Original Articles

Why Nawaz Sharif doesn’t want to rock the boat – by Ahmed Iqbalabadi

The political actors of Pakistan namely the media anchors, journalists, “civil society”, retired civil servants etc have literally been praying for miracles that would force the PPP out of power. Being destructive in their nature, they just cannot expect to see stability of government. When a government is sent packing, their response includes “We said it”, “it had to happen”, “we did it” etc. Their mode of operation is simple like a masala Bollywood film: start a whispering campaign, create instability, use press (now electronic media), cause commotion in the judiciary, incite ethnic and religious issues leading to riots and then just wait. Sooner than later friends become foes and then begin to slit each other’s throat. With the packing up of governments, we become interim ministers, advisers and somehow increase our clout. This is an oft repeated script and most importantly, it has been successful.

With the taming of the judiciary after their mindless conclave on October 14, 2010 and a failed attempt to merge the Muslim Leagues, all eyes were on PML-N, JUI-F and MQM to do what the judiciary and the army hasn’t been able to do – i.e. rock the boat. With another year about to pass, JUI-F and MQM decided to give them a reason to cheer and become hopeful by resigning from their cabinet positions.  Permutations and combinations began as to how the outlook will change and how much the government will suffer because of the quitting of MQM and JUI-F. The PML-N leader, Nawaz Sharif, has remained at arm’s length to be part of any unconstitutional change. The only thing that irritates him is being labeled a “friendly opposition”. When this label begins to prick him, he is forced out of his slumber and then the media circus begins again. He roars but then also qualifies the roar that he doesn’t want to be part of any unconstitutional change.  One has to ask the following questions as to why Nawaz Sharif chooses not to rock the boat:

  • PML-N has been part and parcel of the current government by running the province of Punjab very much on their own. With things not under their control despite the media gimmicks and a “revolutionary” Shahbaz Sharif as Khadim-e-Aala, any unconstitutional change leading to elections can easily force PML-N to lose control of their bastion of power.
  • The West especially the US knows of Nawaz Sharif’s inclination towards the religious and bigoted forces. Nawaz Sharif is on record saying that the Taliban’s system is enviable (in 1997). Nawaz Sharif’s party has been supporting the no-drone attacks policy and supporting forces like the Sipah Sahaba and Jamat ud Daawa. A coming to power will force Nawaz Sharif to shun his “allies” which will be detrimental to his power base.
  • The Saudis have a liking for Nawaz Sharif, that is well documented and historically proven. But for that liking Nawaz Sharif has delivered for them a playground for Saudi backed extremists to play on their terms. In the current security environment, can Nawaz Sharif permit a playground for extremism in Pakistan?
  • Nawaz Sharif has a history of fighting with his benefactors: be it the army (Gen. Asif Nawaz, Gen. Jahangir Karamat, Gen. Pervez Musharraf), establishment (GIK, Farooq Leghari), judiciary (Sajjad Ali Shah), media (Mir Shakil in 1997-98). What is the probability that he will not fight with them again is anyone’s guess.
  • With the economic situation not so healthy and various tough choices to be made by whoever is in government which basically means increasing taxes and reducing subsidies, Nawaz Sharif will have a tough time in wading through the tough waters. Will he not increase fuel prices? Will he not implement RGST and increase the tax net? Will he not take loans from the SBP and Banks to reduce fiscal deficits?
  • If the US and west become antagonized with Pakistan because of Nawaz Sharif, the first item on the chopping block would be the military aid. If that stops, so does Nawaz Sharif’s train.
  • He has a history of antagonizing his allies. The MQM twice (1992 and 1998), ANP on matter of renaming NWFP, and many others in Baluchistan. And more so, he has antagonized his allies even though he had 2/3 majority in the National Assembly.

The list can go on and on. I think there is one more point that is against Nawaz Sharif: the absence of Abbaji. Abbaji Marhoom was known to be the mastermind behind the ascension of his prodigal sons. The younger son has found a wife who can be credited with bringing a revolutionary air to Shahbaz Sharif like singing “jamhooriat” in public, breaking microphones and promises to change his name if the “Do rupay kee roti” doesn’t become successful.  On the other hand, Nawaz Sharif has still not found his mojo. A lot was being expected from him post completion of the 10 year agreement of being out of active politics, however, Nawaz Sharif chooses to remain quiet and continue with his slumber. Though I have been playing on all the negatives of the man, maybe, he has become slightly mature.

