Featured Original Articles Urdu Articles

مولانا کی حاشیہ بردار سیاست – عامر حسینی

پاکستان میں ایک بڑی حقیقت یہ ہے کہ اس وقت مین سٹریم میڈیا ہو کہ سوشل میڈیا، اس کے لبرل اور رجعت پرست افق پر سب سے طاقتور سیکشن نواز شریف کیمپ سے تعلق رکھتے ہیں یا ان کا میلان اور جھکاؤ نواز شریف کیمپ کی طرف ہے۔

 اس کیمپ سے جو ہم آہنگ ہوتا ہے یہ طاقتور سیکشن اس کی امیج بلڈنگ کرنے لگتے ہیں۔ اور اس امیج بلڈنگ میں دو بڑے کلیے پیش نظر رکھے جاتے ہیں : ‘اینٹی اسٹبلشمنٹ ہے’ اور’بڑا جمہوریت پسند ہے’۔ اگر ‘وہ’ کوئی ‘مولانا’ ہو تو اس کا دامن پاکستان میں جہادی اور تکفیری طاقتوں کے ساتھ ملوث ہونے سے پاک دکھانے کی کوشش بھی بدرجہ اتم کی جاتی ہے۔

سردست ایسی امیج بلڈنگ جمعیت علمائے اسلام(فضل الرحمان گروپ) کی جارہی ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے موجودہ حکومت کے خلاف 27 اکتوبر سے سکھر سندھ سے آزادی مارچ کے نام سے احتجاج شروع کرنے کا اعلان کیا ہے اور یہ آزادی مارچ اکتوبر کی 29 تاریخ کو اسلام آباد میں ڈی چوک میں دھرنے کی صورت اختیار کرے گا اور اس وقت تک دھرنا ختم نہیں ہوگا جب تک عمران خان استعفا نہ دے ڈالیں اور نئے انتخابات کا اعلان نہ ہو۔

پاکستان میں نواز شریف کا حامی لبرل سیکشن اس ‘آزادی مارچ’ کے گرد  امید اور خوش فہمی کا ایک جال مسلسل بنے جارہا ہے۔  جیو-جنگ گروپ، ڈان میڈیا گروپ، آج میڈیا گروپ، ایکسپریس ٹرائبون، بین الاقوامی نشریاتی اداروں (بی بی سی اردو، وائس آف امریکہ، انڈی پینڈٹ اردو، ڈی ڈبلیو) اور سوشل میڈیا پر سرگرم مرکزی لبرل میڈیا گروپ جیسے نیادورٹی وی، ہم سب وغیرہ وغیرہ سے تعلق رکھنے والے چند درجن صحافی،تجزیہ نگار اور وی بلاگر سب کے سب مولانا فضل الرحمان کو مہان اینٹی اسٹبلشمنٹ اور بہت بڑا جمہوریت پسند ثابت کررہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے جب عمران خان کے خلاف ملین مارچ اور دھرنا دینے کے عزم کا اظہار کیا اور اسے کل جماعتی اپوزیشن کانفرنس میں بطور تجویز کے رکھا تو پی پی پی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور ایسے مارچ کا باقاعدہ حصّہ بننے سے انکار کیا- بلاول بھٹو کا یہ موقف جیسے ہی سامنے آیا، اس وقت سے اگر آپ نواز شریف کے حامی لبرل سیکشن کے مذکورہ بالا مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر سرگرمی کا جائزہ لیں تو آپ کو اس موقف پر اس سیکشن کا رد عمل ملے گا کہ ‘پی پی پی اسٹبلشمنٹ سے ڈیل کرگئی ہے۔’ اور ‘جھوٹ اتنی بار اور اتنے زور سے بولو کے سچ لگنے لگے’ کے کلیے پر عمل پیرا یہ سیکشن ملے گا۔

