Featured Original Articles Urdu Articles

گرو سمان اور چیلا خاص ‘لاڈلے ‘ کی قربانی دینے والے ہیں – عامر حسینی

ایک سال گزرنے کے بعد ہی حکومت کے خلاف مختلف طبقات میں شدید بے چینی پیدا ہوگئی ہے۔

مہنگائی ، غربت، بے روزگاری اور دن بدن زندہ رہنے کے لیے کوشش کا عمل زیادہ سے زیادہ دباؤ لیکر آرہا ہے

پورے ملک میں ہر جگہ پر لوگوں کے اندر غم اور غصہ ہے بڑھتا جارہا ہے- ورکنگ کلاس کی تنخواہوں اور افراط زر میں بہت بڑا فرق ہے جسے کم کرنے کی بجائے حکومت کا زور اسے اور بڑھانے پر ہے-

حکومت اتنی نا اہل ہے کہ اس سے اپنے حامی بنائے گئے یا پہلے سے حامی تاجر،صنعت کار اور سٹے باز کاروباری گروہوں کو مطمئن کرنا بھی مشکل ہوچلا ہے- اور بھاگے بھاگے اس حکومت کو لانے والے بادشاہ گروں کے ‘گروسمان’ کے پاس جاکر کہتے ہیں

‘ گرو جی ، کس کو بٹھا دیا ہے تخت پر، ورکنگ کلاس کا خون چوستا تو ہم نہ بلبلاتے، دیہی اور شہری غریبوں کا سکون برباد کردیتا تو کوئی بات نہیں تھی لیکن اس کی پالیسیوں نے تو ہمارے دھندے چوپٹ کرڈالے ہیں- پہلے سے تیار مال، پہلے سے اکٹھا کیا گیا سودا سلف کوئی خرید نہیں رہا ہے اور یہ مزید پیسے مانگتا ہے۔ اور خود کہیں سے لیکر آتا نہیں ہے۔’

اب ‘گرو سمان’ کیا بتائے۔ وہ تو اپنے لوگوں کی پنشنوں کا پیسہ بھی حکومت کے سول خزانے سے لے رہے ہیں- اور مختص دفاعی بجٹ میں حاضر سروس لوگوں پر اٹھنے والے اخراجات پورے کرنا روز بروز مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے- یہی لاڈلا تو ہے جو اس سارے خرچے کے لیے جواز تلاش کرتا ہے- ورنہ جو اپوزیشن بنچوں پر بیٹھے ہیں وہ تو روز کہتے ہیں کہ ‘کفایت شعاری، کٹوتی اور رائٹ سائزنگ کے نام پر چھانٹی’ سب جگہ ہو- اور وہ تو اب اس پر یقین ہی نہیں رکھتے کہ ‘ وہ نہ ہوں تو کچھ نہ ہو’

کشمیر کے ایشو نے بتا دیا ہے کہ معشیت ٹھیک نہ ہو تو ایٹمی ڈیٹرنس کسی کام کا نہیں اور نہ ہی غوری کام کا نہ حتف کام کا ۔۔۔۔۔۔۔۔

عوام میں بے چینی کی لہر کا بڑھتے چلے جانا ایک ایسا واقعہ ہوا کرتا ہے، جس کے رونما ہوتے ہی عوامی سیاسی جماعتوں کا ڈرائنگ روم میں بیٹھنے یا اخبارات و سوشل میڈیا پر بیانات بیانات کھیلنے کا وقت ختم ہوجاتا ہے

پاکستان مسلم لیگ نواز اور اس کی اتحادی جماعتیں زخم خوردہ تھیں ان کا غصّہ، بے چینی ، دکھ اور اشتعال تنہا کچھ نہیں کرسکتا تھا اور نہ ہی مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام کے لاک ڈاؤن کے اعلانات کچھ کرسکتے تھے اگر معاشی استحکام کے آثار ہوتے اور لوگوں کو ڈلیور کیا جارہا ہوتا

