Original Articles Urdu Articles

عرفان صدیقی کی گرفتاری اور کچھ ماضی کی یادیں

نوٹ: 2013ء میں عرفان صدیقی نے بلاول بھٹو کے بارے میں جو لکھا اسے ملاحظہ کرلیں اور اس نے بلاول کے سیاست میں آنے پر وراثتی سیاست کا طعنہ دیا جبکہ خود یہ ہمہ وقت خاندان شریفیہ کی منشی گیری کرنے میں مصروف تھا وہاں اسے نہ تو وراثتی سیاست نظر آتی تھی اور نہ ہی اُسے اقرباپروری نظر آتی تھی، اس آدمی کی صحافت مجیب الرحمان شامی کے ہفت روزہ زندگی، ماہانہ قومی ڈائجسٹ سے ہفت روزہ تکبیر اور وہاں سے جنگ اور جنگ سے نوائے وقت اور پھر کُل وقتی منشی گیری برائے سلطنت شریفیہ پر رُکی اور اس دوران یہ کیا کرتا رہا کہانی نامعلوم شخص سے سُن لیجیے. یہ حقائق کمرشل لبرل مافیا جو عرفان صدیقی کے غم میں ہلکان ہورہا ہے کبھی نہیں بتائے گا

غلط طریقے سے کسی کی گرفتاری یعنی خوف و ہراس پھیلا کر وارنٹ دکھاۓ بغیر سخت قابل مذمت ہے بالخصوص صحافیوں کی گرفتاری ، کیونکہ انکے پاس صرف قلم ہوتا ہے اور وہ صرف راۓ کا اظہار ہی کررہے ہوتے ہیں اور اس طرح کے اقدام سے “نفرت” جنم لیتی ہے

رات گئے اسلام آباد میں عرفان صدیقی (سابق مشیر نواز شریف اور ایوان صدر میں رفیق تارڑ کیساتھ بھی رہے) کو گرفتار کیا گیا اور انتہائی مضحکہ خیز کیس بنایا گیا

اگر تھوڑی سی تحقیق کرکے کیس داخل کرتے تو ممکن تھا کہ پاکستان کی جیلیں عرفان صدیقی جیسے دہشت گردی کے حامیوں کو رکھنے کے لیے تنگ پڑ جاتیں

یہ عرفان صدیقی وہ ہے جو ضیاء دور میں ایک اور اپنے جیسے بکاؤ مال سید صلاح الدین کیساتھ مل کر ہفت روزہ تکبیر میں ضیاءالحقیت کا چورن بیچا کرتا تھا

یعنی وہ تمام مذہبی اور انتہاپسندی کا عفریت جس نے ۱۹۷۹ سے لیکر ۲۰۰۱ تک پاکستان میں زہر گھولا جس کے نتیجے میں ۷۰۰۰۰ پاکستانی مارے گۓ اس میں عرفان صدیقی کا برابر کا حصہ ہے

یہی وہ شخص ہے جس نے جب این آر او کا فیصلہ آیا تو ایم کیو ایم کے مصطفی عزیز آبادی کے ساتھ راگ الاپا اور کالم جنگ میں لکھا “اسے کہنا دسمبر آرہا ہے” ۔

اور یہ مصطفی عزیز آبادی کا بڑا مداح تھا ، لیکن جب نواز شریف کے وزیراعظم ہوتے ہوئے الطاف اور اس کے ساتھیوں کا نام لینا جُرم ٹھہرا تو اس نے بھی پلٹ کر نام نہ لیا

اور یہ ڈاکٹر شاہد مسعود کے گُن بھی گاتا تھا اور اسی نے روزنامہ جنگ میں انصار عباسی، حامد میر، ہارون الرشید اور دیگر کیساتھ مل کر ایسے شر انگیزکالم لکھے جس نے سلمان تاثیر کی جان لی

