Original Articles Urdu Articles

جے یو آئی – ایف کے سالار, آر ایس ایس کے کیڈرز

فسطائیت کے جراثیم درمیانے طبقے کی مجموعی نفسیات میں ہمیشہ پنہاں ہوتے ہیں اور حکمران طبقے کی باہمی لڑائیوں میں جب معاشی بحران شدت پکڑتا ہے تو یہ جراثیم اپنے اثرات دکھاتے ہیں-

پاکستان کا ایک لبرل سیکشن مولانا فضل الرحمان کے نیٹ ورک کے اندر پنہاں اسی فسطائیت کو بڑھا چڑھا کر تعریفی انداز میں پیش کررہا ہے-

یہ سیکشن وہ ہے جو خود تو موقعہ پرستی اور ضمیر فروشی کے سبب پاکستان میں جمہوری جدوجہد کی درخشاں روایت کو کب کا بے نام کرچُکا اور اب یہ پاکستان میں غیرمنتخب مقتدر طاقتوں کو ‘موت سے ڈرا کر بخار خریدنے’ پر مجبور کرنے کا خواب دیکھ رہا ہے-

نواز شریف ‘ووٹ کو عزت دو’ کا نعرہ لگاکر کرائے پر جیسے میڈیا کے بڑے لفافہ صحافیوں کے زریعے سے سلطنت شریفیہ کی بحالی کا مشن آگے بڑھانے کا خواب دیکھتا ہے، ایسے ہی اُس نے کرائے پر جے یو آئی – ایف کو اسلام آباد بھیجنے کا پروگرام بنایا ہے

اُس کا پیغام بہت واضح ہے کہ اگر سلطنت شریفیہ بحال نہ کی تو پھر ‘ریاست’ رہے گی یا نہیں اس کی ضمانت نہیں ہے

جے یو آئی – ایف کے زریعے سے نواز شریف اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کرنے کا سوچ رہا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ عمران خان کے حامی مولوی اور جے یو آئی کے ملاں آپس میں ٹکرائیں اور اسقدر ‘انارکی’ پھیلے کہ اُس سے گھبرا کر لاڈلہ بنانے والے نواز شریف کی سلطنت بحال کردیں

پیپلزپارٹی کے کچھ نادان لوگ بیگانی شادی میں دیوانہ عبداللہ بنے مولانا فضل الرحمان کی قوت کے گُن گارہے ہیں

کچھ تو ایسے ہیں وہ چناب نگر کی کالونی میں فضل الرحمان کی ایک کانفرنس میں لوگوں کی تعداد گنوا رہے ہیں

پی پی پی کہہ چُکی کہ وہ دھرنے کا حصہ نہیں بنے گی اے این پی کہہ چُکی کہ وہ بھی نہیں بنے گی نواز لیگ کا صدر اور اُس کا گروپ ابتک ہچکچارہا ہے

نواز شریف کا ٹولہ اپنی ذات کے لیے آگ لگانا چاہتا ہے انارکی اور نراجیت کے علمبرداروں کو نواز شریف کرائے پر خرید کر اپنے سابقہ مربیوں کو بلیک میل کررہا ہے اور مجھے یقین ہے اگر سابقہ مربی ‘ڈٹ گئے’ تو نازو پھر آگ لگوانے سے باز نہیں آئے گا کینہ باز اونٹ ہے یہ