Featured Original Articles Urdu Articles

بالشتیے مُلاں

پاکستان کے درمیانہ شہری طبقہ کا باتونی سیکشن

Urban Chattering section of educated middle class

عرب کے مطلق العنان حکمرانوں کی جانب سے مودی کو ایوارڈ برائے فروغ چمچہ گیری دیے جانے پر ایسے واویلا کررہا ہے جیسے صدمے سے اب مرا یا تب مرا- (ویسے اُن میں سے کئی ایک اس طرح کی سیاپا فروشی کے وقت کسی شاندار کھابہ ہاؤس میں کھابے اڑا رہے ہوتے ہیں) جبکہ عمران خان تو خود آل سعود کے سامنے گڑگڑایا تھا-(مگر مجال ہے کہ سیاپا فروشوں کو اس کا خیال بھی آجائے) –

حال ہی میں حسد کی آگ میں جلتے ایک مُلاں نے پاکستان میں سب سے آسان ہدف برائے دُشنام چُنا، یعنی زوالفقار علی بھٹو:

“oh that wine drinking Bhutto who wanted to be a leader of the Muslim world”

‘ ارے وہ بیوڑا بھٹو جو مسلم امہ کا قائد بننا چاہتا تھا”

ہاں. نا، یہ بھٹو تھا جس نے دنیا بھر کے رہنماؤں کو اسلامی سربراہی کانفرنس میں اکٹھا کردیا تھا، جنھوں اُس کی پیروی کی- اُس کے پاس تو ایک وژن تھا- مگر اُس سے جلنے والوں کے پاس سوائے الزام تراشیوں اور گالم گلوچ کے کچھ اور ہے؟

اس کے پاس ذھین و طباع دماغ تھے- یہاں تک کہ اُس کے غلط اقدامات بھی ایسے ہیں کہ اُن سے پاکستان کے چمچہ گیر حکمرانوں نے جلا پائی اور اُن کی پوجا پاکستان کی شہری باتونی پرتیں بہت کرتی ہیں

سیاسی اسلام سے اُس کی دوری کا پیمانہ یہ ہے کہ جب اُسے اقتدار سے زبردستی ہٹایا گیا تو یہ جماعت اسلامی تھی جس نے سب سے زیادہ سکون کا سانس لیا

بھٹو مذھبی رسوم و اعمال کی ادائیگی جب کبھی کرتا تو وہ صوفیانہ راستا اختیار کرتا، جس پر پاکستانی عوام کی اکثریت آج بھی عمل کرتی ہے، اُس کی بیوی عقیدے کے اعتبار سے شیعہ اسلام کی پیرو تھی

بھٹو نے برصغیر پاک و ہند کے صدیوں کے اندر پروان چڑھنے والے کمپوزٹ کلچر کو اپنی خلوت اور جلوت دونوں میں ہمیشہ سے عزیز رکھا اور اُس نے کبھی اس کمپوزٹ کلچر کو نہ تو دائیں بازو کے پیورٹن ازم سے پاش پاش کرنے کی سوچ رکھی اور نہ ہی اُس نے اسے کسی لبرل یا کسی بے ہودہ الحادی ریشنل ازم سے توڑنے کا سوچا، اسی لیے دائیں بازو کے جغادری ہوں یا نام نہاد عقلیت پسندوں کا ایک گروہ ہو یہ سب زبان اور قلم کو خنجر بناکر بھٹو اور اُس کے خاندان پر ٹوٹ پڑتے ہیں

بھٹو نے اسلامی سربراہی کانفرنس کا جو ڈیل ڈول ڈالا تھا، اُس کے سبب لاکھوں پاکستانی افرادی قوت اُن ممالک میں روزگار حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی اور اس سے اربوں ڈالر پاکستان میں آئے اور اسی وجہ سے پاکستان کی کمزور معشیت کا جہاز ڈوبنے سے بچتا رہا

بھٹو کی اسلامی سربراہی کانفرنس کے اندر اتنی مجتمع قوت تھی کہ اس کے نتیجے میں ایک اسلامی معاشیاتی بلاک فرقہ وارانہ تقسیم کو عبور کرگیا اور اس نے اپنی جرآت آمیز مدافعت 1970ء میں تیل کی قیمتوں کے زبردست چڑھاؤ کے وقت ثابت کردی

مغربی سامراجیت کے خلاف وہ جرآت آمیز مدافعت بہت مہنگی پڑی-اس کی وجہ سے بھٹو، فیصل، سوئیکارنو، مجیب کو اقتدار اور جان دونوں سے ہاتھ دھونا پڑے

امریکہ سامراج اور اس کے مغربی و مڈل ایسٹ کے حاشیہ برداروں نے 70ء کی دہائی میں سامراج کے پلٹ کر حملوں سے بچ جانے والے معمر قذافی کو بالآخر 2011ء میں بدترین طریقے سے مروایا اور لیبیا کو تباہ و برباد کرڈالا، جبکہ حافظ الاسد کے بیٹے بشار الاسد اور اُس کے ملک شام کے خلاف پوری طاقت جھونک دی- اور ابتک اُس کا تعاقب جاری ہے

