Featured Original Articles Urdu Articles

بین الاقوامی شہرت یافتہ مجسمہ ساز فقیرا فقیرو نے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کا مجسمہ تیار کرلیا – عامر حسینی

ٹنڈواللہیار سندھ سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی شہرت یافتہ مجسمہ ساز فقیرا فقیرو نے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کا مجسمہ تیار کرلیا

فقیرا فقیرو ٹنڈو اللہ یار سندھ میں ایک دلت ہندؤ گھرانے میں پیدا ہوا- اس کا خاندان صدیوں سے فن مجسمہ سازی سے منسلک چلا آرہا ہے

اس کے والد بھی فن مجسمہ سازی کے بڑے استاد تھے

فقیرو نے اپنے والد سے فن مجسمہ سازی سیکھی اور بعدازاں اپنے وقت میں سندھ کے مجسمہ سازی، مصوری چند بڑے ناموں سے ان فنون کی مبادیات کا علم سیلھا

فقیرا فقیرو اپنے نام کے عین مطابق فقیر منش آدمی ہے، پروفیسر امر سندھو کے مطابق وہ دنیاوی مال و اسباب کے اعتبار سے غریب ہے لیکن اپنے فن کے اعتبار سے شاید پاکستان کے چند امیرترین لوگوں میں سے ایک ہے

امر سندھو نے باتو‍ں باتوں میں کہا، ‘فقیرو غریب ضرور ہے لیکن کمبخت کی اَنا وہی بڑے فنکاروں والی ہے جو کسی سمجھوتے پہ تیار نہیں ہوتی

فقیرو کسی مشیر، وزیر، جاگیردار، سرمایہ دار، نواب، بیوروکریٹکے دربار میں حاضری کا قائل نہیں ہے اور نہ ہی وہ کسی کے ہاں جاکر کام کرنے کو تیار ہے، اُس کا کہنا ہے کہ اگر ثقافتی ترقی کے زمہ دار وفاقی اور صوبائی اداروں کو اس کے فن کی ضرورت ہے اور اُس کے کام کو اُن سے فایدہ نظر آتا ہے تو یہیں تنڈو الہیار میں اسے اُس کے اسٹودیو میں اسائنمنٹ دے ڈالیں، نہیں تو اُسے ضرورت نہیں ہے کراچی، لاہور، اسلام آباد جاکر بیٹھنے کی

نہ تو اسلام آباد لوک ورثہ اور نہ ہی پاکستان آرٹس کونسل اور نہ ہی سندھ کا محکمہ ثقافت اُس کی فنکارانہ اَنَا کا احترام کرنے کے قابل ہوا

محکمہ ثقافت سندھ نے سالانہ کروڑوں روپے کلچرل سول سوسائٹی کو دیتا ہے لیکن اُس نے آج تک فقیرو کو ایک روپیہ کی اسائنمنٹ نہیں دی، اسٹوڈیو کو دینا تو دور کی بات ہے

فقیرو اپنی دنیا میں مست رہتا ہے، وہ ہندؤ مائتھالوجی اور صنمیات کی فنکارانہ تجسیم کے ساتھ ساتھ اپنی گلی میں عام آدمی کو سامنے بٹھاکر مجسمہ، پینٹنگ بناتا ہے اور اپنی روزی کمالیتا ہے

فقیرو کا فن لازوال ہے، اُس نے اپنی بے نیازی سے ثقافت کے نام پر سرکاری وسائل پر سانپ بنے بیٹھے نام نہاد سرداروں کے منہ پر خاک مَل دی ہے