Featured Original Articles Urdu Articles

آج ذوالفقار کی ‘نصرت’ کی برسی ہے – عامر حسینی

نصرتم! تم اگر میرے ساتھ نہ کھڑی ہوتیں تو میں کب کا بکھر گیا ہوتا

( بشیر ریاض کہتے ہیں کہ 1985 سے 1995ء تک بیگم نصرت بھٹو سے وہ ان گنت بار ملے اور بیگم نصرت بھٹو نے ان کو بتایا کہ ذوالفقار علی بھٹو ان کو ‘نصرتم-میری نصرت’ کہہ کر بلاتے تھے۔)

میں جانتی ہوں کہ میرا شوہر پھانسی نہیں لگا بلکہ اسے جیل ہی میں مار ڈالا گیا تھا۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ اس کے بعد مرتضی و بے نظیر کو بھی مار ڈالیں گے۔ وہ سارے بھٹو خاندان کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔

بیگم نصرت بھٹو نے 1995ء میں یہ باتیں بشیر ریاض سے کی تھیں۔

آج 23 اکتوبر بیگم نصرت بھٹو کی برسی کا دن ہے۔

بیگم نصرت بھٹو 1929ء کو اصفہان میں مرزا محمد نجف کے گھر پیدا ہوئی تھیں۔

ان کے دادا ایک تاجر تھے جن کو ورثے میں عراق، ایران اور ہندوستان تک پھیلا ہوا کاروبار ملا تھا۔ وہ اوائل عمری میں نجف اشرف چلے آئے جہاں انھوں نے شیعہ اسلام کی تعلیم لی اور مجتھد و مراجع کے مقام تک پہنچے۔ ان کے بیٹے محمد مرزا نجف نے ان کا کاروبار سنبھالا اور اصفہان منتقل ہوگئے۔ برٹش دور میں ممبئی ایک بڑے کاروباری مرکز کے طور پر ابھرا تھا تو مرزا نجف اپنے خاندان سمیت ممبئی منتقل ہوگئے اور یہاں انھوں نے ‘بغداد سوپ فیکٹری’ کے نام سے صابن بنانے کا کارخانہ لگایا۔ اور اسی دوران کراچی بھی نئے تجارتی ساحلی مرکز کے طور پر ابھرنے لگا تھا تو مرزا محمد نجف اصفہانی پاکستان بننے سے کچھ سال قبل کراچی منتقل ہوگئے اور یہاں انھوں نے کئی ایک کاروبار بناڈالے۔

بیگم نصرت بھٹو نے بشیر ریاض کو بتایا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو بیگم نصرت بھٹو نے پہلی بار ممبئی کے قریب کھنڈالہ میں ایک ریزورٹ میں دیکھا تھا جب ان کی عمر 11 برس تھی۔ سر شاہنواز بھٹو اور مرزا محمد نجف کے خاندان اس ریزورٹ میں غالبا 1940ء کو ٹھہرے تھے۔ یہیں پر نصرت خانم اصفہانی کی دوستی ذوالفقار علی بھٹو کی بڑی بہن منور السلام سے ہوگئی۔

نصرت خانم اصفہانی نے سینٹ جوزف کالج کراچی سے گریجویشن کی۔ وہاں وہ اپنی بہن بہجت اور فرح اصفہانی کی والدہ سیدہ اختر زھرا کی کلاس فیلو تھیں۔

نصرت خانم اصفہانی اس کے نو سال بعد ذوالفقار علی بھٹو سے دوسری بار اس وقت ملیں جب ان کا خاندان منور الاسلام کی شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے کراچی میں ان کے گھر آیا ہوا تھا۔

نصرت خانم اصفہانی گریجویشن کرنے کے بعد نیشنل ویمن گارڈز میں بطور کیپٹن بھرتی ہوگئیں۔ اور بشیر ریاض کے بقول بیگم نصرت بھٹو نے ان کو بتایا تھا کہ کیپٹن کی یونیفارم میں ان کو ملبوس دیکھ کر ذوالفقار علی بھٹو متاثر ہوگئے اور انھوں نے ان کو شادی کی پیشکش کردی۔ یہ 1951ء کا زمانہ تھا۔ اس وقت بھٹو صاحب آکسفورڈ یونیورسٹی میں پڑھ رہے تھے۔

