Original Articles Urdu Articles

Yesterday’s speech by Zardari marred by unnecessary comments against his parochial opponents

 

 

 

Zardari made some good points with regards to the current (selected) PTI-MQM-Wadera regime’s failure on foreign policy. However, this was marred by needless comments directed against PTI-MQM.

Zardari’s selective historical views on Pakistan’s genesis are correct but they are insensitive to the Urdu, Punjabi and Gujarati speaking migrants. No doubt it was Bangladesh and Sindh’s vote but this was for Muslim League under the leadership of Quaid e Azam, Raja Mehmoodabad and Aga Khan III. Then there were the Indo-Iranian and Gujarati businessman like the Isphanis and the Habibs who went out of their way to provide finances to a struggling Pakistan.

PPP has been a Federalist Party and Zardari remarks on Partition yesterday go against his own federalist stance of “Pakistan Khapay”. There are legitimate criticisms for MQM for its destructive, and violent behaviour in Urban Sindh.

But MQM does not equal Urdu speakers. Let us not forget that PPP’s current capable ministers include Urdu speaking Sindhis like Murtaza Wahab and Saeed Ghani. PPP founders and leaders include several Urdu speaking intellectuals and activists.

MQM has done the greatest disservice to Urdu with its parochial politics and by Falsely equating their fascist and Jamaati ideology with rich Urdu culture. Zardari’s insensitive remarks simply provided MQM with more fodder for their typically irresponsible politics by taking Zardari’s problematic remarks and weaponising it by removing the context.

IMHO the word chauvinist for the sentences President Asif Zardari uttered in his speech, is too strong. I do agree that his choice of words was rather rude but I take those sentences in a very different context. And I venture to say that he may have also said them in the same context.

I have touched this in my Urban Educated lot Universal Fact series too. Basically it has been a deliberate attempt by our military establishment’s paid historians to undermine the role of Sindhis & Baloch in Pakistan movement. Not only that, they have also managed to associate patriotism, loyalty, sacrifice etc. with mohajirs & Pushtuns (who serve as the cannon fodder for their war machine). Sindhis & Baloch are considered as either separatist by default, I remember when I was young when nationalist movement (which was as weak or strong as it is now) in Sindh was presented by print media as if Sindhudesh is a reality. Same is true for Baloch.

The fact is Sindh & Bengal had the greatest role to play in Pakistan movement and Sindhi/Baloch are more patriotic (meaning Pakistan federationist) than Punjabis. In my humble assessment Punjabi will not like to remain in a weak federation with equal units. On the other hand Sindh has always voted for federation even a strong one at the cost of their own resources & people which was evident from the slogan ‘Pakistan Khappay’ from the same man who is blamed as chauvinist.

I think Zardari has all the right to express his anger on the insinuation being made against Sindhis. An open dialogue means that people express themselves without any fear. President’s Zardari’s words should be taken not only just in this context, but they should also be taken seriously. The way current establishment is propagating on the Kashmir issue as only closer to Punjab/KPK for their proximity with Kashmir & undermining the voice of Sindhis, should be pointed out.

سابق صدر آصف زرداری نے کہا کہ سندھ اور بنگلہ دیش نے پاکستان بنایا ہے، آپ نے پاکستان نہیں بنایا بلکہ آپ مائیگریشن کرکے آئے ہیں، آپ وہاں سے بھگائے گئے اور بھاگ کر یہاں آکر آپ نے پناہ لی۔

صدر پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز آصف زرداری کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے آپ کو پناہ دی، آپ ہماری آنکھوں پر ہیں، ہم آپ کو ویلکم کرتے ہیں، آپ یہاں پر رہیں، یہ آپ کا حق ہے، ہم نے پاکستان اسی لئے بنایا ہے تاکہ سب مسلمان یہاں رہ سکیں، اس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔

