Featured Original Articles Urdu Articles

پاکستان، کشمیر اور ہندوستان بارے میرے خیالات بہت واضح ہیں، مجھے کسی صفائی کی ضرورت نہیں – ارون دھتی رائے

ارون دھتی رائے کے بیان کو جس طرح سے آدھا شایع کیا گیا اور کلپ کو جسطرح پوری بات کی بجائے آدھی بات پر کاٹ پیٹ کر لگایا گیا اور پھر ایک دم سے ہندوستان کا سارا پریس ایک جیسی ہیڈ لائن سے بھرگیا، اُس سے ایک بات تو صاف ہوگئی یہ کوئی اچانک سے خود رو شئے نہیں تھی بلکہ پروپیگنڈا ہے اور ارون دھتی رائے نے اپنے ای میل پیغام میں ٹھیک کہا کہ یہ سارا شور اُن کے کشمیر پر حالیہ دیے گئے بیانات اور انٹرویوز کے جواب میں چلائی جارہی مہم ہے

مجھے مودی سرکار سے اُس کی محبت برائے حصول زیادہ مفاد یا غضب سے ڈرے برائے برقراری بچے کچھے مفاد میڈیا کی تو سمجھ آتی ہے کہ وہ کیوں سیاق و سباق سے ہٹ کر یا مسخ کرکے ارون دھتی رائے کے بیانات کو پیش کرتا ہے

مجھے پاکستان کے کمرشل لبرل مافیا کی بھی اس بیان پر آپ سیٹ ہونے کی سمجھ آتی ہے

میں بنگالیوں، سندھیوں، بلوچ، پشتون، سرائیکیوں کے دردمند اور سچے دانشوروں، سیاسی کارکنوں اور ادیبوں کی حساسیت کا احترام کرتا ہوں کہ اُن کو تو پتا ہی نہیں چلا کہ کیسا ہاتھ اُن کے ساتھ ہندوستانی مین سٹریم میڈیا نے کیا ہے

ارون دھتی رائے نے کہا تھا

“the State of Pakistan has not deployed the army against its own people IN THE WAY that the democratic Indian state has”

ریاست پاکستان نے فوج کو اپنے لوگوں کے خلاف اُس طرح سے نہیں اتارا جس طرح سے جمہوری. ہندوستان نے اتارا ہے

جبکہ اخبارات اور سوشل میڈیا پر اُن ے منسوب یہ بیان پڑھنے کو ملا

‘’Pakistan has NEVER used the army against its own people’’.

پاکستان نے کبھی کبھی فوج کو اپنے ہی لوگوں کے خلاف استعمال نہیں کیا

دونوں باتوں میں بڑا فرق ہے

اب آئیں سیاق و سباق کی طرف، ہندوستانی فکشن نگار رحمان عباس نے ایک آدمی کا تبصرہ مجھے ان-باکس کیا، وہ آدمی لکھتا ہے

دومنٹ کا وڈیو کلپ ہے جو ہر جگہ گردش کررہا ہے، جو مبینہ مشتعل کردینے والا بیان اس میں ارون دھتی رائے دیتی نظر آتی ہے وہ 90 منٹ پر مبنی اس کے لیکچر کی ویڈیو سے نکالا گیا ہے- جو اس نے ہندوستانی جمہوریت کے بارے میں بڑی لچھے دار باتیں کرنے والوں کی گفتگو اور تحریروں میں آدی واسیوں، قبائلی اور کسانوں کو. بےدخل کرکے اُن کی زمین اور وسائل ملٹی نیشنل کمپنیوں کو دیے جانے کے لیے اور قیمتی دھاتیں نکالنے کے لیے ہندوستانی فوج کی ریاست کی طرف جیسے تعیناتی ہوتی ہے کا تذکرہ غائب ہونے پر مشتمل ہے

