے پہلے میرے خاوند کو اور دو بھائیوں کو تین تین بار گولی ماری، اور اس کے بعد ان کے گلے اس طرح کاٹے جیسے جانوروں کو ذبح کیا جاتا ہے۔

پہلے دن کے بلا امتیاز قتل عام کے بعد انہوں نے شیعہ ہزارہ کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ انہوں نے شہر کے رہائشی حکمت یار کی حزب اسلامی کے پشتونوں کو گائیڈ بنایا۔ وہ شہر کے گلی کوچوں سے اچھی طرح واقف تھے۔ اگلے چند روز تک حزب اسلامی والوں کی مدد سے ہزارہ کے گھروں پر حملے ہوتے رہے۔ ہزاروں ہزارہ افراد کو جیل میں لے جایا گیا۔ جب وہاں تل دھرنے کی جگہ نہ رہی تو ہزارہ کو ٹینکوں میں بھرنا شروع کر دیا جہاں وہ دم گھٹنے سے مر جاتے۔ کچھ ہزارہ کو ٹینکروں میں ڈال کر صحرا لے جایا جاتا جہاں وہ گرمی اور حبس سے مر جاتے۔ 1997 میں طالبان کے ساتھ دوستم نے بھی ایسا وحشیانہ سلوک کیا تھا، وہ گویا اس سے سیکھ کر یہ بربریت شیعہ ہزارہ پر آزما رہے تھے۔ طالبان نے ملا نیازی کو مزار شریف کا گورنر مقرر کیا۔ بچ جانے والے شیعوں کیلئے اعلان کیا گیا کہ یا تو وہ سنی مسلک اختیار کر لیں یا اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ایران چلے جائیں یا موت قبول کر لیں۔شیعوں پر مساجد میں عبادت کرنے پر پابندی لگا دی گئی۔ کوئی غیر جانبدار مبصر موجود نہیں تھا جو لاشوں کو گنتا۔ بعد میں اقوام متحدہ کے ادارے نے اندازہ لگایا کہ پانچ سے چھ ہزار نہتے شہری قتل کئے گئے۔

طالبان کا ایک چھوٹا سا گروہ ملا دوست محمد کی سربراہی میں ایرانی قونصل خانے میں داخل ہوا۔ اس نے ایرانی سفارت کاروں، انٹیلی جنس کے ایک افسر اور ایک صحافی کو تہہ خانے میں لے جا کر گولی مار دی۔ حکومت ایران نے کچھ عرصہ پہلے حکومت پاکستان سے درخواست کی تھی کہ ان کے قونصل کے تحفظ کی ضمانت فراہم کی جائے۔ ایرانی جانتے تھے کہ آئی ایس آئی کے افسر بھی طالبان کے ساتھ مزار شریف گئے ہیں۔ اسی بنا پر وہ اپنے سفارتی عملے کی حفاظت کیلئے پاکستان کی مدد کے طالب تھے۔ طالبان پر سفارتی دباؤ بڑھا تو انہوں نے کہا کہ یہ چند گمراہ عناصر کی کاروائی تھی۔ ملا دوست محمد نے دو ہزارہ خواتین کو لونڈیاں بنا لیا تھا۔ اسکی بیوی نے ملا عمر سے شکایت کی کہ وہ دو ہزارہ ”فاحشاؤں “ کو گھر لے آیا ہے۔ ملا دوست محمد کو بعد میں کسی الزام کے تحت جیل ڈال دیا گیا۔

اس کے بعد طالبان نے بامیان پر تین اطراف سے حملہ کر دیا اور 13 ستمبر 1998 کو شہر پر قابض ہو گئے۔کریم خلیلی اور حزب وحدت کے دوسرے رہنما شہر کی بیشتر آبادی کو ساتھ لے کر پہاڑوں کی طرف چلے گئے۔ اس مرتبہ نہتے شہریوں کے انسانی حقوق کے حوالے سے بین الاقوامی اداروں نے بہت شور کیا تو ملا عمر نے اپنے دستوں کو حکم دیا کہ وہ کسی جرم کا ارتکاب نہ کریں۔ اس کے باوجود طالبان کے شہر میں داخلے کے چند ہفتوں بعد تک قتل کے چھوٹے موٹے واقعات ہوتے رہے۔ بامیان کے ایک نواحی گاؤں میں 50 معمر افراد کو طالبان نے قتل کر دیا ۔ جواں تو پہاڑوں میں چلے گئے تھے، پیچھے بوڑھے رہ گئے تھے جنھیں طالبان نے قتل کیا۔

بامیان پر قبضے کے پانچ دن بعد طالبان نے بدھا کے ایک مجسمے کا سر بارود سے اڑا دیا۔ یہ بت جس جگہ بنایا گیا تھا اس پر بھی اندھا دھند فائرنگ کی گئی۔یہ مجسمے دو ہزار سال سے موجود تھے اور افغانستان کے آثار قدیمہ میں ایک نمایاں حیثیت رکھتے تھے۔

Sources:

1. Ahmed Rashid, “Taliban”, Yale University Press, (2010

2. Khaled Ahmed, ” Sectarian War”, Oxford University Press, 2012.