Featured Original Articles Urdu Articles

شریف براداران کی سیاست -عامر حسینی

نواز شریف کو لگ رہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے کہنے پر پارلیمنٹ سے استعفے پہلے دن ہی پیش کردینے چاہئیے تھے، دوسری جماعتوں کی بات مان جانا غلطی تھا

نواز شریف اب فضل الرحمان کے ساتھ دھرنے کا حصّہ بننا چاہتے ہیں ۔ انھوں نے ایک خط شباز شریف کو دوسرا اپنے بیٹے حسین نواز کو بھیجا اور ساتھ ہی ان کے داماد نے صحافیوں کو حسین نواز کو خط پہنچنے کی خبر بھی دی جبکہ نواز شریف نے صرف شہباز شریف کو خط لکھ کر ہدایت کی خبر صحافیوں کو احتساب عدالت کے باہر دی تھی۔

تو کیا شہباز شریف سے خطرہ ہے کہ وہ خط کے مندرجات پارٹی رہنماؤں تک ٹھیک نہیں پہنچائیں گے؟

نواز شریف اور شہباز شریف دونوں کا مقصد اپنی سیاست کو بچانا ہے – نواز شریف اپنی سیاسی جانشینی مریم نواز اور بیٹے حسین نواز تک منتقل کرنا چاہتے ہیں اور وہ اسٹبلشمنٹ میں اپنے سیاسی مستقبل کو تاریک کرنے والوں کو بھی سبق دینا چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شہباز شریف اپنے آپ کو پھر ‘قابل اعتماد’ ثابت کرتے ہوئے ‘لاڈلے’ بنکر اقتدار تک پہنچنا چاہتے ہیں لیکن شرط کڑی ہے کہ نواز شریف کا باب بند ہو جو بند ہونے کے آثار نظر نہیں آتے

سیاست دونوں طرف سے اپنی اپنی ذات سے آگے نہیں جا پارہی

دونوں بھائیوں کی اپنی ‘ذات’ سے آگے نہ دیکھنے کی سیاست اپوزیشن میں فضل الرحمان، حاصل بزنجو، محمود اچکزئی کو تو وارے کھاتی ہے لیکن یہ سیاست کم از کم پی پی پی ، اے این پی ، اور اپوزیشن و حکومت کے بین بین بیٹھے سردار اختر مینگل کو وارے نہیں کھاتی ، ایسے ہی یہ سیاست پی ٹی ایم سمیت ملک میں حقوق کے لیے چل رہی تحریکوں اور ان کے سرکردہ سیاسی لوگوں کو بھی وارے نہیں کھاتی

نواز شریف کا معاملہ ہے ‘ میں نہیں اور اب نہیں تو پھر کوئی بھی نہیں اور کبھی بھی نہیں ‘

چاہے اس سے ملک میں جمہوریت اور پارلیمنٹ کا باب ہی بند کیوں نہ ہوجائے

شہباز شریف اسٹبلشمنٹ میں اس وقت طاقتور غالب گروہ کے ساتھ

trust deficit

میں کمی اور پھر سے ‘لاڈلی’ پوزیشن کمانے کے خیال میں ہیں اور کچھ دیر کے لیے وہ اب وہ اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کے ساتھ چلنے کو تیار ہیں، ان کے خیال میں معاشی ابتری اور عالمی حالات موجودہ ‘لاڈلے’ کو گرائیں گے اور نئے الیکشن میں ان کے لیے پی پی پی کو پنجاب ان کے ساتھ اشتراک میں چلانے کے لیے منانا مشکل نہیں ہوگا۔ یا اگر مقدر یاوری کرے گا تو اسٹبلشمنٹ سے ملکر وہ پی پی پی سے ہٹ کر 2013ء میں چھوڑ کر جانے والوں کو ساتھ ملاکر حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوں گے (مطلب داؤ پر ہیں جیسے لگے لگالیں گے)

ایک بھائی غصّے اور جنون، انتقام اور کینے کی آگ میں سب کچھ بھسم کرنا چاہتا ہے اگر اس کی بات نہیں مانی گئی تو ،دوسرا بھائی داؤ پر ہے

پاکستان میں جمہوری حقوق، انسانی حقوق، معاشی و سماجی حقوق، صوبوں کی خود مختاری ، سرائیکی صوبے کے قیام ، مجبور و محکوم نسلی و مذہبی گروہوں کی جدوجہد ان سب کو ملاکر وفاق پاکستان کے اندر جمہوری سیاست کو آگے لیجانے کے لیے جس سطح کے صبر، استقلال اور استقامت پر مبنی جدوجہد اور جس سیاسی وژن کی ضرورت ہے اس سے یہ دونوں بھائی ‘الا ماشاء اللہ’ فارغ نظر آتے ہیں۔

ان کو تو بس اپنی ذات کا فائدہ سب سے مقدم ہے۔

یہ دونوں بھائیوں کی افتخار چودھری اور کیانی سے ملکر کی جانے والی ذاتی اور سازشی مقاصد پر مبنی سیاست کا خمیازہ ہے جو پورا وفاق پاکستان بھگت رہا ہے۔

اسے کوئی غرض نہیں ہے کہ اسلام آباد میں اگر اس کا حمایت یافتہ ملّا اور تحریک انصاف کے سپر بنکر آنے والے ملاؤں کے درمیان جوڑ پڑنے سے انارکی پھیلتی ہے اور اس سے ہم سب واپس اکتوبر 1958ء یا پانچ جولائی 1977ء یا 12 اکتوبر 99ء میں پہنچ جاتے ہیں۔

اسے اس بات سے بھی کوئی غرض نہیں ہے کہ اگر دھرنا دباؤ سے ان کو لاڈلا بنانے کی وردی والوں سے ہوئی تو ان کو دوبارہ سیاسی عمل میں مداخلت سے اور یہی مشق پھر دوہرانے سے کون باز رکھے گا

پی پی پی نے سات نکات پیش کیے ہیں اور نواز شریف ان سات نکات پر تو اتفاق رائے پیدا کرنے پر زور نہیں دیتا بلکہ دھرنے سے بلیک میل کرکے وردی والوں کے زریعے اقتدار کی راہ ہموار کرنا چاہتا ہے ، یہ کونسی جمہوریت اور ووٹ کی عزت بحال کرانے کی سیاست ہے؟