Original Articles Urdu Articles

آیت اللہ کیلئے آئن سٹائن شیعہ مگر ڈارون کافر ہے – حمزہ ابراہیم

نوٹ : پاکستان میں سائنس اور مذہب کے درمیان تعلق بارے بحث ہمیشہ سے ہوتی آئی ہے اور یہ افراط و تفریط کا شکار بھی رہی ہے۔ لبرل سیکشن میں رجحان غالب یہ ہے کہ وہ پاکستان سمیت مسلمان اکثریت کے ممالک کے اندر جتنے بھی سماجی،معاشی اور سیاسی مسائل ہیں ان مسائل کی جڑ ‘مذہب اور مذہب کی روایتی تعبیر’ کو قرار دے ڈالتے ہیں۔ جبکہ مذہبی سیکشن کے اندر ایک غالب رجحان یہ ہے کہ وہ سائنس اور سماجی علوم میں ترقی کے ہر ایک باب کو کسی نہ کسی پرانی کتاب سے اخذ کردہ ثابت کرتے ہیں اور اب تو نوبت بہ این جا رسید کہ مذہبی پیشواؤں کو سائنس پر حرف آخر بتایا جانے لگا ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ افراط و تفریط دونوں جگہ موجود ہے۔ حمزہ ابراہیم کا یہ مضمون اس موضوع پر سنجیدہ بحث کو آگے بڑھانے کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔ اس مضون میں پیش کی گئی آراء سے کلی اتفاق کرنا اس ادارے کے لیے لازم نہیں ہے۔(ایڈیٹر تعمیر پاکستان ویب سائٹ )

کچھ سالوں سے پاکستان میں  بعض شیعہ ذاکرین کی طرف سے   دعوے کئے جا رہے ہیں کہ آئن سٹائن شیعہ تھا۔ ان کا سوشل میڈیا پر مذاق اڑایا جا رہا ہے لیکن  اصل میں یہ حرکت قم کے بعض شیعہ مراجع نے کی ہے جس کو ذاکرین نے ہو بہو نقل کیا ہے۔ اس کو شیعہ بنانے کا مقصد اس احساس کمتری سے نکلنا ہے جو کئی صدیوں سے سائنس میں کچھ نہ کرنے اور جدید دنیا کی تعمیر میں کوئی کردار ادا نہ کر سکنے کی وجہ سے شیعوں  سمیت سب مسلمانوں کے دامن گیر ہے۔ اب چونکہ یہ بات بہت پھیل چکی ہے لہذا اسکی اصلیت سامنے لانا ضروری ہے، چاہے کچھ لوگوں کو  تھوڑی کڑوی لگے۔

جنابِ شیخ اور جھوٹ؟

یہ شوشا سب سے پہلے ماضی کے شیعہ مرجع تقلید آیت اللہ بروجردی کے پوتے نے چھوڑا ۔ اس کے ثبوت کے طور پر وہ کوئی دستاویز نہ دکھا سکے۔  ان کے بقول آئن سٹائن ان کے دادا کے ساتھ خط و کتابت رکھتا تھا اور شیعہ اسلام کو قبول کیا لیکن اس  کا کوئی خط محفوظ نہیں رکھا جا سکا۔ بہانہ یہ ہے کہ شاہ نے وہ خطوط ضائع کئے، جبکہ اس ضائع کئے جانے کا کوئی ثبوت اور تاریخ اور دن وغیرہ نہیں دیئے جا سکے۔ مزے کی بات ہے کہ آیت اللہ بروجردی شاہ کے خلاف بھی نہ تھے اور علما کی سیاست میں  مداخلت کی مخالفت کرتے تھے۔ انکا اور آیت اللہ خمینی کا اختلاف کوئی چھپی بات نہیں۔ پھر شاہ اپنے حمایتی عالم کو اس اعزاز سے کیوں محروم رکھتا کہ اس کی طرف لکھے گئے آئن سٹائن کے خطوط تاریخ سے چھپانے کی کوشش کرتا۔ شاہ تو اسکو ایران کا فخر سمجھتا اور اس بات کا ڈھنڈورا پیٹتا