اور قتل کے بعد قتل کے جواز میں بھی کالم لکھے پروگرام کئے ۔

کہتے ہیں زندگی بہت بڑی ہوتی اور چکر ضرور پورا ہوکر رہتا ہے ، عرفان صدیقی نے ٹی ٹی پی اور فضل اللہ تک کی حمایت میں جنگ میں کالم لکھے اور ان کے ان داتا سید صلاح الدین نے اور عرفان نے تکبیر میں ۱۹۸۴ سے لیکر صلاح الدین کے قتل تک وہ مذہبی اور لسانی شر انگیزی کی کی تحریک انصاف اسکے قریب بھی نہیں ہے

صلاح الدین مہران بینک سے پیسے لینے والوں میں تھا اور جو آگ اس نے لگائی اس تک پہنچی اور پہنچی کیسے کہ اس کے لیے رفیق افغان جو آج روزنامہ امت، تکبیر وغیرہ پر قابض ہے سے صلاح الدین کی رشتہ داری اور بعد کا قصہ پڑھنا پڑے گا

عرفان صدیقی نے کبھی طالع آزما فوجی آمروں اور آمریت کو بُرا بھلا کہا بھی تو یہ اہتمام ضرور کیا کہ اپنے آقا و مولا جنرل ضیاع کا نام مذموم فوجی آمروں کی صف میں لکھا نا جائے

اب زرا نواز شریف کے آخری دور میں لکھا ایک کالم ہی دیکھ لیجیے

عرفان صدیقی نے اپنے کالم میں یہ بھی بتایا تھا کہ دل کے علاج کی پاکستان میں کتنی شاندار سہولتیں اور امراض قلب کے کتنے ماہر ڈاکٹر موجود ہیں. ستم ظریفی زمانے کی کہ پھر ان کے دوسرے آقا و مولا اُن بنیادوں پر ہی بیرون مُلک علاج کی اجازت طلب کرتے رہے جن بنیادوں کو عرفان صدیقی حیلے بہانے کہتے رہے

جس شخص نے قَلم اور حروف کی حرمت اور آبرو کو بیچ ڈالا ہو اور بددیانتی کو مسجع و مقفع بناکر پیش کیا ہو اُسے آزاد، درویش منش، باغی قلم قبیلے کی صف میں کھڑا کرنا اور عدالت میں اس کی انگلی میں دَبے قلم کے ساتھ تصویر کو آزادی صحافت کا استعارہ قرار دے ڈالنا ضیاء الحق آمر کے دور میں کوڑے کھانے والے صحافیوں کے منہ پر طمانچہ ہے

Pakistani commercial liberal (so called anti-establishment brigade) is big shameless group, who now is in busy to build the image of Irfan Siddiqi as honorable and man of commitment, while obfuscating not only his anti-Democrat role but his strong support for Islamic fundamentalists, faith based global terrorists and all type of Jihadi proxies run by US, Pakistan, Saudis and others in 80s in the name of Afghan Jihad, then glorification of global johadist terrorists like Osama, and his full support to Taliban and faith based militancy in Kashmir.

They are saying, ‘ I have many difference with Irfan Siddiqi on many questions but he is honorable and very gentle man.’

They call his opportunism, his support for Jihadism and Takfirism and all sectarian trends just difference of opinions then why they call out Tariq Jameel, Tahirulqadri and others? Just because they are not with Nawaz Sharif and Maryam Nawaz?

Their opportunism is that they are misguiding the public about dirt and opportunist past of the people like Irfan Siddiqi.

These are those liberal commercials, who always taunt on Bhuttos whenever they discuss about them on eve of their birthday anniversary or death anniversary while repeating some clichés:

Bhutto broke Pakistan, because he had said, ‘Here we are and there you are.’
Bhutto had used to say Ayub his Dady.

Benazir Bhutto had organized the Taliban.

He made a deal with Mushraff to get NRO.

Zardari was making a deal with Establishment and he is involved in money laundering through fake bank accounts. BLA BLA BLA BLA

But on other hand they for confirmed Chamchas of dictator general Zia and remnant of general Ziaulhaq, they have so sympathy that they re-write their past and make them neat and clean and declare them real champions of democracy, freedom of Press etc.