Original Articles Urdu Articles

ناخوب ہوا خوب – عامر حسینی

واشنگٹن ڈی سی میں عمران خان کی آج کی تقریر تضادات کا مجموعہ تھی. ایک طرف وہ لبرل ڈیماکریسی کو اقوام کی ترقی کی ضامن بتاتے رہے، دوسری جانب انھوں نے چین کے نظام کو ترقی کا ضامن بتایا

ترقی سے اُن کی مراد کیا ہے؟ یہ تو اُن کی حکومت کے بارہویں ماہ میں سب کو بخوبی اندازہ ہوچُکا ہے

پاکستان میں اُن کی حکومت عوامی حمایت کی بجائے اپنے سلیکٹرز کی بیساکھیوں پر کھڑی ہے

وہ پاکستان کے اندر مین سٹریم میڈیا پر بس اپنا ہی راگ الاپا جانا دیکھنا چاہتی ہے

سوشل میڈیا پر بھی وہ اپنا کنٹرول چاہتی ہے

جمہوریت پر عمران خان کا کتنا یقین ہے اُس کا اندازہ فاٹا میں صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن سے ہوچکا ہے

تعلیم میں بی اے اور ایم کے ڈگری کورسز ختم کیے جارہے ہیں اور تین سالہ لاء کورس کی جگہ بھی بی ایس لاء ڈگری کورس متعارف کرایا جارہا ہے

ہسپتالوں کی نجکاری کے عمل کو تیز کردیا گیا ہے

بلوچستان میں سرکاری سروسز سیکٹر میں ٹریڈ یونین پر پابندی لگادی گئی ہے

لاہور میں مہنگائی کے خلاف محنت کشوں کی ریلی پولیس نے زبردستی روک دی ہے

عمران خان نے واشنگٹن میں پاکستانی کمیونٹی سے آئے ہوئے لوگوں کے سامنے جو خطاب کیا وہ ذاتی عناد، بغض، نفرت اور انفرادی انتقام کے جذبوں سے بھرا ہوا تھا

پاکستان میں غیرمنتخب ھئیت مقتدرہ کے مرکزی کردار اپنی نااہلی اور اپنی حماقتوں سے پیدا صورت حال کا سارا ملبہ اپنے سابقہ لاڈلے اور ہمیشہ سے اُن کے ستم کا شکار جمہوری سیاست کے علمبرداروں پر گرانا چاہتے ہیں اور وہ اپنے انتخاب کے پیچھے چُھپ رہے ہیں

عمران خان کو آگے رکھ کر آگ سے کھیلنے کی کوشش ہورہی ہے

اس وقت سلیکٹرز اور لاڈلہ ایک پیج پر ہونے کا پوز لیکر امریکی اسٹبلشمنٹ سے تعلقات میں بدلاؤ لانے کا خواب سجائے واشنگٹن پہنچے ہیں

اور یہ پہلی مرتبہ نہیں ہورہا کہ غیرمنتخب ھئیت مقتدرہ کے پروپیگنڈا بریگیڈ پاکستان کے اندر مغربی طاقتوں کو پاکستان کو توڑنے یا اسے مجبور و لاچار بنانے کی سازش میں مصروف دکھائیں اور عوامی جمہوری جماعتوں کی لیڈرشپ اور ملک میں سویلین بالادستی کا مطالبہ کرنے والوں کو اس سازش میں شریک بتاکر کردار کُشی کریں اور خود مغربی طاقتوں خاص طور پر امریکی انتظامیہ کے چَرنوں میں گرنے کو بے تاب ہوں

پاکستانی انگریزی اخبار ٹرائبون ایکسپریس کے مطابق عمران خان کا دورہ امریکہ سعودی ولی عہد ایم بی ایس کی سفارش کے بعد ممکن ہوا ہے

افغانستان میں امریکہ کی خواہشات کے مطابق پاکستانی انتظامیہ اپنا کردار بخوبی ادا کرتی ہے تو امریکی انتظامیہ کی سرد مہری کافی حد تک کم ہوجائے گی

امریکہ اور اُس کے دوست ممالک پاکستان میں موجود بچے کھچے ایسے جہادی اثاثے جن سے اُن کو خطرات لاحق ہیں اُن کو ٹھکانے لگانے کا معاملہ بھی طے ہونے کو ہے اور یہ وہ معاملہ ہے جسے طے کرنے کی جب بھی پی پی پی یا نواز لیگ نے بات کی تو اُن کا دائرہ تنگ کردیا گیا

اب سلیکٹرز اور لاڈلا خود طے کرنے پہنچ گئے ہیں تو کسی جانب سے شور و غوغا نہیں ہے

عوامی لیڈر اقوام عالم سے امن اور دوستی قائم کرنے کی طرف قدم بڑھائیں تو سیکورٹی رسک بن جاتے ہیں اور اگر یہی قدم خود سلیکٹرز اٹھائیں تو وہ عظیم تر قومی مفاد بن جاتا ہے