حکومت بننے کے وقت مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں کو کہا کہ وہ اس پارلیمنٹ کو ہی تسلیم نہ کریں – دونوں جماعتیں بہرحال مولانا فضل الرحمان کو سمجھانے میں کامیاب رہیں کہ یہ مناسب وقت نہیں ہے- مولانا فضل الرحمان نیم دروں نیم بروں ،تلملاتے ہوئے چل پڑے۔

لیکن دن بدن تحریک انصاف اور اتحادیوں نے اپنی نااہلی بیچ چوراہے میں سب کے سامنے ثابت کرڈالی – یہ اپنی ناکامی، نااہلی اور شکست کا بدلہ اور انتقام اپوزیشن سے لینے کے خواب دیکھ رہے ہیں جبکہ نیچے زمین پاؤں سے دن بدن کھسکتی جارہی ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی نے اپنی سی کوشش کر دیکھی ہے۔ لیکن عوامی بے چینی کے سامنے وہ کب تک ‘ٹک ٹک’ سیاست کرے گی- آج پی پی پی کا ‘آزادی مارچ’ بارے وہ موقف نہیں ہے جو صرف ایک ماہ پہلے تھا

پاکستان پیپلزپارٹی کی اعلی سطحی میٹنگ میں مسلم لیگ نواز سے اعلی سطحی رابطے کرنے کا فیصلہ ہوا – دونوں جماعتوں کی دوسری صف کی قیادت مل بیٹھی ہے- اور پی پی پی کے چئیرمین اور نواز ليک کے سربراہ کی ون ٹو ون ملاقات ہوچکی ہے۔ نواز شریف اور زرداری کے درمیان ایلچیوں کے زریعے تبادلہ خیالات ہوچکا ہے۔

دونون جماعتوں کا اپنا اپنا خیال یہ ہے کہ اب بیٹھے رہنے سے کام نہیں چلے گا- نکلنا ہوگا- دونوں جماعتیں مولانا فضل الرحمان سے ہوم ورک مکمل کرنے کے لیے نومبر کے وسط تک رک جانے کی امید رکھتی ہیں

اس دوران مہنگائی اور دیگر برے عوامل حالات کو اور حکومت کے خلاف کریں گے اور سیاسی درجہ حرارت بڑھتا چلا جائے گا

حکومت کی خام خیالی یہ ہے کہ وہ نیب ، ایف آئی اے، اینٹی نارکوٹکس ، پولیس ، رینجرز ، ایف بی آر ، انکم ٹیکس کے اداروں کو استعمال کرکے ، اپنی طرف سے چند بڑے نامور مولویوں کو متحرک کرکے اور میڈیا کے کچھ اپنے طرفدار چینلز پر پروپیگنڈا کرکے اپوزیشن کی ایجی ٹیشن کو غائب کردے گی ۔

اپوزیشن کی ایجی ٹیشن کی طاقت اس سماجی بے چینی میں پیوست ہے جو اس حکومت کی ناکام ترین پالیسیوں کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے۔

اور اس بے چینی کے تدارک نہ ہونے سے بادشاہ گروں کی اپنی ڈوبتی ساکھ ‘غرقابی’ کے قریب آن پہنچی ہے۔ اور غرقاب ہوجانے کا خوف بس اپنے بچاؤ کی سبیل کیا کرتا ہے ناکہ وہ دوسروں کے لیے سبیل تلاش کرتا پھرتا ہے چاہے ‘دوسرا’ کتنا ہی ‘لاڈلا’ کیوں نہ ہو۔

گروسمان کے پیچھے کئی ایک بادشاہ گر ‘ڈوبتے کو تنکے کا سہارا’ والا محاورہ آج کل صبح شام دوھراتے ہیں ۔

اور ‘گروسمان’ اور ‘چیلا خاص’ (جس کی آج ایک وفد سے گلے ملتے باچھیں تھیں کہ کھلی جاتی تھیں) دونوں کو اپنی بس میں سوار دیگر بادشاہ گروں کی طرف سے بھی سخت دباؤ کا سامنا ہے- ایسے ڈیڈ لاک زیادہ دن رہا نہیں کرتا