Featured Original Articles Urdu Articles

میر مرتضی بھٹو کا قتل – عامر حسینی

پہلے چار اپریل 1979ء جب رات کی تاریکی میں ایک شوہر اور ایک باپ کو پھانسی پر چڑھا دیا گیا اور کسی کو باپ کا منہ تک دیکھنے کی اجازت نہ ملی اور چپکے سے گڑھی خدا بخش میں دفنا دیا گیا-

عوام نے غم زدہ بیوہ اور بیٹی کا حوصلہ بڑھایا اور ایک ہی نعرہ چاروں طرف سنائی دینے لگا

زندہ ہے بھٹو – زندہ ہے

پھر جولائی 1985ء بے نظیر بھٹو،صنم بھٹو اور بیگم نصرت بھٹو اپنے جوان رعنا بھائی و بیٹے کا لاشہ لیکر اسپورٹس اسٹیڈیم لاڑکانہ پہنچیں تو 25 ہزار لوگوں نے کڑے پہروں کے باوجود اکٹھے ہوکر ایک ہی نعرہ لگایا

غم نہ کر اماں نصرت – ہم ترے مرتضی ، ہم ترے شاہنواز
غم نہ کر ادی بے نظیر – ہم ترے مرتضی ہم شاہنواز

اور جب ستمبر 1996ء میں بے نظیر بھٹو،صنم بھٹو اور بیگم نصرت بھٹو مرتضی بھٹو شہید کا لاشہ لیکر گڑھی خدا بخش پہنچیں تھیں تو تب بھی مجمع یہی نعرے لگارہا تھا

سن لو بہن بے نظیر – ہم تمہارے بھائی ہیں
قدم بڑھاؤ بے نظیر- ہم تمہارے ساتھ ہیں

اور 25 ستمبر 1996 بے نظیر بھٹو مرتضی بھٹو کی روح کو ایصال ثواب کے لیے لیاقت باغ راولپنڈی میں تقریر کرنے سٹیج پر پہنچیں تھیں تو لیاقت باغ میں عوام کا ہجوم ایک ہی نعرہ لگا رہا تھا

سن لو بے نظیر – ہم تمہارے بھائی ہیں

اور اس دن کی تقریر میں محترمہ شہید بے نظیر بھٹو نے کہا تھا

” لوگو گواہ رہنا، میرا باّپ اور میرے دونوں بھائی عوامی سیاست کے جرم میں جان سے گئے اور میں بھی اس جرم میں اپنی جان قربان کرنے سے دریغ نہیں کروں گی-“

اور پھر وہ بھی ایک دن شہید ہوگئی

آج بلاول بھٹو زرداری چئیرمین پی پی پی نے میر مرتضی بھٹو شہید کی برسی پر جاری بیان میں اسی عزم اعادہ کیا ہے – گویا وہ گڑھی خدا بخش میں آرام کرتے بھٹوز سے کہہ رہے تھے

اٹھو،دیکھو تو سہی ، کیسے میرے سر پر مظلومیت کی پگڑی سج رہی ہے