Featured Original Articles Urdu Articles

سیاست میں مذہبی کارڈ اور کمرشل لبرلز کی دہری منافقت

لبرل کا ایک سیکشن مولانا کا بگ فین نہ بھی ہو مگر وہ چھوٹا موٹا فین ضرور ہے یہ طاہر القادری کے پیچھے لٹھ لیکر پڑا تھا حالانکہ طاہر القادری نے کوئی مذھبی کارڈ بھی نہیں کھیلا تھا اور عمران خان کو مذھبی کارڈ کھیلنے پر اس نے کبھی معاف نہیں مگر یہ نہ تو مولانا فضل الرحمان کی مذھبی کارڈ کھیلنے کی سیاست کی مذمت کرے گا اور نہ ہی اس سیکشن کا کوئی کارٹونسٹ مولانا کے مزاحیہ کیری کیچر بنائے گا نواز شریف کی جانب سے مذھبی کارڈ کھیلنے کی سیاست پر بھی یہ سیکشن خاموش رہا تھا

ہاں بلاول بھٹو کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کی اُن کی جانب سے مذھبی کارڈ کے استعمال کی وجہ سے حمایت نہ کرنے پر اس سیکشن نے پی پی پی پر ڈیل کرنے کا الزام ضرور عائد کیا تھا

 

مجھے حُکمران جماعت کی پریشانی سے لطف اٹھانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے، میں تو یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ مذھبی کارڈ کی سیاست کرنے پر جو جوش اس سیکشن نے ماضی میں عمران خان کے بارے میں دکھایا اور حال ہی میں یو این جنرل اسمبلی میں عمران خان کی تقریر میں مذھبی کارڈ کے استعمال پر دکھایا وہ مولانا کے باب میں بھی دکھائیں گے یا صرف ‘محظوظ’ ہوتے رہیں گے

ڈاکٹر طاہر القادری کا ایک سو چھبیس دن کے دھرنے میں کیا طاہر القادری کی کسی ایک تقریر میں مسلم لیگ نواز کے خلاف مذھبی منافرت کا استعمال ہوا تھا؟

کیا ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف بازاری و لچر زبان استعمال کی تھی؟

کیا ڈاکٹر طاہر القادری نے نواز حکومت کے خلاف کوئی سازشی مفروضہ پیش کیا تھا؟

ڈاکٹر طاہر القادری سانحہ ماڈل ٹاؤن میں پولیس کے ہاتھوں قتل اور زخمی ہونے والے کارکنوں کی ایف آئی آر درج کرانے نکلے تھے

ایک سو چھبیس دن جاری رہنے والے اس دھرنے کے 126 دنوں میں مولانا فضل الرحمان اور اُن کے دیگر رہنماؤں نے صرف مذھبی منافرت ہی نہیں پھیلائی تھی بلکہ ڈاکٹر طاہر القادری، اُن کی اہلیہ غزالہ قادری، پاکستان عوامی تحریک کی دھرنے میں شریک خواتین تک کو بخشا نہیں گیا تھا

‘کینڈین مُلاں’ ‘طاہر الپادری’ جیسے القاب عام استعمال ہوئے اور اس دوران یہ بھی کہا گیا کہ طاہر القادری امریکہ، برطانیہ اور دیگر ممالک سے ڈالر لیکر یہ دھرنا دینے پہنچا ہے

نیم سرکاری برطانوی ڈونر ایجنسی ایف آئی ڈی سے اربوں ڈالر لینے کے الزام لگائے گئے

سپاہ صحابہ اور جے یو آئی ایف نے اسلام آباد میں مقابلے میں ریلی بھی نکالی

اُس زمانے میں نواز شریف کا حامی لبرل سیکشن طاہر القادری کے خلاف چاہ کر بھی ایک جُملہ ایسا نہ لا سکا جو مذھبی منافرت کے ضمن میں آتا، طاہر القادری تو جے سالک کو سٹیج پر لیکر آگئے تھے

آج نواز شریف کا حامی لبرل سیکشن مولانا فضل الرحمان کی مذھبی منافرت پر مبنی سیاست سے ویسے ہی چشم پوشی کررہا ہے جیسے اس نے طاہر القادری کے خلاف دھرنے کے دنوں میں کی تھی

مولانا فضل الرحمان اگر عمران خان کی حکومت کے خلاف عوامی احتجاج کو جمہوریت کے حق میں بہتر بنانا چاہتے ہیں تو اُن کو مذھبی منافرت پر مبنی گھٹیا سازشی مفروضے اور نعرے ترک کرنا ہوں گے ورنہ سارا معاملہ ‘انتہاپسندی بمقابلہ انتہا پسندی’ رہ جائے گا