مولانا فضل الرحمان کا عمران خان اور ان کی سیاست پر بنیادی موقف کیا ہے؟ اس سوال کا جواب ہمیں مشرف دور میں یہ ملتا ہے کہ 2002ء کے قومی انتخابات میں عمران خان مشرف کے ساتھ اعلانیہ کھڑے تھے اور مولانا اس وقت ایجنسیوں کے بنائے مذہبی جماعتوں کے اتحاد’متحدہ مجلس عمل’ میں کھڑے تھے۔ اور جب قومی اسمبلی اور دو صوبائی اسمبلیوں میں ایم ایم اے کو ان کی استعداد سے زیادہ نشتیں ملیں تو ہم نے دیکھا کہ پی پی پی کی چئیرپرسن شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے ایم ایم اے کو ‘ملّا،ملٹری الائنس’ قرار دیا۔ پی پی پی سے بغاوت کرنے والے ایم این ایز بے نظیر بھٹو کی نظر میں ‘نیب زادے’ کہلائے۔ اس زمانے میں ایم ایم اے اپنا امیدوار لیکر آئی اور مسلم لیگ نواز اپنا امیدوار میدان میں لے آئی۔ اس زمانے میں نواز لیگ کو سپورٹ کیااسفند یار ولی، محمود اچکزئی، حاصل بزنجو وغیرہ نے۔ دیکھا جائے تو مشرف نے دس پٹریاٹ بناکر اور ایم ایم اے و نواز لیگ نے اپنے امیدوار کھڑے کرکے پیپلزپارٹی کو وزرات عظمی لینے سے روکا۔ تو اس دور میں ایم ایم اے اور پی ٹی آئی دونوں کی دونوں مشرف آمریت کے ہاتھ مضبوط کررہی تھیں۔

اسی دوران یہ ایم ایم اے اور خاص طور پر فضل الرحمان کی جماعت تھی جس نے مشرف کے ایل ایف او کو آئینی حثیت دے ڈالی اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم نے دیکھا کہ ایم ایم اے کی حکومت نے صوبہ خیبرپختون خوا کے اندر طالبانائزیشن کی مکمل حمایت کی۔

دوہزار چھے اور سات کے دوران ایم ایم اے جب ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی تو اس زمانے میں جب بے نظیر بھٹو یو اے ای اور امریکہ سمیت عالمی طاقتوں کے دباؤ کو لیکر مشرف کو گھٹنے ٹیک دینے پر مجبور ہونے میں کامیاب ہوچکی تھیں اور وہ نواز شریف کے ساتھ میثاق جمہوریت کرچکی تھیں تو اس دوران نواز شریف اپنے مربی سعودی عرب کی مکمل اشیر باد سے اے آر ڈی کو توڑ ڈالنے کے راستے پر چل پڑے اور اس کے مدمقابل ایک نیا اتحاد سامنے لیکر آئے۔ اس اتحاد کا نام تھا اے پی ڈی ایم اور اس میں پاکستان تحریک انصاف، مولانا فضل الرحمان کی جے یو آئی ایف، کے پی کے ،بلوچستان، سندھ کی قوم پرست جماعتیں اور چند ایک لیفٹ کے گروپ اور ساتھ ساتھ جماعت اسلامی بھی شامل تھی۔ اور اس اتحاد پر مشرف کیمپ کے اندر خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔

دوہزار چھے سے دو ہزار آٹھ  کے درمیانی عرصے میں اگر آپ پاکستان کے قومی اخبارات، تازہ تازہ نووارد ٹی ی چینلز اور ان میں خاص طور پر اس زمانے کی کنگ پارٹی ق لیگ کے حامی اور نواز شریف کیمپ کے حامی اخبارات و ٹی وی چینل کے بڑے بڑے ناموں کی صحافتی سرگرمی دیکھیں تو وہ بے نظیر بھٹو کی کردار کشی اور ان پر ڈیل کرنے کے الزامات سے بھری ملے گی جبکہ نواز شریف اور اس کے اتحادیوں کی اصول پسندی کے گن گاتی نظر آئے گی۔

اس دوران مولانا فضل الرحمان کو نہ تو عمران خان یہودی ایجنٹ نظر آئے نا ان کی سیاست اسلام دشمن نظر آئی اور نہ ہی ختم نبوت کے قانون کو کوئی خطرہ دکھائی دیا۔ اے پی ڈی ایم میں شامل ساری قوتیں 2007ء کے آخر تک پوری قوت کے ساتھ پی سی او زدہ افتخار چودھری کی بحالی کی تحریک کے ساتھ کھڑے رہے اور سارے زرایع ابلاغ ان کے ساتھ تھے۔ اس زمانے میں بھی بے نظیر بھٹو شہید اور ان کے کئی ایک پارٹی رہنماؤں نے افتخار چوھدری عدلیہ کی بحالی پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تو اسے بھی ‘ڈیل’ کہا گیا۔

