Original Articles Urdu Articles

یمن پر ہماری خاموشی انسانی حقوق پر ہمارے دوہرے معیار کی عکاس

 

 

اقوام متحدہ میں عمران خان کی تقریر میں کشمیر پر پاکستانی موقف نہایت وضاحت سے بیان کیا گیا ۔ تقریر کے کچھ اور پہلو قابل غور ہیں 
عمران خان کی تقریر میں یہ بات خاصی حیران کن لگی کہ انھوں نے اقوامِ متحدہ کے مبصرین کو برملا دعوت دی ہے کہ وہ آکر انڈیا کی طرف سے جہادی تنظیموں کے کیمپ ہونے کے دعووں کا خود معائنہ کر لیں۔
’پاکستان میں جہادی تنظیموں کو سہارا دیا گیا ہے خاص کر جب وہ پاکستان کے شہروں میں جلسے جلوس کیا کرتے تھے۔ حزب المجاہدین اور جماعت الدعوہ لشکر طیبہ کو چندے دیے گئے ہیں۔ یہ آج سے پندرہ بیس سال پہلے کھّلم کھّلا ہوتا تھا۔ اور اب بھی کہیں نہ کہیں اس کی مثال ملتی ہے۔ لیکن یہ کہنا کہ پاکستان ان لوگوں کو اپنا دشمن سمجھے گا جو کشمیر جا کر جہاد کریں گے، یا اقوام ِ متحدہ کے مبصرین آکر مجاہدین کے کیمپوں کا دورہ کر لیں، تو یہ کسی یوٹرن سے کم نہیں۔‘
مزید برآں اسلامفوبیا کی بات وہ ممالک کرتے ہوئے اچھے لگتے ہیں جن کے اپنے ملک میں لوگوں کے ساتھ مثالی سلوک ہو رہا ہو۔ ’لیکن یہاں ایسا نہیں ہے۔ تکفیری خوارج تنظیموں سپاہ صحابہ لشکر جھنگوی کی جانب سے اولیا اللہ کے مزارات پر خودکش حملے اور صوفی بریلوی نسل کشی کی جاتی ہے، اہل تشیع خان طور پر کوئٹہ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہیں، پاکستان میں اقلیتوں کو قانونی طور پر کئی کام کرنے سے روکا جاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں آپ کے ملک میں رہنے والے احمدی خوفزدہ رہتے ہیں۔ ہندو، عیسائی اور سِکھ بھی اسی ماحول کا حصہ ہیں۔ تو اسلاموفوبیا کی بات تو اپنی جگہ ہے لیکن اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا بھی بہت ضروری ہے۔‘
انسانی حقوق کے نام پر ہماری بات میں وزن اس وقت زیادہ ہوتا اگر ہم یمن پر سعودی جارحیت کے خلاف قرارداد پر ووٹنگ کے دوران سعودی عرب کا ساتھ نہ دیتے، اسی طرح چین کے صوبہ سنکیانگ میں مسلمانوں پر مظالم پر ہماری خاموشی انسانی حقوق پر ہمارے دوہرے معیار کی عکاس ہے