مس نصرت خانم اصفہانی نے اس پیشکش کو پہلے ٹھکرا دیا تھا۔ کیونکہ ذوالفقار علی بھٹو پہلے ہی سے شادی شدہ تھے۔ بیگم امیر السلام ان کی پہلی بیوی تھیں جن سے کوئی اولاد نہ تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی بہن ، اپنی بیوی اور سسر کو اس حوالے سے بتایا اور پھر ان کے خاندان والوں نے مرزا محمد نجف سے بات کی اور تب کہیں جاکر 1951ء کے آخر میں نصرت اصفہانی بیگم نصرت بھٹو بن گئیں اور بھٹو ان کو ساتھ لیکر ہنی مون کے لیے پیرس اور روم گئے اور وہاں سے آکسفورڈ آگئے۔ بھٹوصاحب ہاسٹل میں اور بيگم نصرت بھٹو ہوٹل میں رہا کرتی تھیں۔

بيگم نصرت بھٹو کا خاندان شیعہ اثناء عشری اسلام کا پیرو تھا اور ذوالفقار علی بھٹو کا خاندان صوفی سنّی اسلام کا پیرو تھا۔ بیگم نصرت بھٹو تادم اخیر شیعہ اثناعشری اسلام اور ذوالفقار علی بھٹو اپنی شہادت تک صوفی سنّی اسلام کے پیرو رہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق بے نظیر بھٹو، صنم بھٹو، مرتضی بھٹو اور شاہنواز بھٹو میں بھی صوفی سنّی اسلام کی طرف رجحان رہا جبکہ بيگم نصرت بھٹو نے بے نظیر کی شادی شیعہ زرداری خاندان میں کی جبکہ صنم بھٹو کی شادی بھی شیعہ خاندان میں ہوئی۔ اس طرح سے بھٹو خاندان سندھ کی صلح کل روایات میں مکمل طور پر گھلا ملا نظر آتا ہے۔

بيگم نصرت بھٹو نے ذوالفقار علی بھٹو کے جیل چلے جانے کے بعد ایوب دور میں ان کی سیاسی جدوجہد کو آگے بڑھایا اور ایسے ہی جب ذوالفقار علی بھٹو ایک جھوٹے مقدمہ قتل میں جیل بھیجے گئے تو تب بھی پیپلزپارٹی کی قیادت انھوں نے سنبھالی اور ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد انھوں نے بحالی جمہوریت کی جدوجہد کا آغاز کیا اور اس دوران ریاستی تشدد اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔

بیگم نصرت بھٹو ہمیشہ بے نظیر بھٹوکے ساتھ رہیں لیکن 1993ء میں ان کے بے نظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری سے میر مرتضی بھٹو کی وطن واپسی اور سیاست میں حصّہ لینے پر اختلافات ہوگئے۔ انھوں نے میر مرتضی بھٹو کا ساتھ دیا اور جب میر مرتضی بھٹو نے اپنی پیپلزپارٹی تشکیل دی تو وہ میر مرتضی بھٹو کے ساتھ کھڑی ہوگئیں۔ اس دور میں جب 1993ء نومبر میں انتخابات ہوئے تو میر مرتضی بھٹو مکّے کے انتخابی نشان پر لاڑکانہ کے صوبائی حلقے سے کھڑے تھے اور ان کے مدمقابل بے نظیر بھٹو نے بیگم اشرف عباسی کے بڑے بیٹے منور عباسی کو ٹکٹ دیا- یہ آج کل حلقہ پی ایس الیون لاڑکانہ کہلاتا ہے جہاں سے ضمنی انتخاب میں منور عباسی کا بیٹا معظم عباسی جیتا ہے/جتوایا گیا ہے۔ بيکم نصرت بھٹو نے میر مرتضی بھٹو کی الیکشن کمپئن خود چلائی اور ان کی اس موقعہ پر کئی گئی ایک تقریر یو ٹیوب پر موجود ہے۔

بیگم نصرت بھٹو نے مرتضی بھٹو کی المناک موت کے بعد میڈیا سے گفتگو بند کردی اور 1995ء کے آخر میں وہ شدت غم اور صدمے سے اپنی یاد داشت کھو بیٹھی تھیں۔

بیگم نصرت بھٹو ہمیشہ سے یہ چاہتی تھیں ذوالفقار علی بھٹو کو جس مقدمہ قتل میں پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی، اسے دوبارہ کھولا جائے تاکہ بھٹو کی بے گناہی ثابت ہوسکے۔ آصف علی زرداری نے اپنے دور صدارت میں بھٹو پھانسی کیس کو ریفرنس بناکر سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجا تھا لیکن تاحال یہ کیس ری اوپن نہیں ہوسکا۔