One can only hope that Nawaz Sharif uses the next 2 years of being out of office to plan the course of his next five years. That is what Pakistan needs that leaders focus on what they can deliver than just play the role of an opposition and play in the hands of the political actors.

About the author

Ahmed Iqbalabadi

8 Comments

Click here to post a comment
  • Share
    اسٹیبلشمنٹ کا سیاسی چہرہ؟…نشیب و فراز…عباس مہکری

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف نے اگلے روز لاہور میں اپنی پارٹی کے یوم تاسیس کے موقع پر کارکنوں کے اجتماع سے جو خطاب کیا‘ اُس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کا اُن سے بڑا مخالف کوئی نہیں ہے‘ فوجی حکمرانی اُنہیں کسی صورت برداشت نہیں‘ آئین توڑنے والوں کا وہ سخت محاسبہ کرنا چاہتے ہیں‘ پاکستان کی مظلوم قومیتوں اور طبقات کے حقوق کے وہ سب سے بڑے علمبردار ہیں‘ کرپٹ لوگوں کو وہ بہت ناپسند کرتے ہیں اور اُن کے علاوہ کوئی دوسرا لیڈر نہیں ہے جو ملک میں انقلاب لاسکے۔ نواز شریف نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان اسٹیبلشمنٹ کی غلامی کے لیے نہیں بنا ہے۔ اُنہوں نے اپنے خطاب میں یہ اشارہ بھی دیا کہ کچھ غیر مرئی قوتیں جمہوریت کے خلاف سازش کررہی ہیں لیکن وہ پتلی تماشے کا حصہ نہیں بنیں گے۔
    جس طرح میاں نواز شریف نے باتیں کیں‘ اس طرح کی باتیں یقیناً پاکستان کے لوگ سننا چاہتے ہیں لیکن نواز شریف یہ باتیں کریں گے تو لوگوں کے پاس اور کوئی راستہ نہیں کہ وہ اپنا سر پھوڑیں۔ فوجی حکمرانی اور مارشل لاء کے خلاف میاں صاحب کی تقریر جن جن اخباروں میں بڑے اہتمام کے ساتھ شائع ہوئی ہے‘ اُنہی اخباروں میں مسلم لیگ (فنکشنل) کے سربراہ اور حروں کے روحانی پیشوا پیر صاحب پگارا کا بیان بھی چھپا ہوا ہے جس میں اُنہوں نے کہا ہے کہ نواز شریف فوج کی پیداوار ہیں۔ بے چارے لوگ کہاں جائیں اور وہ کس کی بات مانیں۔ اگر میاں محمد نواز شریف اور پیرصاحب پگارا کی باتوں کا موازنہ کیا جائے تو اس حقیقت کو مسلم لیگ (ن) والے بھی تسلیم کریں گے کہ پیر صاحب پگارا کا لوگوں میں اعتبار ہے۔ اُس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کھری کھری باتیں کرتے ہیں اور اُن کا ظاہر اور باطن میں لوگوں نے تضاد نہیں دیکھا پیر صاحب پگارا نے کبھی یہ نہیں کہا کہ وہ فوج کے مخالف ہیں بلکہ اُنہوں نے بارہا اعتراف کیا کہ وہ جی ایچ کیو کے آدمی ہیں۔ اس لیے پیر صاحب کی باتوں پر نہ صرف اُن کا احترام کرتے ہیں بلکہ اُن کی باتوں پر اعتبار بھی کرتے ہیں۔ اگر وہ یہ کہتے ہیں کہ نواز شریف فوج کی پیداوار ہیں تو اس میں غط بات کیا ہے۔ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ میاں نواز شریف نے پاکستان کو تباہی و بربادی کی انتہا پر پہنچانے والے بدترین فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کی آشیر باد سے سیاست میں قدم رکھا اور آج پاکستان کا درد رکھنے والے فوجی سیاستدان ہونے کے دعویدار ہیں۔ کیا اس امر سے کوئی انکار کرسکتا ہے کہ ضیاء الحق کے بعد 1988ء سے 1998ء تک دس سال کے دوران میاں نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کا ”سیاسی چہرہ“ بنے رہے اور سیاسی و جمہوری قوتوں کے خلاف وہی کچھ کرتے رہے‘ جو اسٹیبلشمنٹ چاہتی تھی۔ اُن کے بارے میں عام تاثر یہ تھا کہ وہ پنجاب کی بالادستی کے سب سے بڑے وکیل‘ سرمایہ داروں کے نمائندے اور مخصوص فرقے کے پرچارک ہیں، وہ اپنی اس شناخت پر فخر بھی کرتے تھے۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو بھی یہی پہچان ہے۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو اس سے بہتر سیاسی چہرہ کوئی نہیں مل سکتا تھا۔ ایک سابق جرنیل کے بقول اسٹیبلشمنٹ کو نواز شریف کی شکل میں ایک ایسا شخص مل گیا تھا‘ جس کی ضرورت تھی اور اُن کے کئی سال تک تربیت کی گئی۔ لوگ کیسے یہ بات مان لیں کہ نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کے مخالف ہیں یا آئین توڑنے والوں کا محاسبہ کرنا چاہتے ہیں۔