بے نظیر بھٹو 27 دسمبر 2007ء کو شہید ہوگئیں اور 2008ء میں اقتدار مجبوری کے تحت پی پی پی کو منتقل کرنا پڑا تو اس زمانے میں مسلم لیگ نواز، جے یو آئی-ایف انتخابی عمل میں شریک ہوگئیں جبکہ عمران خان، جماعت اسلامی، بلوچ و سندھی و پشتون قوم پرست جماعتیں بائیکاٹ کیے رہیں۔ لیکن یہ سب جماعتيں افتخار چودھری عدلیہ بحالی میں کیانی- نواز- افتخار چودھری ٹرائیکا کے ساتھ رہیں اور اس کے بعد پی پی پی کی حکومت کو عدلیہ اور نیب کے زریعے مفلوج کرنے اور اس کے بھرپور قسم کے میڈیا ٹرائل میں یہ ساری قوتیں ایک دوسرےکے بازو مضبوط کرتی رہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے پی پی پی کے ساتھ 2008ء میں اتحاد کرلیا اور اہم وزراتوں پر قبضہ کرلیا لیکن پی پی پی کے خلاف جب اور جہاں بلاسفیمی کارڈ کھیلا گیا، کرپشن کارڈ کھیلا گیا تو اس کارڈ کے خلاف وہ کبھی میدان میں نہیں اترے۔ وہ سلمان تاثیر کے خلاف چلنے والی مہم کا حصّہ بنے۔ ان کا وزیر اعظم ہوتی پی پی پی کے بنائے وفاقی وزیر مذہبی امور حامد سعید کاظمی اور وفاقی وزیر برائے اقلیتی امور شہباز بھٹی کے خلاف مہم کا حصّہ بنا اور اس طرح سے پارٹی کا گورنر اور وفاقی وزیر شہباز بھٹی مارے گئے اور تیسرا وفاقی وزیر جیل پہنچا اور قاتلانہ حملے میں زخمی ہوا۔ پی پی پی کے خلاف میمو گیٹ سازش ہوئی تب بھی مولانا فضل الرحمان اور نواز شریف کی اینٹی اسٹبلشمنٹ رگ نہ پھڑکی اور نہ ہی حاصل بزنجو کو جلال آیا۔

جنرل کیانی

افتخار چودھری اور آئی ایس آئی کا چیف شجاع پاشا 2008ء سے 2012ء کےدرمیان پی پی پی کی حکومت کے خلاف جو بھی

کرتے رہے، اس کا مقصد تھا کیا؟

 پی پی پی اور اے این پی کو امریکی ایجنٹ، اسلام دشمن، ملکی سلامتی پر سودے بازی کرنے والی اور ملک کی معشیت کو برباد کرنے والی جماعتوں کے طور پر پیش کرنا اور تو اور اپنی جماعت کی قیادت اور کارکنوں کے قتل کی ذمہ داری بھی ان پر ڈالنا اور ملک بھر میں تکفیری و جہادی دہشت گردی کا الزام بھی پی پی پی کے سر ڈالنا۔ 2012ء کے الیکشن کیا تھے؟

 پی پی پی اور اے این پی کو عملی طور پر پنجاب،کے پی کے،بلوچستان میں الیکشن مہم ہی چلانے نہیں دی گئی اور جوڈیشری سے لائے گئے ریٹرننگ افسروں نے یہ الیکشن نواز شریف اور اس کے اتحادیوں کو جتوادیا۔ اور اس درمیان میں اسٹبلشمنٹ کا ایک دھڑا عمران خان کو پنجاب اور کے پی کے میں بیلنسنگ پالیسی کے زریعے سے کھڑا کرچکا تھا۔

اسٹبلشمنٹ کے اندر پی پی پی اور اس جیسی دوسری قوت اے این پی کو گرانے میں بالکل متفق تھی لیکن وہ مکمل طور پر نواز شریف پر اعتماد نہیں کرتی تھی، اسی لیے عمران خان سمیت کئی ایک گروپ بیلنسنگ پاور کے طور پر رکھے گئے۔ دیکھا جائے تو اس بیلنسنگ پاور نے کے پی کے میں اے این پی کے ساتھ ساتھ سب سے زیادہ نقصان مولانا فضل الرحمان کی جماعت کو پہنچایا۔ اور یہیں سے مولانا فضل الرحمان کو احساس ہوا کہ عمران خان یہودی اور قادیانی ایجنٹ ہے۔