بہر حال اس بڑھک کو،” راوی“ کی ”صحت“ پر اعتبار کرتے ہوئے دو مراجع تقلید، آیت اللہ گلپائگانی اور آیت اللہ سبحانی، نے بھی اپنی گفتگو میں نقل کیا۔ ان بزرگوں کویہ علم نہیں کہ آج کے زمانے میں سچ تک رسائی محض راوی کی صحت کی محتاج نہیں بلکہ سچ کے  مادی آثار بھی محفوظ رہتے ہیں۔ روایت کی ضرورت اس دور کی تاریخ کے حقائق جاننے کیلئے ہوتی ہے جس کے آثار کم ہوں یا نہ ہوں۔ یہ چند دہائیوں پہلے کی بات ہے، اس کے آثار دیکھے بغیر اس بات کی تصدیق دل خوش کرنے اور احساس کمتری کے اظہار کے سوا کچھ نہیں ہے۔ مزے کی بات ہے کہ  یہ دونوں مرجع صاحبان  اس خیانت کے باوجود حوزہ علمیہ قم کی طرف سے  مرجعیت کے منصب سے معزول نہیں کئے گئے۔ یہی حرکت مجلس خبرگان کے سابقہ سربراہ مرحوم آیت اللہ مہدوی کنی نے کی۔ سن دو ہزار چودہ میں جامعہ امام صادق میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ۔

” بیرون ملک چاپ شدہ ایک کتاب کے مطابق آئن سٹائن نے کچھ لکھا تھا جس میں اس نے کہا کہ وہ شیعہ اسلام کو قبول کر رہا ہے، اور یہ کہ وہ امام جعفر صادقؑ کا شاگرد ہے۔  آئن سٹائن کہتا ہے کہ جب میں نے پیغمبر اکرمؐ کی معراج کے بارے میں سنا کہ جس میں وہ آسمان پر جا کر واپس آئے تو  گھر کا دروازہ ابھی ساکن بھی نہیں ہوا تھا، گویا ان کا سفر روشنی کی رفتار سے تیز طے پایا تھا۔   رسول اللهؐ روشنی کی رفتار سے تیز گئے تھے، مجھے صحیح معلوم نہیں کہ وہ کتنی ہے، شاید تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ!
کنڈی ابھی ہل ہی رہی تھی کہ وہ ساری کائنات کا دورہ کر کے واپس آ گئے۔ یہ وہی حرکت ہے جس کو آئن سٹائن نے سمجھ لیا تھا۔ اس سے پہلے اس بات کو ملّا صدرا نے سمجھا، حرکت جوہری، جس میں مکانی فاصلہطے نہیں ہوتا کہ مثلاً سڑک پار کرنے میں دس منٹ لگ جائیں۔ نورانی حرکت، یا روحانی حرکت، روشنی کی رفتار سے تیز ہوتی ہے۔آئن سٹائن نے کہا کہ جب میں نے رسول اللهؐ اور اہل بیتؑ کا موقف جانا تو مجھے پتا چلا کہ انہوں نے ان چیزوں کو مجھ سے کہیں پہلے درک کر لیا تھا“۔

