Featured Original Articles Urdu Articles

عرفان اللہ مروت پی پی پی کے ایک وزیر کی جاگیردارانہ انا کے ہاتھوں سندھی دانش کو زلیل کیوں کرنا چاہتا ہے؟ – عامر حسینی

عرفان اللہ مروت پی پی پی کے ایک وزیر کی جاگیردارانہ انا کے ہاتھوں سندھی دانش کو زلیل کیوں کرنا چاہتا ہے؟

وہ کون شخص ہے جو عرفان اللہ مروت اور سردار شاہ سے ایک سا کام لے رہا ہے اور اس وقت کہاں تعینات ہے؟

ایک وزیر کی جاگیردارانہ اَنا کے آگے سندھ حکومت اور پیپلزپارٹی سرنگوں ہے

جو دانشور، شاعر، ادیب بھٹوز کے لیے گالیاں کھاتے ہیں، انھیں انعام میں زلت سندھ حکومت دے رہی ہے
آج پی پی پی کا ہر ہمدرد اور دوست ناقد شرمسار ہے

امر سندھو! ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں-ہر باضمیر شخص آپ کے ساتھ کھڑا ہوگا

پروفیسر امر سندھو لکھتی ہیں

ایک استاد کی اس سے بڑی خوشنصیبی اور کیا ہو سکتی ہے کہ
اس کا شاگرد اسے سرخرو کردے۔
ایڈوکیٹ میر محمد منگریو میرا قابل فخر شاگرد ہے
اور آج اس نے اپنی وکالت سے عدالت میں اپنے استاد کو سرخرو کیا ہے۔
جس نے فلسفے کی تدریس میں کچھہ سبق اس کو سکھائے ہونگے
اس دفعہ مجھے عدالت سی انصاف کی امید بہت کم تھی

کہ دوسری طرف اندھی طاقت کا غرور اور حکومتی سطح کے تمام عناصر اس کے ساتھی۔
دوسری طرف تنہائی کا شکار میرے حصے کا سچ تھا اور ضمیر کا قبیلہ۔
میر محمد نے بار بار کال کی کہ “میڈم ہمیں اجازت دیں
ہم عدالت میں خانہ بدوش کا کیس لڑتے ہیں۔”
میری منشا کے عین برعکس میرے ساتھی پٹشنر بن گئے۔
میں نے جیل یاترا کا اردا باندہ لیا تھا
اور گھر والوں سے قسم لے لیا تھا کہ میری ضمانت نہیں کرائی جائے گی۔
مگر ساتھی اور یہ میرا شاگرد نہیں مانے تھے اور خود سے پٹیشن ڈال دی
کتنے حیرانی کی بات ہے
کہ ، 2003, 2004 مجھہ سمیت تین عورتوں کے خلاف توھین رسالت کا جھوٹا الزام لگا کر جس شیطان شاطر نے مارنے کی سازش گھڑی تھی
خانہ بدوش کے خلاف تحریک بھی اسی نے شروع کی اس وقت بھی پوری منسٹری کو اس نےوہی جنگ کا شریک بنا لیا تھا
ابھی تک وہی لیڈ کر رہا ہے۔
اور میرے ساتھہ اس وقت بھی تاج جویو تھا
اور کچھہ عورتیں۔۔
اس وقت بھی تاج جویو ساتھہ ہے
خانہ بدوش کے حق میں یہ پٹیشن دائر کرنے میں دیگر ساتھیوں کے ساتھہ کھڑا ہے
دوسری جانب کل بھی سازش کا علم اس شیطان کے ہاتھہ میں تھا
اور جھوٹ کا علمبردار بھی وہی تھا
جھوت کا قبیلہ بھی بڑھا ہے
کل اس کی طاقت کا مرکز
ارباب غلام رحیم کی حکومت کا ریپیسٹ عرفان اللہ مروت تھا
آج وہ پیپلز پارٹی کے تعلیم و ثقافت کے وزیر سردار علی شاہ کی طاقت کو استعمال کر رہا ہے۔
اس وقت بھی پریس اور ریاست کی طاقت اس کے ساتھہ تھی
اس وقت بھی تعلیم و کلچر کی وزارت کے ساتھہ پیپلز پارٹی کی مکمل طاقت اس کی طرفدار ہے۔
یہ محض ادبی استعارا نہیں ہے
حقیقت میں
یہ پاور کی۔۔۔قلم کے ساتھہ لڑائی ہے۔
یہ جھوٹ کی سچ کے ساتھہ لڑائی ہے
یہ انتقام کی عقلیت کے ساتھہ لڑائی ہے۔
جس نے مجھے اس لڑائی کے لئیے چنا ہے
اس نے میرے لئیے جو بھی چنا ہو
ہار یا جیت
سرخرو کرنا یا مزید ذلت سہنا
مجھے سب قبول ہے۔میرے حصے میں یہ کیوں آیا مجھے نہیں معلوم
مگر مجھے نبھانا ہے کہ یہ میرا فرض ہے
جھوٹ کا کنبہ بڑھا ہے تو۔ سچ کا قبیلہ بھی بڑھا ہے
آج تاج جویو اکیلا پٹشنر نہ تھا ۔
نظرئیے کی سیاست کرنے والے تمام لوگ اس کے ساتھی تھے
امداد چانڈیو، پروفیسر ڈاکٹر مجید چانڈیو، عالیہ بخشل ، مراد پندرانی، جبار بھٹی( میرا قابل فخر شاگرد)،
ذکیہ اعجاز ، روزینہ جونیجو، حسین مسرت ، جاوید۔ اور دیگر لوگ جو سب مختلف مکتبہ فکر رکھنے کے باوجود نظرئیے سے جڑے ہوئے ہیں۔
آج ان سب کی مدعیت میں سچ سرخرو ہوا ہے۔
حق کی جیت ہوئی ہے۔
پر لڑائی ختم نہیں ہوئی۔۔
طاقت کا غرور انتقام لئیے بغیر نیچا نہیں بیٹھتا۔۔
نشانہ تبدیل نہ ہوا
تو پھر
یہ ہم ہی ہونگے
یہی دار ہوگا
اور رسوائی کا بازار پھر گرم ہوگا۔

