Featured Original Articles Urdu Articles

عوام کو ریبیز سے نجات کیوں نہیں ملتی؟ – عامر حسینی

جب ذہانت و فطانت اور عوام کی نبض پر ہاتھ رکھنے والے بڑے عوامی قائدین کا وارث اوسط الزامی جواب سے ‘ریبیز ویکسین ایشو’ پر میڈیا کو بیان جاری کرے تو واقعی یہ خیال آتا ہے کہ ہمارا سیاسی کلچر اب ‘ الزام کو دوسروں کی طرف اچھال دینے یا ہمارے ہاں ہوا تو وہاں بھی تو ہوا ہے نا جیسی بیلنسنگ’ بیماری کا شکار ہوگیا ہے

بلاول بھٹو کا آج جیو ٹی وی کی ویب سائٹ پر بیان چلا کہ کتّے کے کاٹے سے بیمار بچہ دو دن بعد ہسپتال آیا تھا جب مرض لاعلاج ہوچکا تھا

بلاول بھٹو ہوں یا پی پی پی کے آفیشل میڈیا سے کمشنر لاڑکانہ کا خط نشر کرنے والے یا پھر وہ ہوں جو شکار پور سے لاڑکانہ پہنچنے اور پھر موت کا شکار ہونے والے میر حسن کی موت تک کی تفصیل بتانے کے بعد کمشنر لاڑکانہ اور سندھ حکومت کو الزام سے آزاد کرتے ہیں- ان سب کے لیے ڈاکٹر نسیم صلاح الدین کا پیغام یہ ہے

(الف) ربیز سے بچاؤ کا آسان اور مقام حل انڈس ہسپتال کراچی نے دریافت کررکھا ہے – اور اس حل کا کامیاب عملی تجربہ کراچی میں اسی ہسپتال کے ایک پائلٹ پروجیکٹ میں کرلیا گیا اور یہ حل دوسری غیر سرکاری تنظیموں کے زریعے سے کراچی کے کئی علاقوں میں کامیابی سے نافذ کیا جاچکا ہے

(ب) ریبز کے خطرے کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سدباب آوارہ کتوں کی ویکسنیشن اور میل و فیمل ڈاگ کو اینٹی افزائش نسل انجیکشن لگانے سے ممکن ہے اور یہ کام مقامی ایڈمنسٹریشن، این آئی ایچ ، ڈریپ اور اینمل ہسبنڈری آسانی سے کرسکتی ہیں

کے ایم سی اور انڈس ہسپتال ریسرچ سنٹر نے ستمبر 2017ء میں ریبیز فری پائلٹ پروجیکٹ کے باہمی دلچسپی کے ایک معاہدے پر دستخط کیے اور یہ پروگرام جنوری 2018ء میں شروع ہوا جو انتہائی کامیابی سے جاری ہے

ڈاکٹر نسیم صلاح الدین نے روزنامہ ڈان میں شایع ہوئے ایک مضمون میں ریبیز ویکسین کی برآمد پرقمیتی زردمبادلہ خرچ کرنے کی بجائے اس کا جو مقامی اور سستا حل انڈس ہسپتال ریسرچ سنٹر کے ‘ریبیز فری پائلٹ پروجیکٹ’ کے قائم تجربے کی روشنی میں بتایا، کیا سندھ کی سابق ہیلتھ منسٹر اور موجودہ ہیلتھ منسٹر نے اس پروجیکٹ کے ماہرین سے سندھ کے کسی اور ضلع میں ایسا پروجیکٹ شروع کرنے پر بات چیت کی تھی؟

میں نے اس ایشو کے وائرل ہونے پر چیف منسٹر سندھ، ہیلتھ منسٹر (موجودہ و سابق) سمیت پی پی پی سندھ کے کسی بھی آدمی کو ‘ربیز فری پروگرام’ بارے ایک لفظ بھی کہتے ہوئے نہیں سنا