    فوج اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف میاں نواز شریف آج کل جو زبان استعمال کررہے ہیں‘ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسٹیبلشمنٹ اُنہیں ایک بار پھر ہیرو بنانا چاہتی ہے جو سب سے زیادہ اسٹیبلشمنٹ کا بظاہر مخالف نظر آئے؟ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) سمیت ملک کی تمام بڑی سیاسی قوتوں سے محاذ آرائی بھی اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کھیل کچھ اور ہے۔ اب یہ نہیں معلوم کہ یہ پتلی تماشا ہے یا میجک شو‘ جس میں نظروں کو دھوکا دیا جاتا ہے۔ صرف ایم کیو ایم سے نہیں بلکہ پیپلز پارٹی‘ جمعیت علمائے اسلام (ف)‘ عوامی نیشنل پارٹی غرض ہر سیاسی جماعت کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کے تعلقات خراب ہیں۔ حالانکہ ملک اس وقت سیاسی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ نظریاتی اور سیاسی اختلافات کے باوجود ملک کی دائیں اور بائیں بازو کی تمام سیاسی‘ مذہبی اور قوم پرست جماعتیں محاذ آرائی سے گریز کررہی ہیں لیکن میاں صاحب کا سب کے خلاف جارحانہ لہجہ ہے۔ پوری قوم اس بات پر متفق ہے کہ ملک کو اس وقت سب سے بڑا چیلنج دہشت گردی کی صورت میں درپیش ہے۔ یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا میاں صاحب سولو فلائٹ کرنا چاہتے ہیں اور دوبارہ اپنے ”سیاسی سفر“ کو براہ راست اکتوبر 1998ء سے آگے بڑھانا چاہتے ہیں‘ جب وہ ”امیر المومنین“ بننا چاہتے تھے؟ کیونکہ پہلے وہ پیپلز پارٹی پر رات دن تنقید کرتے رہے‘ اس کے ساتھ ساتھ اُنہوں نے ایم کیو ایم کو بھی نشانہ بنانا شروع کردیا۔ بظاہر ایم کیو ایم اور مسلم لیگ (ن) کا اس مرحلے پر کوئی سیاسی ٹکراؤ نہیں بنتا ہے۔ پھر بھی مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی کے بعد ایم کیو ایم سے ٹکرانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہی ہے۔ محاذ آرائی کا آغاز میاں نواز شریف کے بیان سے ہوا‘ جس سے تلخی عروج پر پہنچی اور دونوں طرف سے ایسے الزامات لگائے گئے‘ جو سیاسی لوگوں کا شیوہ نہیں ہوتے۔ بعدازاں مسلم لیگ (ن) اور ایم کیو ایم کے قائدین نے بیانات نہ دینے کی ہدایت کی‘ جس پر ایم کیو ایم کے رہنماؤں اور کارکنوں نے عمل کیا لیکن مسلم لیگ (ن) کی طرف سے یہ سلسلہ جاری رہا۔ اب جو کھیل ہونے جارہا ہے‘ کیا میاں نواز شریف چاہتے ہیں کہ اُس میں کوئی دوسرا کھلاڑی مد مقابل نہ ہو؟ تاہم ایسا ہوگا نہیں۔ یہ 1996ء نہیں‘ 2011ء شروع ہوچکا ہے۔
    اپنے خطاب میں میاں نواز شریف نے اپنے آپ کو پاکستان کے اُن منتخب جمہوری وزرائے اعظم کی صف میں شامل کیا جنہیں عتاب کا نشانہ بنایا گیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ لیاقت علی خان اور بے نظیر بھٹو کو قتل کیا گیا‘ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی اور اُنہیں سزا دی گئی۔ میاں صاحب کے بقول اُنہیں بھی پھانسی دینے کا منصوبہ تھا لیکن کچھ خدا ترس ججوں نے ایسا نہیں ہونے دیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں میاں نواز شریف کے کیسوں کی سماعت کرتے وقت جج خداترس بن جاتے ہیں۔ وہی جج دوسروں کے لیے خدا کا قہر بن جاتے ہیں۔ اللہ میاں جنرل پرویز مشرف جیسے فوجی آمر کے دل میں بھی رحم ڈال دیتے ہیں اور وہ نواز شریف کو جیل سے نکال کر سعودی عرب کے محلوں میں پہنچا دیتے ہیں۔ ججوں اور جرنیلوں کی ”خداترسی“ پر وہ اسٹیبلشمنٹ بھی ناراض نہیں ہوتی‘ جس کے خلاف آج میاں نواز شریف باتیں کررہے ہیں۔ وہی اسٹیبلشمنٹ محترمہ بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی کی راہ میں تمام رکاوٹیں ڈالتی ہے اور نواز شریف کے دور میں بنائے گئے مقدمات کو استعمال کرکے بے نظیر بھٹو اور آصف زرداری کو سیاست سے آؤٹ کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے لیکن میاں صاحب کے تمام مقدمات ختم کردیئے جاتے ہیں۔ کیا اُس اسٹیبلشمنٹ کے خلاف میاں نواز شریف کوئی بڑا انقلاب لاسکتے ہیں۔ اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ ججوں کی بحالی کے لیے لانگ مارچ ایک انقلاب تھا۔ وہ اب دوبارہ سڑکوں پر آگئے تو پھر انقلاب آجائے گا۔ ججوں کی بحالی والے لانگ مارچ کی صورت میں ”انقلاب“ کی حقیقت بھی دنیا جان چکی ہے۔ اب وہ ایسے ہی کسی انقلاب کی بات کررہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بھی کسی نہ کسی تماشے کا حصہ ہیں۔ ایم کیو ایم کے ساتھ بلاجواز جھگڑے سے بہت سی باتیں ازخود افشا ہورہی ہیں اور بہت سے سوالات جنم لے رہے ہیں۔

