Original Articles Urdu Articles

کیا ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کے شہداء شہداء نہیں ہیں؟ – عامر حسینی

ڈیرہ اسماعیل خان میں تحریک طالبان کی جانب سے پولیس چیک پوسٹ پر فائرنگ اور ہسپتال میں خودکش بم دھماکہ سے شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں اور عام شہریوں کے گھر تعزیت کے لیے جاتے ہوئے صوبائی وزیر کے پی اور ان کے ہمراہ جانے والوں کی تصویر کسی نے کھینچی اور سید محمد خلیل نقوی کے توسط سے ہم تک پہنچی ، اس تصویر میں ان لوگوں کے چہروں پہ کھنڈی مسکراہٹ نے دلوں پر تیر چلائے ہیں-
کس قدر کھوکھلا پَن اور کس قدر کیچڑ میں لتھڑا کردار ہے پیٹی بورژوازی طبقے کا یہ لوگ تبدیلی کی باتیں کرتے نہیں تھکتے اور لوگوں کے مرنے پر جھوٹا موٹا سوگوار ہونے کا ناٹک بھی نہیں کرسکتے

ایک بات اور کہنی ہے وہ یہ ہے کہ مجھے وزیرستان اور بلوچستان میں پاک فوج کے افسران اور جوانوں کی جانوں کے ضیاع پر افسوس ہے اور دلی خواہش بھی ہے کہ بلوچستان کا سیاسی حل نکلے تاکہ ہمارے نوجوان فوجی یوں نہ مارے جاتے رہیں لیکن جس طرح سے کل سے آج تک ٹوئٹر پہ ہیش ٹیگ سلام پاک فوج اور پاکستان آرمی ٹاپ پر ہیں تو ایسے سلام ڈیرہ پولیس اور کے پی کے پولیس کے ہیش ٹیگ کیوں نہ بنے اور کیوں یہ ٹاپ ٹرینڈ نہ بنے؟

پاکستان کے مین سٹریم میڈیا نے عوام کو جتنا سینسی ٹائز کل پاک فوج کے جوانوں کی شہادتوں پر کیا، اس کا دس فیصد بھی ڈیرہ پولیس کے جوانوں کی شہادتوں پر کیوں نہیں کیا گیا؟

یہاں تک کہ صدر، وزیراعظم، اپوزیشن جماعتوں کے سربراہان کی جانب سے ڈیرہ اسماعیل خان میں ہوئی دہشت گردی پر ایک ٹوئٹ بھی دیکھنے کو نہیں ملا