Featured Original Articles Urdu Articles

مولانا فضل الرحمان کا دھرنا اور کمرشل لبرل میڈیا کا دہرا معیار – عامر حسینی

 

 

 

ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کی حمایت میں ڈی چوک میں جمع ہونے والے مجمع میں ایک بہت بڑی تعداد نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی تھی- اور اگرچہ ڈاکٹر طاہر القادری کے ہاں ان کی تنظیم کی لڑکیاں عبایا پہنے ہوتیں اور سر ڈھانپے ہوتی تھیں جبکہ عمران خان کے ہاں ایسی لڑکیاں بہت بڑی تعداد میں تھیں جو جینز اور کرتی میں ہوتی تھیں-

مولانا فضل الرحمان اور ان کی پارٹی کے رہنماؤں میں سے کئی ایک کو ڈی چوک میں اور اس کے آس پاس استعمال شدہ ‘کنڈوم’ نظر آتے۔ اور ‘تہذیب’ کا جنازہ نکلتا ہوا روز دکھائی دیتا تھا۔

عمران خان کے کنٹینر کے اندر رات کو کئی ‘انہونیوں’ کا ‘کشف’ مولانا کے سوشل میڈیا سیل کو ہوجایا کرتا تھا اور اسے مسلم لیگ نواز کا ضیاء الحقی دور کا تربیت یافتہ میڈیا کیڈر (جن میں سے اکثر جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت سے آئے ہوئے لوگ تھے اور ساتھ ساتھ کئی ایک کو پرانے ‘احراری صحافیوں’ کے ہاتھ بھی لگے ہوئے تھے) سوشل میڈیا پر خوب پھیلایا کرتا تھا۔

مولانا فضل الرحمان اور ان کے ساتھی وفاقی حکومت میں چھے وزراتوں اور نواز شریف کے دستر خوان سے ملنے والے نان و جویں کے خمار میں اتنے مست (بدمست نہیں کہوں گا گستاخی اور بے ادبی ہو جائے گی) تھے کہ ان کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ وہ دھرنے والوں کے خلاف جس ‘وہی وہانوی’ طرز کی ‘جنسیاتی گفتگو کو چٹخارے لیکر بیان کررہے ہیں وہ کبھی ان کو خود بھی سننے اور دیکھنے کو مل جائے گی۔

مولانا فضل الرحمان 1993ء میں پاکستان پیپلزپارٹی کے اتحادی بنے تھے اور کشمیر کمیٹی کے چئیرمین بھی- اس زمانے میں جب کبھی مولانا کی شہید بے نظیر بھٹو سے ملاقات کی کوئی تصویر اخبار میں شایع ہوتی تو مسلم لیگ اور جماعت اسلامی کا پروپیگنڈا سیل وہ باتیں پھیلاتا جن کو دوہرانے کی مجھ میں آج بھی ہمت نہیں ہے۔

لیکن مولانا فضل الرحمان جب خود نواز شریف کے اتحادی بنے تو انھوں نے نواز لیگ اور جماعت اسلامی کے میڈیا سیل کی بدزبانی کے سارے ریکارڈ توڑ ڈالے۔

آج مولانا کو یوتھیوں کے پروپیگنڈا سیل میں تیار ہونے والے ‘جعلی سرکاری لیٹرز’ اور ‘جعلی ہدایت ناموں’ کا سامنا ہے۔ جن میں ‘لواطت’ اور مولانا فضل الرحمان کے ‘آزادی مارچ’ کے درمیان (واقعی جھوٹے) تعلقات کا چرچا ہورہا ہے۔

یوتھیوں کے پروپیگنڈا سیل میں ‘وہی وہانوی ‘ طرز کے جنسیاتی حملوں کے لیے ایک نئی لغت کی تیاری کا عمل زور و شور سے جاری و ساری ہے۔ اور زیادہ زور ‘لواطت’ سے متعلقہ ‘اصطلاحات’ کو ‘آزادی مارچ’ پر چسپاں کرنے پر ہے۔

مجھے ایسا لگتا ہے کہ یوتھیا پروپیگنڈا سیل اس سارے معاملے میں حافظ حسین احمد کی ‘شوخ طرز گفتگو’ سے بھی بہت کچھ مستعار لے گا۔

ماضی قریب کے ‘دھرنے’ کے دوران ‘ طرز سخن دریں بابت کنڈوم’ جیسے ‘ فیک پروپیگنڈے اور فیک نیوز’ بارے ہم نے پاکستان میں کمرشل لبرل کی سب سے بڑی پناہ گاہ ‘ ڈان میڈیا گروپ’ کی آفیشل ویب سائٹ پر 70 /126 دنوں میں کوئی ایک مضمون طمطراق کے ساتھ ‘وہی وہانوی طرز کلام’ اور ‘جنسیاتی حملوں’ کی مذمت میں چھپتا نہیں دیکھا تھا۔ اور نہ ہی ان کی دوسری بڑی پناہ گاہ ‘ جیو نیوز’ پر کسی کو مولانا کی پارٹی کے ‘جنسیت زدہ’ موقف پر مذمت کے الفاظ بولتے سنا تھا-

لیکن کل ایک فیک سرکاری لیٹر اور فیک جے یو آئی سے منسوب ‘ہدایت نامہ برائے شرکائے آزادی مارچ’ پر تردید اور اس کی مذمت کا سیلاب آتے ضرور دیکھا۔

آج ڈان میڈیا گروپ کی آفیشل ویب سائٹ پر نمایاں انداز میں تردیدی خبر ظاہر ہوتی ہے

Fake list of ‘Instructions’ attributed to JUI-f goes viral on Social Media

The Jamiat Ulema-i-Islam-Fazl (JUI-F) on Monday termed as “fabricated” a document being shared widely on social media that lists a set of instructions allegedly by the party to the participants of its upcoming anti-government protest in Islamabad.

