Original Articles Urdu Articles

کشمیر کے مسئلے پر اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل کا مشاورتی اجلاس – عامر حسینی

 

 

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے چین کو خط لکھ کر سلامتی کونسل کا اجلاس بلوانے کی درخواست کی، چین نے سلامتی کونسل کے جنرل سیکرٹری سے کہا اور مشاورتی اجلاس ممکن ہوا اور فیصلہ ہوگا کہ سلامتی کونسل کا عمومی اجلاس بلایا جائے یا فقط پریس ریلیز جاری ہو-

سلامتی کونسل کے پندرہ اراکین میں سے نو اراکین کی حمایت سے اجلاس بلانے کا فیصلہ ہوسکتا ہے وگرنہ نہیں-

کشمیر پر چین کا موقف پاکستانی موقف سے ملتا ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ حل کیا جائے جبکہ باقی کے چار مستقل اراکین مسئلے کو دو-طرفہ مذاکرات کے زریعے سے حل کرنے کے حامی ہیں-

جبکہ دس غیرمستقل اراکین میں ماضی میں کویت اور انڈونیشیا نے کشمیر پر پاکستانی موقف کی تائید کی تھی-

پاکستان اور بھارت اس وقت سلامتی کونسل کے غیرمستقل ممبران نہیں ہیں جبکہ کونسل کی جنرل سیکرٹری شپ پولینڈ کے پاس ہے-

اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی ہیں اور یہ نواز لیگ کے دور میں مستقل مندوب مقرر کی گئی تھیں اور اب تک اپنے عہدے پر برقرار ہیں، کشمیر کے سٹیٹس مین تبدیلی کے ایشو کو لیکر یہ ایک ماہ سے اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے اندر لابنگ میں مصروف تھیں-

ملیحہ لودھی نے انٹرنیشنل پریس کو واضح طور پر بتایا کہ آج جمعہ کو ہونے والا سلامتی کونسل کا اجلاس مشاورتی ہے جو چین کی درخواست پر بلایا گیا ہے اور کشمیر کے موضوع کو لیکر یہ مشاورتی اجلاس بھی قریب قریب 50 سال بعد بلایا گیا ہے-

پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتوں کے آفیشل سوشل میڈیا ونگز نے اس اجلاس بارے پوائنٹ اسکورنگ کرنے کی کوشش کی-

پی ٹی آئی کا آفیشل سوشل میڈیا ونگ کے کئی حصے مشاورتی اجلاس کو عام اجلاس بتاتا رہا تو حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے اس اجلاس کی’مشاورتی حثیت’ کو لیکر اس پر کافی منفی پوسٹ کیں اور پاکستان کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب کی جانب سے اجلاس کی مشاورتی حثیت کے واضح اعلان کے باوجود یہ دکھانے کی کوشش کی جیسے حکومت نے اس اجلاس کو مشاورتی فورم کی بجائے باقاعدہ عام اجلاس کہا ہو-

مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کو بین الاقوامی برادری میں اس وقت بہت کم حمایت حاصل ہے اور خود پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کے اندر ایک معتدبہ تعداد خودمختار کشمیر کے آپشن کی حمایت کررہی ہے اور ایک الائنس بھی اس نعرے کو لیکر سامنے آگیا ہے-

پاکستان میں اس وقت لیفٹ کے اہم گروپ اور پارٹیاں بھی برملا خود مختار کشمیر کے موقف کی حمایت کررہی ہیں- اور یہ ہوسکتا ہے کہ سندھ، کے پی کے اور بلوچستان سے کئی ایک قوم پرست بھی خودمختار کشمیر والے موقف کی حمایت کرسکتے ہیں-

پاکستانی حکومت اس وقت اندرونی اور بیرونی دونوں محاذ پر قدرے تنہائی کا شکار ہے اور یہ تنہائی آنے والے دنوں میں مزید بڑھ سکتی ہے-

پاکستان کی حکومت کے اس وقت کشمیر پر موقف پر تنہائی کی ایک وجہ جنرل مشرف کے زمانے سے لیکر ابتک بلوچستان، سابقہ فاٹا، گلگت بلتستان، سندھ میں قومی سوال پر مرکز کی سوچ کے برعکس سوچ رکھنے والوں کے ساتھ جو بہیمانہ سلوک رکھا گیا اور کئی ایک معاملات میں وہی اقدام اٹھائے گئے جو بھارتی فوج نے کشمیر میں، اسرائیل نے فلسطین میں اٹھائے تھے( مکمکل مماثلت ہرگز مقصود نہیں ہے) اس سے پاکستان کے کشمیر پر موقف کو خاصی زک پہنچی ہے- خاص طور پر جب پاکستان کے مختلف علاقوں میں جبری گمشدگیوں، ماورائے آئین و قانون گرفتاریاں، ازیت رسانی و قتل، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں، مبینہ شورش زدہ علاقوں میں پریس اور انسانی حقوق کے نمائندوں کی رسائی ناممکن بنیادی گئی ہو اور بلوچ، پشتون، سندھی،گلگت بلتستان، سرائیکی علاقوں میں حقوق کے تحفظ کی تحریکوں کی پریس کوریج پر پابندی لگائی جارہی ہو اور ناجائز مقدمات بنائے جارہے ہوں اور عدالت کے ججز کی غیرجانبداری پر سوال اٹھ رہے ہوں تو ایسے میں کشمیر پر پاکستان کے موقف کی اخلاقی حثیت کیا رہ جائے گی؟

پاکستان کی مقتدرہ طاقتوں کو یہ بات سوچنا ہے اور جتنی جلدی ہوسکے اس پر عمل پیرا ہونا ہے کہ وہ پاکستان کے صوبوں اور اس سے الحاق رکھنے والے علاقوں کے سب ہی چھوٹے بڑے نمائندہ گروپوں کے مطالبات، تحفظات، شکایات پر دھیان دینے کو تیار ہیں یا نہیں؟

مقتدر طاقتوں کو اپوزیشن کو مقدمات اور جیلوں سے ڈرانے دھمکانے کی پالیسی بیک فائر کر کی ہے-
سوشل میڈیا اور پریس پر پابندیوں کا سلسلہ بھی تنقید کو دبا نہیں سکا ہے، اس لیے نوشتہ دیوار جتنی جلدی پڑھ لیا جائے اتنا ہی اچھا ہوگا-