    http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=494896

  • Share
    نوازشریف کی معنی خیز تقریر… سویرے سویرے… نذیر ناجی

    گزشتہ روز لاہور میں نوازشریف نے جو تقریر کی‘ وہ موقع محل‘ حالات اور امکانات کے موجودہ ماحول میں معنی خیز اور انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے بہت سی باتیں تو کھل کر کہیں۔ مگر جو کھل کر نہیں کہا‘ وہ اور بھی زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ اس تقریر میں دو باتیں نمایاں ہیں۔ ایک یہ کہ حکومتی تبدیلی کی جو خبریں چل رہی ہیں‘ نوازشریف نے انہیں مختلف انداز میں دیکھا ہے۔ کچھ لوگ ان خبروں کی وجہ سیاسی جوڑتوڑ کو سمجھتے ہیں اور کچھ لوگ پس پردہ قوتوں کی خواہشوں کا نتیجہ۔ میں نے ایک اور زاویے سے جائزہ لیتے ہوئے‘ یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ افغان جنگ کا جو نیا مرحلہ شروع ہونے والا ہے‘ اس میں امریکہ اپنی فوجوں کی واپسی شروع کرنے کے لئے جو ماحول پیدا کرنا چاہتا ہے‘ اس کی خاطر وہ نہ صرف افغانستان میں صورتحال کو اپنے حق میں بہتر کرنا چاہے گا بلکہ وہ پاکستان پر بھی دباؤ ڈالے گا کہ وہ برسوں سے Do More کا جو مطالبہ کر رہا ہے‘ اسے پورا کیا جائے۔ جس کا واضح مفہوم یہ ہے کہ امریکہ کے مطابق پاکستان میں جن پناہ گاہوں سے نکل کر طالبان افعانستان کے اندر کارروائیاں کرتے ہیں‘ انہیں ختم کیا جائے اور خصوصاً شمالی وزیرستان میں موثر فوجی کارروائی کر کے‘ وہاں موجود حقانی گروپ کو شکست دی جائے۔ پاکستان اس معاملے میں تحفظات رکھتا ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ پاکستانی فوج اس وقت ضرورت سے زیادہ پھیل چکی ہے۔ وہ پورے فاٹا میں سرگرم ہے۔ اسے سوات کے وہ علاقے جہاں امن قائم کیا جا چکا ہے‘ ان میں بھی موجود رہنا ہے کیونکہ دہشت گردوں کا پوری طرح صفایا نہیں ہو سکا۔ ان کا بڑا حصہ افغانستان جا چکا ہے۔ جیسے ہی پاک فوج کے دستوں کو وہاں سے نکالا گیا‘ دہشت گرد پلٹ کر حملہ آور ہو سکتے ہیں اور سوات پر دوبارہ ان کا قبضہ پاکستان کی سلامتی کے لئے زیادہ خطرات پیدا کرے گا۔ بھارت کے طرزعمل میں کوئی تبدیلی نہیں آرہی اور اس کے انتہا پسند عناصر کی طرف سے پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکیاں مسلسل دی جا رہی ہیں۔ بھارت کے موجودہ اور سابق کمانڈرانچیف بھی پاکستان کے خلاف زہرافشانی کرتے رہتے ہیں۔ ایسے حالات میں ہمیں مشرقی سرحدوں پر بھی چوکس اور تیار رہنا پڑتا ہے۔ مشرق اور شمال مغرب میں پاک فوج کی موجودہ ذمہ داریاں اتنی زیادہ ہیں کہ وہ کوئی نئی مہم شروع کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ جبکہ وسائل بھی پہلے ہی بہت صرف ہو چکے ہیں اور ہمیں ان میں کمی کا سامنا ہے۔ مگر امریکی یہ بات سمجھنے کو تیار نہیں اور جب وہ افواج کی واپسی کے لئے حالات کو اپنے حق میں کرنے کے ضرورت مند ہوں گے‘ تو پھر وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ اگر پاکستان پر ان کا دباؤ ‘ ان کی خواہش کے مطابق موثر نہ ہوا‘ تو وہ خود بھی فوجی کارروائی کا ارتکاب کر سکتے ہیں‘ جو پاکستان کے خلاف کھلی جنگ کے مترادف ہو گا۔ ایسے حالات کا سامنا کرنے کے لئے پاکستان میں کسی ایسی حکومت کا قیام ضروری سمجھا جا رہا ہے‘ جو انتہائی مستحکم اور مضبوط ہو۔ بڑے فیصلے کرنے کی طاقت رکھتی ہو اور عوام کو پوری طرح ساتھ لے کر چل سکتی ہو۔میری رائے یہ ہے کہ موجودہ حکومت کا ایک بڑا ووٹ بنک موجود ہے لیکن اس کے مخالفین کی تعداد بھی کم نہیں۔ اگر اس کی پالیسیوں کے خلاف عوام اٹھ کھڑے ہوئے‘ تو پھر حکومت اور فوج دونوں کو مشکل حالات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
    نوازشریف غالباً صورتحال کو یوں نہیں دیکھ رہے۔ انہوں نے حکومت میں تبدیلی کے کسی بھی عمل کو غیرسیاسی طاقتوں کی خواہش تصور کیا ہے۔ چنانچہ وہ کھل کر اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ان کے یہ الفاظ کہ ”ہم کسی کٹھ پتلی تماشے کا حصہ نہیں بنیں گے۔“ بیرون ایوان‘ تبدیلی حکومت کے کسی بھی امکان کو مسترد کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے نہ صرف اپنے یہ الفاظ خود دہرائے بلکہ حاضرین سے بھی کہا کہ وہ ان کی آواز میں آواز ملا کر یہ اعلان کریں کہ ”ہم کسی کٹھ پتلی تماشے کا حصہ نہیں بنیں گے۔“ اور حاضرین نے پورے جوش و جذبے کے ساتھ یہ الفاظ دہرائے۔ اس موقع پر صاف نظر آ رہا تھا کہ جو کچھ حاضرین اور نوازشریف کہہ رہے ہیں‘ اس کا دونوں طرف پوری طرح سے ابلاغ ہو رہا ہے۔ گویا مسلم لیگ نے ایوان کے باہر تبدیلی حکومت کی کوششوں کو پوری طرح سے مسترد کر دیا ہے۔ ظاہر ہے ملک کی دوسری بڑی اور مقبول سیاسی جماعت کی طرف سے تبدیلی حکومت کی کوششوں کو واضح طور سے مسترد کر دینے کے بعد‘ ان غیر سیاسی عناصر کی کامیابی دشوار ہے۔ ہرچند نوازشریف نے کھل کر اعلان نہیں کیا‘ مگر ان کے تیوروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر حکومت کے لئے خطرہ پیدا ہوا‘ تو وہ ایوان کے اندر اس کی پشت پر آ کھڑے ہوں گے اور اس طرح حکومت میں تبدیلی کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنا دیں گے۔اس کے بعد اگر کوئی طاقت یا ادارہ موجودہ حکومت کو ہٹانے پر مصر ہوا‘ تو ظاہر ہے اس کے پاس طاقت استعمال کرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں رہے گا۔ مگر نوازشریف نے اس امکان کو زیادہ شدت اور طاقت کے ساتھ مسترد کر دیا ہے۔
