Featured Original Articles Urdu Articles

نواز لیگ اور پی ٹی آئی کے لیے آئینہ – ریاض ملک

مسلم لیگ نواز اور پی ٹی آئی کے پروپیگنڈا میڈیا سیل باہمی دشمنی میں کتنے ہی متضاد سمتوں میں کھڑے ہوں لیکن پی پی پی سے نفرت دونوں کا مشترکہ وصف ہے- اور اس نفرت میں ان کے ہاں اس بات پر اتفاق ہے کہ دو ہزار تیرہ سے اٹھارہ تک پی پی پی کی حکومت کی کارکردگی بدترین تھی اور پی پی پی والے ملک لوٹ کر کھاگئے- ملکی معشیت کو آصف علی زرداری کی قیادت میں علی بابا چالیس چوروں کا ٹولہ کھوکھلا کرگیا

مسلم لیگ نواز کا میڈیا سیل(اس میں جیو جنگ گروپ جیسے بڑے میڈیا گروپوں میں موجود کئی بڑے بڑے نام بھی شامل ہیں) کا دوسرا بڑا پروپیگنڈا یہ ہے کہ پی پی پی کے پانچ سالہ دور حکومت کے خاتمے پر ان کو بدحال معشیت ملی تھی اور انہوں نے معشیت کو 2018ء میں بہت مستحکم حالت میں چھوڑا تھا

مسلم لیگ نواز اور پی ٹی آئی کے پروپيگنڈا میڈیا سیل کا متفقہ پروپیگنڈا یہ بھی ہے کہ 2008ء سے 2013ء تک پی پی پی کی حکومت اسٹبلشمنٹ سے ڈیل کا نتیجہ تھی اور نواز لیگ کا پروپیگنڈا یہ ہے کہ نواز ليگ کی 2013ء میں حکومت اصلی اور سچے مینڈیٹ سے تشکیل پائی اور اسے اسٹبلشمنٹ یعنی عدلیہ،فوجی جرنیلوں اور معاندانہ میڈیا نے ناکام بنایا- جبکہ پی پی پی کے پانچ سالہ دور میں یہ اسٹبلشمنٹ کے ساتھ کبھی بھی شریک سازش نہیں ہوئی

تازہ ترین نواز لیگ کے میڈیا پروپیگنڈا سیل کا واویلا یہ ہے کہ پی پی پی اسٹبلشمنٹ سے ڈیل کرچکی ہے اسی لیے وہ فضل الرحمان کا ساتھ نہیں دے رہی- جیسا کہ ایشیا ٹائمز میں عماد ظفر اور جنگ میں اعزاز سید کے مضامین میں اس پروپیگنڈے کو دوہرایا گیا اور سوشل میڈیا پر اس حوالے سے گھوسٹ خبریں پھیلائی جارہی ہیں

پی پی پی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے نیب کی حراست میں موجود سید خورشید شاہ کی رہائش گاہ کے سامنے دو ٹوک انداز میں ڈیل کی نفی کی بلکہ انہوں نے کہا کہ وہ ڈیل پر لعنت بھیجتے ہیں

پاکستان کے منجھے ہوئے سوشل میڈیا بلاگر ریاض ملک نے پی پی پی کے خلاف جاری پروپیگنڈا کے بنیادی کلیشوں کی ردتشکیل کی ہے

پی پی پی کے ہمدردوں کو مسلم لیگ نواز کے دور حکومت کے بارے میں کچھ بنیادی حقائق جاننے کی ضرورت ہے

(الف) مسلم لیگ نواز (18-2013) میں پیچھے مستحکم معشیت چھوڑ کر نہیں گئی تھی بلکہ اس نے ایسے شاہانہ منصوبوں پر نشے میں غرق جہازیوں کی طرح حکومتی خزانہ لٹایا جس نے معشیت کو کھوکھلا کرکے چھوڑا

(ب) مسلم لیگ نواز کی پنجاب اور وفاق میں گزشتہ حکومت نے ہی اصل میں پی ٹی آئی کی کے پی کے میں کرپٹ حکومت کو اس طرح کے تباہ کن راستے پر چلنے کا حوصلہ دیا(پشاور میٹرو اس کی ایک بڑی مثال ہے)