بیگم نصرت بھٹو سے انتہائی قریبی تعلقات رکھنے والے پارٹی کے لوگوں کا کہنا ہے کہ بیگم نصرت بھٹو نے 1993ء میں پیپلزپارٹی کے تنظیمی عہدے ٹکٹ ہولڈرز کے حوالے کیے جانے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

ان کو پارٹی کی تنظیموں کے اندر ذاتی وفاداریوں کو ترجیح دینے والے لوگوں کے اہم مناصب پر مسلط ہوجانے پر شدید غصّہ تھا اور یہی وجہ ہے کہ وہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ میر مرتضی بھٹو کو پارٹی کا کنٹرول دینے کی حامی تھیں۔

بیگم نصرت بھٹو 27 دسمبر 2007ء کو اپنی بیٹی بے نظیر بھٹو کی شہادت کی خبر نہیں ہوئی، کیونکہ وہ اپنی یاد داشت بالکل کھو چکی تھیں۔ پی پی پی پنجاب کے سابق صدر فخر زمان 2006ء میں بيکم نصرت بھٹو کو ملے تھے تو وہ کسی کو بھی پہچان نہیں پارہی تھیں۔ شیخ رفیق سے میری آخری ملاقات لاہور ہسپتال میں ہوئی تھی تو انھوں نے بات چیت کے دوران بتایا تھا کہ بیگم نصرت بھٹو کے بے نظیر بھٹو کے کئی ایک تنظیمی فیصلوں سے اختلافات 1992ء کے آخر میں شدت اختیار کرگئے تھے۔سب سے بڑا اختلاف مرتضی بھٹو کی وطن واپسی اور پارٹی میں ان کے کردار کا تعین تھا۔ بے نظیر بھٹو مرتضی کی وطن واپسی کی سخت مخالف تھیں اور پارٹی میں ان کو کوئی کردار دینے پر بھی راضی نہیں تھیں۔ اسی زمانے میں شیخ رفیق کے بقول بیگم نصرت بھٹو نے ان سمیت پنجاب میں پی پی پی کے کئی سینئر کارکنوں سے رابطہ کیا اور مرتضی بھٹو کے لیے بے نظیر بھٹو سے بات کرنے کو کہا۔ شیخ رفیق کا کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو سے جب انہوں نے فخر زمان، رانا شوکت سمیت درجن بھر انتہائی سینئر کارکنوں کے ساتھ ملکر بات کی تو بے نظیر بھٹو نے سختی سے مرتضی بھٹو کی ملک واپسی کی مخالفت کی اور یہ کہا کہ ضیاء الحق کی باقیات کسی صورت میں مرتضی بھٹو کو پاکستان واپس آنے کے بعد زندہ نہیں چھوڑے گی۔ ان کی اپنی جان کو شدید خطرات ہیں، ایک بھائی بچا ہے وہ بھی چلا گیا تو باقی کیا رہ جائے گا۔

شیخ رفیق مرحوم کا کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو نے اس موقعہ پر ان کو کچھ اور آف دا ریکارڈ باتیں بھی کیں تھیں جو بوجہ وہ بیان کرنے سے قاصر ہیں۔ بے نظیر بھٹو کے استدلال کو پنجاب پیپلزپارٹی کے سینئر کارکنوں نے معقول سمجھتے ہوئے اپنی رائے بیگم نصرت بھٹو کو پہنچائی تھی لیکن بقول شیخ رفیق احمد بیگم نصرت بھٹو شدید جذباتی کیفیت کا شکار تھیں اور انھوں نے اس موقعہ پر کچھ سخت باتیں بھی کیں تھیں اور مرتضی بھٹو کی وطن واپسی اور سیاست میں کردار ادا کرنے کی وہ حامی رہیں۔ شیخ رفیق کا کہنا تھا کہ جس وقت مرتضی بھٹو کا کراچی میں قتل ہوا تو اس کے بعد بیگم نصرت بھٹو نے سختی سے لبوں کو سی لیا تھا اور اس موضوع پر کوئی بات اس وقت بھی نہ کی جب وہ نصرت بھٹو سے تعزیت کے لیے گڑھی خدا بخش جاکر ان سے ملے تھے۔

بیگم نصرت بھٹو بلا کی ذہین اور انتہائی تیز یادداشت کی حامل تھیں۔ اپنے شوہر ذوالفقار علی بھٹو کی طرح ان کو اپنے سے ایک بار ملاقات کرنے والے شخص کا نہ تو چہرہ بھولتا تھا اور نہ ہی نام اگر ان کے سامنے وہ لیا گیا ہو۔