    نوازشریف کے ان الفاظ کو اسی پس منظر میں دیکھنا چاہیے کہ ”ملک کسی اور مارشل لا کا متحمل نہیں ہو سکتا۔“اول تو ان الفاظ میں مکمل مفہوم موجود ہے۔ اگر کوئی ابہام باقی تھا‘ تو نوازشریف نے پرویزمشرف اور یحییٰ خان پر شدید تنقید کر کے‘ اپنے موڈ اور مفہوم کو پوری طرح سے واضح کر دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے دفاع اور سلامتی کے اپنے تصور کی وضاحت بھی کر دی ہے‘ جو ان الفاظ میں موجود ہے۔ ”اگر وسائل جنگ کی تیاریوں پر لگتے رہے‘ تو خطہ تباہ ہو جائے گا۔“یہ اس نوازشریف کے الفاظ ہیں‘ جس نے ایٹمی دھماکوں کے بعد ایسی پالیسی اختیار کی‘ جس کے نتیجے میں بھارتی انتہاپسندوں کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کو باہمی امن کے اس آبرومندانہ راستے کا انتخاب کرتے ہوئے‘ پاکستان کے اس دیرینہ مطالبے کو تسلیم کرنا پڑا کہ کشمیر کا تنازعہ برابری اور آبرومندی کے ساتھ اس طرح طے کیا جائے کہ دونوں ملک اور کشمیر کے عوام اس پر مطمئن ہوں۔ نوازشریف بھارت اور پاکستان کے عوام کو امن کا عملی راستہ دکھا چکے ہیں اور جب وہ یہ بات کہتے ہیں‘ تو کوئی ان پر الزام نہیں لگا سکتا کہ وہ جنگی اخراجات میں کمی کی بات کر کے سلامتی اور دفاع کے تقاضوں کو نظرانداز کر رہے ہیں۔ اس معاملے میں پیپلزپارٹی کی سوچ مختلف نہیں۔ وہ بھی پاک بھارت تنازعے کو برابری اور آبرومندی کی بنیادوں پر حل کرنا چاہتی ہے اور اس کا تصور بھی یہی ہے کہ کشمیر کا تنازعہ دونوں ملکوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کو ملحوظ رکھتے ہوئے طے ہو سکتا ہے اور اگر ان دونوں ملکوں میں کشیدگی اور محاذ آرائی کی وجوہ کا خاتمہ ہو جائے‘ تو پھر افغان جنگ کے خاتمے کے عمل میں برصغیر کا کردار زیادہ موثر ہو جائے گا۔ نوازشریف پاکستان کے مسائل کا حل سرنگ سے باہر نکل کر دیکھ رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی بھی اسی راستے پر چلنا چاہتی ہے۔ مگر سرنگ کے اندر سے دنیا کو دیکھنے والے شاید ایسا نہیں چاہتے۔ اس معاملے میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) باہمی سیاسی رقابت اور کشمکش سے اوپر اٹھ جاتی ہیں۔ وہ ملک و قوم کے مستقبل کی تعمیر کے لئے بنیادی طور پر ملتے جلتے خیالات رکھتی ہیں۔ میں نے چند روز پہلے لکھا تھا کہ حتمی نتیجے میں مجھے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی تقدیر ایک جیسی نظر آتی ہے۔ ہو سکتا ہے تاریخ ان دونوں جماعتوں کو کسی بڑے کردار کی طرف دھکیل رہی ہو اور اس کردار میں وہ اکیلے نہیں ہوں گے۔ اے این پی‘ جے یو آئی‘ ایم کیو ایم اور بلوچستان کے تمام قوم پرست ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا کوئی قوت ان سب کو شکست دے سکتی ہے؟ نوازشریف نے اپنی تقریر میں بنگلہ دیش کا حوالہ دے کر جواب دینے کی کوشش کی ہے۔