ادھورا سچ ہمیشہ خطرناک ہوتا ہے اور صدر زرداری کی قومی اسمبلی کی تقریر سے ادھورا کلپ شیئر کرکے نامکمل بات پھیلائی جارہی ہے جس کا مقصد اشتعال پیدا کرکے نفرتوں کو ہوا دینا ہے، صدر زرداری کی تقریر میں کوئی غیرحقیقی یا متعصبانہ بات نہیں ہے بلکہ انہوں نے ناقابل تردید تاریخی حقائق پیش کئے جبکہ سیاق وسباق سے ہٹ کر ادھورے سچ کو پھیلانے والے اپنے تعصب کی وجہ سے نفرتیں پھیلارہے ہیں

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ قیام پاکستان سندھ اور بنگال کی وجہ سے ممکن ہوا، مشرقی پنجاب اور یوپی سے ہجرت کرکے آنے والوں کا جذباتی کردار ضرور ہوسکتا ہے مگر عملی کردار سندھ اور بنگال کے عوام اور ان کے نمائندوں کے ان ووٹوں کا تھا، جنہوں نے قیام پاکستان کے خواب کو تعبیر دی۔

صدر زرداری نے کہیں بھی اردو اسپیکنگ کا نام نہیں لیا مگر سیاسی نزاع کا شکار نسل پرست ایم کیوایم اشتعال اور نفرتیں پھیلا کر یہ کوشش کررہی ہے کہ اپنا وجود ثابت کرسکے، ایم کیوایم کی نسل پرست سوچ سے متاثر اور بظاہر ایم کیوایم مخالف یا دوسری جماعتوں میں ایم کیوایم کی نسل پرستانہ سوچ کے پیروکار بھی اسی نفرت اور اشتعال کو پھیلارہے ہیں۔

پاکستان اس وقت ایک تقسیم کا شکار ہے، ایک جانب وہ لوگ ہیں جو ہجرت کرکے آئے جن میں ایک معقول تعداد مشرقی پنجاب سے ہجرت کرکے آنے والے پنجابیوں اور یوپی سی پی سے ہجرت کرکے آنے والے اردو بولنے والوں کی ہے، ان دونوں طبقات کے شاونسٹوں نے پاکستان کی مقامی سرائیکی، بلوچ، ہزاراہ وال، کشمیری، گلگتی، سندھی اور مقامی پنجابی آبادی کو نہ صرف گالی بنادیا بلکہ ان سے پاکستان بنانے کا دعوی بھی چھین لیا، صدر زرداری نے محض اسی تاریخی سچائی کا ذکر کیا ہے۔

سیریز پاکستان کی سیاسی تاریخ میں زاہد چوہدری صاحب لکھتے ہیں کہ مہاجر شاونشٹوں اور پنجابی شاونسٹوں کے درمیان تضاد ان ادوار میں شدید تر ہوا جب ان میں سے کوئی ایک کلی اقتدار کا مالک بن گیا۔ لیکن پنجابی شاونسٹوں اور مہاجر شاونسٹوں میں اس وقت فورا اتحاد ہو جاتا رہا ہے جب کسی تیسری قومیت نے سر اٹھایا ہو اور حصول اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہو۔ ان میں خواجہ ناظم الدین، مولوی تمیز الدین، محمد علی بوگرہ، حسین شہید سہروردی اور محمد خان جونیجو جیسے کمزور لوگ بھی شامل تھے اور شیخ مجیب اور ذوالفقار علی بھٹو جیسے شہ زور بھی۔ جو کمزور تھے وہ آسانی سے رخصت کر دئیے گئے مگر جنھوں نے اقتدار پر گرفت دکھانے کی کوشش کی ان کا انجام برا ہوا۔ ضیا الحق کے ابتدائی دور میں مہاجروں کا پنجابیوں کے خلاف شدید تضاد تھا لیکن سندھی قوم پرستی کے مقابل ان دونوں کا اتحاد قائم ہو گیا جیسا کہ اس سے بیشتر بنگالیوں کے خلاف قائم ہو گیا تھا۔

