Featured Original Articles Urdu Articles

فرقہ پرست، نام نہاد جہادی، شریفیان و نیازیان اور کمرشل لبرل آخری تجزیے میں قلم فروش/تقریر فروش نکلتے ہیں – ریاض ملک

پاکستان میں ‘شریفوں’ کو مزاحمت کی علامت بناکر پیش کرنے والے لبرل سیکشن کو نواز شریف سے پوچھنے کی ضرورت تو بنتی ہے کہ وہ اس اردوگان کے ساتھ پیار کی پینگیں کیوں ڈالے رہے جو آج سیکولر کردوں پر بم برسا رہا ہے۔

اردوگان کی قیادت میں ترکی نے مغربی ایشیا کے خطے میں انتہائی تباہ کن کردار ادا کیا ہے۔ اردوگان کا تازہ کارنامہ یہ ہے کہ وہ شام میں کردوں کے لیے قصائی بن چکا ہے۔ شامی کردوں سے بہتر کون اس بات سے واقف ہوگا امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب نے ہی ان کو شام کے خلاف استعمال کیا۔

پاکستان میں جعلی غازی اور کاغڈی شیروں میں ہمیشہ سے اردوگان جیسے جدید عثمانیوں کے لیے غیر معمولی عقیدت کی نفسیات موجود رہی ہے۔ یہ نسفیات محض عمران خان تک محدود نہیں ہے بلکہ خاندان شریفیہ کے اندر بھی یہ بہت اندر تک اپنی جڑیں رکھتی ہے۔

نواز اور شہباز دونوں شریفوں نے کرپشن کے ٹرکش ماڈل کی نقل کی- اس ماڈل نے خود نمائی کے لیے بنائے گئے منصوبوں پر قیمتی غیر ملکی زرمبادلہ خرچ کرنے کی ریت ڈالی جن میں بھاری کرپشن اور کمیشن کے بے پناہ مواقع میسر آتے رہے۔

شریفوں نے ککس بیکس ، کرپشن اور عوام میں سستی مقبولیت کے منصوبوں کے نظام کو مکمل طور پر رواج دیا۔ اس کرپشن کو استعمال کرتے ہوئے، انھوں نے حکومتی فنڈز کے ایک بڑے حصّے کو ناجائز طور پر میڈیا میں اپنی پروجیکشن اور اپنے مدمقابل قوتوں کی کردار کشی کے لیے استعمال کیا۔ پی پی پی ان کا سب سے بڑا نشانہ تھی۔

نواز شریف کی سب سے اہم میڈیا انوسمٹمنٹ/سرمایہ کاری عرف لفافہ جرنلزم جنگ/جیو اور ڈان میڈیا گرپوں جیسے بڑے میڈیا گروپوں میں کارپوریٹ ہرکاروں کو خریدنے میں صرف ہوئی۔ اس لفافہ جرنلزم کے لیے نواز شریف اینڈ کو نے حکومتی فنڈز اور اپنی ناجائز زرایع سے حاصل کی ہوئی بھاری بھر کم دولت کا کچھ حصّہ ڈان اور جنگ /جیو جیسے بڑے گروپوں میں اپنے ہرکاروں کو نوازنے میں صرف کیا۔

اقربا پروری، درباریوں کو نوازنے اور بدعنوانی یہ ایسی مشترکہ اقدار ہیں جو ہمیں شریفوں، نیازیوں اور اردگانیوں میں مشترک نظر آتی ہیں۔

پاکستان کا ایک لیفٹ اور لبرل سیکشن جس کے ڈارلنگ نواز شریف ہیں کو آج نواز شریف سے یہ ضرور پوچھنے کی ضرورت ہے کہ ان کا محبوب اور ہر دلعزیز صدر اردوگان سیکولر- لیفٹ کردوں پر بمباری کیوں کررہا ہے؟

پاکستان میں جماعت اسلامی، تحریک انصاف سمیت دائیں بازو کے وہ سارے گروہ جو ترک صدر اردوغان کو مسلم امہ کا حقیقی قائد بناکر پیش کرتے رہے اور یو این کی جنرل اسمبلی میں یورپ میں مسلمانوں سے نسل پرستانہ سلوک پر اس کی بڑھکوں پر سر دھنتے رہے ان سے ہمارا سوال یہ ہے کہ آج سنّی کردوں پر ترکوں کی یلغار پر وہ خاموش کیوں ہیں؟

بشار الاسد کو شام میں سنّی مسلمانوں کا قاتل قرار دیکر پاکستان میں فرقہ واریت کو ہوا دینے والی دائیں بازو کی جماعتیں پہلے سعودی عرب کی یمن پر جارحیت پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے رہیں اور عراق و شام میں داعش کے درندوں کے مظالم کو جہاد بناکر پیش کرتی رہیں، اب وہ ترک صدر کی شمالی شام میں سنّی کردوں پر حملے کی بھی کوئی اور توجیح ڈھونڈ لائیں گی-

پاکستان میں دائیں بازو کے فرقہ پرست ہوں یا مسلم امہ کے نام پر قتل و غارت گری کو جہاد قرار دینے والے ہوں یا مڈل ایسٹ میں جمہوریت و انسانی حقوق کے نام پر امریکی پراکسی جنگوں پر سیکولر- لبرل ملمع کاری کرنے والے کمرشل لبرل ہوں اخری تجزیے میں موقع پرست، تنخواہ دار قلم فروش یا تقریر فروش ہی ثابت ہوتے ہیں-