اسی دوران 2012ء سے 2018ء تک پانچ سال کے دورانیے میں مولانا فضل الرحمان کے پاس مرکز میں چھے وزراتیں تھیں اور بلوچستان میں مالک کے دور میں ان کے پاس سینئر وزرات تھی اور ان پانچ سالوں میں مولانا فضل الرحمان کو اچھے سے اندازہ ہوچلا تھا کہ 2012ء میں اسٹبلشمنٹ نے پی ٹی آئی کو بیلنسنگ فورس کے طور پر جو میدان میں اتارا تھا اب وہ اسے وزرات عظمی کے سنگھاسن کی طرف لیجانے والی ہےاور کے پی کے میں اس مرتبہ بھی ان کا اقتدار میں آنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ جب بلوچستان میں حالات بہت پہلے سے واضح دکھائی دینے لگے تھے۔

پی پی پی کے اقتدار میں آنے کے ڈیڑھ سال بعد آسیہ بی بی کیس اور پھر بلاسفیمی کارڈ کے استعمال اور ساتھ ساتھ غدار،غدار کی سیاست کے عروج پر بھی ہم نے کہیں نہیں دیکھا تھا کہ فضل الرحمان اپنے مدرسوں کی طاقت کے ساتھ پی پی پی کے بچاؤ کے لیے آگئے ہوں بلکہ اس دوران آسیہ بی بی کیس میں سلمان تاثیر کے قاتل کے دفاع میں کھڑے ہوگئے اور نواز لیگ بھی اس میں ان کے ساتھ تھی- لیکن ختم نبوت کارڈ جب نواز شریف کے خلاف استعمال ہونے لگا تو اس زمانے میں مولانا نواز شریف کے دفاع میں کھڑے ہوگئے۔

 لیکن 2018ء میں وہ اسمبلی میں ہی نہیں پہنچ پائیں گےاور ان کا وفاقی حکومت کی تشکیل میں بھی کوئی کردار نہیں ہوگا،اس طرح کا منظرنامہ انھوں نے کبھی نہیں سوچا تھا۔ یہ منظر نامہ سامنے آنے پر مولانا فضل الرحمان کا سیاسی بیانیہ ‘سلیکٹرز’ کے خلاف ‘انقلابی لفاظی’ سے بھرپور ہوگیا۔

اس پورے دور میں پاکستان اور عالمی سطح پر لبرل میڈیا اسٹبلشمنٹ کے طاقتور نواز شریف حامی سیکشن مولانا فضل الرحمان کی موقعہ پرستانہ سیاست کو ‘دانائی،زیرکی’قرار دینے کے ساتھ ساتھ ان کی سیاسی بلوغت سے تعبیر کیا۔

آج بھی یہ طاقتور نواز شریف حامی لبرل سیکشن مولانا فضل الرحمان کی سیاست کو خالص اینٹی اسٹبلشمنٹ اورجمہوریت پسند سیاست بناکر ان کی خوب امیج بلڈنگ کررہا ہے۔ جبکہ اگر فضل الرحمان کی 2012ء سے 2018ء اور ابتک کی سیاست کا معروضی تجزیہ کیا جائے تو یہ محمود اچکزئی اور حاصل بزنجو کی سیاست سے مختلف نہیں ہے اور تینوں کی سیاست نواز شریف کی ‘حاشیہ برداری’ کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

پاکستان تحریک انصاف اور اس کی اتحادی جماعتوں کے ساتھ اس وقت اگر فوجیائی سیاست کو دیکھا جائے تو وہ مولانا فضل الرحمان کی اجیت دول سے ملاقات کی تصویریں اور ساتھ مولانا فضل الرحمان کی جہادی اور مذہبی کارڈ کی سیاست کی مثالوں کو ہائی لائٹ کررہا ہے۔ جمعیت کہتی ہے کہ فضل الرحمان اجیت دول کے تھنک ٹینک پروگرام میں شرکت سے پہلے آئی ایس آئی سے بریفنگ لیکر گئے اور آئے تو آئی ایس آئی کو پوری رپورٹ دی۔ اس سے دونوں فریق کے خارجہ امور پر ایک پیج پر ہونے کا ثبوت تو مل ہی جاتا ہے لیکن اسے مولانا ‘خالص اینٹی اسٹبلشمنٹ’ پھر بھی ثابت نہیں ہوتے۔