پاکستان میں قوم سازی کے عمل پر لکھنے والے بیشتر ماہرین یہی کہتے ہیں جو آصف زرداری نے کہا، آصف زرداری نے اردو اور پنجابی بولنے والے مہاجروں کو حق وطنیت سے محروم نہیں کیا، انہیں زمین زادہ قرار دیا، پاکستان کو ان کا حق قرار دے کر انہیں تسلیم کرنا اپنا فرض بھی بتایا مگر شاید آصف زرداری کا جرم یہ ہے کہ اندھوں کے شہر میں وہ آئینہ لے کر کھڑے ہیں۔

صدر زرداری نے اپنی اسی تقریر میں یہ بھی کہا ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ ان کی بات کو نہیں سنا جائے گا مگر تاریخ لکھی جارہی ہے اور تاریخ ان کو سرخرو کرے گی، اس بیان سے یقینا صدر آصف زرداری کا مقصد کسی قومیت کی توہین نہیں تھا، نہ ان کی سیاست کبھی ایسی رہی ہے اور نہ ان کی شخصیت ایسی ہے۔

آصف علی زرداری نے بین الاقوامی تعلقات اور ڈپلومیسی و معشیت پر انتہائی مدلل اور قابل تعریف باتیں کیں لیکن انھوں نے پاکستان بنانے کے حوالے سے سندھ اور مشرقی بنگال کو ہی کریڈٹ دینے اور مہاجرین کے کردار کو جس منفی انداز میں پیش کیا وہ ہرگز قابل تعریف نہیں ہے اور نہ ہی ان کا رویہ بہتر تھا

آصف علی زرداری تاریخ کے آدمی نہیں ہیں اور نہ ہی اُن کو علم تاریخ کی پیچیدگیوں کی کچھ زیادہ خبر ہے

مثال کے طور پر وہ یہ بھول گئے کہ پنجاب، صوبہ شمال مغربی سرحد، بلوچستان یونین بھی تو ووٹ دے کر پاکستان میں شامل ہوئے تھے اور پھر یوپی، سی پی، انڈیا کا حصہ بن جانے والے پنجابی علاقوں، دہلی، بہار سمیت دیگر علاقوں سے آل انڈیا مسلم لیگ کی حمایت لاکھوں، کروڑون لوگوں نے کی اور مشکلات بھی اٹھائیں اور اس پارٹی کی صف اول کی قیادت میں بھی بڑے بڑے نام شامل تھے، اس لیے اُن سب کو بھگوڑے کہنا اور ان کا مذاق اڑانا ٹھیک نہیں ہے اور یہ اس لیے بھی ٹھیک نہیں ہے کہ خود پیپلزپارٹی کی تشکیل صرف سندھیوں نے نہیں کی تھی بلکہ اس پارٹی کا پہلا جنرل سیکرٹری، اس پارٹی کی بنیادی دستاویز تیار کرنے والے اور اس کو عوامی پارٹی بنانے میں بلامبالغہ لاکھوں مہاجر پنجابی، یو پی سیپی بہار، راجھستان، مہاراشٹر وغیرہ سے مہاجر ہوکر آنے والے لوگوں نے اور ان کی اولاد بھی شامل تھی اور ہے

آصف زرداری یاد رکھیں کراچی میں اُن کی پارٹی کے لیے سب سے زیادہ دبنگ آوازیں شہلا رضا، مرتضیٰ وہاب کی ہیں، تاج حیدر، سعید غنی، نجمی عالم اور کئی اور نام آج بھی اس پارٹی کا وقار ہیں

مجھے انتہائی حیرت ہے کہ پیپلزپارٹی کے باضمیر دوستوں نے نجانے کیا سوچ کر آصف علی زرداری کی اس ملک کے اندر آباد تبادلہ آبادی کے ضمن میں بس جانے والی آبادی کے بارے میں بولے گئے شاؤنسٹ جملوں کو خاموشی سے برداشت کرلیا- پیپلزپارٹی جیسی جماعت کے شریک چئیرمین کو ایسی باتیں زیب نہیں دیتیں