(ج) مسلم لیگ نواز جب 2013ء میں برسراقتدار آئی تھی تو اسے ورثے میں بدحال معشیت نہیں ملی تھی (جیسا کہ عام طور پر مسلم لیگ نواز کا میڈیا پروپیگنڈا پیش کرتا ہے اور اس میں پاکستان کے چند بڑے میڈیا گروپ کے ٹی وی چینلز اور اخبارات بھی شامل ہیں)- میڈیا پروپیگنڈا کو ایک طرف رکھ کر دیکھیں تو نواز لیگ کو 21ویں صدی میں پاکستان کی سب سے زیادہ مستحکم معشیت ورثے میں ملی تھی- کچھ چیزوں کا موازانہ پیش ہے

(1) دوہزار تیرہ میں ایکسپورٹ 27 ارب ڈالر اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2 ارب ڈالر تھا لیکن مسلم لیگ نواز کی حکومت جب معیاد پوری ہونے پر رخصت ہوئی ( دو ہزار اٹھارہ میں) تو ایکسپورٹ 15 سے 20 ارب ڈالر اور کرنٹ خسارا 20 ارب ڈالر پر ختم ہوا

(2) دوہزار آٹھ میں تیل فی بیرل 150 ڈالر کی شرح پر تھا اور اس وقت عالمی مالیاتی بحران میں یہ بلند ترین شرح تھی جبکہ نواز لیگ کے دور حکومت میں یعنی 13 سے 18 تک کے دور میں 21 صدی کی آخری چار دہائیوں میں تیل کی فی بیرل قیمت انتہائی کم ترین سطح پر رہی

(3) آٹھ سے تیرہ کے درمیان بجلی کی قیمتیں انتہائی کم سطح پر تھیں جبکہ زرعی فصلوں کی امدادی قیمتیں اسقدر حوصلہ افزا تھیں کہ اس سے پاکستان ایکسپورٹ شرح نمو(گروتھ) میں بلندی کی سطح تک پہنچ گیا- جبکہ نواز لیگ کے پانچ سالہ دور میں جبکہ اکثر بجلی گھر آئل ،گیس اور فرنس آئل پر تھے جن کی قیمتیں گری ہوئی تھیں بجلی کی قیمتوں میں انتہائی اضا‌فہ کیا گیا۔اور اس اضافے نے صنعتوں کے مراکز فیصل آباد اور سیالکوٹ میں صعنتوں کو برباد کرکے رکھ دیا- اور 2013ء سے 2018ء میں زراعت کا بھٹہ بھی بیٹھ گیا- کسان بدترین حالت سے گزرنے لگے

پاکستان پیپلزپارٹی کو 2008ء سے 2013ء تک ایک طرف تو افتخار چودھری کے جوڈیشل ایکٹوازم کا سامنا تھا جسے آج سب ہی عدلیہ کی تباہی سے تعبیر کرتے ہیں- دوسری طرف اسے آرمی چیف کی طرف سے سخت معاندانہ رویہ کا بھی سامنا تھا- اور اسے پہلے دن سے نواز لیگ، پی ٹی آئی کی جانب سے بھی سخت دشمنی کا سامنا تھا- پیپلزپارٹی کی میڈیا میں اگر کوئی نمایاں حامی آواز تھی تو وہ منو بھائی اور اطہر عباس جیسوں کی تھی- اور اس دوران پی پی پی حکومت کو عدلیہ بحالی کے جعلی نعرے پر نواز شریف کے دھرنا مارچ اور طاہر القادری کے دھرنے کے ساتھ ساتھ جہادی اور تکفیری بنیاد پرست دہشت گردی کا سامنا بھی تھا جس کے دوران اسے پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر، وفاقی وزیر مملکت برائے اقلیتی امور شبہاز بھٹی سے محرومی اور وفاقی وزیر مذہبی امور پر قاتلانہ حملے، وزیر اعلی سندھ قائم علی شاہ اور میر آفتاب شعبان میرانی پر بھی قاتلانہ حملوں کا سامنا رہا- آرمی چیف، آئی ایس آئی چیف ، افتخار چودھری عدلیہ نے میموگیٹ ساگا کے نام پر پی پی پی کی حکومت پر کاری وار کیا اور اسے عدالت میں لیکر بھی نوازشریف گئے- اس کیس میں جب پارٹی حکومت بچا گئی تو خواجہ آصف وزیراعظم کی نااہلی کا کیس لیکر افتخار چودھری کی عدالت پہنچ گئے اور یوسف رضا گیلانی کو نااہل قرار دلوادیا