ساتھ ہی اخبار کے ادارتی صفحے پر

Maulana Factor – Zahid Hussain

What the Maulana Wants – Arifa Noor

کے عنوان سے دو آرٹیکل بھی جگ مگ کررہے ہیں-

نواز شریف کو اینٹی اسٹبلشمنٹ ستون کے طور پر پیش کرنے والے میڈیا گروپوں نے اپنے کارٹونسٹ ، مضمون نگاروں اور سوشل میڈیا پر سرگرم اکاؤنٹس کو شاید ہدایات جاری کی تھیں کہ اپنے سترہ مقتولوں اور درجنوں زخمیوں کے لیے انصاف کی خاطر اسلام آباد دھرنا دینے والی پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ کے بارے میں ہمیشہ طنزیہ انداز اختیار کریں –

میں اس پوسٹ کو پڑھنے والوں سے کہتا ہوں کہ وہ زرا ‘گوگول’ کریں جب طاہر القادری نے پاکستان واپس آکر نواز لیگ کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا۔

‘کینڈا پلٹ ملّاں ‘

A cleric returned from Canada

The Canada-returned

Tahir Ul Qadri: Cleric from Canada who wants to cleanse the system in

ایک منفی اور نفرت انگیز پروپیگنڈا تھا اور بہتان اور جھوٹے الزامات تھے جو مسلسل اس زمانے میں مین سٹریم میڈیا میں مسلسل شایع ہورہے تھے- اور تو اور اس زمانے میں طاہر القادری و عوامی تحریک کے دھرنے کو مغربی این جی اوز سے فنڈڈ ہونے کی جھوٹی خبریں تواتر سے سوشل میڈیا پر پھیل رہی تھیں اور سلیم صافی جیسے ان خبروں کو بنیاد بناکر کالم پر کالم لکھ رہے تھے۔

کیا ڈان میڈیا گروپ نے اس زمانے میں

Fake News of Foreign funding to PAT’s sit-in are viral on social media

جیسی ہیڈلائن کے ساتھ ڈاکٹر طاہر القادری کی صفائی پر مبنی پریس ریلیز شایع کیں تھیں؟

دی اکانومسٹ ٹائمز، الجزیرہ، نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ، دی نیوز انٹرنیشنل ، العربیہ نیوز نیٹ ورک ، ڈان ڈاٹ کوم ، جیو نیوز، ڈان نیوز، وقت نیوز، نوائے وقت سارے کے سارے ایک خاص پروپیگنڈا لائن کے ساتھ وہی کچھ لکھ رہے تھے جو کامریڈ چی نواز اور اس کا ریفارمسٹ بھائی شہباز شریف چاہتے تھے۔ کیونکہ ان سارے میڈیا آؤٹ لیٹس پر چھپنے اور نشر ہونے والے مواد کا ماخذ اور سورس پاکستانی لبرلز کا ایک مخصوص سیکشن تھا-

آج یہ سیکشن مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے ترانے کے مذہبی کارڈ سے لتھڑی ٹون اور مصرعوں کو اور اس ترانے کے لیے منتخب امیجز میں آسیہ بی بی کی رہائی پر منافرت آمیز بھاشا کو اپنی تند و تیز تنقید کا موضوع نہیں بنارہا اور نہ ہی عمران خان پر اینٹی قادیانی اور اینٹی یہودی کارڈز کے ساتھ حملوں کو ڈسکس کررہا ہے بلکہ اس پر اس کا وہ غصّہ اور سیاپا سرے سے غائب ہے جو یہ ماضی میں چند ایک بریلوی ، شیعہ ،دیوبندی ، اہلحدیث مولویوں، کی باتوں کو لیکر کرتا رہا ہے۔

Under discussion section of liberals’s selective rags based phenomenon is open secret now

ہم یوتھیاز کے مولانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت کے لوگوں کے خلاف ‘وہی وہانوی طرز ‘ کے جنسیت زدہ پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہیں اور اس کی سخت مذمت بھی کرتے ہیں-

ساتھ ساتھ مولانا فضل الرحمان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ رہبر کمیٹی کے اجلاس میں اکرم درانی نے جو کہا کہ مذہبی کارڈ آزادی مارچ میں استعمال نہیں ہوگا کے وعدے کی پاسداری میں جمعیت کے جاری کردہ ترانے کو واپس لیں اور اس میں جو بلاسفیمی کارڈ عمران خان اور پی ٹی آئی کے خلاف استعمال کیا گیا ہے اس پر معذرت کریں –

عمران خان کو قادیانی یا یہودی ایجنٹ قرار دینے سے اس ملک میں جمہوریت کی بالادستی کاسفر آگے نہیں جائے گآ بلکہ یہ ترقی معکوس پر ختم ہوگا۔