Featured Original Articles Urdu Articles

پاکستان میں پریس آزاد ہے؟ – عامر حسینی

عمران خان پہلے پاکستانی حاکم نہیں جنھوں نے امریکہ یاترا کے دوران پریس کے سامنے پاکستان میں پریس پر پابندیوں کے الزام کو رد کرتے ہوئے پاکستان میں پریس کو آزاد بتایا

جنرل ضیاءالحق سے دورہ امریکہ کے دوران پریس پر پابندیاں لگائے جانے پر سوال ہوا تو ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اخبارات پر پابندی کا الزام غلط ہے-اور ثبوت کے طور پر انھوں نے نوائے وقت سمیت دو تین اخباری گروپوں کے نئے اسٹیشنوں سے جاری ہونے اور صحافیوں کی تنخواہوں میں اضافہ ہونے کو مثال بنایا

جنرل ضیاء الحق بخوبی جانتے تھے کہ جن اخبارات کی ترقی کا وہ حوالہ پریس کے آزاد ہونے کی مثال کے طور پر دے رہے تھے، وہ جنرل ضیاء کے ساتھ ہم آہنگی سے چَل رہے تھے اور انھوں نے بحالی جمہوریت کی تحریک بارے ازخود سنسرشپ کو بھی اختیار کررکھا تھا، جب ضیاءالحق کا دباؤ نہ بھی ہوتا تو بھی یہ گروپ شاہ پرستی جاری رکھتے تھے

عمران خان نے بھی امریکی پریس کے سامنے یہ کہنے کی کوشش کی کہ پاکستان میں پریس آزاد ہے کیونکہ 300 سے زائد ٹی وی چینلز ہیں، سوائے چند ایک کے کوئی بھی سنسرشپ اور دباؤ کی شکایت نہیں کرتا

عمران خان جب امریکی پریس کے سامنے پاکستان میں میڈیا کی آزادی کا دعویٰ کررہے تھے تو اُسی وقت پاکستان کے قریب قریب سب ہی ٹی وی چینلز گھوٹکی میں این اے 205 کے ضمنی الیکشن میں پی پی پی کے امیدوار کی فتح کی خبر کو بلیک آؤٹ کررہے تھے-
اس سے زرا پہلے آصف علی زرداری کی عدالت پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو سنسر کردی گئی اور ایک دن پہلے مریم نواز کی فیصل آباد میں ریلی کو بالکل بھی دکھایا نہیں گیا

پی ٹی ایم اور اس کے دو اسیر اراکین قومی اسمبلی بارے کسی قسم کی خبر میڈیا پر نہیں چلائی جاسکتی

پاکستان میں ٹی وی چینلز کو کیبل آپریٹرز ریٹنگز کے حساب سے سیٹ کرتے تھے، یہ روایت پہلے مشرف دور کے اندر اور پھر نواز لیگ کے دور میں اور اب انصافی دور میں ختم کرکے ‘نامعلوم’ کی خواہش کے ماتحت کردی گئی ہے- جو چینل ‘ہم آہنگی’ نہ اپنائے وہ آخری نمبرز پر جہاں سگنل کمزور ہوں، آڈیو، وژیول دونوں خراب اور اکثر ناظر اتنی دور نہ جاتا ہو چلایا جاتا ہے، کئی علاقوں میں ایسے چینل کی نشریات بالکل غائب کردی جاتی ہیں- کینٹ ایریاز میں ایسے چینل بند اور نا ہم آہنگ اخبارات کی ترسیل روک دی جاتی ہے
اور اکثر اس کی ذمہ داری قبول بھی نہیں کی جاتی

پھر بھی عمران خان کہتے ہیں پریس آزاد ہے تو ٹھیک ہی کہتے ہوں گے