اس کے برعکس ہم سب کے سامنے ہے دوہزار سولہ تک عدلیہ نواز شریف کے ساتھ تھی اور 2017ء تک آرمی چیف بھی ان کے ساتھ تھے- جبکہ میڈیا نواز لیگ اور پی ٹی آئی کے درمیان تقسیم تھا

اگر جنرل راحیل شریف نواز لیگ کی حکومت کو پہلے گرانا چاہتے تو یہ 2014ء ہی میں گر گئی ہوتی- نوازلیگ اور راحیل شریف کے درمیان سمجھوتے کا انعام راحیل شریف کو بھوک سے مرتے یمنیوں کو مزید مارنے کے لیے سعودی فوجی اتحاد کے سربراہ کے طور پر تعیناتی کی شکل میں ملا

آل سعود نے نواز شریف کو 2017ء تک بچائے رکھا- جبکہ زرداری نے ان کو 2014ء میں بچایا تھا- یہ ایک ایسا عمل تھا جس نے بہرحال پنجاب میں پی پی پی کے ہمدردوں کی اکثریت کو مایوس کیا کیونکہ وہ شریفوں کی فطرت سے واقف تھے جو اپنے محسنوں کو ڈسنے سے کبھی باز نہیں آتے

پاکستان کے نام نہاد پڑھے لکھے(شہری اربن چیٹرنگ کلاس) کی اکثریت جو بنیادی حساب کتاب سے بھی نابلد ہیں یا ایسا بنکر دکھاتے ہیں وہ پی پی پی کے دور حکومت میں زرداری کی مبینہ کرپشن کا ڈھولپیٹتے رہے جبکہ زرداری- گیلانی کے دور حکومت میں معشیت کے میدان میں بہتر کارکردگی کو بدعنوانی اور بیڈ گورننس کے شور میں گم کرتے گئے

ہماری ‘پڑھی لکھی’ چیٹرنگ کلاس سے لیکر کسی حد تک موجودہ اسٹبلشمنٹ کی کٹھ پتلیوں جیسے نواز اور عمران خان کے عقیدے کا یہ بنیادی جزو بن چکا ہے کہ وہ پی پی پی کی سابقہ حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے بنیادی حساب کتاب کو کبھی سامنے لیکر نہیں آتے

اب تو ہمیں اچھے سے پتا چل چکا ہے کہ پاکستان کی شہری آبادی میں ایسے پڑھے لکھے اربن لوگوں کی ایک ٹائپ ایسی ہے جو نواز لیگ اور پی ٹی آئی کو ووٹ دیتی ہے ‘پی پی پی سے نفرت’ ان کے ایمان کا جزو ہے- لیکن پی پی پی کا مخالف کارپوریٹ میڈیا جیسے ڈان میڈیا گروپ ہے وہ بھی یہ ماننے پر مجبور ہوا کہ پی پی پی کی تیرہ سے اٹھارہ تک کی حکومتی کارکردگی مشرف،پٹواری،انصافی حکومتوں سے بہتر تھی

عالمی بنک کی 2012ء سے 2019ء تک کی رپورٹ بھی پی پیپی کو نواز لیگ اور پی ٹی آئی سے کہیں زیادہ نمبر دیتی ہیں

کیا کسی نے یہ بات کبھی اتنی شدت سے دہرائی کہ عالمی بنک کے قائم کردہ 12 معاشی کرائی ٹیریا/معیارات پر دونوں حکومتیں اترنے میں ناکام رہیں جبکہ پی پی پی کا اسکور 6 اے تھا

ڈان میڈیا گروپ کے انگریزی اخبار ڈیلی ڈان اور ورلڈ بنک کی رپورٹ 2019ء میں چند ماہ پہلے آئیں- اور دونوں مئی 2019ء میں شایع ہوئیں