سترکی دہائی اب نہیں ہے اور یہ سوویت روس کو افغانستان کے جال میں پھنسانے، جنرل ضیاء کی آمریت کے آنے، ایران میں انقلاب رونما ہونے اور کعبہ پر سعودی وھابیوں کے 79ء میں قابض ہوجانے جیسے واقعات کے ساتھ ہی قصہ پارینہ ہوگئی ہے

آج مسلم ممالک کے اتحاد یا امہ امہ کے شور میں ہمارے پاس کیا ہے؟ ہمارے پاس چمچے اور بُونے قسم کے مُلاں ہیں جو بھٹو جیسے رہنماء کی تذلیل کرسکتے ہیں لیکن یہ حقیقی مسائل بارے کچھ کرنے کے قابل نہیں ہیں

ایسا ایک مُلاں کے پیٹ پر ایک فرقہ پرست فسطائی تنظیم کا مُلاں ایک کانفرنس کی جگہ کے باہر گدگدی کرتا پایا گیا، وہ کانفرنس جو مذھبی منافرت پھیلانے کے لیے منعقد کی گئی تھی

ایک اور مُلاں ہے جو مبینہ کرپشن کے الزام میں گرفتار ہوا ہے

ایک اور مُلاں سامنے آیا ہے جس کی شہرت کی بھوک نے اُسے اسٹبلشمنٹ کے چمچہ سیاست دانوں کے تلوے چاٹنے پر مجبور کردیا ہے

اس قسم کے مُلاں اُس فرقے سے تعلق رکھتے ہیں جو فرقہ ورانہ شناخت کی بنیاد پر سب سے زیادہ تعداد میں جانوں سے محروم ہوا ہے- اور اُس فرقے کے لوگ جبری گمشدگیوں کا عذاب بھی بیلنس پالیسی کے تحت بھگت رہے ہیں

یہ مُلاں اپنے فرقے کے لوگوں کی نَسل کُشی کے مسئلے سے تشفی بخش طریقے سے نمٹنے میں ناکام رہے اور ابھی بھی اسٹبلشمنٹ کے بیان کردہ گمراہ کُن باتوں کو ہی آگے پھیلانے میں مصروف ہیں

یہ مُلاں اپنے فرقے کے اُن عوام کے اوپر حملہ آور ہوتے ہیں جو اُن کے پیورٹن ازم کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے فرقے کی کمپوزٹ کلچر سے ہم آہنگ رسوم و شعائر پر عمل پیرا ہیں- اور اُن کو نفرت کا نشانہ بناتے ہیں اور جبکہ فرقہ وارانہ منافرت بلکہ نسل کُشی کے ذمہ داروں کے ساتھ دوستانہ چہرہ بناکر تصاویر کھینچواتے ہیں

شرم آنی چاہیے ایسے بکاؤ مال لوگوں کو- وہ محرم جیسے باوقار موقع کو اپنی ہوس طاقت کو بڑھانے کے لیے اپنے زوال پذیر حامیوں کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں

Shame on such sellouts. They propagate hatred and exclusivism against those participating in mystical and devotional faith practices and ritual.

وہ کمپوزٹ کلچر سے پیوست محرم میں روحانی اور عقیدت میں ڈوبی ہوئی رسوم اور شعائر کے خلاف منافرت انگیز پروپیگنڈا کرتے ہیں

کیا عجب بات ہے کہ محرم کی مشترکہ ثقافت کے خلاف لبرل معشیت کے نام تو کہیں عقلیت پسندی اور خرد افروزی کے نام پر پروپیگنڈا لیکر آتے ہیں تو وہابی تکفیری بدعت و شرک پر مبنی پروپیگنڈا لیکر حملہ آور ہوتے ہیں تو شیعہ فرقے کے کچھ مُلاں اپنے آئمہ کے نام پر کمپوزٹ کلچر سے محرم کے رسوم و رواج اور شعائر مذھبی کی ہم آہنگی کو ختم کرنے کے درپے ہیں، جیسے صوفی سُنی اسلام کے کمپوزٹ کلچر سے ہم آہنگ چیزوں میلاد، عرس، سماع، دھمال، میلوں پر ایک طرف تو وہابیت حملہ آور ہے تو دوسری جانب خود اُن کے اپنے اندر سے پیورٹن مُلاں ہیں جو اُس کلچر کو برباد کرنے کے درپے ہیں

دیکھا جائے تو اس یا اُس فرقے کے ان پیورٹن مُلاؤں کا تصور امہ ہے تو نرا فرقہ پرور بادشاہتوں کے قیام پر مبنی، جہاں پر ایک غیر منتخب اشراف ٹولے کے پاس ہی ساری طاقت اور اختیار ہوا کرتا ہے