پاکستان پیپلزپارٹی کے آفشیل سوشل میڈیا اور رضاکار سوشل میڈیا ایکٹوسٹ جنھوں نے میری توجہ ڈاکٹر نسیم صلاح الدین کے انگریزی میں لکھے مضمون کی طرف دلائی،وہ خود بھی یہ سوال اپنے آپ سے نہیں کرپائے کہ جب 2017ء کے آخر میں کراچی مونسیپل کارپوریشن انڈس ہسپتال ریسرچ سنٹر سے مل کر اس پروجیکٹ پر کام کررہی تھی تو ان کو اس پر کوئی بھی فیصلہ لینے کی کیوں نہیں سوجھی؟

یہی سوالات پنجاب ، کے پی کے اور بلوچستان میں پی ٹی آئی اور اس کی اتحادی جماعتوں کی حکومتوں اور ان کے حامیوں کی جانب سے سندھ حکومت پر تنقید پر بھی بنتے ہیں

اب مشکل یہ ہے بلاول بھٹو زرداری کو نہ تو فیس بک پسند ہے اور نہ ہی ان کو یو ٹیوب پسند ہے- وہ ٹوئٹر، انسٹا گرام کو پسند کرتے ہیں اور ان پر اپنے اکاؤنٹ ہینڈل کرتے ہیں

لیکن مجھے لگتا ہے کہ ہمارے چئیرمین بلاول بھٹو نے نا خود وہ ٹوئٹ دیکھا اور نہ ہی ان کے کسی سیکرٹری نے اس پروجیکٹ بارے شایع خبروں کی کلپنگ ان تک پہنچائی جب ہی تو اس ایشو پر ان کا بیان ‘عذر لنگ’ جیسا شایع ہوا ہے

مئیر کراچی وسیم اختر نے 11 جنوری 2018ء کو ‘ریبیز فری پائلٹ پروجیکٹ’ کا افتتاح کی تصاویر کے ساتھ ایک ٹوئٹ بھی کیا تھا- اور سب ہی نام نہاد قومی انگریزی روزناموں میں اس پائلٹ پروجیکٹ کے آغاز اور افتتاحی تقریب کی خبریں بھی شایع ہوئی تھیں

میں جانتا ہوں پی پی پی اور بھٹوز کے بغض میں مبتلا ٹرولنگ بریگیڈ کو ‘ریبیز فری سندھ’ سے کوئی دلچسپی نہیں ہے- کیونکہ ان کو ہوتی تو وہ انڈس ہسپتال ریسرچ سنٹر سے مل کر ‘ریبیز فری پروگرام’ پنجاب اور کے پی کے میں لانچ کرچکے ہوتے- انھوں نے نہیں کیا

ڈاکٹر نسیم صلاح الدین اور دیگر ماہرین صحت نے ایک اور بات واضح کی ہے اور وہ یہ ہے کہ ‘ریبیز ویکسین’ کی فراہمی کو ممکن بنانا سب سے اول اور پہلے این آئی ایچ سی کی ذمہ داری ہے جو وفاقی ادارہ ہے- پائلٹ پروجیکٹس پر اصولی طور اسے پیسہ خرچ کرنا بنتا تھا جو اس نے نہیں کیا

اب آپ پاکستان کے مین سٹریم الیکٹرانک میڈیا کے نیوز بلیٹن ، ٹاک شوز اس سارے معاملے پر دیکھ لیں ، حرام ہے جو کسی نے اس سارے معاملے کو اوپر بیان کردہ حقائق سے دیکھنے کی کوشش کی ہو

سوشل میڈیا پر سب جماعتوں کے آفشیل اکاؤنٹس دیکھ لیں اور لبرل کمرشل مافیاز کی ویب سائٹس اور ان کے فیس بک اکاؤنٹس اور ٹوئٹر ہینڈل کی جانچ کرلیں سب کے سب بس بلیم شفٹنگ اور فالس بیلنسنگ کی بھیڑ چال کا شکار رہے۔