Featured Original Articles Urdu Articles

عاشورہ پر کربلا میں بھگڈر نہیں مچی تھی

Karbala (Iraq), 10/09/2019.- Iraqi Shiite worshipers gather next to the site of a stampede accident inside Imam Hussain shrine, in the holy city of Karbala, southern Iraq, 10 September 2019. At least 31 pilgrims died and dozens were wounded in a stampede inside Imam Hussain shrine during Ashura festivals, the Iraqi health ministry said. EFE/EPA/STRINGER

ایک مسلسل کوشش کے ذریعے زائرین کی افسوس ناک اموات کو ’بھگدڑ‘ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ راہداری منہدم ہوئی تھی یا نہیں لیکن ہم انتظامیہ کی غفلت کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔

بنی طویرج کی روایت صدیوں سے جاری ہے جس میں کوئی بڑا حادثہ کبھی نہیں ہوا تھا۔

ہم اس بات کا تعین نہیں کر سکتے کہ راہداری منہدم ہوئی تھی یا نہیں لیکن ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کچھ لابیز زائرین پر الزام دھرنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہیں جبکہ ان کی جانب سے انتظامیہ پر کوئی سوال نہیں اٹھایا جا رہا۔

راہداری منہدم ہوئی تھی یا نہیں لیکن ہم اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کر سکتے کہ زائرین کے لیے مخصوص جگہ کو واجب نماز اور عزاداری میں تقسیم کرتے ہوئے مسلسل کم کیا جا رہا ہے۔

ہم اس لابی کو کئی مواقع پر سرگرم دیکھ چکے ہیں۔ پہلے یہ لوگ امام حسین (ع) کے قتل میں شریک رہے اور یزیدی فوج کا حصہ رہے۔

یزید کی فوج کو بھی امام کو شہید کرنے کی جلدی تھی تاکہ وقت پر نماز ادا کی جا سکے۔

انہیں شرم آنی چاہیے جو عزاداری اور نماز کو ایک دوسرے کے مقابل لاتے ہیں۔

سرداب کا عاشورہ کے دوران منہدم ہونا ناگزیر تھا۔ دہائیوں سے ان مزارات پر یہی مقصد رکھا گیا کہ زائرین کی آمدورفت کو آسان بنایا جا سکے لیکن گذشتہ چھ سات سال سے صحن حرم اور بین الحرمین کے قریب بڑے بڑے گڑھے کھود دیے گئے ہیں تاکہ سرداب میں دو رویہ راستے بنائے جا سکیں۔

ان کا چھت لوگوں کے زیادہ وزن کی وجہ سے گر سکتا تھا۔

 سیڑھیاں اور اسکیلیٹرز آسان آمدورفت کے سلسلے میں بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہے ہیں۔

بین الحرمین موجود جگہ پر اس وقت ستر فیصد رقبے پر نماز کے نام پر قبضہ کر لیا گیا جس کی وجہ سے وہاں نمازیوں سمیت گزرنے والوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ حرمین کے دروازوں پر اسی وجہ سے لوگوں کو رش بڑھنے لگا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے سعودی حج کے دوران طواف کے عین بیچ صفا و مروا کے درمیان لوگوں کو مصلے بچھانے کی اجازت دے دیں۔ حتی کے سعودیوں نے بھی انہیں مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے حج کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ لیکن عراق میں موجود انتظامیہ نے اپنے اجداد کی عقل کو بالائے طاق رکھتے ہوئے حرمین کو ایک مقتل میں تبدیل کر دیا ہے۔ خاص طور پر ان دنوں میں جب یہاں کروڑوں لوگوں کی موجودگی یقینی ہوتی ہے انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ان دنوں میں زائرین کا مقصد حرمین کے درمیان اور ان کے اندر عزاداری ہوتا ہے۔ ایسا 2008 -2009 تک ہوتا رہا ہے لیکن اس کے بعد آنے والی انتظامیہ شاید اس بات کو بھول چکی ہے۔

کربلا معلی میں موجود ذرائع کے مطابق : ’بنی طویرج کی حرمین کی جانب دوڑ کے دوران تہہ خانے کا ایک چھت گر گیا جس کی وجہ سے درجنوں اموات ہوئیں اور دسیوں لوگ زخمی ہوئے۔‘