Original Articles Urdu Articles

ڈیرہ اسماعیل خان: تحریک طالبان پاکستان کا پولیس چیک پوسٹ پر حملہ اور ہسپتال پر خودکش دہشت گردی

ڈیرہ اسماعیل خان: تحریک طالبان پاکستان کا پولیس چیک پوسٹ پر حملہ اور ہسپتال پر خودکش دہشت گردی ،6 پولیس والے،تین شہری شہید اور 30 افراد شدید زخمی ، ہسپتال کی ایمرجنسی تباہ

کوٹلہ سیداں ڈی آئی خان میں واقع پولیس چیک پوسٹ چار موٹرسائيکل سوار دہشت گردوں کی کھلی فائرنگ کا نشانہ بنی

زخمیوں کو جب ہسپتال منتقل کیا گیا تو برقعہ پوش (اسے پہلے عورت سمجھا گیا) خودکش حملہ آور 20 کلوگرام دھماکہ خیز جیکٹ جس میں کیل اور بال بیرنگ بھرے ہوئے تھے کے ساتھ ایمرجنسی کے پاس پھٹ گیا

ٹی ٹی پی کا کہنا ہے کہ حملہ سی ٹی ڈی کے ساتھ مقابلے میں 23 جون 2019 کو ہلاک ہونے والے ان کے ساتھی کا بدلہ ہے ۔ سی ٹی ڈی کا دعوی تھا کہ ہلاک ہونے والا دہشت گرد لشکر جھنگوی اور ٹی ٹی پی کا رکن اور ڈی آئی خان میں درجن بھر شیعہ مسلمانوں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھا

ڈیرہ اسماعیل خان جنوبی وزیرستان کے بغل مں ہونے کے سبب ایک عرصے سے ٹی ٹی پی، الشکر جھنگوی ، جماعت احرار سمیت تکفیری جہادی دہشت گرد گروپوں کی سرگرمیوں کا مرکز ہے- یہ گروپ تکفیری نظریات رکھتے ہوئے دیوبندی مکتبہ فکر سے نکلے ہیں اور ان کے نشانے پر پولیس، ایف سی ، پاکستان آرمی، شیعہ، صوفی سنّی ، سیکولر لبرل سیاسی جماعتیں، اعتدال پسند دیوبندی ہیں- طالبان نے مولانا فضل الرحمان سربراہ جے یو آئی ایف کو تین بار خودکش بمبار کے زریعے مارنے کی کوشش کی کیونکہ انھوں نے ٹی ٹی پی اور لشکر جھنگوی کی طرح پاکستان کے ریاستی اداروں ،سیکورٹی و انٹیلی جنس ایجنسیوں ، شیعہ، صوفی سنّی مسلمانوں کو مرتد قرار دیکر ان پر دہشت گرد حملوں کو جائز قرار نہ دیا اور ایسا کرنے والوں کے خلاف آپریشنز کی حمایت کی

#TTP‘s terrorist plus suicide attack in DI-Khan ,6 Policemen and 3 civilian were martyred and more than 30 were injured.

TTP’s terrorists opened fire on a Police check post at Kotla Saidan #DeraIsmailKhan first and then a suicide-bomber wearing burqa and carrying 7 kilogram explosive blew himself in the hospital.

TTP spokesman said that attacked was carried out in retaliation for killing of its member in a encounter by CTD on 23 June. CTD had claimed that a terrorist of #LeJ plus #TTP, involved in target killings of dozens of the people from #Shia community in #DIKhan was killed in a encounter on 23 June,2019.

#LeJ #TTP , #SSP and other splinter groups from #Takfiri tendency emerged from #Deobandi sect have safe pockets in DI_Khan division and they often target Police, FC , Army, Shia community, Sufi Sunni Muslims and even these Takfiri groups targeted moderate Deobandi Muslim clerics and leaders of their organizations. Three times these takfiri groups tries to assassinate Maulana Fazaulrahman of #JUIF due to his refusal to declare Shia Muslims apostates and alliance with Shia Parties.