معاملہ یہ ہے کہ آئن سٹائن کے نظریات اسکی کتب اور مقالوں میں واضح لکھے ہوئے ہیں، جو انٹرنیٹ پر  دستیاب  ہیں۔ وہ خدا کے یہودی تصور کو بھی نہیں مانتا تھا، جو اسلام جیسا ہے اور جس کی  وجہ سے مسلمانوں کو  یہودیوں سے نکاح کرنے  اور ان کا ذبیحہ کھانے کی اجازت ہے۔  اسکی تھیوری کا معراج سے  کوئی تعلق نہیں۔ معراج کے اعداد و شمار کو اگر نظریۂ اضافیت کی مساواتوں میں ڈال کر ان کو حل کیا  جائے تو جو نتائج نکلتے ہیں انکو بیان کرنے والے پر توہین رسالت کا مقدمہ درج ہو جائے گا۔ جو علما اسکی تھیوری کو معراج سے جوڑتے ہیں انکو اسکی تھیوری کی سمجھ نہیں آئی کیونکہ  متعلقہ علوم  نہیں جانتے۔ اس تھیوری کا’ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں′ قسم کی باتوں سےبالکل کوئی تعلق نہیں۔ نظریۂ اضافیت کا ملا صدرا کے حرکت جوہری والے تصور سے  کوئی تعلق نہیں، یہ نظریہ مکانی حرکت کے بارے میں ہی  ہے۔آیت الله صاحبان کو ان معاملات میں رائے دینے سے گریز کرنا چاہئیے جن کا علم نہیں رکھتے۔

قیاس مع الفارق

نظریۂ اضافیت میکسویل کی تھیوری  اور نیوٹن کی تھیوری کے سنگم پر پیدا ہونے والے نئے  افق کی تفہیم  کا نتیجہ ہے، اور خالصتاً ریاضی کی زبان میں بیان ہوا ہے۔  علماء کو ریاضی کہاں آتی ہے؟ مسلمانوں کے ممالک میں سینکڑوں یونیورسٹیاں ہیں، جن میں عالمی معیار کے سائنس دان بھی ہیں۔کبھی کسی مسلمان سائنس دان نے  ایسی بے پر کی نہیں اڑائی، کیوں کہ انھیں معلوم ہے کہ ایسے دعوے صرف قیاس آرائی سے نہیں کئے جا سکتے، ریاضی کی مساواتیں  حل کر کے ثابت کرنا ہوتا ہےاور تجربہ گاہوں میں قابلِ تکرار تجربے کرنے پڑتے ہیں۔ علماء البتہ حدود کا پاس نہ رکھتے ہوئے سائنس کے ایک دائرے کے قوانین کے دوسرے دائرے پر قیاس کرتے رہتے ہیں۔ علم میں قیاس اور تکے بازی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اگر ان باتوں میں کوئی حقیقت ہوتی تو ریاضی اور سائنس جاننے والے مسلمان سائنسی اصولوں اور ریاضی کی مساواتوں کی روشنی میں ان کو ثابت کرتے۔سائنس میں کسی ایک مسئلے کے حل کا قیاس دوسرے مسئلے پر کر کے اسکا حل نہیں ڈھونڈا جا سکتا۔ سائنس کا ایک عقلی طریقہ کار ہے، ہر مسئلے کا الگ سے ان عقلی اصولوں کے مطابق حل نکالنا ہوتا ہے۔ پھر سائنس اس پر ایک اور شرط تجربے کی بھی لگاتی ہے، یعنی اس حل کو تجربے کے میدان میں خود کو صحیح ثابت کرنا ہوتا ہے۔  ان عقلی اصولوں کو سیکھنے کا نام ہی ایم ایس سی کرنا ہے۔

علماء کا مسئلہ یہ ہے کہ سائنس کی الف ب بھی نہیں جانتے مگر قیاس آرائیاں کر کے  قرآن کی سائنسی تفسیر کرتے رہتے ہیں اور ان کو روکنے والا بھی کوئی نہیں۔ ان تفسیروں  کی ساری عمارت قیاس مع الفارق پر کھڑی ہے۔ ایسی تفسیروں میں نہ تو ریاضی کی کوئی مساوات ہوتی ہے نہ کسی  ایسے سائنسی تجربے کا بیان، جس کو کوئی بھی دہرا کر تصدیق کر سکتا ہو۔ ایک اور مصیبت یہ ہے کہ پسماندہ معاشروں کے احساس کمتری سے فائدہ اٹھانے کیلئے  جدید درسگاہوں سے پڑھے ہوئے مگر نالائق  لوگ ہمیشہ رہے ہیں جو” قرآن اینڈ سائنس “ یا  ”سپر مین ان اسلام“ جیسے موضوعات  پر صفحات کالے کر کے پسماندہ قوموں  کا فکری استحصال کرتے اور اس خیانت سے  خوب پیسہ کماتے ہیں۔ ان کی حرکتوں سے مولوی لوگ اور شیر ہوتے ہیں۔اس علمی خیانت کی قانون میں کوئی سزا بھی متعین نہیں کی جا سکتی۔