جب عرفان اللہ مروت نے پی پی پی میں چور راستے سے شامل ہونا چاہا تو پروفیسر امر سندھو، عرفانہ ملاح، عالیہ بخشل سمیت سندھ میں ویمن ایکشن فورم نے شدید ردعمل دکھایا اور اس کو ایک کمپئن بناکر ریپسٹ کی پیپلزپارٹی میں شمولیت کا راستا ایسے روکا کہ بے نظیر بھٹو کی بیٹیاں دیوار بن گئیں
عرفان اللہ مروت اس بات کو بھولا نہیں، اُس کے اندر پی پی پی کے منسٹر سردار شاہ نے نجانے کیا دیکھ لیا ہے یا اُس نے سردار شاہ کو نجانے کون سی گولی دی ہے کہ وہ ضیاءالحق کی بدترین باقیات کے اشاروں پر ناچ رہا ہے اور سندھ کی دانش کو سزا دینے پر تُلے بیٹھے ہیں

سردار علی شاہ نے سندھ کی اسمبلی سے عوامی دانش اور منحرف آوازوں سے محبت کے دعوؤں پر مبنی جتنی تقاریر کی تھیں وہ افسوس صد افسوس اب محض ڈرامہ لگ رہی ہیں

سردار علی شاہ یاد رکھیں! ایک ضیاءالحقی بدقماش کے اشارے پر جو اپنی جاگیردارانہ انا کی قربان گاہ پر سندھ کے دانشوروں کی عزت اور وقار کو قربان کرنے کی کوشش بد آپ کررہے ہیں، اس پر ساری عمر آپ کو خفت تو اٹھانی پڑے گی، ساتھ ساتھ آپ پیپلزپارٹی کی اخلاقی حثیت کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کا سبب بنوگے اور کچھ نہیں تو بے نظیر بھٹو شہید کی برتر اخلاقی پوزیشن کا ہی لحاظ کرلیں