    http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=494900

  • Today, Mian Saab calls himself anti-dictatorship. But members of the PML-N have met the chief army staff despite being criticised. Nawaz Sharif, himself stepped into politics when General Ghulam Gilani, Chief Martial law Administrator of Punjab, included him in his cabinet as the minister of finance. He won two elections in the name of General Ziaul Haq’s legacy. And, although he enjoyed the support of the ruling establishment till 1999, Mian Saaab on every August 17 took thousands of people to General Ziaul Haq’s tomb and gave speeches calling him a hero and a mujahid. In fact, up until he was overthrown by Genenral Musharraf, and Mian Saaab never said any word against Ziaul Haq, a dictator and his mentor in politics.

  • The main obtacle against Nawaz Sharif is his stupidity. He is thoropghly dull like a born Mongol. The establishment had found a puppet who could do anything on their directions but his father became too ambitious in power pusuit that the whole family started treating the whole of Pakistan as their personal property. Non of this family is worth becoming a councillor on his own but every time some crooks in the establishment help them.
    During the past elections these men who did no political work during their comfortable stay in SARROR Palace landed in Lahore out of nowhere. This was tge result of the dirty alliance of Saudia with their master America. In their hate with Bhutto’s daughter the two devils injected this poison into this country and then successfully eliminated her in a bomb/shooting attack.
    this was aimed at bringing that mongol nawaz sharif into power. But unexpectedly Asif Zardari played a marvellous innings and for the time being stopped American stooges from capturing Pakistan.
    Even now these powers are playing all kinds of dirty tricks to achieve their nefarious designs.