کیا اسلامی سائنس پیش گوئی کے قابل ہے؟

’سائنسی′  تھیوری کی ایک لازمی شرط اسکا پیش گوئی کے قابل ہوناہے۔ یعنی اگر ریاضیاتی بنیاد اور  متعدد تجربات کے بعد کسی مجموعہء انکشافات کو سائنس کے خاص اصطلاحی معنوں میں تھیوری کا درجہ دیا جانا ہے تو اس کو مستقبل میں کچھ تجربات یا ایجادات کی پیش گوئی بھی کرنی چاہیئے۔ مذہب کیلئے سائنسی سہارے ڈھونڈنے والے قیاسی علماء اگر اس بنیادی نکتے سے واقف ہوں تو مذہب کی سائنسی تفسیر کی کوشش مذہب میں انسان کو خدا کے برابر قرار دینا ہے۔ کیا معراج کی سائنسی تفسیر ایسی پیش گوئی کے قابل ہے جس میں کسی دوسرے انسان کو معراج کرائی جا سکے؟ ایسا ہرگز نہیں ہے۔

نظریۂ ارتقا کے ساتھ  سوتیلے بیٹے جیسا سلوک کیوں؟

ایسے علماء کی ایک   عادت  سائنس کی اصطلاحوں کے لغوی معانی کر کے قیاس کے گھوڑے کو دوڑانا ہے۔ سائنس میں تھیوری کا مطلب وہ نہیں جو تاریخ یا فلسفے میں ہوتا ہے۔ سائنس میں تھیوری کا مطلب قوانین کا مجموعہ ہے جو اٹل حقیقت ہوتی ہے اور اس پر سائنسدانوں کا اجماع ہوتا ہے۔ اسی طرح کوئی تھیوری کسی ایک سائنسدان کے نام سے منسوب تو ہو جاتی ہے لیکن اس سے پہلے اور اسکے بعد آنے والے سینکڑوں سائنسدان اسکی تکمیل میں حصہ ڈالتے ہیں، ایسا نہیں کہ سارا علم کسی ایک فرد نے کشف کیا ہو۔لہذا اضافیت کی تھیوری ، نیوٹن کی تھیوری کی تنسیخ نہیں تھی بلکہ سائنس کا نیا افق تھی۔ کیونکہ نیوٹن کی تھیوری تجربات کی بھٹی سے گذر چکی ہے اور مضبوط ریاضیاتی بنیادوں پر استوار ہے۔ چنانچہ آج بھی  انجنیئر نگ کے زیادہ تر شعبوں میں نیوٹن کی تھیوری ہی استعمال ہوتی ہے۔ علماء سائنس کے ارتقا کو پرانی تھیوری کا رد سمجھ لیتے ہیں۔ یہ بہانہ لگا کر وہ نظریۂ ارتقا کے عنقریب رد ہو جانے کے منتظر بھی ہیں، کیونکہ وہ انکو کفر معلوم ہوتا ہے۔ عجیب تماشا ہے کہ کسی طرح نظریۂ اضافیت کو مسلمان کر لیا ہے مگر نظریۂ ارتقا، جو اسی کی طرح مستند اور تجربے کی بھٹی سے گزرنے کے بعد تھیوری کے اعلی ٰ درجے تک پہنچا ہے، وہ ہنوز کافر ہے کیوں کہ ان کے قیاس کا گھوڑا اس کو  دینی کتب میں موجود روایات کے ساتھ کسی قسم کا  ربط نہیں دے سکا۔ (ویسے اندر کی بات یہ ہے کہ مولانا آزاد اور ڈاکٹر اسرار نے نظریہ ء ارتقاء کو بھی ’ مسلمان‘ کر لیا تھا، حالانکہ اس زبردستی کی کوئی ضرورت نہیں تھی)۔

