Featured Original Articles Urdu Articles

مودی اور یو اے ای کے خلیفہ کا یارانہ – عامر حسینی

ہندوتوا اور منڈی کی معشیت کو اکٹھا کرکے چلانے والا مودی اور بادشاہت کو اسلامی قلعی سے رنگ کر اُس کا رشتہ منڈی کی معشیت سے جوڑ کر چلانے والا یواے ای کا خلیفہ اگر ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ہوئے ہیں تو یہ سرمایہ کی عالمی حرکیات کا میکنزم ہے جو اُن کو باہم جوڑ رہا ہے

اسی یو اے ای میں دنیابھر سے محنت کَش یہاں پر آتے ہیں اور ان محنت کشوں کے درمیان کام کی جگہ پر ایکتا بھی بنتی ہے لیکن اُن کو اس ایکتا کے ساتھ ایک سماجی طبقہ ہونے اور اُس کی بنیاد پر ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر کھڑے ہونے سے روکنے میں قوم پرستانہ، نسلی و مذھبی،ذات پات، فرقہ، رنگ ہر طرح کے متعصبانہ نظریات سرمایہ داری کے مختلف سیکشن کام میں لاتے رہتے ہیں

مودی کو یو اے ای کا اعلیٰ ترین سویلین اعزاز سے نوازے جانے کے معاملے کے پیچھے ٹھوس مادی وجوہات بیان کرنے اور اس کا معروضی تجزیہ کرنے کی بجائے خیال پرست دانشور اور تجزیہ کار چاہے وہ اسلامی فکر کو لبرل معشیت کی روشنی میں دیکھنے والے ہوں یا اُس کو خالص منڈی کی معشیت کی حمایت میں اپنی فکر کی روشنی میں دیکھنے والے ہوں اس سارے عمل میں سرمایہ داری کی عالمی نقل و عمل اور سرمایہ داریوں کے درمیان جو افقی کشمکش ہوتی ہے اُسے چھپانے کی کوشش کررہے ہیں

وہ یا تو اسے خیال پرستانہ بنیادوں پر امہ جیسے یوٹوپیا کی روشنی میں دیکھتے ہیں یا وہ اس سارے عمل کو عالمی و علاقائی کشاکش سے ہٹ کر صرف اور صرف داخلی صورت حال کی روشنی میں کچھ اس طرح سے دکھاتے ہیں کہ اگر نواز شریف ہوتا تو یہ نہ ہوتا، اگر آصف علی زرداری ہوتے تو یہ نہ ہوتا وغیرہ وغیرہ

پاکستان نے ایک تو اچھے دنوں میں 70ء اور 80ء کی دہائی کے بعد اپنی آبادی کے ایک بڑے حصے کو ھیومن ریسورس میں بدلنے کے لیے وہ اقدامات ہی نہ اٹھائے جس سے دنیا بھر میں پاکستان کا ھیومن ریسورس ایک اثاثہ بنتا، دوسرا اس نے خود پاکستان کے اندر اپنی انڈسٹری کو اتنی وسعت نہ دی کہ یہاں مقامی اور غیر مقامی ھیومن ریسورس کھپ جاتا، تیسرا اس نے اپنی ایکسپورٹ کو نہ تو ملٹی ڈائمنشنل کیا اور نہ ہی اُس کا سائز بڑھایا جب اس کے بڑھانے کے امکانات بہت زیادہ تھے

ایکسپورٹ کے تنوع اور حجم میں اضافہ، ھیومن ریسورس مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق ہوتا تو بطور اثاثہ اور پاکستان میں ہوئی پیداواری سرگرمیوں کے اندر سرمایہ کاری کا اچھا خاصا حجم پاکستان کو سرمایہ داری کے میکنزم کے اندر رہتے ہوئے بھی پاکستان کی حکمران اشرافیہ کو نظر انداز کرنا کسی بھی ملک کے لیے ممکن نہیں ہوتا

اگرچہ اشرافیہ کی اہمیت کا دوسرے ممالک کی نظر میں موثر ہونے کا مطلب اس ملک کی ورکنگ کلاس کی نجات میں ممد و معاون نہیں ہوتا

کامریڈ ڈاکٹر یاسر ارشاد نے مودی اور خلیفہ جی کی تصویر لگاکر بالکل ٹھیک سوال اٹھایا ہے

اگر ہندؤ سرمایہ دار مودی اور مسلمان سرمایہ دار خلیفہ ایک دوسرے کے دوست اور بھائیوال ہوسکے ہیں تو ہندؤ مزدور اور مسلم مزدور ایک دوسرے کے دوست کیوں نہیں بنتے؟

اس کا بھی صاف مطلب یہ ہے کہ تعلقات کی تشکیل میں پس پردہ کردار سرمایہ داری کی حرکت ہوا کرتی ہے

فرق صرف اتنا ہے کہ حکمران طبقات کو اس حرکت کی پوری جانکاری ہوتی ہے، وہ اپنے مفادات کی روشنی میں اپنے اقدامات کا تعین کرتے ہیں، اُن کا بطور حاکم طبقے کے شعور صاف شفاف ہوتا ہے جبکہ وہ اس کے ساتھ ساتھ یہ اہتمام بھی کرتے ہیں اُن کا سب سے بڑا متضاد یعنی لیبر /ورکنگ کلاس کا طبقاتی شعور اُن کے

Hegemonic Cultural apparatus

کے بنائے

False consciousness

کے نیچے دبا رہے اور وہ تقسیم رہیں

مودی سرکار ہندوستان کے محنت کشوں کو ہندؤ راشٹرا کے نعرے اور اس کے تحت اٹھائے گئے اقدامات کے زریعے سے تقسیم کررہا ہے اور وہ ہندؤ ورکنگ کلاس کے ایک بڑے حصے کا طبقاتی شعور اس احساس تلے دبائے رکھنے میں کامیاب ہوا ہے کہ ہندؤتوا اور زعفرانی رنگ سے خود کو رنگ لینے اور کمیونل تضاد کو فساد میں بدلنے سے وہ بھی ویسے ہی خوشحال ہوجائیں گے جیسے گجرات کا چائے بیچنے والا پردھان منتری بنا اور اربوں میں کھیلتا ہے

اس کھیل میں ہندؤ نیشنلزم، سرمایہ داری سیکولرازم، مسلم نیشنل ازم، اسلامی بنیاد پرستی، سکھ بنیاد پرستی، فرقہ واریت اور نسل پرستانہ و لسانی قوم پرستانہ بورثوازی اور پیٹی بورژوازی دانشوروں، سیاسی جماعتوں کی چاندی ہورہی ہے

جیسے پاکستانی نیشنلزم، پین اسلام ازم، شاؤنسٹ قوم پرستی، فرقہ پرستی یہاں متوازی پھل پھول رہی ہے

انقلابی طبقاتی شعور سے مالا مال دانشوروں اور تجزیہ کاروں، سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کا ایسی صورت حال میں ہی تو اصل امتحان شروع ہوتا ہے، وہ ورکنگ کلاس کے طبقاتی مفاد کو پس پشت ڈال دینے والے بڑے سرمایہ داروں اور درمیانے سرمایہ داروں کے مفادات کی نگہبانی کرنے والے

False consciousness

کو بے نقاب کرتے ہیں اور حکمران طبقات کی جو باہمی سرپھٹول ہوتی ہے اُسے سامنے لیکر آتے ہیں ناکہ سرمایہ داری کے

Hegemonic cultural apparatus

کے بنائے ہوئے رجحانات میں بہہ جاتے ہیں