وہ تو مقامی باشندوں کے زمین و وسائل کے حقوق کے چھینے جانے پر مزاحمت کے خلاف فوج کی تعیناتی کے عمل میں چھپی ہوئی نیولبرل ترقیاتی پروجیکٹس کے ظالمانہ انداز سے مسلط کرنے کے عمل کو بے نقاب کررہی ہے اور ریاست اسے علیحدگی پسند دہشت گردوں کی کاروائی کو کچلنے کا عمل کہتی ہے- وہ تقابل کرتے ہوئے عالمی برادری پر تنقید کرتی ہے اور کہتی ہے کہ پاکستان کے ملٹری ازم کے پھیلاؤ والے کردار کو تو بین الاقوامی برادری کافی کوریج دیتی ہے مگر بھارت کو جمہوریت کا گڑھ بناکر پیش کرتی ہے اور اس کے ڈھائے جانے والے مظالم کی پردہ پوشی کرتی ہے


یہ بات درست ہے کہ رائے اس تقابل کو اور زیادہ بہتر الفاظ میں بیان کرسکتی تھی لیکن جو ارون دھتی رائے کی تحریروں اور باتوں سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ وہ کبھی بھی پاکستانی عسکریت پسندی کے لیے (بلکہ کسی بھی ریاست کی اپنے عوام کے خلاف یا کسی اور ریاست کے باشندوں کے خلاف) معذرت خواہانہ رویہ اختیار نہیں کرسکتی

جعلی خبروں اور سنسی خیزی پھیلانے کے اس دور میں ہمارے لیے ان کا مال بیچنے سے گریز کرنا بہتر ہوگا جو کہ کینہ پروری کے ساتھ رائے کے امیج کو برباد کرنا چاہ رہے ہیں تاکہ وہ اُن کے جرائم کو بے نقاب کرنا بند کردے’

رائے کا کہنا ہے کہ اس کا ناول کشمیر، بھارت، پاکستان کے بارے میں سب سے زیادہ مربوط اور بے کم و کاست حثیت والا کام ہے اور وہ ان سارے معاملات پر بالکل واضح ہے، اس لیے اُسے کسی قسم کی صفائی دینے کی ضرورت نہیں ہے اور لوگوں کو بھی اس طرح کے جال میں پھنسنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ سب کچھ اُن کے کشمیر پر دیے گئے بیانات کے سبب ہورہا ہے’

ممبئی میں مقیم فکشن نگار رحمان عباس کہتے ہیں کہ ارون دھتی رائے کے خلاف یہ سب پروپیگنڈا ہورہا ہے اور اس کا حصہ نہیں بننا چاہیے

پس نوشت: میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ کسی ادیب کی سماجی زمہ داری کے سوال پر غور کرنے یا رائے دینے کے لیے سب سے بنیادی بات یہ دیکھنے کی ہوتی ہے کہ وہ جس ریاست کی شہری ہے، اُس ریاست کی سیاست، حکومت، اداروں اور اس ریاست کے سارے کے سارے میکنزم کو عوام خاص طور مجبور و مقہور، پسے ہوئے، کچلے جانے والے اور استحصال کا شکار طبقات، گروہوں اور سیکشن کی صورت حال کے تناظر میں وہ کیسے دیکھتی ہے- اُس کے بعد اس کا دوسرے سماجوں اور ریاستوں بارے موقف اور رویے کو دیکھا جاتا ہے اور اُس کا تعین بھی اُس کے سیاق سباق سے ہٹائے گئے ایک تنہا اور واحد بیان کی روشنی میں نہیں کیا جاتا


میں سمجھتا ہوں جب رائے خود اپنے ناول میں، واکنگ ود کامریڈذ سمیت کئی تحریروں میں سرسری سے ہی سہی کافی غیر معذرت خواہانہ خیالات پاکستان اور بلوچستان بارے ظاہر کرچکی ہے تو اُس پر اُس کے دشمنوں کے پھیلائے پروپیگنڈے کو اہمیت دینا کسی اعتبار سے درست نہیں ہے

 

I am not going to make clarifications – Roy says

Arundhati Roy

Dear Aamir,
My novel is my most complex and precise work about Pakistan, India and Kashmir. I am also sending you an excerpt from Walking with the Comrades published in 2010.. republished in 2019. I have not spoken in JNU for years. I am not going to make clarifications because I have been pretty clear in my writing over the years about my views on Pakistan and its army for anybody who cares to read.

All of this has to do with distracting from my recent essay on Kashmir. Please don’t fall for it.