کیا  مبینہ خطوط کو یہودیت چھپا رہی ہے؟

آئن سٹائن مذہبی آدمی نہیں تھا۔ اب بھی یہودیوں کی نوے فیصد سے زیادہ آبادی ملحد ہے۔ صیہیونزم قوم پرستی اور مذہب بیزاری کی تحریک تھی جس نے سو سال قبل ہی یہودی مذہب کی بنیادیں ہلا دی تھیں۔ یہ بات کہ اسکو شیعہ ماننے سے یہودیت کی بنیادیں ہل جاتیں بھی جہالت اور ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔  انسان جب حقائق کو نہ جانتا ہو تو وہ سازشی مفروضے گھڑتا ہے۔اگر آئن سٹائن شیعہ ہوجاتا تو مغرب یا یہودیت  کو یہ بات چھپانے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ اسکے یہودی ہونے سے کتنے لوگوں نے عیسائیت ترک کر کے یہودیت اختیار کی ہے؟  یہودیت بیچاری تو اس وقت خود ہٹلر کے مظالم سے پناہ مانگ رہی تھی۔ علمی دنیا میں ڈاکٹر عبدالسلام کا مقام بھی بہت بڑا ہے۔ وہ خود کو مسلمان کہتے تھے۔ ان کو تیسری دنیا کا آئن سٹائن کہا جاتا ہے۔ وہ عام نوبل انعام یافتگان سے بلند مقام رکھتے ہیں، جس کی وجہ انکے اعلی پائے کے مقالے ہیں۔ کیا مغرب نے انکو یہودی یا عیسائی ظاہر کرنے کی کوشش کی؟   ہاں ایک پاکستانی دیوبندی مفتی، مولانا یوسف لدھیانوی،  نے ان کے  خلاف  کئی سو صفحات کی ایک کتاب لکھی ہے جس میں انھیں معمولی سائنس دان ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ مزے کی بات ہے  کہ مفتی صاحب نے اپنی کتاب میں ریاضی کی ایک مساوات بھی حل نہیں کی نہ ڈاکٹر صاحب کے کسی مقالے کا تجزیہ کرنے کی ہمت کر سکے ہیں۔ بس ایسے ہی جھوٹ موٹ لکھ کر صفحات کالے کئے ہیں۔

رضا شاہ اور اسکے بیٹے محمد رضا شاہ کی شہنشاہت کے دوران ایران میں جدید تعلیمی ادارے قائم ہوئے جن کو انقلاب نے بھی باقی رکھا ہے۔ اسکے نتیجے میں اب ایران میں سائنس کے میدان میں کام ہو رہا ہے۔ نیوکلیئر ٹیکنالوجی میں تو ایران پاکستان سے بھی پیچھے ہے لیکن باقی میدانوں میں اسرائیل اور ترکی کا ہم پلہ ہو چکا ہے۔ لیکن ابھی بھی سویڈن، ڈنمارک اور ناروے جیسے چھوٹے یورپی ممالک کے قریب نہیں پہنچا۔ دو ایرانی ریاضی میں فیلڈ میڈل لے چکے ہیں جو ریاضی میں نوبل پرائز جیسا اعزاز ہے۔ کسی نے انکو یہودی ظاہر کرنے کی کوشش بھی نہیں کی۔ یہودیوں اور مسیحیوں کے پاس ہزاروں بڑے نام ہیں انکو  علماء کی طرح جھوٹ بول کر اپنے عوام کو بیوقوف بنانے کی ضرورت بھی  نہیں ہوتی۔

