Featured Original Articles Urdu Articles

کمرشل صحافت و سوشل میڈیا ایکٹوازم کا دیوالیہ پن – عامر حسینی

ایک صاحب جو کمرشل لبرل مافیا کی طرف سے نواز شریف کو چی گیویرا بنانے کے پروجیکٹ میں منحرف شاعر کے طور پر پروجیکٹ کیے گئے، ہم ایک کے بعد اُس کی دوسری ویڈیو فیس بُک اور ٹوئٹر پر دیکھتے اور پھر ساتھ فورم لندن میں اُن کا خوب سواگت ہوا، وہ ہمیں برادر یوسف حسین حقانی اور اُن دوسرے ریسرچ اسکالرز کے جلو میں مسکراتے ہوئے کھڑے نظر آئے جو کارینگی انڈومنٹ، پیو ریسرچ سنٹر سمیت امریکی ریاست کی فنڈنگ سے چلنے والے تھنک ٹینکس کی سکالر شپ پر کتابیں اور ریسرچ پیپرز لکھتے اور شایع کرتے رہتے ہیں اور یہ سلسلہ افغان جہاد پروجیکٹ سے شروع ہوا تھا اور وار آن ٹیرر کے زمانے میں یہ اپنی انتہا کو پہنچ گیا

آج جب پاکستان کی سویلین و ملٹری قیادت اور امریکی انتظامیہ کے درمیان تعلقات کا ایک نیا دور شروع ہوتا نظر آرہا ہے تو کمرشل لبرل مافیا کے پرو نواز شریف ٹولے کے اُسی چہیتے شاعر انقلاب کو پھر سے احساس شروع ہوا ہے کہ پاکستان ہمیشہ سے ایک کلائنٹ سٹیٹ رہا ہے اور اب بھی یہی ہے

نواز شریف سے عہد وفا استوار رکھنے والے کمرشل صحافی جنھوں نے اپنے چہرے پر لبرل ماسک سجا رکھا ہے وہ ہمیں نواز دور حکومت میں بار بار یہ تنذیر سنا رہے تھے کہ کچھ وقت جاتا ہے جب پاکستان پر عالم اقتصادی پابندیاں لگے گیں، اس کے تزویراتی اثاثوں پر فضائی حملے ہوں گے اور ڈان لیکس نے ہمیں یہ بتایا تھا کہ نواز شریف اور ان کے ساتھیوں سمیت سویلین حکومت تو امریکہ و بین الاقوامی برادری کی خواہشات کے مطابق جہادی پراکسی سے جان چھڑانا چاہتے ہیں لیکن ملٹری قیادت ایسا کرنے سے قاصر ہے

یہ سارے لبرل امریکہ سمیت دیگر مغربی ممالک کی حکومتوں کو سامراجی حکومتیں کہنے والے کمیونسٹ، سوشلسٹ اور لیفٹ سے چڑ جاتے اور اُن پر مارکسی ملا کی پھبتی کَسا کرتے تھے

حسین حقانی کی قیادت میں سارے لبرل کمرشل امریکہ کے حلقہ بگوش ہونے کی تلقین کرتے لیکن آج یک دم یہ سارے کے سارے ایک دَم سے پاکستان کی موجودہ سویلین و فوجی قیادت کی امریکی انتظامیہ سے بڑھتی قربتیں قابل اعتراض نظر آنے لگی ہیں، کیوں؟

اگر ماضی میں نواز شریف اینڈ کمپنی امریکی انتظامیہ سے یہی قربت بڑھانے کی خواہش پر لبرل، ترقی پسند، جمہوریت پسند اور چی گیویرا تھا تو عمران خان کے ایسے عمل کے بعد پاکستان ایک کلائنٹ ریاست کیوں لگنے لگا ہے؟

پاکستانی کمرشل لبرل مافیا کے سپاہی ایک دَم سے کمیونسٹوں سے اصطلاح مستعار لینے پر مجبور کیوں ہوگئے ہیں؟

نواز شریف کیمپ میں ایک دوسرا ٹولہ بھی ہے جو یہ کہہ رہا ہے کہ دیکھیں ٹرمپ نے کہا ہے کہ سابقہ حکومتیں امریکی صدور کے ساتھ وہ تعاون کرنے میں ناکام رہیں جو کرنا بنتا تھا، یہ بتارہا ہے کہ نواز شریف امریکہ کی بات ماننے سے انکاری تھا؟

کیا مطلب یہ ہے کہ یہ فیصلہ نواز شریف حکومت کا اپنا تھا کہ حقانی نیٹ ورک، طالبان، لشکر طیبہ، جیش محمد وغیرہ بارے امریکہ کے مطالبات نہیں مانیں جائیں گے؟ طالبان سے مذاکرات کے بغیر کوئی آپشن پاکستان کی سپورٹ نہیں لے پائے گا وغیرہ وغیرہ لیکن ہمیں تو سیرل المیڈا، عباس ناصر، نجم سیٹھی، اور دیگر تو بتاتے تھے کہ ان معاملات میں نواز شریف امریکی خواہشات کا احترام کرنا چاہتا تھا اور یہ فوجی قیادت کو پسند نہیں تھا
پاکستانی کمرشل لبرل مافیا پاکستان کی حالیہ بین الاقوامی سطح پر کی جانے والی انگیجمنٹ سے خاصا پریشان، جھنجھلاہٹ کا شکار نظر آتا ہے اور بڑی عجیب بات ہے کہ یہی جھنجھلاہٹ ادھر بھارت میں لبرل دانش دونوں میں نظر آتی ہے

اب اگر کل کو بھارت کی مودی سرکار نے پاکستانی سرکار سے وزرات خارجہ و داخلہ سطح کے مذاکرات کی بحالی پر آمادگی ظاہر کردی تو کیا ہوگا؟

کمرشل لبرل مافیا نواز شریف اینڈ کمپنی کی جانب سے سعودی نوازی پر تو کبھی معترض نہیں ہوا لیکن اُسے عمران حکومت کی سعودی عرب سے انگیجمنٹ میں کیڑے دکھائی خوب دے رہے ہیں

اس سے ہم یہ اندازہ کرسکتے ہیں کہ نواز شریف کیمپ کے کمرشل صحافیوں اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کی مختلف ایشوز پر پوزیشن کتنی کھوکھلی ہیں

پس نوشت: عمران خان کے حامی اینٹی کرپشن صحافتی بریگیڈ نے بھی اپنی موقعہ پرستانہ پوزیشن تبدیل کی ہے- وہ امریکہ سے پاکستان کی سویلین و فوجی قیادت کی افغانستان و دیگر ایشوز پر انگیجمنٹ کا خیرمقدم کررہے ہیں وہ اس سے قبل بھارتی طیاروں کو پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت، گنڈا سنگھ کوریڈور سمیت بھارت سے تعلقات کو نارمل کرنے کے لیے اٹھائے اقدامات کو امریکہ و بھارت پرستی کی شکل میں نہیں دیکھ رہے وہ اسے دانشمندی پر مبنی فیصلے قرار دے رہے ہیں گویا عمران خان مودی و ٹرمپ کا یار بنے تو قومی مفاد اور نواز یا زرداری بنیں تو غدار