  • Altaf seriously ill, spokesman denies Saturday, April 03, 2010 http://www.dailytimes.com.pk/default.asp?page=201043\story_3-4-2010_pg1_4

    LAHORE: The mysterious absence of MQM chief Altaf Hussain from the political scene has raised several doubts about his health, with sources claiming Altaf is currently undergoing treatment in Germany. However, an MQM spokesman expressed his ignorance of such reports. The exact nature of Altaf’s illness is not clear as yet, as MQM spokesman Salahuddin did not deny or confirm the rumours.

    He said Altaf was out of London and his location could not be disclosed due to security concerns.

    The spokesman said Altaf had addressed the party on March 16 and was in good health at the time. Sources disclosed that PML-Q President Shujaat Hussain had recommended a homeopathic doctor in Germany to Altaf. Former prime minister Shujaat and former Senate chairman Waseem Sajjad have both been under the doctor’s care for some time. The MQM chief also did not meet the president during Asif Ali Zardari’s last trip to the United Kingdom. The sources said that since that time, Altaf has been under treatment. It was reported that Altaf had ignored the president, however, MQM denied this impression. A party spokesman said at the time that the PPP and MQM had cordial relations and Altaf had not met Zardari because he was not in London. staff report

  • Lol…. It all makes me laugh.
    I knew that this time Zardari was a very mature man spending 11 years in jail, he truly is a great leader and the right one needed today by the people of Pakistan.
    He surely is playing his cards perfectly and he is getting divine help for his fight against injustice and terrorism.
    I pray for him success, and he will surely be remembered as One of the greatest leaders of Pakistan and History would not forget him.

  • Lol…so it is now NS fault that he came out swinging to ruin the blackmailers Diesal and bhatta khor of karachi’s another plan to bring the ppp to its knees. The ppp has been playing with fire and giving in to the two criminals far too long. Now that NS destroyed their game by taking the MQM on and again exposing it as party of political blackmailers, this erstwhile blog still considers NS at fault.
    Every politician in Pakistan has worked with the establishment when starting out. ZAB’s first political party was Ayub’s ML and ZAB remained its General Secratary for couple of years. Starting out with the establishment is no disqualification. How the politicians progressed afterwards is what matters.
    NS position has perhaps forever ruined the chances for any small regional party to derail civilian set up in Pakistan. Instead of appreciating NS role, we have folks here who would rather support the blackmailers.
    This blog must ask itself whether it supports the civilians set up in Pakistan or supports the criminals in government. Unfortunately, with the attitude shown in the article above, it is clear that the ppp again would attempt to work with the criminal party of Karachi than be serious about establishing a viable and contineous civilian rule in Pakistan.

  • Nawaz has acted very maturely since, wen he has returned from Edgware , He has only come hard on the ruling party when he was disqualified which was his democratic right..

    Other than that the recent coming hard on MQM , was just his a political move to ensure the system functions and the small parties don’t dance to the tunes of the third force

    Mr nawaz may not be important for the PPP but he is important for the citizens of Pakistan , who want the democratic system to flourish in this country , have he not been in the system , mr zardari would have never given his powers for mr .altaf nor other stakeholders..

    He has supported the government through out , whether it is to support mr gillani , or other government good actions… Recent was the re-support of gillani in center after giving the deadline of siding from the ppp in Punjab,

    He has his own party which has made it very clear since the day they didn’t joined the federal government back, after the reinstatement of judges , that they have a different roadmap for pakistan,

    Not like parties who voted for Mr Zardari for the president but then cried for generals on live tv to come and we would support you , nor like those parties who promise all those opposition that they would vote for opponent of musharaf in the presidential elections , but then inside voted for Musharaf..and re elected him,

    Mr nawaz is not stabbing from the back of the democratic system and doing the opposition from inside the parliament , which is the need of the hour

    Together mr nawaz and mr zardari can look in to the eyes of the third force which is the establishment of Pakistan,

    They have differnt politics to play but zardari isnt also Benazir or ZAB , he needs nawaz as his insurance policy till he completes his term…

    This government is the collation of all forces to strengthen the democratic system, which is the best revolution ever happened to Pakistan,

    Next election will further strengthen it ,for the time being there is a new sinister game of qadri in the show and any person with a little brain cells left in his membrane,should be smart enough to guess it , its hatched by who ?