پاکستانی ذاکرین کیا کریں؟

شیعہ ذاکرین و خطباء  کو یہ سمجھنا چاہئیے کہ جب کوئی بات قم  یا نجف کے علماء سے سنیں تو اس کو اندھا اعتبار کر کے نقل نہ کر دیا کریں۔ ایران میں تو جان کی امان کیلئے سائنس دان ان بڑھکوں کی اصلیت کھولنے سےقاصر ہیں ورنہ توہین علماء کا مقدمہ درج ہو جائے گا اور عدالت میں انہی مراجع کا شاگرد سزا دینے کو تیار بیٹھا ہو گا۔(اگرچہ ایرانی یونیورسٹیوں میں طلبہ ایسے لطیفوں کا بہت مذاق اڑاتے ہیں، اور ایرانی سوشل میڈیا پر بھی پڑھےلکھے لوگ علماء کی ایسی حرکتوں کی خبر لیتے رہتے ہیں)۔  لیکن جب آپ ایسی بڑھکیں پاکستان آ کر دہراتے ہیں تو یہاں مذاق بنتا ہے۔  ٹھیک ہے کچھ جاہل لوگ آپ کو داد دیں گے، لیکن یہ بیچارے تو مردانہ کمزوری کے علاج والے حکیم کو بھی پیسے دے آتے ہیں۔  ان جاہل لوگوں کی داد کے بدلے آپ پڑھے لکھے لوگوں میں اپنی عزت کیوں کھونا چاہتے ہیں؟  قم اور نجف  کے حوزوں میں تو بہت جھوٹ مشہور ہیں: مثلاً طے الارض کرنا کوانٹم ٹیلی پورٹیشن سے ثابت ہوتا ہے، آیت الله حسن زادہ آملی کا ریاضی میں بڑا نام ہے،  تجسیم اعمال کا تعلق توانائی کے مادے میں بدلنے سے ہے،  آیت اللہ مجتھدی نے قم میں  یاعلی کا نعرہ مارا تو  امریکہ میں جان ایف کنیڈی کے قاتل کو گولی چلانے کی ہمت ہوئی، آیت اللہ تبریزیان کی طب اسلامی جدید میڈیکل سائنس کا متبادل ہے،  وغیرہ وغیرہ۔ آیت الله ناصر مکارم شیرازی نے قرآن کی تفسیر کرتے ہوئے بہت سے جعلی ” اعجاز“ بیان فرمائے ہیں ، جو وہاں مدارس کے نصاب میں بھی شامل ہیں۔ چنانچہ اگر  آپ وہاں سے کوئی غیر معمولی بات سنیں ، جس کو سازش کے تحت مسلمان  سائنس دانوں نے بھی  چھپا رکھا ہو مگر ان آیت الله صاحبان کو پتا چل گئی ہو، تو پاکستان آ کر نقل کرنے  سے پہلے  خود بھی تھوڑی تحقیق کر لیا کریں۔ ایسے  جھوٹ  کی ظاہری علامات میں سے ایک تو یہ ہے کہ ایسے دعووں  کو  ریاضی کی  مساوات کو حل کر کے  ثابت  نہیں کیا گیا ہوتا ، جو اس قسم کے  اکثر دعووں کی تصدیق  کیلئے لازمی شرط ہے۔ دوسری علامت یہ ہے کہ ایسی  کتب کا  ”فاضل“ مصنف کسی یونیورسٹی میں  اپنے دعوے سے متعلقہ ایم ایس سی کے کورس کی تدریس کے قابل نہیں ہوتا۔ مثلا مکارم شیرازی  صاحب کو کتاب پکڑا کر  ایم ایس سی کی کسی کلاس میں کھڑا کیا جائے تو وہ ایک صفحہ بھی نہیں پڑھا سکتے۔ سائنسی جریدوں میں کوئی مقالہ شائع کرنا تو دور کی بات ہے۔

