Featured Original Articles Urdu Articles

آزادی صحافت کے کاغذی شیر – عامر حسینی

ہم آزادی صحافت کے کاغذی شیروں کے دور میں جی رہے ہیں جو صحافت کی آزادی کی بجائے نواز شریف کی جنگ لڑرہے ہیں

اور عرفان صدیقی کے معاملے میں آزادی صحافت کے کاغذی شیر ایک بار پھر بے نقاب ہوئے

یہ ٹولہ سیرل المیڈا کے معاملے میں بھی بے نقاب ہوا تھا

یادداشت تازہ کرنے کے لیے بتاتا چلوں کہ سیرل المیڈا نے آصف علی زرداری کے بارے میں لکھا تھا کہ

“وہ 2012ء کے الیکشن چُرانے کی منصوبہ بندی کرچُکے ہیں”

“آصف علی زرداری اُتنا ہی جمہوریت پسند ہے جتنا مشرف اور بھٹو تھے- تقسیم اور فتح کے سارے اصولوں کو الٹاکر ( اب یہ پنجابیوں کی قیادت میں موجود اسٹبلشمنٹ( پر منحصر ہے) جو فوج اور نواز شریف میں تقسیم ہے زرداری ہی مالک ہوگا جو بساط وہ بچھا چکا ہے-اس پر کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں اور نہ ہی اسے لوٹ مار کرنے اور دھن دولت جمع کرنے سے کوئی روکنے والا ہے، کوئی نہیں ہے جو اُس کا بازو مروڑ کر اسے گورننس پر توجہ دینے پر مجبور کرسکے’

“صرف دو چیزیں زرداری کو روک سکتی ہیں: نواز شریف اگر وہ سیانا بنے اور الیکشن چوری ہونے سے روک دے؛ (دوسرا آپشن ہے) فوج، اگر وہ یہ فیصلہ کرلے مداخلت نہ کرنے کی قیمت موجودہ حالات میں ملنے والے فوائد سے کہیں زیادہ ہے’

” Only two things can stop him: Sharif, if he wises up and somehow stops the election from being stolen; the army, if it decides the costs of non-intervention are higher than the benefits of the status quo.”

سیرل المیڈا سے لیکر عرفان صدیقی تک اور اُس سے آگے ظفر عباس سے لیکر نجم سیٹھی تک وہ سارے کردار جو اپنے آپ کو آزادی صحافت کا علمبردار اور مانے تانے اینٹی اسٹبلشمنٹ موقف کا حامل بتاتے ہیں وہ پی پی پی کی منتخب سول حکومت کے خلاف فوج اور عدلیہ کو اقدامات کرنے کی دعوت دیتے پھرتے تھے

سیرل المیڈا نے اپنے آرٹیکلز میں اسٹبلشمنٹ کو منقسم قرار دیتے ہوئے تسلیم کیا تھا کہ منقسم اسٹبلشمنٹ کے ایک دھڑے کا قائد نواز شریف ہے( اور دوسرے کا جنرل کیانی) اور ان دونوں نے مل کر 2012ء کا الیکشن ہی چوری کرلیا

سیرل المیڈا،ظفر عباس، نجم سیٹھی یہ سب کے سب امریکی لبرل پریس اسٹبلشمنٹ سے آزادی صحافت کے تمغے وصول کرچُکے ہیں