Original Articles Urdu Articles

کلچر منسٹری سندھ کے فنڈز کہاں اور کیسے خرچ ہورہے ہیں؟ عامر حسینی

سندھ کے ضلع دادو میں سندھ کا واحد خوبصورت ثقافتی ورثے کے اعتبار سے اہم ترین ہل اسٹیشن گورکھ ہل اسٹیشن ہے-اس ہل اسٹیشن کی کی ترقی و دیکھ بھال اور انتظام کی نگرانی گورکھ ہل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کرتی ہے جس کا ایک چئیرمین، ایک ڈی جی، ایک سیکرٹری ہے اور یہ محکمہ کلچر سندھ کے ماتحت ہے اور براہ راست اس پر وزیر کلچر سردار علی شاہ نگران ہیں

اس اتھارٹی کا ہیڈ آفس کراچی اور زیلی آفس دادو میں ہے
ہل اسٹیشن کی حالت انتہائی خراب، سہولتیں کچھ نہیں اور دادو میں قائم آفس میں شکایات دور کرنے کا کوئی انتظام نہیں
مہنگائی اتنی کہ اللہ کی پناہ
شہریوں نے ڈی جی اتھارٹی اور پھر چیرمین اتھارٹی ایم این اے رفیق جمالی کو بار بار درخواست گزاریں، سیکرٹری کلچر ایس ایم عباس رضوی کو لکھا اور پھر کلچر منسٹر سردار شاہ سے کہا لیکن کچھ بھی نہ ہوا

شہریوں نے یہ جاننے کی کوشش بھی کی کہ اس ہل اسٹیشن کی ترقی و انتظام و انصرام پر حکومت سندھ کتنا خرچ کرتی ہے لیکن یہ معلومات بھی نہ دی گئیں، منسٹری آف کلچر کے رویے سے تنگ آکر سندھ ہائیکورٹ کے حیدرآباد بنچ میں رٹ دائر کی گئی اور عدالت نے سماعت کے بعد دادو میں سیسش مجسٹریٹ امتیاز علی شاہ کی قیادت میں ایک عدالتی کمیشن نے اچانک ہل اسٹیشن دادو میں قائم آفس کا دورہ کیا تو پتا چلا

آفس کے ریکارڈ کے مطابق یہاں ملازمین کی تعداد 111 ہے جبکہ 9 حاضر تھے اور گاڑیاں17 ہیں جن میں سے صرف ایک جیپ موجود تھی، آفس کا جملہ فرنیچر انتہائی خراب تھا اور کانفرنس ہال تو ایسا لگتا تھا جیسے مہینوں کھولا ہی نہ گیا ہو

روزنامہ کاوش حیدرآباد میں شایع رپورٹ کے مطابق ڈی جی ہل اتھارٹی نے عدالت کو تحریری جواب میں بتایا کہ گزشتہ مالی سال میں ہل اتھارٹی نے 2 ارب 19 کروڑ 9 لاکھ روپیہ خرچ کیا جبکہ اسے جاری 2 ارب 20 کروڑ 13 لاکھ جاری ہوا تھا

کلچر ڈیپارٹمنٹ سندھ نے گزرے مالی سال میں 54 کروڑ روپے سول سوسائٹی کو ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ کے نام پر جاری کیے جبکہ حیرت انگیز طور پر کلچر ڈیپارٹمنٹ کی جاری کردہ گرانٹس کے تفصیلی گوشوارے میں درجن بھر گرانٹس ڈی جی نیب کراچی کی جورڈکشن کو جاری ہونا دکھایا گیا ہے

کلچر منسٹر سردار علی شاہ نے کیفے خانہ بدوش کی بندش کے بارے میں پی پی پی کے زمہ داران کو گمراہ کُن طور پر یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ خانہ بدوش کے زمہ واجبات کی ادائیگی پر کلچر ڈیپارٹمنٹ کی آڈٹ رپورٹ میں سخت اعتراضات کے سبب مجبوری میں اقدام اٹھانا پڑا جبکہ آڈٹ رپورٹ میں تو ہل استیشن سے لیکر سول سوسائٹی کے نام پر جاری رقوم پر باقاعدہ ایک درجن آڈٹ پیراگراف ہیں جن میں اعتراضات اٹھائے گئے ہیں لیکن کلچر ڈیپارٹمنٹ اصل بے قاعدگیوں اور بے ضابطگیوں کو چھپانے کی بھرپور کوشش کررہا ہے

باوثوق زرایع نے بتایا کہ ڈی جی نیب کراچی کی جورڈکشن میں جاری کی گئی گرانٹس کے پیچھے کلچر ڈیپارٹمنٹ اور ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے اندر مبینہ بے ضا بطگیوں پر انکوائریاں ٹھپ کرانے کے لیے کی جانے والی مبینہ ‘نوازشات’ میں سے ایک ہیں

ڈاکٹر عرفانہ ملاح نے اپنی سوشل میڈیا پر لکھی ایک پوسٹ میں کلچر ڈیپارٹمنٹ، محکمہ تعلیم میں ہوئی مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف نیب سے رجوع کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے

راقم نے کلچر منسٹر سردار علی شاہ اور اُن کے سیکرٹری سے اُن کا موقف جاننے کے لیے رابطے کی کوشش کی مگر رابطہ نہ ہوسکا

یاد رہے کہ خانہ بدوش کیفے کی انتظامیہ پر سردار علی شاہ کے حمایتی بریگیڈ لگائے الزامات کے جواب میں میرے روزنامہ سندھ ایکسپریس میں چھپے کالم، فیس بُک اور ویب بلاگز پر چھپی تحریروں کے جواب میں ‘پاکی داماں کی حکایت’ اونچے سُروں میں کئی ایک درباریوں نے گاکر سنائی تو مجھے اس معاملے پر مزید تحقیق کرنا پڑی