تتمہ

یہ بیماری صرف شیعہ علماء کو ہی لاحق نہیں، ہر  پسماندہ معاشرے  میں ایسے لوگ موجود ہیں جو مذہب کے سائنسی معجزے  بنا بنا کر بیچتے ہیں۔ ہندوؤں  میں دیپک چوپڑا اور اہلسنت میں ہارون یحییٰ ، ذاکر نائیک، ادریس آزاد  اور سلطان بشیر الدین محمود،  وغیرہ یہی کام کرتے ہیں۔ افریقہ، ایشیاء اور امریکہ کی پسماندہ ریاستوں کے مسیحیوں میں بھی یہ سلسلہ موجود ہے لیکن یورپ کا مسیحی یہ سمجھ چکا ہے کہ مسیحی تہذیب کا حصہ رہنے کیلئے اسے سائنس پر جھوٹ باندھنے اور قیاس اور دھوکے کی ضرورت نہیں ہے۔

علمائے اسلام  کو سمجھنا ہو گا  کہ جب وہ جھوٹ کا سہارا لیکر قرآن سے سائنس نکالنے کی کوشش کریں گے تو مخالفین قرآن سے سائنسی غلطیاں بھی نکالیں گے۔  آپکے پاس انکو واجب القتل قرار دینے کے سوا کیا ہے؟  آجکل انٹرنیٹ  کا دور ہے، ایسی تحریریں انٹرنیٹ  پر عام ہیں جن میں آپکے دعوؤں  کو بنیاد بنا کر مسلمانوں کے تعلیم یافتہ طبقے کو بتایا جا رہا ہے کہ اسلام جھوٹ کا سہارا لیتا ہے۔ تعلیم یافتہ  مسلمان نوجوانوں کے پاس تو اتنا وقت نہیں کہ وہ اپکے مدارس کا نصاب دیکھے اور سمجھے کہ آپ یہ جھوٹ انجانے میں اور جہالت کی وجہ سے بولتے ہیں۔ آپکے ہاں اگر سائنس کی کوئی کتاب پڑھائی بھی جاتی ہے تو وہ ہزار سال پرانی بو علی سینا کے زمانے  کی سائنس سے تعلق رکھتی ہے۔

آیت اللہ صاحبان سے گذارش ہے کہ سائنس کی سچائیوں کو، جیسی کہ وہ ہیں اسی طرح سمجھنے کی کوشش کریں۔ سائنس کو کسی اسلامی عقیدے سے نتھی کئے یا اس سے لڑائے  بغیر بھی مانا جا سکتا ہے۔  سائنس کے عقلی اصول سیکھیں تاکہ قیاس آرائیوں سے جان چھڑا سکیں۔ اگر کسی مسئلے پر سائنس کی رائے لکھنا چاہتے ہیں تو سائنس کے عقلی اصولوں کی روشنی میں اسکا پورا حل پیش کریں تاکہ دودھ کا دودھ، پانی کا پانی ہو۔ اپنے تخیل کے کبوتر کو ریاضی اور تجربے کے پنجرے میں بند کریں۔ ایران میں کئی مایہ ناز پروفیسر موجود ہیں، یا ان سے تعلیم حاصل کریں یا  پھر سائنس کے بارے میں چپ رہ کر اپنے کام سے کام رکھیں۔ لڈو  کے کھیل کی طرح گوٹی گھما کر ایک تھیوری کو مسلمان اور دوسری کو کافر کہنا چھوڑ دیں۔ یہ بھی امید نہ رکھیں کہ سائنس کبھی ان تھیوریوں کی تردید کرے گی جن کو آپ نے کفر قرار دیا ہے۔ سائنس کبھی اپنی تردید نہیں کرتی، سائنس میں تبدیلی ارتقاء اور ترقی کی شکل میں آتی ہے، تنسیخ کی شکل میں نہیں آتی۔یہ بھی یاد رہے کہ کٹھ ملائیت اور عقل کی جنگ میں عقل ہی فتحیاب ہوتا ہے۔

سائنسی مفسرین  کے ڈسے ہوئے حضرات کی سہولت کیلئے ” اسلام اور سائنس“ کے موضوع پر پاکستان کے مایہ ناز سائنسدان ڈاکٹر پرویز ہود بھائی کی کتاب کو ڈاونلوڈ کرنے کا لنک درج ذیل ہے

https://mashalbooks.org/product/musalman-aur-science/